بَابٌ : قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ
نبیﷺ کا ارشاد (ہے) کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا ہوں
(20) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ مِنَ الْأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ قَالُوا إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَ خَّرَ فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ يَقُولُ إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ أَنَا ''
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب لوگوں کو (نیک اعمال کرنے کا) حکم دیتے تو ایسے اعمال کا حکم دیتے جن کو وہ (ہمیشہ) کر سکیں (عبادات شاقہ کی ترغیب کبھی ان کو نہ دیتے تھے تو ایک مرتبہ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی مثل نہیں ہیں، بیشک اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیے ہیں (لہٰذا ہمیں آپ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے) اس پر آپﷺ غضبناک ہوئے حتیٰ کہ چہرۂ (مبارک) میں غضب (کا اثر) ظاہر ہونے لگا۔ پھر فرمایا :''تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا جاننے والا اور اس سے ڈرنے والا میں ہوں۔ ''