- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
الاعتصام
لغوی بحث:
ابن فارس نے کہا "عین صاد اور میم (ع ص م) ایک صحیح اصل ہے جو کہ امساک (رکنا /روکنا /پکڑنا) اور منع اور ملازمة (لازم کرنا /کسی کے ساتھ ہو جانا )پر دلالت کرتا ہے اور یہ ایک ہی معنی ہے اور اس سے "اَلعِصمَة" ہے جس کا معنی ہے "اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو برائی /گناہ میں گرنے سےروکتا ہے اور بچاتا ہے۔ اور اِعتَصَمَ العَبدُ باللہ تعالیٰ یعنی بندہ اللہ تعالیٰ(کی توفیق سے )رک گیا /بچ گیا۔ اور اِستَعصَمَ بمعنی اِلتَجأ الخ۔ کسی سہارے کو پکڑا۔
الاعتصام اَلاِستِمسَاک بِالشٰیءِ یعنی کسی چیز کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنا ۔
ابو طالب نے کہا ہے" ثَمال الیتامیٰ عِصمَة للارامل یعنی (آپ ﷺکے متعلق کہا کہ) یتیموں کو کھلانے والا ان کے لئے سایہ رحمت اور بیواؤں کا سہارا ان کا دفاع کرنے والا ہے۔ اور انہیں ضائع ہونے اور محتاجی سے بچاتا ہے۔ اورعَصَمَ اِلَیه کا معنی ہے اِعتَصَمَ به اس نے اس کے ذریعے خود کا دفاع کیا / اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا ۔اور "اَعصَمَه" (اباب افعال) صیغہ واحد مذکر غائب ،ماضی معروف اس نے اس لئے وہ چیز مہیا کی جس کو مضبوطی کےساتھ پکڑے ۔اور اَعصَمَ بِالفَرَس یعنی اس نے گھوڑے کی گردن کے بالوں کو پکڑا اور ان کے ساتھ چمٹ گیا۔
زجاج نے کہا "اصلا العصمة الحبل وکل ما امسک شیئا فقد عصمه" یعنی عصمت اصل رسی کو کہتے ہیں (کیوں کہ اس کو پکڑا جاتا ہے )اور جب کسی بھی چیز کو پکڑا جاتا ہے تو کہتے ہیں عَصَمة اس نے اس کو پکڑا۔ اور اَعصم الرجل بصاحبه اِعصَاماً یعنی اس نے اس کو لازم کر لیا اس سے الگ نہیں ہوا ہمیشہ ساتھ رہا۔