• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سودی نظام

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
کینسر ایک خطرناک بیماری ہے مگرجہالت کے کینسر اس بیماری سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ کینسر کے علاج کے لئے تو کچھ ہسپتال پاکستان میں موجود ہیں مگر جہالت کے کینسر کے علاج کے لئے ایک بھی ہسپتال ہمارے ملک میں موجود نہیں۔ ابوجہل بھی جہالت کے مرض میں بری طرح مبتلا تھا۔ وہ غزوہ بدر میں قتل ہو کر اپنے انعام کو پہنچ گیا مگر ابوجہل کی اولاد اب بھی ہمارے ارد گرد موجود ہے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی آخری کتاب کے احکامات کا مذاق اڑانے میں بھی کوئی شرم یا خوف محسوس نہیں کرتے۔ نبی آخر الزمان محمدؐ کا فرمان ہے کہ ’’جب تجھ میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہے کر۔‘‘ انسان بے حیا ہو جائے تو وہ اپنے مالک اور خالق کی تعلیمات کا تمسخر اڑانے کے گھنائونے جرم کو بھی معمولی بات سمجھ لیتا ہے۔ ایک نوجوان کالم نگار نے سوئٹزر لینڈ کے شہر زیورخ کی سیاحت کا تذکرہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ ’’زیورخ میں ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اس جنت نما شہر کی وجہ شہرت سودی بنک کاری نظام ہے۔ ہمارے مذہبی دانشوروں کی منطق کی رو سے تو اب تک اس شہر کا دیوالیہ نکل جانا چاہئے تھا، مگر یہ شہر دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے دانشور عوام کو تصویر کا وہ رخ دکھانا چاہتے ہیں جس رخ سے تصویر ہی نہ بنائی گئی ہو۔‘‘
سود کے حوالے سے ایک بات سمجھ لیں کہ سود کی تباہ کاریوں کی تصویر کسی مولوی، مفتی یا مذہبی دانشوروں نے نہیں کھینچی۔ سود کے بارے میں ہمارے اللہ اور پیارے نبیؐ نے جو فرمادیا ہے وہ ہمارے لئے حرف آخر ہے۔ قرآن حکیم میں جہاں بھی ربا یعنی سود کا ذکر آیا ہے ہز مقام پر اللہ تعالی نے اس کی مذمت فرمائی ہے۔ سورۃ بقرہ میں ارشاد ہے کہ ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (حشر کے دن) نہیں کھڑے ہو سکیں گے مگر اس شخص کی طرح جس سے شیطان چمٹا ہوا ہو اور اسے خبطی بنا دیا ہو۔ حالانکہ اللہ تعالی نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ جس کسی کو اس کے پرودگار کی نصحیت پہنچ گئی اور وہ (سود خوری) سے باز آ گیا تو جو کچھ پہلے ہو چکا وہ ہو چکا۔ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو پھر اپنی حرکت (سود کھانے) کی طرف لوٹ آئے تو وہ لوگ جہنمی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
اللہ تعالی نے سورۃ بقرہ میں فرمایا ہے کہ ’’اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے وہ چھوڑ دو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر تیار ہو جائو اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ جنگ کے لئے۔‘‘
