• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

داڑھی کی شرعی حیثیت :

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,513
پوائنٹ
964
مصر کے ایک شیخ محمد احمد اسماعیل المقدم ہیں ، ان ہوں نے داڑھی کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے ’’اللحية لماذا ‘‘ یعنی ’’ داڑھی کس لیے ؟ ‘‘ اس کے صفحہ نمبر 19کے حاشیہ میں لکھتے ہیں :
ومما ينبغى التنبه إليه أن المشركين الموجودين فى زمن النبى - صلى الله عليه وسلم - كانوا ذوى لحى "انظر صحيح مسلم الحديث (1800) "، لأن العرب لم تترك زينة اللحى لا في الجاهلية ولا فى الإسلام، وقد أقرهم الإسلام عليها، ولعلهم توارثوها من دين إبراهيم عليه السلام، وكان الغربيون يعفون لحاهم إلى أن أشاع الملك بطرس ملك روسيا حلق اللحية فى أوربا فى أول القرن السابع عشر، ومنهم تسربت إلى المسلمين هده السنة السيئة فيما بعد. أما كيفية مخالفة المشركين مع إعفائهم لحاهم فى زمنه - صلى الله عليه وسلم - فبقص الشارب، وأخذ ما طال عن الشفة، أو بتوفير اللحى إذا كانوا يقصرونها، فالمخالفة هنا فى وصف الفعل، أما إذا حلقوا لحاهم، فنحن نخالفهم فى أصل الفعل بإعفاء اللحى.
یہ بات علم میں ہونی چاہیے کہ نبوی دور میں موجود مشرکین بھی داڑھیاں رکھا کرتے تھے جیساکہ صحیح مسلم کے اندر آیا ہے ، کیونکہ اہل عرب نے جاہلیت اور اسلام دونوں میں داڑھی جیسی خوبصورتی کو اختیار کیا ، اسلام نے بھی اسی بات کو برقرار رکھا ، اور شاید یہ ملت ابراہیمی سے منقول شعار ہے ۔ اہل مغرب بھی داڑھیاں رکھا کرتے تھے ، لیکن 17 صدی کی ابتدا میں روس کے بادشاہ بطرس کے زمانے میں یورپ کے اندر داڑھیاں منڈوانے والی وبا پھیلائی گئی ، اور اسی سے یہ خصلت ذمیمہ مسلمانوں میں منتقل ہوگئی ۔
جب مشرکین بھی داڑھی رکھتے تھے تو ان کی مخالفت مونچھیں منڈوانے سے ہوجاتی ہے ، یا اگر وہ داڑھیاں چھوٹی کرتے تھے تو مسلمانوں کے داڑھیاں بڑھانے سے ہوجاتی ہے ، سو یہاں مخالفت داڑھی رکھنے کے انداز میں ہوگی ۔۔۔
 
شمولیت
دسمبر 25، 2025
پیغامات
2
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
میرا سوال ہے اگر ڈارھی مٹھی سے زائد آدمی ٹھوڑی اسکی کانٹ چھانٹ کر سکتا ہے کیونکہ احادیث میں جو الفاظ ائے ہیں داڑھی کے بارے میں وہ سارے داڑھی کی کثرت پہ دلالت کرتے ہیں کہ داڑھی زیادہ ہونی چاہیے بڑی ہونی چاہیے لیکن دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگوں کی داڑھی بہت لمبی ہوتی ہے جس سے خوبصورتی خراب ہوتی ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ہے بے شک اللہ تعالی خوبصورت ہے خوبصورتی کو پسند کرتا ہے تو اگر مٹھی سے زائد جو داڑھی ہے یا جتنی بھی لمبی داڑھی ہے اس کی تھوڑی سی کانٹ شارٹ کر کے اس کو گول کروا لیا جائے؟
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
2,024
ری ایکشن اسکور
6,267
پوائنٹ
437
میرا سوال ہے اگر ڈارھی مٹھی سے زائد آدمی ٹھوڑی اسکی کانٹ چھانٹ کر سکتا ہے کیونکہ احادیث میں جو الفاظ ائے ہیں داڑھی کے بارے میں وہ سارے داڑھی کی کثرت پہ دلالت کرتے ہیں کہ داڑھی زیادہ ہونی چاہیے بڑی ہونی چاہیے لیکن دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگوں کی داڑھی بہت لمبی ہوتی ہے جس سے خوبصورتی خراب ہوتی ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ہے بے شک اللہ تعالی خوبصورت ہے خوبصورتی کو پسند کرتا ہے تو اگر مٹھی سے زائد جو داڑھی ہے یا جتنی بھی لمبی داڑھی ہے اس کی تھوڑی سی کانٹ شارٹ کر کے اس کو گول کروا لیا جائے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
محترم میرا مضمون’’داڑھی نامہ‘‘ جس کا لنک میں نے اوپر دیا ہے اس میں ، میں نے آپ کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے آپ اس کا مطالعہ کرلیں ان شاءاللہ آپ کو جواب مل جائے گا۔مزید میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ خوبصورتی کا معیار زمانے اورقوموں کے رسم ورواج کے لحاظ سے الگ الگ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر نبی کریم ﷺ کے دور میں فربہ خواتین خوبصورت اور حسین تصور کی جاتی تھیں جبکہ آج یہ معیار بالکل تبدیل ہوچکا ہے اور اب موٹی عورتوں کو خوبصورتی کے بجائے بھدے پن اور بدصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ شریعت کی نظر میں وہ داڑھی خوبصورت ہے جسے اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ جبکہ آپ کفار اور بے دینوں کے خودساختہ معیار حسن سے داڑھی کو دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں جس کے مطابق لمبی داڑھی خوبصورتی خراب کرتی ہے۔ آپ اپنا معیار خوبصورتی شریعت کے موافق و مطابق کرلیں آپ کو ہر لمبی داڑھی خوبصورت نظر آئے گی۔ان شاءاللہ
 
Top