محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,823
- پوائنٹ
- 1,069
عوام اور علماء کرام میں خلیج !
مصنف/مقرر/مولف خالد حسین گورایہ
عوام اور علماء کرام میں خلیج مغرب کا مضبوط ترین ہتھیار
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ
بلا کسی طویل تمہید کے نفس موضوع پر آتے ہوئے ہم یہ کہنے کی جسارت کر رہے ہیں کہ اس وقت معاشرے کی شکست وریخت، تنزلی وانحطاط، بے راہ روی اور شتر بے مہاری کے جہاں دیگر اسباب ہیں وہاں مرکزی سبب اہل علم اور عوام الناس کے مابین وہ خلیج اور فاصلہ ہے جسےپر کرنے کیلئے دونوں طبقوں کی جانب سے کوئی خاطر خواہ توجہ واہمیت نہیں دی گئی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ روحانی امراض میں اضافہ ہوتا چلاگیا، جہالت بڑھتی چلی گئی۔ اہل علم کی زبانوں پر شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ عوام علماء کی قدر داں نہیں ! اور عوام کہتے ہے اہل علم کو ہمارے مسائل سے سروکار نہیں۔
بڑا طویل عرصہ ہوا ہے اس کشمکش کو شروع ہوئے، دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں، بد ظنی، بے یقینی کی فضا چھاچکی ہے علماء اور عوام کے مابین قائم تعلق میں۔ اس اختلاف کا نقطہ آغاز جاننے کیلئے ہمیں آج سے کچھ تین چار صدیاں پیچھے جانا ہوگا۔ اس وقت مسلمان جس تہذیب کے پرستادہ اور دلدادہ ہیں وہ تہذیب ان کی نہیں غیروں کی ہے اس کا پس منظر کچھ اس طرح ہے کہ آج سے تین چار صدیاں قبل یورپ میں بادشاہ، جاگیر دار اور پوپ کے ظالمانہ اقتدار کے خلاف شدید ترین رد عمل کا زمانہ تھا جس کے نتیجے میں بادشاہت اور جاگیر داری نظام کا مکمل خاتمہ ہوا۔ پوپ جو مذہبی نمائندہ تھا اس کے کردار کو گرجے کی چار دیواری تک محدود کردیا گیا۔پوپ کو گرجے تک محدود کرنے کے بعد اجتماعی معاملات سے مذہب کے کردار کو ختم کرکے گرجے تک محدود کردیا مذہب اور اس کے احکامات پر عمل کرنا شخص کے ذاتی اور پرائیوٹ مسئلہ قرار دیا گیا اور طے یہ کردیا گیا کہ سوسائٹی اپنے اجتماعی معاملات خود ہی طے کرے گی، اسے کسی بیرونی رہنمائی کی ضرورت نہیں۔ اس صورت حال کے نتیجے میں ’’ سیکولرزم ‘‘ کے نام سے ایک نیا طبقہ وجود میں آیا جوکہ رد عمل تھا پوپ اور جاگیرداری وبادشاہی نظام کے ظلم واستبداد کا۔ اس سیکولر فکر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب مغرب میں صنعتی اور اقتصادی انقلاب آیا اور اس کے ذریعے سے مغرب دنیا پر حکمرانی کیلئے نکل کھڑا ہوا مسلمان مملکتوں کو محکموم بنانے کے بعد اس نے بنیادی طور پر دو کام کئے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے قدیم نظام حکومت اور نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور دوسرا ان پر معاشی معاشرتی اور سیاسی وہ نظام مسلط کئے جو انہوں نے اپنے کند ذہن اور کچے تجربات کی روشنی میں تشکیل دئے تھے۔ نظام حکم اور نظام تعلیم کی تبدیلی اور معاشرتی وسائنسی علوم کے طوفان کے ذریعے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوچ بٹھا دی گئی کہ اگر آگے بڑھنا ہے تو ان علوم کو پڑھنا ہےترقی کیلئے یہ جدید علوم ناگزیر ہیں۔اگر یہ حاصل نہ کئے گئے تو مسلمان دنیا میں سب سے پیچھے رہ جائیں گے۔