جہالت کے کینسر میں مبتلا اگر کسی شخص کو سود کے بارے میں اللہ تعالی کے یہ احکامات پڑھ کے بھی سود میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی تو اس میں کسی مذہبی دانشور یا ملا کا کیا نقصان ہے۔ اللہ تعالی نے سود لینے والوں کو جہنمی قرار دیا ہے اور اللہ ہی کا یہ حکم ہے کہ جو سود کے کاروبار کو ترک نہیں کرتے ان کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے جنگ ہے۔ تو جو کوئی اللہ اور رسولؐ سے جنگ کیلئے آمادہ ہے اسے اپنے عبرت ناک انجام کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ کسی مذہبی دانشور نے سود لینے والوں کو یا سودی بنکاری کرنے والوں کو چیلنج نہیں کیا کہ اگر آپ اس مذموم کاروبار سے باز نہ آئے تو تمہارا کاروبار تباہ ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ اللہ تعالی کا ہے کہ ’’اے ایمان والوں سود کئی کئی حصے بڑھا کر نہ کھائو اور اللہ تعالی سے ڈرتے رہو تاکہ فلاح پائو اور آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔‘‘
سورہ آل عمران کی درج بالا آیات پر تھوڑاسا غور فرمائیں کہ اللہ کا خطاب تو ایمان والوں سے ہے کہ سود نہ کھائیں مگر باز نہ آنے والوں کو یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اس آگ سے ڈریں جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ کوئی ایمان والا شخص جب سود لینا نہیں چھوڑتا تو پھر وہ حالیہ ایمان میں نہیں رہتا اسی لئے اس کو ایسی آگ سے ڈرایا جا رہا ہے جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ نئی کریمؐ نے سات ہلاک کرنے والی چیزوں میں سے ایک سود کھانے کو قرار دیا ہے۔ ایک اور حدیث پاک میں نبیؐ آخرالزمان نے سود کھانے والے، سود دینے والے، سود کے گواہوں اور سودی معاملات لکھنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔ یہ بحث ہمارا موضوع نہیں کہ زیورخ ایک جنت نما شہر ہے یا نہیں۔ چالیس سے زیادہ ایسی احادیث نبویؐ ہیں جن کے مطابق سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث تو ایسی ہے کہ انسان اسے پڑھ کر کانپ اٹھتا ہے۔ ارشاد نبویؐ ہے کہ ’’سود کے ستر درجے ہیں اور ان میں سب سے ادنی یہ ہے کہ جیسے کوئی اپنی ماں سے بدکاری کرے۔‘‘
دنیا بھر میں کئی شہر ایسے موجود ہیں جہاں شراب نوشی، فحاشی اور بدکاری کوئی جرم نہیں۔ یہ شہر دنیاوی اعتبار سے خوشحال ترین اور خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتے ہوں گے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنسی بدکاری یا شراب خوری کو خوبصورت اور حلال کام سمجھ لیا جائے۔ حرام کو حرام ہی سمجھا جائے گا چاہے اس میں کتنی ہی لذت اور سرور کیوں نہ ہو۔ جوا، زنا، فحاشی و عریانی اور شراب نوشی یہ سب شیطانی کھیل ہیں اور حرام ہیں جس طرح سود حرام ہے۔ ان سب سے بچنے ہی میں ہماری بہتری اور نجات ہے۔ لہٰذا ہماری گزارش صرف اتنی ہے زیورخ اگر دنیا کا سب سے بہترین شہر بھی ہے تو ہمیں اس شہر کی رنگنیوں اور خوبصورتیوں سے متاثر ہو کر سود کے حق میں دلائل ڈھونڈنے کی ضرورت قطعاً نہیں۔ سود کے بارے میں جو ہمیں اللہ پاک اور نبی کریم نے فرما دیا۔ ان ہی احکامات کے ہم پابند ہیں۔
ماہ رمضان میں کینسر ہسپتالوں کی طرف سے اخبارات میں زکوۃ دینے کے اشتہار شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ہمیں ایسے اداروں سے بھرپور تعاون کرنا چاہئے۔ تاہم مجھے کسی ایسے ہسپتال کی تلاش ہے جہاں جہالت کے کینسر کا شکار مریضوں کا بھی علاج ہو سکے۔ میں اپنے مال سے ساری زکوۃ اس ہسپتال کو دینے کے لئے تیار ہوں۔

