• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری مترجم۔’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح ''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : قِيَامُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ الْإِيمَانِ
شب قدر میں قیام(عبادت) کرناایمان میں سے ہے​
(33) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ '' مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ''
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''جو کوئی ایمان(یقین) رکھتے ہوئے، ثواب جان کر، شب قدرمیں (عبادت کے لیے ) بیدار رہے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : الْجِهَادُ مِنَ الْإِيمَانِ
اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ایمان میں سے ہے​
(34) وعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ '' انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ إِيمَانٌ بِي وَ تَصْدِيقٌ بِرُسُلِي أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ أَوْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَلَوْ لاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ''
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :''اللہ تعالیٰ، اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں (جہاد کرنے کو) نکلے اور اس کو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اس کے پیغمبروںپر ایقان ہی نے (جہاد پر آمادہ کر کے گھر سے) نکالا ہو ، اس امر کا ذمہ دار ہو گیاہے کہ یا تو میں (یعنی اللہ) اسے اس ثواب اور (مال) غنیمت کے ساتھ واپس کروں گا جو اس نے جہاد میں پایا ہے یا اسے (شہید بنا کر) جنت میں داخل کر دوں گا۔ اور (رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ) اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو (کبھی) کسی سریہ (یعنی جس جنگ میں رسول اللہﷺ شریک نہ تھے)، سے بھی پیچھے نہ رہتا اور میں (یعنی نبی ﷺ) یقینا اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر مارا جاؤں ۔ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنَ الْإِيمَانِ
ماہ رمضان میں نوافل (یعنی تراویح پڑھنا) ایمان میں سے ہے​
(35) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ '' مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَ احْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ''
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''جو شخص رمضان میں ، ایمان رکھتے ہوئے اور ثواب سمجھ کر عبادت (یعنی نماز تراویح پڑھا) کرے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ صَوْمِ رَمَضَانَ احْتِسَابًا مِنَ الْإِيمَانِ
ثواب جان کر ماہ رمضان کے روزے رکھنا ایمان میں سے ہے​
(37) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ '' مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ''
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جو شخص ماہ رمضان میں ایماندار ہو کر اور ثواب سمجھ کر روزے رکھے تو اسکے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : الدِّينُ يُسْرٌ
اسلام بہت آسان دین ہے​
(37) وعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ'' إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلاَّ غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْئٍ مِنَ الدُّلْجَةِ ''
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا :''دین بہت آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی کرے گا تو وہ اس پر غالب آ جائے گا ۔(نتیجتاً خود پیدا کردہ سختی کا متحمل نہیں ہو سکے گا) پس تم لوگ راست و میانہ روی اختیار کرو اور (ایک دوسرے سے) قریب رہو اور خوش ہو جاؤ ( کہ تمہیں ایسا آسان دین ملاہے) اور صبح اور دوپہر کے بعد اور کچھ دیر رات میں عبادت کرنے سے قوت حاصل کرو ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : الصَّلاَةُ مِنَ الْإِيمَانِ
نماز (قائم کرنا) ایمان میں سے ہے​
(38) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ '' كَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَى أَجْدَادِهٖ أَوْ قَالَ أَخْوَالِهِ مِنَ الْـأَنْصَارِ وَأَنَّهُ صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ وَأَنَّهُ صَلَّى أَوَّلَ صَلاَةٍ صَلَّاهَا صَلاَةَ الْعَصْرِ وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلَّى مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ مَسْجِدٍ وَهُمْ رَاكِعُونَ فَقَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قِبَلَ مَكَّةَ فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ وَكَانَتِ الْيَهُودُ قَدْ أَعْجَبَهُمْ إِذْ كَانَ يُصَلِّي قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَهْلُ الْكِتَابِ ، فَلَمَّا وَلَّى وَجْهَهُ قِبَلَ الْبَيْتِ أَنْكَرُوا ذَلِكَ ''
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ(جب ہجرت کر کے) مدینہ تشریف لائے تو پہلے اپنے دودھیال یا ننھیال میں ، جو انصار سے تھے ان کے ہاں اترے اور آپﷺ نے (مدینہ آنے کے بعد) سولہ مہینے یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف (منہ کرکے) نماز پڑھی مگر آپ کو یہ اچھا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کا قبلہ کعبہ کی طرف ہو جائے (چنانچہ ہو گیا) اور سب سے پہلی نماز جو آپﷺ نے (کعبہ کی طرف) پڑھی ، عصر کی نماز تھی اور آپﷺ کے ہمراہ کچھ لوگ نماز میں شریک تھے۔ ان میں سے ایک شخص نکلا اور کسی مسجد کے قریب سے گزرا تو دیکھا کہ وہ لوگ (بیت المقدس کی طرف) نماز پڑھ رہے تھے تو اس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ہمراہ مکہ کی طرف (منہ کرکے) نماز پڑھی ہے۔ (یہ سنتے ہی) وہ لوگ جس حالت میں تھے اسی حالت میں کعبہ کی طرف گھوم گئے اور جب آپﷺ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو یہود اور (جملہ) اہل کتاب بہت خوش ہوتے تھے مگر جب آپﷺ نے اپنا منہ کعبہ کی طرف پھیر لیا تو یہ انہیں بہت ناگوار گزرا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ حُسْنُ إِسْلاَمِ الْمَرْئِ
آدمی کے اسلام کی خوبی ( کا کیا نتیجہ ہوتا ہے؟)​
(39) عَن أَبِي سَعِيدِ نِالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ '' إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلاَمُهُ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ كَانَ زَلَفَهَا وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ الْقِصَاصُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلاَّ أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهَا ''