الغرض پھر حادثۃ فاجعہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے اپنے تہذیب، تمدن، روایات ورسومات سب کو ان علوم پر قربان کردیا۔ اپنی زبانیں بدل لیں، ثقافت کو دیس نکالا دے دیا، مذہب کو مسجد ومدرسہ تک محدود کردیا۔ اب اس کے بعد مسلمان دو طبقات میں بٹ گئے ایک وہ طبقہ جنہیں جدید تہذیب کی چکا چوند ترقی آنکھوں کو خیرہ کئے ہوئی تھی انہوں نے اپنا معاشرتی کردار بلند کرنے کیلئے انہیں مغربی افکار کا سہارا لیا جبکہ دوسرا طبقہ وہ تھا جس نے اپنے مذہب، اپنی قدیم روایات، وثقافت اور عقائد کی حفاظت کو اپنا ہدف بنایا۔یہ دو راستے تھے اگرچہ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا کہ مسلم معاشرے اور ثقافت کو ترقی دینا مضبوط کرنا مگر راہیں جدا ہونے سے ترجیحات بدل گئیں، جتنے جتنے آگے بڑھتے گئے اپنے معاشرے وتہذیب سے کٹتے چلے گئے۔ زبانیں تک بد لیں، لباس، رنگ ڈھنگ، چال ڈھال، بناؤ سینگار سب کچھ امپورٹ کیا۔ جب اس جداگانہ سفر کا آغاز ہوا تھا تو کافی عرصے تک اس طبقے میں رمق وجوش اور مذہبی وثقافتی باقیات زندہ رہیں لیکن جیسے جیسے نئی نسلیں آئیں پرانی عہد پارینہ کا حصہ بنیں تو یہ خلیج بڑھتی چلی گئی نئی نسلین اپنے ہی مسلمان بھائیوں جو قدیم روایات اور مذہب سے جڑے ہوئے تھے انہیں اجبنی سمجھنے لگیں۔جدید نظام نہ صرف ان کے دلوں میں گھر کر گیا بلکہ لوگوں کو اس کی دعوت بھی دینے لگیں پرچار بھی کرنے لگے۔ چلتے چلتے بات یہاں تک آن پہنچی کہ مذھب کو ملا ازم کہنا شروع کردیا کوئی بھی شرعی بات آتی ہے تو کہہ کر جان چھڑ ا لیتے ہیں کہ یہ مولویوں کی داستانیں ہیں۔ مذھب کو پرائیویٹ زندگی تک محدود کردیا گیا۔ پانچ وقت کی نماز اور سال میں ایک بار زکوٰۃ دے لینا ہی سب کچھ سمجھ لیا گیا۔ پہلے معاشرے، معیشت، بازاروں سے دین نکلا، پھر گھروں سے بھی نکل گیا اور اب ذات اور پرائیویٹ زندگی سے بھی نکل چکا ہے آج جاکر مساجد ومدارس میں محصور ہے اور یہاں بھی دنیا کی سیاست ڈیرے جمائے ہوئے ہے۔ ادھر دوسرے طرف کے لوگ جنہیں مذھبی اور قدیم اسلامی روایات کی حفاظت کا بیڑہ اٹھایا تھا انہوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی معاشرہ سے انہیں زیادہ سروکار نہ رہا، بس کہیں نکاح، یا جنازہ پڑھانے کی ضرورت پڑی تو حاضری دے دی، اگر کسی نے دکان کھول لی تو وہاں قرآن کو چند گھنٹوں میں ختم کرنے پہچ گئے کسی نے مسئلہ پوچھ لیا تو ٹھیک ہے ورنہ مسجد ہے مدرسہ ہے اللہ اللہ خیر سلا۔
حاصل کلام یہ کہ جس طرح قوم نوح میں بت پرستی کا آغاز ہوا تھا اسی انداز سے مغربی افکار اور مغربی علوم نے علماء اور عوام، دینی ودنیاوی طبقات میں تفریق پیدا کردی۔
جیساکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ قوم نوح میں بت پرستی کے آغاز سے متعلق فرماتے ہیں :
’’ قوم نوح کے نیک افراد جب مرگئے تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں کو کہا کہ ان کی تصویریں بنا کر تم اپنے گھروں اور دکانوں میں رکھ لو تاکہ ان کی یاد تازہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو۔ جب یہ تصویریں بنا کر رکھنے والے فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر شرک میں ملوث کردیا کہ تمہارے آباء تو ان کی عبادت کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں، چنانچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی۔ ‘‘(صحيح البخاري، حديث : 4920)