از محمد آصف بھٹی، نوائے وقت
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
زیورخ یاسر پیر زادہ (روزنامہ دنیا)​


یوں لگا جیسے کسی مندر میں سینکڑوں گھنٹیاں ایک ساتھ بج اٹھی ہوں ‘پاس ہی ایک جھرنا بہہ رہا تھا جس کا شور گھنٹیوں کے شور میں دب گیا تھا ‘ پیچھے پہاڑیوں کا ایک سلسلہ تھا جن کی چوٹیاں کہیں کہیں برف سے ڈھکی ہوئیں تھیں ‘سورج کی کرنیں ان چوٹیوں پر پڑتیں تو پہاڑ سونے کے معلوم ہوتے ‘پہاڑیوں کے بیچوں بیچ سڑک تھی جو بل کھاتی ہوئی ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی کی طرف جا رہی تھی ایسے جیسے کسی دیوقامت اژدھے نے پہاڑوں کے گرد شکنجہ کسا ہو‘ پہاڑیوں کے درمیان جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے گھر اور ہوٹل تھے ‘سڑک ہر گھر تک جا رہی تھی ‘بجلی ‘ٹیلی فون اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت اس آخری گھر کے پاس بھی موجود تھی جو پہاڑ پر ایک نقطے کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔تمام گھر وں کاڈیزائن ایک جیسا تھا ‘ دور سے ان گھروں کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے کسی بچے نے اپنے کھیلنے کے لئے چھوٹے چھوٹے hutبنائے ہوں ۔ہم بادلوںکے درمیان کھڑے تھے ‘مبہوت اور دم بخود ‘ایک سحر تھا جو ہم پر طاری تھا‘کیا دنیا میں کوئی جگہ اس سے زیادہ حسین ہو سکتی ہے ‘میں نے اپنے آپ سے سوال کیا ؟ نہیں یہ دنیا کا کوئی حصہ نہیں ہو سکتا ‘یہ تو جنت کا کوئی ٹکڑا ہے ‘خدا کی بنائی ہوئی جنت جسے انسان نے اپنے ہاتھوں سے تراشا ہے ۔خدا کا ایک نام ’’المصّور‘‘ بھی تو ہے ‘ اس کی مصوری کا ادنیٰ سا نمونہ ہماری آنکھوں کے سامنے تھا۔میلان سے زیورخ تک کا یہ سفر بادلوں کے درمیان ایسا سفر ہے جس میں واحد خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس سفر کی منزل نہ آئے۔

گھنٹیاں مسلسل بج رہی تھیں ‘نیچے وادی میں نگا ہ ڈالی تو سبب معلوم ہوا ‘ سوئٹزر لینڈ کی گائیں گھاس چر رہی تھیں، ہر گائے کے گلے میں گھنٹی تھی اور تمام گھنٹیاں مسلسل گنگنا رہی تھیں ‘دور تا حد نگاہ سبزہ ہی سبزہ تھا‘مگر وہ تمام گائیں ایک مخصوص جگہ سے آگے نہیں جا رہیں تھیں ‘وجہ دریافت کی تو پتہ چلا کہ ان کے گرد تاروں سے ایک حصار قائم ہے جس میں ہلکا سا کرنٹ ہے ‘گائیں یہ بات جانتی ہیں ‘بالکل بھی بھولی نہیںاس لئے تاروں کے پاس بھی نہیں پھٹکتیں ۔اٹلی سے سڑک کے راستے سوئٹزر لینڈ میں داخل ہوتے وقت پتہ ہی نہیں چلتا کب آپ اٹلی کی سرحد عبور کر کے سوئٹزر لینڈ میں داخل ہو گئے ‘بارڈر پر ٹول پلازہ کی طرز کی ایک عمارت ہے جہاں سے گاڑی گذرتی ہے جسے کوئی چیک بھی نہیں کرتا، مگر جونہی سوئٹزر لینڈ کی حدود شروع ہوتی ہیں گردو نواح میں ایک واضح فرق نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ سوئس حکومت نے ہائی وے کے کناروں کے ساتھ ساتھ شیڈ تعمیر کئے ہیں تاکہ گاڑیوں کا شور آبادی کو ڈسٹرب نہ کرے، پہاڑوں کے آخری کونوں تک گھاس یوں کٹی ہے جیسے کسی نے ابھی ابھی مشین چلائی ہو ‘یہ ذمہ داری اس علاقے میں رہنے والے مکینوں کی ہے کہ وہ اپنے اپنے حصے کی گھاس برابر رکھیں ‘ گراس روٹ لیول تک اختیار شاید اسی کو کہتے ہیں۔راستے میں پہاڑوں کو تراش کر سرنگیں بنائی گئی ہیں جن میں سے بعض سرنگیں کئی کئی کلو میٹر لمبی ہیں ‘ مگر ان میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہنگامی حالت کے لئے SOS فون اور باہر نکلنے کے لئے راستے بنائے گئے ہیں ‘ اگر کبھی کسی گاڑی کی خرابی کی وجہ سے سرنگ میں ٹریفک پھنس جائے تو نکلنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں ‘ٹرین بھی انہی سرنگوں کے راستے ہوتی ہوئی سوئٹزر لینڈ میں داخل ہوتی ہے ۔ یار طرحدار رانا لئیق نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ اگر آپ نے میلان سے زیورخ تک کا سفر نہیں کیا تو سمجھئے کہ آپ ابھی تک پیدا ہی نہیں ہوئے ‘ حالانکہ ہم آج تک سمجھتے رہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا نہیں ہوا‘ہائے خبط عظمت!

