- شمولیت
- مارچ 08، 2011
- پیغامات
- 2,521
- ری ایکشن اسکور
- 11,557
- پوائنٹ
- 641
مجھ سے کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ اصلاح نفس پر لکھتے ہیں اور اس بات کو بہت اہمیت دیتے ہیں کہ نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں تو یہ لوگ کون ہیں کہ جن کی صحبت ہماری اصلاح میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ آج میں اپنے دو اہم مرشدین کا تعارف کروانا چاہ رہا ہوں کہ جنہوں نے میری اصلاح میں اہم کردار ادا کیا۔ اور یہ کسی کی بھی اصلاح یا تزکیہ میں سب سے اہم کردار ادا سکتے ہیں۔ یہ مرشد ایسے ہیں کہ اگر آپ کو نصیب ہو جائیں تو پھر آپ کو کسی بیعت یا خانقاہ کی ضرورت نہیں ہے۔
میرے یہ دو مرشد میرے سچے دوست اور اہلیہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کے سچے دوست اور اہلیہ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا لہذا وہ اس کی اصلاح میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میں نے اپنے دوست آصف علی، جو اگرچہ مجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں، اور انہوں نے قرآن اکیڈمی لاہور میں ایک سالہ کورس کے دوران مجھ سے تقریبا ایک سال میں بعض علوم اسلامیہ پڑھے بھی ہیں، سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میرے ان دوست نے مجھے ایک بزرگ دوست سے ملوایا جن کا نام احمد جاوید ہے۔ ان سے تو بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ احمد جاوید صاحب نے ہی ایک مجلس میں اپنے سب شادی شدہ دوستوں کو مشورہ دیا کہ اپنی اہلیہ کو اپنا مرشد بنا لو، اس سے بہتر مرشد نہیں ملے گا اور یہ میرا تجربہ ہے۔
آج میں اپنے ایک مرشد کے حوالہ سے ایک تجربہ شیئر کرنا چاہوں گا۔ میں نے اپنے دوست کے کہنے پر اپنی اہلیہ کو بھی مرشد بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مطلب اس کی بیعت کرنا نہیں ہے اور نہ ہی اسے گھر کا منتظم بنانا بلکہ اس معنی میں مرشد کہ میں اس سے اپنی اصلاح میں رہنمائی لے سکوں۔ ایک دن جبکہ میں اہلیہ کے ساتھ ایک خوشگوار موڈ میں گھر میں موجود تھا تو میں نے کہا آپ مجھے دنیا میں سب سے زیادہ جانتی ہوں گی۔ مجھے بتائیں کہ مجھ میں کیا خامی ہے۔ اور تنقید برائے تنقید نہ ہو کہ مجھے یہ نہیں ملا یا گھر میں یہ نہیں ہے بلکہ ایسی بات کہو جو میری اصلاح میں اہم کردار ادا کر سکے۔ اہلیہ نے کہا: آپ متکبر ہیں۔ مجھے ایک جھٹکا لگا کیونکہ اپنے سب گھر والوں میں اور محلے داروں میں اور تنظیم کے دوستوں میں میں متواضع اور منکسر المزاج معروف تھا۔ لیکن میں نے بات جاری رکھی، میں نے کہا، کیسا تکبر محسوس کرتی ہیں۔ اہلیہ نے کہا: آپ کو اپنے علم اور تقوی دو چیزوں کا تکبر ہے۔ مجھ پر اس وقت یہ بات بہت گراں گزری۔ میں بحث کر سکتا تھا۔ اپنی عاجزی کے شواہد کے انبار لگا سکتا تھا۔ یہ کہہ سکتا تھا کہ بیوی تو فریق مخالف ہوتی ہے، اور اس نے تو ایسے کہنا ہی ہے، کہاں میاں بیوی میں اختلافات نہیں ہیں، لڑائی جھگڑے نہیں ہیں، تم کن چکروں میں پڑ گئے ہو، کسی نیوٹرل شخص ہی کو مرشد بنا لیتے، بیوی کہاں نیوٹرل ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن میں نے اپنے نفس کو سمجھایا کہ یہی کڑا لمحہ ہے۔ اس بات کو حقیقت سمجھ کر مان لو۔ بھلے اب دنیا تمہیں عاجز کہے، تم عاجز نہیں ہو۔ جب کافی کشمکش کے بعد نفس نے اس عیب کو مان لیا تو اب اس کی اصلاح کی کوشش کی۔ اور میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میں نے اصلاح کر لی ہے یا میرا تزکیہ ہو گیا ہے لیکن اس تسلیم پر مجھے جو اللہ نے انعامات دیے، ان میں چند ایک ضرور شیئر کرنا چاہوں گا:
مرشد کی یہ بات تسلیم کرنے کے بعد اللہ نے عاجزی کے احوال کھول دیے یعنی عاجزی پہلے کتابوں میں پڑھتے تھے اب اسے محسوس کرنا شروع کر دیا۔
مرشد کی اس بات کو تسلیم کرنے کے بعد اب اگر کوئی مجھے متکبر کہے تو کچھ ملال نہیں ہوتا بلکہ دل میں خیال آتا ہے کہ صحیح ہی تو کہہ رہا ہے۔ اور دل اللہ کی طرف لگ جاتا ہے کہ اے پروردگار، تو ہی اصلاح فرما، معاف فرما۔ یعنی تکبر کے الزام یا طعن پر رد عمل پیدا نہیں ہوتا بلکہ اپنے متکبر ہونے کا احساس ندامت پیدا ہوتا ہے اور زبان توبہ استغفار کی طرف مائل ہوتی ہے۔ اب معلوم نہیں یہ کیفیت کب تک باقی رہتی ہے۔
اب رہ رہ کے یہ حدیث یاد آتی ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہے، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ اور دل میں یہ خیال آتا ہے کہ میرے دل میں تو رائی کے دانے کے برابرتو لازما تکبر موجود ہے کیونکہ رائی کا دانہ تو بہت چھوٹا ہوتا ہے اور اتنے کم تکبر سے بچاو کیسے ممکن ہے۔ دل میں اپنے نفس کی بڑائی آ ہی جاتی ہے۔
مرشد کی بات سے ایک اور حال پیدا ہوا اور وہ یہ کہ رہ رہ کر یہ خیال ستانے لگا ہے، آج تم مصنف ہو، خطیب ہو، مدرس ہو، ہزاروں لوگ تم سے استفادہ کرتے ہیں۔ کل وہ تمہارے متبعین تمہاری درس وتدریس، وعظ ونصیحت، تحریر وتصنیف سے فائدہ اٹھا کر میدان حشر میں تم سے آگے کھڑے ہوں تو تمہاری کیا عزت باقی رہ جائے گی۔ اب ایسے محسوس ہوتا ہے کہ میرا ہر مقتدی، میرا ہر سامع، میرا ہر قاری مجھ سے عمل میں آگے کھڑا ہے اور وہ اپنے عمل میں جتنا مخلص ہے، میں نہیں ہوں۔ لہذا اب یہ بات علی الاعلان کہنے میں عار محسوس نہیں ہوتی کہ مجھے شاید میرے اعمال نہیں بلکہ کوئی سامع یا قاری جنت کے اعلی درجات میں لے جانے کا سبب بن جائے۔
اس پوسٹ کا ہر گز یہ مقصد نہیں ہے کہ میرے مرشد نے میری اصلاح کر دی ہے۔ اس پوسٹ کا اصل مقصد یہی ہے کہ میرے مرشد نے میری اصلاح میں کس قدر کردار ادا کیا۔ آپ بھی اپنے مرشد سے اصلاح لیں۔ جزاکم اللہ
میرے یہ دو مرشد میرے سچے دوست اور اہلیہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کے سچے دوست اور اہلیہ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا لہذا وہ اس کی اصلاح میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میں نے اپنے دوست آصف علی، جو اگرچہ مجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں، اور انہوں نے قرآن اکیڈمی لاہور میں ایک سالہ کورس کے دوران مجھ سے تقریبا ایک سال میں بعض علوم اسلامیہ پڑھے بھی ہیں، سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میرے ان دوست نے مجھے ایک بزرگ دوست سے ملوایا جن کا نام احمد جاوید ہے۔ ان سے تو بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ احمد جاوید صاحب نے ہی ایک مجلس میں اپنے سب شادی شدہ دوستوں کو مشورہ دیا کہ اپنی اہلیہ کو اپنا مرشد بنا لو، اس سے بہتر مرشد نہیں ملے گا اور یہ میرا تجربہ ہے۔