بالکل اسی طرح جدید مغربی تہذیب نے ایسا وار کیا کہ مسلمانوں کے جس طبقے نے مغربی نظام میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا تھا تاکہ اس کے ذریعے اسلام کی خدمت کی جائے اسلامی معاشرے کو دنیا کے مقابلے میں لایا جائے یہ سوچ اس وقت تک رہی جب تک اس سوچ کے افراد زندہ تھے جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی اولادوں کے ذہنوں میں بات ڈال دی کہ مذھب اور مولوی ازم سے تمہارا کیا سروکار تمہارے اباؤ اجداد کی ترقی کا راز تو مغربی تہذیب ومغربی افکار میں پنہاں ہے۔ یہی تمہارے اباء واجداد کی ترقی کا باعث تھا لہذا تم جتنا اس راستےپر آگے چلتے جاؤ گے ترقی کی منزلیں طے کرتے جاؤ گے۔
دوسری طرف کا جو طبقہ تھا اس کے اخلاف یہ سمجھنے لگ گئے کہ ہمارا کام تو بس مسجد میں امامت، مدرسے میں تدریس تک محدود ہے۔ باہر نکلے تو قرآنی خوانی اور چہلم میں شرکت کرنا ہی کافی ہے۔ اسی سے انقلاب آئے گا یہیں سے دنیا بدلے گی۔الغرض اس طبقہ کی قربانیوں کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور یقینی طور پر جو راہ انہوں نے اختیار کی بڑی اعلیٰ وارفع راہ تھی جس نے برصغیر پاک وہند میں اور دیگر استعمار سے متاثرہ ریاستوں میں علم کو، اسلام کو زندہ رکھا، مغربی تہذیب وثقافت کے تند وتیز حملوں اور طلاطم خیز موجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اور ہم یہ بات بڑے ہی عزم اور یقین سے کہتے ہیں کہ برصغیر میں اگر مدرسے نہ ہوتے تو یہاں مذھب ہندو اور مغربی ثقافت میں دب جاتا۔ یقینا اس طبقہ کی بڑی جلیل القدر خدمات ہیں اور تمام امت اس کی معترف ہے۔
ہم کیسے تیراک ہیں جاکر پوچھو ساحل والوں سے
خود تو ڈوب گئے لیکن رخ موڑ دیا طوفانوں کا
خود تو ڈوب گئے لیکن رخ موڑ دیا طوفانوں کا
لیکن ان کامرانیوں، کاوشوں اور ان کے بیش بہا نتائج کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ عوام اور علماء، دین اور دنیا میں پیدا ہونے والی خلیج میں یہ طبقہ بھی دانستہ یا نادانستہ حصہ دار ضرور ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس طبقہ کی معاشرہ سے جزوی یا کلی کنارہ کشی کے نتائج یہ نکلے کہ مغربی فکر نے تمام معاشرہ کو زہر آلود کردیا، زمانے کی زبان بدل گئی، اصطلاحات بدل گئیں، رہن سہن کے طور طریقے بدل گئے۔اب صورت حال یہ ہوچلی ہے جس کا نقشہ ’’ماہنامہ الشریعہ ‘‘ کے مضمون نگار نے بہت ہی عمدہ پیرائے میں کھینچا ہےعلماء اور مذھبی طبقہ سے متعلق کہتے ہیں :’’ یہ حضرات اپنے دامین میں حق بھی رکھتے تھے اور حق کی حفاظت کےسب دلائل بھی ان کے پاس تھے، مگر زبان وماحول کی اجنبیت، لب ولہجہ کا فرق اور مروجہ اصطلاحات سے ناواقفیت کی بنا پر سیکولرزم کے علمبرداروں سے تو دور تھے ہی، معاشرے کے عام سمجھ دار افراد کی فکر اور سوچ کو بھی زیادہ متاثر نہ کرسکے اور عوام کا جتنا کچھ تعلق انکے ساتھ رہ گیا تھا، وہ بھی محض عقیدہ کی بنیاد پر تھا‘‘
1{ (ماہنامہ الشریعہ، جلد ۱۹ شمارہ ۶ جون ۲۰۰۸)
