• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دعا کے بعد شکریا ادا کرنا بدعت ہے یا نہیں تحقیق درکار ہے

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
433
پوائنٹ
198
دعا کے بعد شکریا ادا کرنا دعا کے بعد شکریا ادا کرنا بدعت ہے۔؟ اکثر ممبر ان دعا شکرایا کا بٹن دباتے ہیں ۔
یہ کسی حدیث سے ثابت ہےیا نہیں۔ کہ کسی سے دعا کروانے کے بعد اس کا شکریا ادا کرنا۔ اگر نہیں ہے تو کیا یہ دیں میں اضافہ نہیں؟ جیسے یہ احادیث ہیں
- عرباض بن ساريہ رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم نئے نئے كام ايجاد كرنے سے بچو؛ كيونكہ ہر نيا كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4067 ).

2 - جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث جس ميں ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنے خطبہ ميں يہ فرمايا كرتے تھے:

" يقينا سب سے زيادہ سچى بات كتاب اللہ ہے، اور سب سے احسن اور بہتر طريقہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كا ہے، اور سب سے برے امور اس كے نئے ايجاد كردہ ہيں، اور ہر نيا ايجاد كردہ كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے، اور ہر گمراہى آگ ميں ہے "

ان الفاظ كے ساتھ اسے نسائى نے سنن نسائى ( 3 / 188 ) ميں روايت كيا ہے.

جب ان دونوں حديثوں سے يہ واضح ہو گيا كہ بدعت دين ميں نيا كام ايجاد كرنا ہے، جو اس بات كى دعوت ديتا ہے كہ احداث يعنى نيا كام ايجاد كرنے كا معنى سنت مطہرہ ميں ديكھا جائے، اور يہ احاديث ميں وارد بھى ہے:

3 - عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث جس ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى ہمارے اس امر ( دين ) ميں كوئى نئى چيز ايجاد كى جو اس ميں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2697 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ).

4 - اور ايك روايت ميں يہ الفاظ ہيں:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا امر نہيں تو وہ مردود ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ).
اہل علم رہنمائی کریں
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
433
پوائنٹ
198
دعا کے بعد شکریا ادا کرنا دعا کے بعد شکریا ادا کرنا بدعت ہے۔ اکثر ممبر ان دعا شکرایا کا بٹن دباتے ہیں ۔
یہ کسی حدیث سے ثابت ہےیا نہیں۔ کہ کسی سے دعا کعوانے کے بعد اس کا شکریا ادا کرنا۔ اگر نہیں ہے تو کیا یہ دیں میں اضافہ نہیں؟
- عرباض بن ساريہ رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم نئے نئے كام ايجاد كرنے سے بچو؛ كيونكہ ہر نيا كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4067 ).

2 - جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث جس ميں ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنے خطبہ ميں يہ فرمايا كرتے تھے:

" يقينا سب سے زيادہ سچى بات كتاب اللہ ہے، اور سب سے احسن اور بہتر طريقہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كا ہے، اور سب سے برے امور اس كے نئے ايجاد كردہ ہيں، اور ہر نيا ايجاد كردہ كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے، اور ہر گمراہى آگ ميں ہے "

ان الفاظ كے ساتھ اسے نسائى نے سنن نسائى ( 3 / 188 ) ميں روايت كيا ہے.

جب ان دونوں حديثوں سے يہ واضح ہو گيا كہ بدعت دين ميں نيا كام ايجاد كرنا ہے، جو اس بات كى دعوت ديتا ہے كہ احداث يعنى نيا كام ايجاد كرنے كا معنى سنت مطہرہ ميں ديكھا جائے، اور يہ احاديث ميں وارد بھى ہے:

3 - عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث جس ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى ہمارے اس امر ( دين ) ميں كوئى نئى چيز ايجاد كى جو اس ميں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2697 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ).

4 - اور ايك روايت ميں يہ الفاظ ہيں:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا امر نہيں تو وہ مردود ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ).
اہل علم رہنمائی کریں
@خضر حیات
@اسحاق سلفی
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
دعا کے بعد شکریا ادا کرنا بدعت ہے۔؟ اکثر ممبر ان دعا شکرایا کا بٹن دباتے ہیں ۔
یہ کسی حدیث سے ثابت ہےیا نہیں۔ کہ کسی سے دعا کروانے کے بعد اس کا شکریا ادا کرنا۔ اگر نہیں ہے تو کیا یہ دیں میں اضافہ نہیں؟ جی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔
پیارے بھائی ۔۔ کسی کی نیکی ، بھلائی کا شکریہ ادا کرنا اسلام کی تعلیم اور سنت نبویہ ہے،
(( عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهِ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ))
قال الترمذي حسن جيد غريب وحسنه المقدسي وصححه الألباني ‘‘

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی گئی اور اس نے بھلائی کرنے والے سے کہا
«جزاك الله خيراً» ”اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلا دے“ کہا، اس نے اس کی پوری پوری تعریف کر دی“ ۱؎۔
شیخ البانی ؒ نے اس کو صحیح کہا ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ : یعنی کسی پر احسان کیا گیا ہو، اس نے اپنے محسن کے لیے «جزاك الله خيرا» کہا تو اس احسان کا اس نے پورا پورا شکر یہ ادا کر دیا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور دوسری حدیث :
سنن الترمذی ، ابوداود میں :
عن ابي هريرة قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " من لا يشكر الناس لا يشكر الله " قال الترمذی :‏‏‏‏ هذا حديث حسن صحيح.
(سنن الترمذی ،حدیث نمبر: 1954 ۔۔و سنن ابی داود/ الأدب ۱۲ (۴۸۱۱))
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کرے وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرے گا“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
اور ۔قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (3025) ، الصحيحة (417) ، التعليق الرغيب )
وضاحت: ۱؎ : یعنی جو اللہ کے بندوں کا ان کے توسط سے ملنے والی کسی نعمت پر شکر گزار نہ ہو حالانکہ اللہ نے اس کا حکم دیا ہے تو ایسے شخص سے یہ کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اللہ کا شکر گزار بندہ ہو گا ؟ یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کا شکر اس احسان پر جو اللہ نے اس پر کیا ہے نہیں قبول کرے گا، جب تک کہ بندہ لوگوں کے احسان کا شکر ادا نہ کرے ،
اور آپ کو دعاء دینے والا بھی آپ پر احسان کر رہا ہے ،جس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تیسری حدیث ::
امام طبرانی رحمہ اللہ نے ’’ المعجم الكبير ‘‘ اس ضمن میں درج ذیل حدیث نقل فرمائی ہے :
1- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بن الْعَبَّاسِ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشَّارُ بن مُوسَى الْخَفَّافُ . حوَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بن عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بن الْمَرْزُبَانِ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بن زَكَرِيَّا بن أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن إِسْحَاقَ ، عَنْ حُصَيْنِ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عَمْرِو بن سَعْدِ بن مُعَاذٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بن لَبِيدٍ ، عَنِ ابْنِ شَفِيعٍ ، وَكَانَ طَبِيبًا ، قَالَ : قَطَعْتُ مِنْ أُسَيْدِ بن حُضَيْرٍ عِرْقَ النَّسَا ، فَحَدَّثَنِي حَدِيثَيْنِ ، قَالَ : أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالُوا : كَلِّمْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْسِمُ لَنَا مِنْ هَذَا التَّمْرِ ، فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمَتْهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ نَقْسِمُ لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ شَطْرًا ، وَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ ، فَقُلْتُ : جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا ، قَالَ : وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ عَنِّي مَعَاشِرَ الأَنْصَارِ خَيْرًا ، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ، أَمَا إِنَّكُمِ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي.
أُسَيْدُ بن ظُهَيْرٍرَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ . المعجم الكبير للطبراني))

جناب اسید بن حضیر ؓ فرماتے ہیں :میری قوم کے دو گھروں کے لوگ میرے آئے ،اور مجھے کہا کہ :ہمارے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت عرض کیجئے کہ بیت المال میں آنے والی کھجوریں ہم میں تقسیم فرمائیں ، تو میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور ان کی عرضی پیش کی ،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :ہاں ٹھیک ہے ،ہم اپنے پاس آنے والی کھجوریں ان میں برابر آدھی ،آدھی تقسیم کردیتے ہیں، اور اگر مزید کھجوریں آگئیں تو ہم انہیں مزید دیں گے ،تو میں کہا : اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے ،اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اور تمہیں بھی اے انصار ۔۔اللہ جزائے خیر عطا فرمائے ،
میں نے تم انصار کو خود دار و عفیف ،اور صابر ہی پایا ہے (کہ اگر تمہیں کچھ نہ بھی ملے تو بھی سوال اور اعتراض نہیں کرتے ) میرے بعدتم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی ،تو تم صبر کرنا ،حتی کہ مجھ سے آن ملو ۔
انتہی ۔
اور آپ مزید کیلئے درج ذیل تھریڈ میں میری پوسٹ دیکھئے
تھریڈ
 
Last edited:

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
433
پوائنٹ
198
عليكم سلام ورحمة الله وبركاته

صحيح البخاري: كِتَابُ الجُمُعَةِ بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ فِي الخُطْبَةِ يَوْمَ الجُمُعَةِ
933 . حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَصَابَتْ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَمِنْ الْغَدِ وَبَعْدَ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى وَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ وَصَارَتْ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي قَنَاةُ شَهْرًا وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ
حکم : صحیح

‌صحيح البخاري: کتاب جمعہ کے بیان میں جمعہ کے خطبہ میں بارش کی دعا کرنا
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام ابو عمرو اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قحط پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کہا یا رسول اللہ! جانور مر گئے اور اہل وعیال دانوں کو ترس گئے۔ آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے، اس وقت بادل کا ایک ٹکڑا بھی آسمان پر نظر نہیں آرہا تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح گھٹا امڈ آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ریش مبارک سے ٹپک رہا تھا۔ اس دن اس کے بعد اور متواتر اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ ( دوسرے جمعہ کو ) یہی دیہاتی پھر کھڑا ہوایا کہا کہ کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! عمارتیں منہدم ہوگئیں اور جانور ڈوب گئے۔ آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیجئے۔ آپ نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ! اب دوسری طرف بارش برسا اور ہم سے روک دے۔ آپ ہاتھ سے بادل کے لیے جس طرف بھی اشارہ کرتے، ادھر مطلع صاف ہوجاتا۔ سارا مدینہ تالاب کی طرح بن گیا تھا اور قناة کا نالا مہینہ بھربہتا رہا اور ارد گرد سے آنے والے بھی اپنے یہاں بھر پور بارش کی خبر دیتے رہے۔


حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلاً ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي، قَالَ: "إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ وَإِنْ شِئْتَ صَبَرْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ" قَالَ: فَادْعُهْ، قَالَ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوئَهُ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى لِيَ اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ الْخَطْمِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ هُوَ أَخُو سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ.
* تخريج: ق/الإقامۃ ۱۸۹ (۱۳۸۵) (تحفۃ الأشراف: ۹۷۶۰) (صحیح)


۳۵۷۸- عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: آپ دعا فرمادیجئے کہ اللہ مجھے عافیت دے، آپ نے فرمایا:'' اگر تم چاہو تو میں دعاکروں اور اگر چاہو تو صبر کیے رہو، کیوں کہ یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ( و سود مند) ہے۔ اس نے کہا: دعاہی کردیجئے ،تو آپ نے اسے حکم دیاکہ وہ وضو کرے، اور اچھی طرح سے وضو کرے اور یہ دعا پڑھ کر دعاکرے: '' اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى لِيَ اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ '' (اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتاہوں اور تیرے نبی محمد جو نبی رحمت ہیں کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتاہوں ، میں نے آپ کے واسطہ سے اپنی اس ضرورت میں اپنے رب کی طرف توجہ کی ہے تاکہ تو اے اللہ ! میری یہ ضرورت پوری کردے تو اے اللہ تومیرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر ۱؎ )۔
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ابوجعفر کی روایت سے،۲- اورابوجعفر خطمی ہیں۳- اور عثمان بن حنیف یہ سہل بن حنیف کے بھائی ہیں۔
وضاحت ۱؎ : یہی وہ مشہورروایت ہے جس سے انبیاء اوراولیاء کی ذات سے وسیلہ پکڑنے کے جواز پراستدلال کیاجاتاہے، بعض محدثین نے تو اس حدیث کی صحت پرکلام کیاہے، اورجولوگ اس کو صحیح قراردیتے ہیں، ان میں سے سلفی منہج و فکرکے علماء (جیسے امام ابن تیمیہ وعلامہ البانی ؒنے اس کی توجیہ کی ہے کہ نابیناکواپنی ذات بابرکات سے وسیلہ پکڑنے کا مشورہ آپ ﷺنے نہیں دیاتھا، بلکہ آپ کی دعاء کو قبول کرنے کی دعااس نے کی، اوراب آپ کی وفات کے بعدایسانہیں ہوسکتا، اسی لیے عمر رضی اللہ عنہ نے قحط پڑنے پر آپ کی قبرشریف کے پاس آکرآپ سے دعاء کی درخواست نہیں کی، (آپ کی ذات سے وسیلہ پکڑنے کی بات تودورکی ہے)بلکہ انہوں نے آپ کے زندہ چچاعباس رضی اللہ عنہ سے دعاء کرائی، اورتمام صحابہ نے اس پر ہاں کیا، تو گویایہ بات تمام صحابہ کے اجماع سے ہوئی،کسی صحابی نے یہ نہیں کہا کہ کیوں نہ نابینا کی طرح آپ سے دعاء کی درخواست کی جائے ، اوراس دعاء یاآپ کی ذات کو وسیلہ بنایاجائے۔

یماری پر صبر کرنا:

حضرت عطاء بن رباح رحمة اﷲعلیہ (تابعی) کہتے ہیں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے مجھ سے کہا کیا میں تجھے جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے (ایک عورت کی طرف اشارہ کرکے) کہا یہ کالی عورت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا میں مرگی کی مریضہ ہوں اور (مرگی کے دوران) میرا ستر کھل جاتا ہے آپ اﷲ تعالیٰ سے میرے لئے دعا فرمائیں( اﷲ مجھے صحت عطا فرمائے) آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

'' اگر تو چاہے تو صبر کر تیرے لئے جنت ہے اور اگر چاہے تو اﷲ سے تیرے لئے دعا کرتا ہوں وہ تجھے صحت عطا فرمادے گا ''(اس صورت میں جنت کا وعدہ نہیں کرتا) اس عورت نے عرض کیا میں صبر کروں گی لیکن ساتھ یہ بھی عرض کیا (مرگی کے دوران) میرا ستر کھل جاتا ہے اﷲ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلے. رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کیلئے یہ دعا فرمادی.''

(بخاری،5328)

حضرت عطاء بن رباح رحمة اﷲعلیہ (تابعی) کہتے ہیں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے مجھ سے کہا کیا میں تجھے جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے (ایک عورت کی طرف اشارہ کرکے) کہا یہ کالی عورت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا میں مرگی کی مریضہ ہوں اور (مرگی کے دوران) میرا ستر کھل جاتا ہے آپ اﷲ تعالیٰ سے میرے لئے دعا فرمائیں( اﷲ مجھے صحت عطا فرمائے) آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

'' اگر تو چاہے تو صبر کر تیرے لئے جنت ہے اور اگر چاہے تو اﷲ سے تیرے لئے دعا کرتا ہوں وہ تجھے صحت عطا فرمادے گا ''(اس صورت میں جنت کا وعدہ نہیں کرتا) اس عورت نے عرض کیا میں صبر کروں گی لیکن ساتھ یہ بھی عرض کیا (مرگی کے دوران) میرا ستر کھل جاتا ہے اﷲ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلے. رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کیلئے یہ دعا فرمادی.''
(بخاری،5328)



یماری پر صبر کرنا:

حضرت عطاء بن رباح رحمة اﷲعلیہ (تابعی) کہتے ہیں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے مجھ سے کہا کیا میں تجھے جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے (ایک عورت کی طرف اشارہ کرکے) کہا یہ کالی عورت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا میں مرگی کی مریضہ ہوں اور (مرگی کے دوران) میرا ستر کھل جاتا ہے آپ اﷲ تعالیٰ سے میرے لئے دعا فرمائیں( اﷲ مجھے صحت عطا فرمائے) آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

'' اگر تو چاہے تو صبر کر تیرے لئے جنت ہے اور اگر چاہے تو اﷲ سے تیرے لئے دعا کرتا ہوں وہ تجھے صحت عطا فرمادے گا ''(اس صورت میں جنت کا وعدہ نہیں کرتا) اس عورت نے عرض کیا میں صبر کروں گی لیکن ساتھ یہ بھی عرض کیا (مرگی کے دوران) میرا ستر کھل جاتا ہے اﷲ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلے. رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کیلئے یہ دعا فرمادی.''

(بخاری،5328)
یماری پر صبر کرنا:

حضرت عطاء بن رباح رحمة اﷲعلیہ (تابعی) کہتے ہیں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے مجھ سے کہا کیا میں تجھے جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے (ایک عورت کی طرف اشارہ کرکے) کہا یہ کالی عورت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا میں مرگی کی مریضہ ہوں اور (مرگی کے دوران) میرا ستر کھل جاتا ہے آپ اﷲ تعالیٰ سے میرے لئے دعا فرمائیں( اﷲ مجھے صحت عطا فرمائے) آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

'' اگر تو چاہے تو صبر کر تیرے لئے جنت ہے اور اگر چاہے تو اﷲ سے تیرے لئے دعا کرتا ہوں وہ تجھے صحت عطا فرمادے گا ''(اس صورت میں جنت کا وعدہ نہیں کرتا) اس عورت نے عرض کیا میں صبر کروں گی لیکن ساتھ یہ بھی عرض کیا (مرگی کے دوران) میرا ستر کھل جاتا ہے اﷲ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلے. رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کیلئے یہ دعا فرمادی.''
(بخاری،5328)
بھائی اب احادیث میں دعا کرونے کا ذکر ہے لیکن دعا کرونے کہ بعد شکریا ادا کرنے کا ذکر نہیں ہے
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
433
پوائنٹ
198
2.JPG
نمازوں کے بعد مصافہ کرنا بدعت ہے

جبکہ اس بارے میں احادیث موجود ہیں
ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان سے ملاقات کرے تو ان دونوں کو آپس میں دائیں ہاتھ سے مصافحہ کرنا چاہیے اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ حدیث میں ہے:

''براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں ، مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے قبل ان کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔'' (ابنِ ماجہ۱۲۲۰/۲(۳۷۰۳)، ترمذی(۲۷۲۷)ابو دائود۳۵۴/۴(۵۲۱۲)، مسند احمد ۴/۲۸۹،۳۰۳)
'ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ملاقات کی اور میں جنبی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا (ایک نسخہ میں ہے کہ میرا دایاں ہاتھ پکڑا) پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے پس میں کھسک گیا۔'' (الحدیث بخاری۱/۴۲)
'عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم لوگ میری اس ہتھیلی کو دیکھتے ہو میں نے اس ہتھیلی کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھا ہے۔''مسند احمد۴/۸۹، موارد الظلمآن (۹۴۰)

''انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی یا دوست سے ملاقات کرے ۔ کیا س کے لئے جھکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! نہیں۔ اس نے کہا ، کیا اس سے چمٹ جائے؟ اور اس کو بوسہ دے؟ فرمایا نہیں پھر اُس نے کہا، کیا اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ فرمایا! ہاں۔ امام ترمذی نے فرمایا، یہ حدیث حسن ہے۔'' (ترمذی ۷۰/۵(۲۷۲۸)، ابن ماجہ۱۲۲۰/۲(۳۷۰۲)
 
Top