زیورخ شہر ایک پیالے کی مانند ہے ‘اگر آپ کسی بلند جگہ سے شہر کا نظارہ کریں تو یوں لگے گا جیسے قدرت نے خاص طور سے پہاڑوں کے درمیان اس شہر کو بنایا ہے ۔فقط تین لاکھ اسّی ہزار آبادی کے اس شہر کا شمار دنیا کے امیر اور اہم ترین شہروں میں ہوتا ہے اور اس کی دو بڑی وجوہات ہیں ۔پہلی ‘اس شہر میں دنیا بھر کے بینکنگ اور انشورنس کمپنیوں کے صدر دفاتر ہیں ‘دنیا کے تمام بینکوں کے پاس جتنا سرمایہ ہے اتنا اکیلے زیورخ کے بینکوں میں جمع ہے ‘ان میں سے کئی بینکوں کے پاس ایسے ایسے بنک اکائونٹ ہیں جن میں اربوں روپے رکھے ہیں مگر اکائونٹ ہولڈر فوت ہو چکا ہے اور ان پیسوں کا دعویدار کوئی نہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر کے ورثا یا تو اس غیر قانونی پیسے کو حاصل نہیں کر سکتے یا انہیں اس کا علم ہی نہیں ‘اکثر بینک اپنے کھاتہ داروں کی شناخت چھپانے کے لئے نام کی بجائے نمبرز کا استعمال کرتے ہیں ۔گو کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے حالیہ عالمی قانون سازی کی وجہ سے سوئس بنکوں کی وہ بات نہیں رہی مگر اب بھی عالمی بینکنگ کا مرکز زیورخ ہے ۔دنیا کی تمام بیمہ کمپنیاں ایک اپنے صارفین کا بیمہ کسی دوسری کمپنی سے کرواتی ہیں اور وہ کمپنی آگے ان صارفین کا بیمہ کسی تیسری کمپنی سے کرواتی ہے اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے مگر تان زیورخ میں آ کر ٹوٹتی ہے جہاں Swiss Reنامی کمپنی ان تمام بیمہ کمپنیوں کی ذمہ دار ہے ‘گذشتہ دو سو سال میں یہ کمپنی صرف ایک دفعہ 9/11کے موقع پر گھاٹے میں گئی تھی ۔دنیا کے تمام کریڈٹ کارڈز کمپنیوں کا لین دین بھی بالآخر زیورخ میں ہی طے پاتا ہے ‘UBSنامی ایک بنک اس کا ذمہ دار ہے ‘دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا زیورخ کے بڑے بنکوں میں نہیں ہوتا۔

زیورخ کی دوسری وجہ شہرت سوئٹزر لینڈ کی دلکشی ہے، گو کہ زیورخ بھی دلکشی میں اپنا جواب نہیں رکھتا اور ایک عجیب سی طمانیت اور شانتی کا احساس زیورخ میں ملتا ہے جس کا اٹلی میں بالکل تصور نہیں‘ مگرزیورخ کے ارد گرد Interlaken(دل والے دلہنیا لے جائیں گے کی فلم بندی یہاں ہوئی تھی) اور Pilla Tusجیسے مقامات ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے لاکھوں سیاح زیورخ کا رخ کرتے ہیں ‘اندازہ اس بات لگائیں کہ ایک دن میں زیورخ سٹیشن سے 1492 ٹرینیں روانہ ہوتی ہیں ۔شہر کے چپے چپے پر قحبہ خانے ہیں مگر کہیں کوئی سائن بورڈ دکھائی نہیں دیتا‘کچھ عرصہ پہلے حکومت نے زیورخ کی تمام طوائفوں کو ایک مخصوص جگہ فراہم کی اور ایک قسم کا ’’آنندی‘‘ زیورخ میں بسا گیا ۔شہر کے بیچوں بیچ ایک جھیل ہے جس میں کوئی نہاتا ہے نہ کوڑا پھینکتا ہے (عجیب مردہ دل لوگ ہیں)‘ پورے شہر میں ٹرام ‘بس ‘ٹرین اور فیری چلتی ہے، آپ 13.50فرانک کا ٹکٹ لے کر ایک دن میں پورے زیورخ کی پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر سکتے ہیں ‘اکثر اوقات سوئٹزر لینڈ کا صدر بھی یہی ٹرانسپورٹ استعمال کرتا ہے۔

