• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری مترجم۔’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح ''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : أُمُورُ الإِيمَانِ
ایمان کے کاموں کا بیان​
(9) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ '' الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً وَالْحَيَائُ شُعْبَةٌ مِّنَ الْإِيمَانِ ''
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپﷺنے فرمایا :''ایمان ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں (رکھتا) ہے۔ اور حیا (بھی) ایمان کی (شاخوں میں سے) ایک شاخ ہے۔ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ
(اس بیان میں کہ پکا) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان ایذا نہ پائیں​
(10) عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ *
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی ﷺسے بیان کرتے ہیں ،آپ ﷺنے فرمایا :''(پکا) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے(دوسرے) مسلمان ایذا نہ پائیں (اوراصل) مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی ہے۔ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : أَيُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ
(اس بیان میں کہ) کونسا اسلام افضل ہے ؟​
(11) عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالُوا يَارَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلاَمِ أَفْضَلُ قَالَ '' مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ''
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کونسا اسلام افضل ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا :''(اس شخص کا اسلام) جس کی زبان اور ہاتھ سے(دوسرے) مسلمان ایذا نہ پائیں ۔ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : إِطْعَامُ الطَّعَامِ مِنَ الإِسْلاَمِ
(کسی کو ) کھانا کھلانا اسلام میں سے ہے​
(12) عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ أَيُّ الْإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ ''تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ ''
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺسے پوچھا کہ کونسا اسلام بہتر ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا :''کھانا کھلاؤ اور جس کو جانتے ہو اور جس کو نہیں جانتے ہو (سب کو) سلام کرو۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : مِنَ الإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
اپنے بھائی (مسلمان) کے لیے وہی بات چاہنا جو اپنے لیے چاہے (یہ) ایمان میں سے ہے​
(13) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ'' لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ''
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :''تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہو گا یہاں تک کہ اپنے بھائی (مسلمان) کے لیے وہی کچھ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے ۔ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : حُبُّ الرَّسُولِﷺ مِنَ الْإِيمَانِ
رسول اللہ ﷺسے محبت رکھنا ایمان میں سے ہے​
(14) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ '' فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ ''
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''اس (پاک ذات) کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔''
(15) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الحديث بِعَيْنِهِ وَ زادَ في آخِرِهٖ " وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ "*
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت مروی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :''اور تمام لوگوں سے زیادہ (محبوب نہ ہو جاؤں)۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : حَلاَوَةُ الْإِيمَانِ
ایمان کی شیرینی (کا ذکر)​
(16) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ'' ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الْإِيمَانِ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْئَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ ''
سیدناانس رضی اللہ عنہ نبی ﷺسے (روایت کرتے ہیں) کہ آپﷺ نے فرمایا :''یہ تین باتیں جس کسی میں ہوں گی وہ ایمان کی شیرینی (کامزہ) پائے گا۔ (۱) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ اس کے نزدیک تمام ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں۔ (۲) جس کسی سے محبت کرے تو اللہ ہی کے لیے اس سے محبت کرے۔ (۳) کفر میں واپس جانے کو ایسا برا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو (ہر کوئی) برا سمجھتا ہے ۔ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : عَلاَمَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ
انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے​
(17) عَن أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ ''آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ''
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺسے بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :''انصار سے محبت کرنا ایماندار ہونے کی نشانی ہے اور انصار سے دشمنی رکھنا منافق ہونے کی علامت ہے۔''
(18) عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ '' وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَتُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا وَ لاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلاَتَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَائَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَائَ عَاقَبَهُ فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِك ''
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''اس حال میں کہ آپﷺ کے گرد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی کہ تم لوگ مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور چوری نہ کرنا اور زنا نہ کرنا اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا اور نہ ایسا بہتان (کسی پر) باندھنا جس کوتم (دیدہ و دانستہ) اپنے ہاتھوں اور اپنے پیروں کے سامنے بناؤ اور کسی اچھی بات میں (اللہ و رسول کی) نافرمانی نہ کرنا۔ پس جو کوئی تم میں سے (اس عہد کو) پورا کرے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے اور جو کوئی ان (بری) باتوں میں سے کسی میں مبتلا ہو جائے گا اور دنیا میں اس کی سزا اسے مل جائے گی تو یہ سزا اس کا کفارہ ہو جائے گی ۔ اورجو ان (بری ) باتوں میں سے کسی میں مبتلا ہو جائے گا اور اللہ اس کو (دنیا میں)پوشیدہ رکھے گا تو وہ اللہ کے حوالے ہے اگر چاہے تو اس سے درگزر کرے اور اگر چاہے تو اسے عذاب کرے (سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ) ہم سب لوگوں نے آپﷺ سے ان (باتوں) پر بیعت کر لی ۔ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : مِنَ الدِّينِ الْفِرَارُ مِنَ الْفِتَنِ
فتنوں سے بھاگنا دین کی بات ہے​
(19) عَنْ أَبِي سَعِيدِ نِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ '' يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ ''
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''قریب ہے(کچھ بعید نہیں) کہ مسلمان کا اچھا مال بکریاں ہوں جن کو لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں پر اور چٹیل میدانوں میں چلا جائے تاکہ وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچالے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ
نبیﷺ کا ارشاد (ہے) کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا ہوں​
(20) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ مِنَ الْأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ قَالُوا إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَ خَّرَ فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ يَقُولُ إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ أَنَا ''
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب لوگوں کو (نیک اعمال کرنے کا) حکم دیتے تو ایسے اعمال کا حکم دیتے جن کو وہ (ہمیشہ) کر سکیں (عبادات شاقہ کی ترغیب کبھی ان کو نہ دیتے تھے تو ایک مرتبہ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی مثل نہیں ہیں، بیشک اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیے ہیں (لہٰذا ہمیں آپ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے) اس پر آپﷺ غضبناک ہوئے حتیٰ کہ چہرۂ (مبارک) میں غضب (کا اثر) ظاہر ہونے لگا۔ پھر فرمایا :''تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا جاننے والا اور اس سے ڈرنے والا میں ہوں۔ ''
 
Top