آج میں اپنے ایک مرشد کے حوالہ سے ایک تجربہ شیئر کرنا چاہوں گا۔ میں نے اپنے دوست کے کہنے پر اپنی اہلیہ کو بھی مرشد بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مطلب اس کی بیعت کرنا نہیں ہے اور نہ ہی اسے گھر کا منتظم بنانا بلکہ اس معنی میں مرشد کہ میں اس سے اپنی اصلاح میں رہنمائی لے سکوں۔ ایک دن جبکہ میں اہلیہ کے ساتھ ایک خوشگوار موڈ میں گھر میں موجود تھا تو میں نے کہا آپ مجھے دنیا میں سب سے زیادہ جانتی ہوں گی۔ مجھے بتائیں کہ مجھ میں کیا خامی ہے۔ اور تنقید برائے تنقید نہ ہو کہ مجھے یہ نہیں ملا یا گھر میں یہ نہیں ہے بلکہ ایسی بات کہو جو میری اصلاح میں اہم کردار ادا کر سکے۔ اہلیہ نے کہا: آپ متکبر ہیں۔ مجھے ایک جھٹکا لگا کیونکہ اپنے سب گھر والوں میں اور محلے داروں میں اور تنظیم کے دوستوں میں میں متواضع اور منکسر المزاج معروف تھا۔ لیکن میں نے بات جاری رکھی، میں نے کہا، کیسا تکبر محسوس کرتی ہیں۔ اہلیہ نے کہا: آپ کو اپنے علم اور تقوی دو چیزوں کا تکبر ہے۔ مجھ پر اس وقت یہ بات بہت گراں گزری۔ میں بحث کر سکتا تھا۔ اپنی عاجزی کے شواہد کے انبار لگا سکتا تھا۔ یہ کہہ سکتا تھا کہ بیوی تو فریق مخالف ہوتی ہے، اور اس نے تو ایسے کہنا ہی ہے، کہاں میاں بیوی میں اختلافات نہیں ہیں، لڑائی جھگڑے نہیں ہیں، تم کن چکروں میں پڑ گئے ہو، کسی نیوٹرل شخص ہی کو مرشد بنا لیتے، بیوی کہاں نیوٹرل ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن میں نے اپنے نفس کو سمجھایا کہ یہی کڑا لمحہ ہے۔ اس بات کو حقیقت سمجھ کر مان لو۔ بھلے اب دنیا تمہیں عاجز کہے، تم عاجز نہیں ہو۔ جب کافی کشمکش کے بعد نفس نے اس عیب کو مان لیا تو اب اس کی اصلاح کی کوشش کی۔ اور میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میں نے اصلاح کر لی ہے یا میرا تزکیہ ہو گیا ہے لیکن اس تسلیم پر مجھے جو اللہ نے انعامات دیے، ان میں چند ایک ضرور شیئر کرنا چاہوں گا:
مرشد کی یہ بات تسلیم کرنے کے بعد اللہ نے عاجزی کے احوال کھول دیے یعنی عاجزی پہلے کتابوں میں پڑھتے تھے اب اسے محسوس کرنا شروع کر دیا۔
مرشد کی اس بات کو تسلیم کرنے کے بعد اب اگر کوئی مجھے متکبر کہے تو کچھ ملال نہیں ہوتا بلکہ دل میں خیال آتا ہے کہ صحیح ہی تو کہہ رہا ہے۔ اور دل اللہ کی طرف لگ جاتا ہے کہ اے پروردگار، تو ہی اصلاح فرما، معاف فرما۔ یعنی تکبر کے الزام یا طعن پر رد عمل پیدا نہیں ہوتا بلکہ اپنے متکبر ہونے کا احساس ندامت پیدا ہوتا ہے اور زبان توبہ استغفار کی طرف مائل ہوتی ہے۔ اب معلوم نہیں یہ کیفیت کب تک باقی رہتی ہے۔
اب رہ رہ کے یہ حدیث یاد آتی ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہے، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ اور دل میں یہ خیال آتا ہے کہ میرے دل میں تو رائی کے دانے کے برابرتو لازما تکبر موجود ہے کیونکہ رائی کا دانہ تو بہت چھوٹا ہوتا ہے اور اتنے کم تکبر سے بچاو کیسے ممکن ہے۔ دل میں اپنے نفس کی بڑائی آ ہی جاتی ہے۔
مرشد کی بات سے ایک اور حال پیدا ہوا اور وہ یہ کہ رہ رہ کر یہ خیال ستانے لگا ہے، آج تم مصنف ہو، خطیب ہو، مدرس ہو، ہزاروں لوگ تم سے استفادہ کرتے ہیں۔ کل وہ تمہارے متبعین تمہاری درس وتدریس، وعظ ونصیحت، تحریر وتصنیف سے فائدہ اٹھا کر میدان حشر میں تم سے آگے کھڑے ہوں تو تمہاری کیا عزت باقی رہ جائے گی۔ اب ایسے محسوس ہوتا ہے کہ میرا ہر مقتدی، میرا ہر سامع، میرا ہر قاری مجھ سے عمل میں آگے کھڑا ہے اور وہ اپنے عمل میں جتنا مخلص ہے، میں نہیں ہوں۔ لہذا اب یہ بات علی الاعلان کہنے میں عار محسوس نہیں ہوتی کہ مجھے شاید میرے اعمال نہیں بلکہ کوئی سامع یا قاری جنت کے اعلی درجات میں لے جانے کا سبب بن جائے۔
اس پوسٹ کا ہر گز یہ مقصد نہیں ہے کہ میرے مرشد نے میری اصلاح کر دی ہے۔ اس پوسٹ کا اصل مقصد یہی ہے کہ میرے مرشد نے میری اصلاح میں کس قدر کردار ادا کیا۔ آپ بھی اپنے مرشد سے اصلاح لیں۔ جزاکم اللہ