ابن قدامہ
مشہور رکن
- شمولیت
- جنوری 25، 2014
- پیغامات
- 1,772
- ری ایکشن اسکور
- 433
- پوائنٹ
- 198
دعا کے بعد شکریا ادا کرنا دعا کے بعد شکریا ادا کرنا بدعت ہے۔؟ اکثر ممبر ان دعا شکرایا کا بٹن دباتے ہیں ۔
یہ کسی حدیث سے ثابت ہےیا نہیں۔ کہ کسی سے دعا کروانے کے بعد اس کا شکریا ادا کرنا۔ اگر نہیں ہے تو کیا یہ دیں میں اضافہ نہیں؟ جیسے یہ احادیث ہیں
- عرباض بن ساريہ رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" تم نئے نئے كام ايجاد كرنے سے بچو؛ كيونكہ ہر نيا كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے "
سنن ابو داود حديث نمبر ( 4067 ).
2 - جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث جس ميں ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنے خطبہ ميں يہ فرمايا كرتے تھے:
" يقينا سب سے زيادہ سچى بات كتاب اللہ ہے، اور سب سے احسن اور بہتر طريقہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كا ہے، اور سب سے برے امور اس كے نئے ايجاد كردہ ہيں، اور ہر نيا ايجاد كردہ كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے، اور ہر گمراہى آگ ميں ہے "
ان الفاظ كے ساتھ اسے نسائى نے سنن نسائى ( 3 / 188 ) ميں روايت كيا ہے.
جب ان دونوں حديثوں سے يہ واضح ہو گيا كہ بدعت دين ميں نيا كام ايجاد كرنا ہے، جو اس بات كى دعوت ديتا ہے كہ احداث يعنى نيا كام ايجاد كرنے كا معنى سنت مطہرہ ميں ديكھا جائے، اور يہ احاديث ميں وارد بھى ہے:
3 - عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث جس ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جس كسى نے بھى ہمارے اس امر ( دين ) ميں كوئى نئى چيز ايجاد كى جو اس ميں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 2697 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ).
4 - اور ايك روايت ميں يہ الفاظ ہيں:
" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا امر نہيں تو وہ مردود ہے "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ).
اہل علم رہنمائی کریں
یہ کسی حدیث سے ثابت ہےیا نہیں۔ کہ کسی سے دعا کروانے کے بعد اس کا شکریا ادا کرنا۔ اگر نہیں ہے تو کیا یہ دیں میں اضافہ نہیں؟ جیسے یہ احادیث ہیں
- عرباض بن ساريہ رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" تم نئے نئے كام ايجاد كرنے سے بچو؛ كيونكہ ہر نيا كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے "
سنن ابو داود حديث نمبر ( 4067 ).
2 - جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث جس ميں ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنے خطبہ ميں يہ فرمايا كرتے تھے:
" يقينا سب سے زيادہ سچى بات كتاب اللہ ہے، اور سب سے احسن اور بہتر طريقہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كا ہے، اور سب سے برے امور اس كے نئے ايجاد كردہ ہيں، اور ہر نيا ايجاد كردہ كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے، اور ہر گمراہى آگ ميں ہے "
ان الفاظ كے ساتھ اسے نسائى نے سنن نسائى ( 3 / 188 ) ميں روايت كيا ہے.
جب ان دونوں حديثوں سے يہ واضح ہو گيا كہ بدعت دين ميں نيا كام ايجاد كرنا ہے، جو اس بات كى دعوت ديتا ہے كہ احداث يعنى نيا كام ايجاد كرنے كا معنى سنت مطہرہ ميں ديكھا جائے، اور يہ احاديث ميں وارد بھى ہے:
3 - عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث جس ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جس كسى نے بھى ہمارے اس امر ( دين ) ميں كوئى نئى چيز ايجاد كى جو اس ميں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 2697 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ).
4 - اور ايك روايت ميں يہ الفاظ ہيں:
" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا امر نہيں تو وہ مردود ہے "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ).
اہل علم رہنمائی کریں