سوئٹزر لینڈ میں تنخواہیں دیگر یورپ کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہیں ‘کم از کم اجرت اس قدر زیادہ ہے کہ ایک گھریلوملازمہ کی تنخواہ تقریباً چھ لاکھ ماہانہ بنتی ہے۔ سویٹزر لینڈ کی سرحد کو ایک ملک Leichtensteinبھی لگتا ہے، اس ملک کی آبادی فقط 28,000اور 9,000 لوگ یہاں سوئٹزر لینڈ سے کام کرنے آتے ہیںکیونکہ یہاں تنخواہیں سوئٹزر لینڈ سے بھی زیادہ ہیں ،ملک میں بادشاہت ہے اور اکثر بادشاہ سلامت کسی کافی شاپ میں اکیلے مل جاتے ہیں ‘مگر کوئی ان سے سلام تک نہیں لیتا۔

زیورخ میں ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اس جنت نما شہر کی وجہ شہرت سودی بینکاری نظام ہے ،ہمارے مذہبی دانشوروں کی منطق کی رو سے تو اب تک اس شہر کا دیوالیہ نکل جانا چاہئے تھا ‘مگر یہ شہر دنیاکے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے ‘کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے دانشور عوام کو تصویر کا وہ رُخ دکھانا چاہتے ہوں جس رُخ سے تصویر ہی نہ بنائی گئی ہو!


نوٹ نمبر:1یہ کالم ریگا ‘لیٹویا سے استنبول جانے والی پرواز کے دوران لکھا گیا۔
نوٹ نمبر :2نوٹ نمبر 1کا مقصد قارئین کو یہ تنبیہ دینا ہے کہ انہیں مزید ایک سفری کالم سے بور کیا جائے گا۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
یہ تو حال ہے ہمارے نام نہاد دانشوروں کا ۔
یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس ’’ جاہل ‘‘ نے صرف ایک دفعہ قرآن مجید کاترجمہ ہی پڑھا ہوتا تو اس قدر فاش غلطی نہ کرتا ۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
یہ تو حال ہے ہمارے نام نہاد دانشوروں کا ۔
یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس ’’ جاہل ‘‘ نے صرف ایک دفعہ قرآن مجید کاترجمہ ہی پڑھا ہوتا تو اس قدر فاش غلطی نہ کرتا ۔
(بہ انداز دگر)

سر جی ! آپ بھی کیسی باتیں کرتے ہیں۔ قرآن کا ترجمہ خود بھلا کوئی کیسے پڑھ سکتا ہے۔ ہمارے (مسلکی) مولوی حضرات قرآن کا ترجمہ خود سے پڑھنے سے سخت منع فرماتے ہیں۔ اس سے انسان (معاذ اللہ) ”گمراہ“ ہوجاتا ہے۔ ہماری ایک ذہین ترین ایم ایس سی پاس سب سے چھوٹی خواہر نسبتی کی شادی ایک ”تبلیغی گھرانے“ میں ہوئی ہے۔ اسے سختی سے منع کیا ہوا ہے کہ (اپنے) مولوی صاحب کے بیان، اور فضائل اعمال تو شوق سے سنے اور پڑھے لیکن خبر دار قرآن اور حدیث کو ترجمہ سے براہ راست کبھی نہ پڑھے۔ اس سے انسان (معاذ اللہ) ”گمراہ“ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ قرآن کے ایک ایک لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ ہاں کسی (اپنے) عالم ، عالمہ کے ساتھ مل کر ترجمہ قرآن پڑھا جاسکتا ہے۔ موصوفہ نے یہ جواب اپنی بڑی ہمشیرہ اور ہماری زوجہ کو اس وقت دیا، جب انہوں نے کہا کہ رمضان میں صرف ”ناظرہ قرآن“ پڑھنے کی بجائے اسے ترجمہ کے ساتھ پڑھا کرو (انا للہ و انا الیہ راجعون)