لہٰذا سیکولر لوگوں کا وہی مطالبہ تھا جو مغرب میں پوپ سے کیا گیا تھا کہ اپنا دائرہ عمل مسجد ومدرسہ تک محدود رکھو او ر مذہب کو سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے علیحدہ رہنے دو۔
الغرض یہ داستاں بہت طویل ہے اسباب دونوں طرف موجود ہیں اب ضروت اس امر کی ہے کہ اگر اہل علم اور عوام دونوں چاہتے ہیں کہ اسلام پھیلے پھولے، معاشرہ دوبارہ قرون اولیٰ کے خطوط پر استوار ہوجائے تو دونوں طبقوں کو ا ن اسباب کا تدارک کرن اہوگا جو فریقین کے مابین دوری کا باعث بنے ہیں ان کے ازالے سے ہی اور عوام اور علماء کے ادب واحترام کے رشتے کی مضبوطی سے ہی دین ترقی کرسکتا ہے ورگرنہ ہم سب عند اللہ پکڑے جائیں گے۔۔کیونکہ امت دراصل دو طرح کے لوگوں کی اقتداء کرتی ہے۔
علماء اور امراء
دین کے معاملے میں لوگ علماء کی پیروی کرتے ہیں کیونکہ علماء اسلام کی قولی یاعملی جیسی بھی تصویر پیش کرتے ہیں عوا م اسی کی تابع ہے اور دنیاوی امورمثلا سواری، گھر، جائداد، طعام وغیرہ میں ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا معیار امرا ء کا معیار ہو۔ اس لئے استعماری سازشوں نے اہل کو بدنام کیا اور امراء کو عیاشیوں اور شاہ خرچیوں پر لگادیا۔
اب یہاں اہل علم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جہاں مسائل ہیں انہیں دور کرنے کی کوشش کی جائے عوام الناس کے سامنے خالص عملی اور علمی کردار پیش کیا جائے، تاکہ یہ خلیج کم سے کم ہو اور عوام ایک مرتبہ پھر سے علماء کے حضور دو زانوں ہوکر بیٹھ جائیں۔
زیر نظر تحریر میں ان بنیادی اسباب کی جانب توجہ مبذول کرانےکی سعی کی گئی ہے جن کے تدارک اور اصلاح سے علماء اور عوام، دین اور دنیا میں قائم ان فاصلوں کو ختم کیا جاسکتا ہے یا کم ازکم کیا جاسکتاہے۔ قبل اس کے کہ اسلامی تشخص ہماری تہذیب وثقافت سے کلی طور پر مٹ نہ جائے۔ اسباب چونکہ دونوں طبقات میں موجود ہیں لہذا اول علماء کرام کے طبقہ سے متعلقہ اسباب ذکر کریں گے بعد ازاں عوام سے متعلق۔ باللہ نستعین وعلیہ نتوکل
اہل علم طبقہ کی جانب سے چند ایک اسباب جو ہمیں
سمجھائی دیتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
اخلاص کی کمی :
اخلاص اعمال میں وزن پیدا کرتا ہے، اخلاص کے فقدان سے عمل کی رنگ آمیزی یا تو پھیکی پڑجائے گی یا بدنما ہوجاتی ہے۔ دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ ساتھ علم کے شعبے کو بھی گویا کہ نظر لگ گئی ہے اہل علم کا لبادہ اوڑھ کر ایسے لوگ اس شعبے میں در آئے ہیں کہ جن کے مقاصد کچھ اور ہیں آج کے علماء اور ماضی کے علماء میں موازنہ کریں تو یہ بات شدت سے کھٹکتی ہے کہ آج کے علماء میں اخلاص کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔اخلاص عمل کی روح ہے، جسے ہم نے ثانوی درجے کی جھگڑوں میں الجھ کر
جو باتنخواہ ہیں وہ تنخواہ کا رونا روتے ہیں اورجو اہل تجارت ہیں وہ وقت کی کمی کی شکایت کرتے ہیں۔کام دونوں نہیں کرنا چاہتے اور اگر کرتے ہیں تو بے گار سمجھ کر۔ تنخواہ دار عالم سمجھتا ہے کہ یہ ذمہ داریاں نظماء کی ہیں اور تجارت پیشہ علماء کا خیا ل ہوتا ہے کہ یہ ذمہ داریاں ان ائمہ، دعاة اور مدرسین کی ہیں جو اس پیشے سے منسلک ہیں۔ ایسی زبردستی کی نصیحتیں بیزاری کے علاوہ اور کیا اثر چھوڑیں گی۔
داعیانہ اوصاف کی کمی:
علماء چونکہ انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء کی سب سے بنیادی ذمہ داری دعوت وتبلیغ تھی۔ آج کے دور میں اہل علم طبقہ میں دعوت کا تصور عملاً اتنا محدود ہوگیا ہے کہ وہ اگر مدرسے کی چار دیواری سے اگر نکلتا ہے تومسجد کے منبر تک محدود ہوجاتاہے۔جبکہ مسجدوں اور مدرسوں میں آنے والے افراد کے مقابلے میں ان سے باہر افراد کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے اس معاشرہ میں بسنے والے افراد کی رہنمائی کون کرے گا اور انہیں مسجدوں تک کون لیکر آئے گا؟ قصور ان کا نہیں بلکہ قصور علماء کا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک غیر ضروری چیز جس کی ایجاد ایک کمپنی کرتی ہے اس کا اتنا پرچار کرواتی ہے کہ لوگ اسے ضروری خیال کرنے لگتے ہیں اور پھر وہ ان کی زندگی کا ایک لازمہ بن جاتی ہے۔ مگر شریعت جیسی ضروری چیز پرچار نہ کرنے کی وجہ سے غیر ضروری شیٴ بن کر رہ گئی ہے پھر جب شریعت غیر ضروری ٹھہرے گی تو بھلا علماء کی ضرورت کیونکر محسوس ہوگی اور علماء بیزاری پاوٴں کیوں نہ پسارے گی۔
شرعی علوم میں عدم تعمق:
ہم جس دور میں بس رہے ہیں یہ ایسا دور ہے جس میں فتنوں کی یلغار ہے۔ جس میں محض شہوانی فتنے نہیں بلکہ شبہات کا فتنہ سر چڑھ کر بول رہاہے۔ آئے روز نت نئے عقائد ونظریات کا وجود میں آنا علماء کی ذمہ داری اس حوالے سے بڑھا دیتا ہے کہ وہ اس سب کے لئے تیار ہوں۔ مکاروں کی چالوں کو سمجھیں۔ ان فتنوں کی بیخ کنی کریں۔ اس سب کیلئے شرعی علوم میں تمعق اور ملکہ حاصل ہونا ضروری ہے۔ کتنے ایسے تھے جو غیروں کی اصلاح کیلئے نکلے اور خود شکار ہوگئے۔
رب تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے
’’{قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ } [يوسف: 108]
لہذا دعوت کیلئے بصیرت کی ضرورت ہے اور بصیرت علم میں تعمق سے حاصل ہوتی ہے۔ لہذا عموما دیکھا گیا ہے بہت سے طالب علمی بے بضاعتی کے سبب مناظرات ومباحثات میں کود پڑتے ہیں۔ اور مخالف کی چرگ زبانی کے باعث شکست کھاکر بہت سے لوگوں کی گمراہی کا باعث بنتے ہیں۔ لہذا اس وقت جہاں علماء اور عوام کے مابین رشتے کو مضبوط کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے وہیں بہت سے علوم میں تمکن حاصل کرنے اور انہیں دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
التعالم واثرہ
معاشرہ اور ثقافت سے لاعلمی :
ایک عالم دین کیلئے فقہ الواقع کا علم ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اپنے ماحول سے واقفیت کے بعد ہی ایک عالم دین کی دعوت مؤثر ہوسکتی ہے۔ ماحول سے واقفیت کو بعض لوگ کچھ غلط مفاہیم کے پیرائے میں لے جاتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک داعی اور عالم دین کو اپنے معاشرہ میں موجود لوگوں کی عادات، ان کی نفسیات، اور معاشرہ میں در آنے والا منحرف
عربی میں قاعدہ متعین ہے :
(( الحكمُ على الشيءِ فَرعٌ عَن تَصَوُّرهِ ))
ولا يَتَحقَّق ذلك إلا بمَعرفَةِ ( الواقِع ) المُحيطِ بالمسألَةِ المُرادِ بَحثُها ؛ وهذا مِن قَواعدِ الفُتيا بِخاصَّةٍ، وأصول ِ العلم ِ بعامَّةٍ .
اصلاح کو ناممکن سمجھنا :
بادشاہوں کو اصلاحی خطوط لکھنا اسلاف کا کارنامہ ہے۔
Last edited: