محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک دستہ مشرکوں کی طرف بھیجا۔ ان کا باہم مقابلہ ہوا۔ ایک مشرک جب کسی مسلمان کو قتل کرنا چاہتا موقع پاکر اسے قتل کر دیتا۔ اسامہ بن زید اور ایک انصاری صحابی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ اسامہ نے جب اسے مارنے کے لئے تلوار اٹھائی تو اس نے لاالہ الا اللہ پڑھ لیا۔ لیکن انہوں نے اسے قتل کردیا۔ رسول اکرم ﷺ کے سامنے اسامہ کا قصہ بیان ہوا۔ آپ نے انہیں بلایا اور پوچھا تم نے اسے کیوں قتل کیا؟ انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہ ﷺ اس نے مسلمانوں کو بڑی تکلیف دی۔ اس نے فلاں اور فلاں کو شہید کیا(یہ صورت حال دیکھ کر) میں نے اس شخص پر حملہ کیا جب اس نے تلوار دیکھی تو اس نے (جان بچانے کے لئے) لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھ دیا۔ آپ نے پوچھا پھر کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟ انہوں نے کہا ہاں اس نے ہتھیار کے خوف سے کلمہ پڑھا تھا۔ آپ نے فرمایا تم نے اس کا دل چیراتھا کہ تمہیں علم ہو گیا کہ اس نے کلمہ دل سے نہیں کہا تھا۔ جب قیامت کے دن وہ لاالہ الااللّٰہ لائے گا تو تم کیا جواب دو گے؟ اسامہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے لئے مغفرت کی دعا فرمائیے آپ نے پھر فرمایا جب قیامت کے دن وہ کلمہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ لائے گا تم کیا کرو گے؟ آپ یہی کلمہ دہراتے رہے یہاں تک کہ اسامہ نے آرزو کی کہ میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔ (بخاری :۴۲۶۹۔مسلم :۹۶)3۔تاویل :
رسول اللہ ﷺ نے اسامہ کو یہ کہنے کے باوجود کہ تو نے کلمہ پڑھنے کے بعد اس کو قتل کیوں کیا قصاص میں اسامہ کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی ان سے دیت وصول کی۔گویا تاویل کی بنا پر اسامہ ان سزاؤں سے بچ گئے۔