محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,822
- پوائنٹ
- 1,069
کیا جن انسانی جسم میں داخل ہو سکتا ہے ؟؟؟
السلام علیکم : شیخ محترم @کفایت اللہ صاحب
قاری بشیر صاحب جو کہ کراچی میں ہوتے ہے وہ جن کا انسانی جسم میں داخل ہونے کا انکار کرتے ہیں - اور وہ چند جمعوں سے جن کے موضوع پر خطاب کر رہے ہیں - جس کے جواب میں میں نے انکو کچھ فتویٰ اسلام کیواے سے دیئے اس موضوع پرلیکن وہ اس کا انکار کرتے رہیں :
http://islamqa.info/ur/1819
میں نے ان کو یہ حدیث بھی پیش کی :
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ >۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شیطان ابن آدم (انسان)کے بدن میں اسی طرح دوڑتا ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کر تا ہے
جس کا ترجمہ انھوں نے یہ کیا کہ شیطان انسان کے ساتھ ساتھ (لگا رہتا ہے) دوڑتا ہے
اور کیا یہ حدیث صحیح ہے - اس حدیث کی مکمل سند بتا دے مکمل جراح کے ساتھ - جزاک اللہ
سنن ابن ماجہ ، باب: گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟۔
حدیث نمبر: 3548
عن عثمان بن ابي العاص ، قال: لما استعملني رسول الله صلى الله عليه وسلم على الطائف ، جعل يعرض لي شيء في صلاتي حتى ما ادري ما اصلي ، فلما رايت ذلك رحلت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال:"ابن ابي العاص"، قلت: نعم يا رسول الله ، قال:"ما جاء بك"، قلت: يا رسول الله ، عرض لي شيء في صلواتي حتى ما ادري ما اصلي ، قال:"ذاك الشيطان ادنه"، فدنوت منه ، فجلست على صدور قدمي ، قال: فضرب صدري بيده ، وتفل في فمي ، وقال:"اخرج عدو الله"، ففعل ذلك ثلاث مرات ثم قال:"الحق بعملك"، قال: فقال عثمان: فلعمري ما احسبه خالطني بعد.
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا ابن ابی العاص ہو“؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: ”تم یہاں کیوں آئے ہو“؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آؤ، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور (شیطان کو مخاطب کر کے) فرمایا: «اخرج عدو الله» ”اللہ کے دشمن! نکل جا“ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: ”اپنے کام پر جاؤ“ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔
تخریج دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ۹۷۶۷، ومصباح الزجاجة : ۱۲۳۸) (صحیح) قال الشيخ الألباني: صحيح
کیا جن انسانی جسم میں داخل ہو سکتا ہے ؟؟؟
شیخ تفصیل سے اس مسلے کی وضاحت کر دے - جزاک اللہ
السلام علیکم : شیخ محترم @کفایت اللہ صاحب
قاری بشیر صاحب جو کہ کراچی میں ہوتے ہے وہ جن کا انسانی جسم میں داخل ہونے کا انکار کرتے ہیں - اور وہ چند جمعوں سے جن کے موضوع پر خطاب کر رہے ہیں - جس کے جواب میں میں نے انکو کچھ فتویٰ اسلام کیواے سے دیئے اس موضوع پرلیکن وہ اس کا انکار کرتے رہیں :
http://islamqa.info/ur/1819
میں نے ان کو یہ حدیث بھی پیش کی :
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ >۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شیطان ابن آدم (انسان)کے بدن میں اسی طرح دوڑتا ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کر تا ہے
جس کا ترجمہ انھوں نے یہ کیا کہ شیطان انسان کے ساتھ ساتھ (لگا رہتا ہے) دوڑتا ہے
اور کیا یہ حدیث صحیح ہے - اس حدیث کی مکمل سند بتا دے مکمل جراح کے ساتھ - جزاک اللہ
سنن ابن ماجہ ، باب: گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟۔
حدیث نمبر: 3548
عن عثمان بن ابي العاص ، قال: لما استعملني رسول الله صلى الله عليه وسلم على الطائف ، جعل يعرض لي شيء في صلاتي حتى ما ادري ما اصلي ، فلما رايت ذلك رحلت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال:"ابن ابي العاص"، قلت: نعم يا رسول الله ، قال:"ما جاء بك"، قلت: يا رسول الله ، عرض لي شيء في صلواتي حتى ما ادري ما اصلي ، قال:"ذاك الشيطان ادنه"، فدنوت منه ، فجلست على صدور قدمي ، قال: فضرب صدري بيده ، وتفل في فمي ، وقال:"اخرج عدو الله"، ففعل ذلك ثلاث مرات ثم قال:"الحق بعملك"، قال: فقال عثمان: فلعمري ما احسبه خالطني بعد.
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا ابن ابی العاص ہو“؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: ”تم یہاں کیوں آئے ہو“؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آؤ، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور (شیطان کو مخاطب کر کے) فرمایا: «اخرج عدو الله» ”اللہ کے دشمن! نکل جا“ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: ”اپنے کام پر جاؤ“ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔
تخریج دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ۹۷۶۷، ومصباح الزجاجة : ۱۲۳۸) (صحیح) قال الشيخ الألباني: صحيح
کیا جن انسانی جسم میں داخل ہو سکتا ہے ؟؟؟
شیخ تفصیل سے اس مسلے کی وضاحت کر دے - جزاک اللہ