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیںکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپﷺ فرماتے تھے :''جب آدمی مسلمان ہو جاتا ہے اور اس کا اسلام اچھا (خوب سے خوب تر اورمضبوط) ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو جن کا اس نے ارتکاب کیا تھا ،معاف کر دیتا ہے اور اس کے بعد (پھر) معاوضہ (کا سلسلہ شروع) ہو تا ہے کہ نیکی کا بدلہ اس کے دس گنا سے سات سو گنا تک اور برائی کا اسی کے موافق (دیا جاتا ہے) مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمائے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : أَحَبِّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ
اللہ کو زیادہ محبوب وہ دین (کا کام ) ہے جو ہمیشہ (جاری) رہے​
(40) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ قَالَ '' مَنْ هَذِهِ '' قَالَتْ فُلاَنَةُ تَذْكُرُ مِنْ صَلاَتِهَا قَالَ '' مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لاَ يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ ''
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ (ایک دفعہ) نبی ﷺ ان کے پاس آئے تو (دیکھا کہ) ان کے پاس کوئی عورت (بیٹھی) تھی۔ آپﷺنے پوچھا :''یہ کون ہے ؟ ''عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ یہ فلاں عورت ہے (اور) اس کی نماز (کی کثرت) کا حال بیان کرنے لگیں، تو آپﷺنے فرمایا:'' ٹھہرو (دیکھو) تم اپنے ذمہ اسی قدر (اعمال کی بجاآوری) رکھو جن کی (ہمیشہ کرنے کی) تم کو طاقت ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا تاوقتیکہ تم خود (عبادت کرنے سے) تھک جاؤ اور اللہ کے نزدیک (سب سے) زیادہ محبوب وہ دین (کا کام) ہے جس پر اس کا کرنے والا مداومت (ہمیشگی) کرے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ زِيَادَةِ الْإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ
ایمان کا زیادہ اور کم ہونا (ثابت ہے)​
(41) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ'' يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلٰـہَ إِلاَّ اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ وَ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلٰـہَ إِلاَّ اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ وَ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلٰـہَ إِلاَّ اللَّهُ وَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ''
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :''جو شخص لا الٰہ الا اللہ کہہ دے اور اس کے دل میں ایک جو برابر نیکی (یعنی ایمان) ہو تو وہ دوزخ سے نکل آئے گا اور جو شخص لا الٰہ الااللہ کہے اور اس کے دل میں گندم کے ایک دانے کے برابر نیکی (یعنی ایمان) ہو تو وہ بھی دوزخ سے نکل آئے گااور جو شخص لا الٰہ الااللہ کہے اور اس کے دل میں ذرے کے برابر نیکی (یعنی ایمان) ہو تو وہ بھی دوزخ سے نکلآئے گا۔''
(42) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْيَهُودِ قَالَ لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَئُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا قَالَ اَيُّ آيَةٍ هِي قَالَ { اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا } قَالَ عُمَرُ قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ *
امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین ! آپ کی کتاب (یعنی قرآن) میں ایک ایسی آیت ہے جس کو تم پڑھتے ہو ،اگر ہم پر یعنی یہودیوں پر وہ آیت نازل ہوتی تو ہم اس دن کو (جس دن وہ نازل ہوئی بطور) عید منا لیتے۔ امیر المومنین نے پوچھا وہ کونسی آیت ہے؟ یہودی بولایہ آیت کہ ''آج میں(اللہ) نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا۔'' (المائدۃ: ۳)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سن کر کہنے لگے کہ بیشک ہم نے اس دن کو اور اس مقام کو یاد کر لیا ہے جس میں یہ آیت نبیﷺپر نازل ہوئی ۔ آپﷺ (اس دن) عرفہ میں مقیم تھے اور جمعہ کا دن تھا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : الزَّكَاةُ مِنَ الْإِسْلاَمِ
زکوٰۃ ادا کرنا اسلام میں سے ہے​
(43) عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَائَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلاَ نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ '' خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ '' فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ '' لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ '' قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ '' وَصِيَامُ رَمَضَانَ '' قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ قَالَ '' لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ '' قَالَ وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ '' الزَّكَاةَ '' قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ'' لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ '' قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلاَ أَنْقُصُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ '' أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ''
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نجد کا رہنے والا، پراگندہ حال ، رسول اللہﷺ کے پاس آیا ۔ ہم اُس کی آواز کی گنگناہٹ سنتے تھے مگر یہ نہ سمجھ پاتے کہ کیا کہتا ہے؟ یہاں تک کہ جب وہ قریب آیا تو (معلوم ہوا کہ) وہ اسلام کی بابت آپﷺ سے پوچھ رہا ہے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :''دن رات میں پانچ نمازیں ہیں۔'' وہ شخص بولا کہ کیا ان کے علاوہ (بھی کوئی) نماز میرے اوپر (فرض) ہے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا :''نہیں ! مگر یہ کہ تو اپنی خوشی سے(نفل) پڑھے ۔'' (پھر) رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اور ماہ رمضان کے روزے ۔'' اس نے عرض کی کہ کیا اس کے علاوہ (اور روزے بھی) میرے اوپر فرض ہیں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا:'' نہیں ! مگر یہ کہ تو اپنی خوشی سے رکھے۔'' (سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اس سے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا ،اس نے کہا کہ کیا میرے اوپر اس کے علاوہ (اور کوئی صدقہ بھی فرض)ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا :''نہیں !مگر یہ کہ تو اپنی خوشی سے دے۔'' سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر وہ شخص یہ کہتا ہوا پلٹا کہ اللہ کی قسم! میں ان (مذکورہ فرائض) میں نہ اضافہ کروں گا اور نہ (اس میں) کمی کروں گا۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو کامیاب ہو گیا ۔ ''
 
Top