ایسے میں آپ ”دانشور لکھاریوں“ کو قرآن باترجمہ پڑھنے کو کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ (ان نام نہاد دانشوروں کے نزدیک) ”کھلا تضاد“ نہیں ہے (ابتسامہ)

(نقل کفر، کفر نہ باشد)
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
قرآن و حدیث ان صحافیوں کے نصاب میں ہی شامل نہیں ہے ۔
ابھی کچھ ماہ پہلے کوئی صحافی ’’ صحافی ‘‘ بننے کے لیے نصاب بتارہے تھے کہ فلاں کی کتابیں یاد کر لیں اور فلاں کے کالمز کو بلاناغہ پڑھیں ، فلاں فلاں کی سوانح حیات حفظ کرلیں ، فلاں فلاں کے نظریات اچھی طرح جان لیں لیکن اس میں ’’ قرآن مجید ‘‘ کا کہیں ذکر نہیں تھا ، محمد عربی کی سیرت کا کوئی تذکرہ نہیں تھا ، کسی صحابی ، تابعی ، محدث ، فقیہ کا نام نہیں تھا ۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
اس ضمن میں ہم نے ایک ادنیٰ سی کاوش کی ہے۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں قرآن مجید کےجملہ اوامر و نواہی کی موضوعاتی درجہ بندی پر مبنی مختصر کتابچے شائع کئے ہیں، جو بار بار طبع ہوتے رہتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ یہ کتابچے اردو اور انگریزی کے زیادہ سے زیادہ صحافیوں تک بھی (مفت) پہنچ جائیں۔ تاکہ وہ ایک نظر میں مختلف موضوعات پر قرآنی احکامات سے آگاہ ہوسکیں۔ پورے قرآن کا ترجمہ تو شاید وہ ساری عمر نہ پڑھ سکیں کہ وہ (نہ جانے کیا کیا) پڑھنے اور لکھنے میں بہت ”مصروف“ ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ اردو اور انگریزی کے صحافیوں، بالخصوص لکھاری صحافیوں کا ایسا کوئی تربیتی اجتماع منعقد کرواسکے تو ہم ایسے اجتماع میں یہ کتب تقسیم کرنے کا اہتمام کرسکتے ہیں۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
کم از کم اس ’’ سود زادے ‘‘ کو تو بذریعہ میل ایک برقی نسخہ بھیجیں ۔ شاید اللہ تعالی اس کی ہدایت والی کھڑکی کھلنے کا سبب بنادیں ۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
کم از کم اس ’’ سود زادے ‘‘ کو تو بذریعہ میل ایک برقی نسخہ بھیجیں ۔ شاید اللہ تعالی اس کی ہدایت والی کھڑکی کھلنے کا سبب بنادیں ۔
خضر بھائی!
ہم تو زیادہ سے زیادہ یعنی اردو کے تقریباً تمام کالم نویسوں کو ایک سے زائد مرتبہ قرآن مجید کا مکمل ترجمہ، موضوعاتی درجہ بندی، اوامر و نواہی بمع اشاریہ کی سافٹ کاپیاں ایک سے زائد مرتبہ ارسال کرچکے ہیں۔ لیکن کوئی انہیں پڑھے تو سہی۔ مسئلہ ”دستیابی“ کا نہیں بلکہ قرآن و حدیث کو ترجیح دینے کا ہے، جو ان لکھاریوں کے پاس نہیں ہے۔ مشہور ہے کہ بیشتر ریگولرلکھاری تو اپنے ہم عصر کالم نویسوں تک کو نہیں پڑھتے۔
 
Top