• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرین حدیث کے ہاں اطاعتِ رسول سے مراد؟ (انتظامیہ)

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ اپنی اور رسول کریمﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔

اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ کی اطاعت سے مراد قرآن کریم کو ماننا جبکہ رسول کریمﷺ کی اطاعت سے مراد قرآن کریم کی تبیین وتشریح (حدیث مبارکہ) کو ماننا ہے۔

تمام منکرین حدیث اس بات پر اپنی پوری صلاحیت لگا دیتے ہیں کہ قرآن کریم کو ماننا ہی اللہ اور رسول دونوں کی اطاعت ہے؟؟؟


لیکن سوال یہ ہے کہ کیسے؟؟؟ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں بس کج بحثی اور کٹ حجتی؟؟؟

کبھی کہتے ہیں کہ باقی سارا کلام اللہ کا ہے، اسے ماننا تو اللہ کی بات ماننا ہے، جبکہ ’قل‘ کے بعد والی آیات کو ماننا رسول کی اطاعت ہے۔ اس پر اگر سوال کیا جائے کہ کیا ’قل‘ کے بعد والی آیات رسول کا کلام ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں وہ اللہ کا ہی کلام ہے، تو پھر یہی تو سوال ہے کہ اللہ کے کلام کو ماننا رسول کی اطاعت کیسے ہوئی؟؟؟ (علاوہ ازیں میں اوپر اپنی ایک پوسٹ میں وہ تمام آیات جمع کردی ہے، جن میں ’قل‘ کے بعد والی کلام کو کسی طور رسول کی اطاعت قرار ہی نہیں دیا جا سکتا ۔۔۔ جس کا مسلم صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں)

اگر مسلم صاحب کے کہنے کے مطابق یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ’قل‘ کے بعد والی آیات تو کلام اللہ ہی ہیں لیکن انہیں ماننا رسول کی اطاعت ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جن جن کا قول ذکر کیا ہے، خواہ انبیاء کرام﷩ ہوں، اولیاء ہوں، جانور پرندے ہوں، اللہ کے دشمن فرعون، ہامان، قارون ہوں یا شیطان ہو تو وہ مسلم صاحب کے قاعدہ کلیہ کے مطابق وہ کلام تو اللہ کی ہوگی، لیکن اسے ماننا انہی لوگوں کی اطاعت ہوگی۔

گویا

مسلم صاحب شیطان کی بھی اطاعت کرتے ہیں، فرعون، ہامان اور قارون کی اطاعت بھی کرتے ہیں۔ جانوروں اور پرندوں کی اطاعت بھی کرتے ہیں وغیرو غیرہ ۔۔۔

لیجئے رسول کی اطاعت سے بھاگے تو اپنے نفس کے ساتھ ساتھ کس کس کی اطاعت کرنی پڑی ۔۔۔۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
مسلم بھائی،
یہاں بھی کچھ سوالات آپ کے منتظر ہیں۔ امید ہے کہ قرآن کا مخلص طالب علم ہونے کے اپنے دعوے کی حیثیت سے یہاں بھی توجہ کریں گے اور اس موضوع کو بھی کسی کنارے لگائیں گے۔
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
مسلم بھائی،
یہاں بھی کچھ سوالات آپ کے منتظر ہیں۔ امید ہے کہ قرآن کا مخلص طالب علم ہونے کے اپنے دعوے کی حیثیت سے یہاں بھی توجہ کریں گے اور اس موضوع کو بھی کسی کنارے لگائیں گے


۔
شاکر بھائی۔
السلام علیکم۔
انس نضر صاحب کے تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں۔
برائے مہربانی پہلے صرف یہ بتا دیا جائے کہ اطاعت کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

میرے سوالوں کا تو انس نضر صاحب جواب نہیں دیتے بلکہ غور سے پڑہتے بھی نہیں ہیں، اور اپنی پوسٹ میں متعدد سوالات کرڈالتے ہیں۔ کیا "وقال اور قل" میں کوئی فرٖق نہیں ہے؟
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
شاکر بھائی۔
السلام علیکم۔
انس نضر صاحب کے تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں۔
برائے مہربانی پہلے صرف یہ بتا دیا جائے کہ اطاعت کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

میرے سوالوں کا تو انس نضر صاحب جواب نہیں دیتے بلکہ غور سے پڑہتے بھی نہیں ہیں، اور اپنی پوسٹ میں متعدد سوالات کرڈالتے ہیں۔ کیا "وقال اور قل" میں کوئی فرٖق نہیں ہے؟
’قل‘ فعل امر ہے ، اس کا مطلب ہے: ’’کہو‘‘
’قال‘ فعل ماضی ہے، اس کا مطلب ہے: ’’اس نے کہا‘‘

ان دونوں کے بعد کہنے والے کا قول (مقولہ) ہوتا ہے۔

اس اعتبار سے دونوں میں بالکل کوئی فرق نہیں۔

مثلاً:

﴿ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ (١٥) إِذْ نَادَاهُ رَ‌بُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى (١٦) اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ (١٧) فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰ أَن تَزَكَّىٰ (١٨) وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ فَتَخْشَىٰ ... سورة النازعات
کہ ’’کیا تمہیں موسیٰؑ کے قصے کی خبر پہنچی ہے؟ (15) جب اس کے رب نے اُسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا (16) کہ "فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے (17) اور اس سے کہہ کیا تو اِس کے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے (18) اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو؟"
ان آیات مبارکہ میں سیدنا موسیٰ﷤ کو ’قل‘ کے ذریعے فرعون کو کچھ دعوت دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ گویا ’قل‘ کے بعد سیدنا موسیٰ﷤ کی دعوت ہے۔

﴿ وَقَالَ مُوسَىٰ يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ ... سورة يونس: 84
کہ ’’اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔‘‘
اس آیت مبارکہ میں ’قال‘ کے بعد سیدنا موسیٰ﷤ کی دعوت ہے۔

گویا ’قل‘ کے بعد بھی سیدنا موسیٰ﷤ کا قول (دعوت) ہے اور ’قال‘ کے بعد بھی۔
گویا یہ دونوں سیدنا موسیٰ﷤ کے قول ہیں۔ اس اعتبار سے ان میں کیا فرق ہوا؟؟؟
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
انس نضر صاحب کے تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں۔
برائے مہربانی پہلے صرف یہ بتا دیا جائے کہ اطاعت کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

میرے سوالوں کا تو انس نضر صاحب جواب نہیں دیتے بلکہ غور سے پڑہتے بھی نہیں ہیں، اور اپنی پوسٹ میں متعدد سوالات کرڈالتے ہیں۔
کہاں موجود ہیں؟ یہاں فورم پر تو نہیں ہیں۔ نہ ہی میرے سوالوں کا جواب ہے اور نہ دیگر ساتھیوں: شاکر، ہابیل، ندیم احمد وغیرہ برادران کے سوالات کا۔

اگر آپ کے ذہن میں ہیں تو ذہن سے انہیں فورم کے صفحہ قرطاس پر لائیے، یہی تو آپ سے تقاضا ہے۔

بھئی اطاعت کا معنیٰ بالکل واضح ہے کہ کسی کی بات ماننا، اس کے حکم اور فیصلہ کے آگے سر جھکا دینا وغیرہ وغیرہ

اب آپ کے بقول آپ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں، اللہ کی کلام کو تسلیم کرکے، قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرکے۔
حالانکہ اسی قرآن میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺ دونوں کی اطاعت کا حکم ہے۔
تو آپ رسول کی اطاعت کیوں نہیں کرتے؟؟؟ رسول کریمﷺ کی بات (حدیث) کو کیوں نہیں مانتے ؟؟؟
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
تو آپ رسول کی اطاعت کیوں نہیں کرتے؟؟؟ رسول کریمﷺ کی بات (حدیث) کو کیوں نہیں مانتے ؟؟؟
آپ راویوں اور محد ثوں کی باتوں کو رسول کی اطاعت اور رسول کا قول اور رسول کی حدیث ثابت کردیں، میں تسلیم کرلوں گا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
مسلم بھائی جان آپ ماشاءاللہ صرف قرآن پاک کو مانتے ہیں اور قرآن کا ہی نعرہ لگاتے ہیں ۔چلیں ایک آیت پیش کرتا ہوں۔شاید کہ تیری سمجھ میں بیٹھ جائے کوئی بات۔
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ
اورنہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ محمد جوان خود نہیں بولتے بلکہ وحی سے بولتے ہیں اور وحی بھی اللہ کی طرف سے آتی تھی ۔رائٹ
تو
کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ محمد جوانﷺنے اپنی 63 سالہ زندگی میں جو بولا وہ کہاں ہے ۔؟
اگر آپ کہتے ہیں کہ محمدﷺ صرف قرآن ہی پڑھتے اور پڑھاتے تھے ۔تو پھر محمدﷺ پر قرآن تو اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہے ۔یعنی یہ قرآن وہ قرآن ہے جس میں محمدﷺ کا اپنی طرف سے بنایا گیا کوئی لفظ موجود نہیں بلکہ سارے کا سارا اللہ کا کلام ہے۔بس محمدﷺ پر انسانوں کی ہدایت کی خاطر نازل ہوا ہے ۔
اگر آپ اس بات کومانتے ہیں کہ محمدﷺ صرف قرآن ہی پڑھتے اور پڑھاتے تھے ۔ تو پھر اس آیت کا مطلب سمچھ نہیں آتا اور نہ ہی اس آیت کے نزول کا کوئی مقصد سمجھ آتا ہے۔
اس آیت کا مقصد اور مطلب تب سمجھ آتا ہے کہ جب ہم محمدﷺ کی بات کو بھی شریعت سمجھیں گے۔کیونکہ اللہ نے خود فرمادیا ہے کہ محمد جوان جو بھی بولتا ہے وحی سے بولتا ہے۔
اب آپ یہ بتائیں کہ محمد جوان نے 63 سالہ زندگی میں قرآن کے علاوہ جو گفتگو کی ہے وہ کہاں ہے۔؟ کیا وہ گفتگو حدیث کی شکل میں ہمارے پاس موجود نہیں ۔؟ یا آپ بتادیں کہ وہ گفتگو کس صورت میں ہمارے پاس ہے ۔؟ یا (نعوذباللہ) وقت کےساتھ وہ گفتگو دنیائے فانی سے مٹ چکی ہے ۔؟ اورہاں محمد جوان کی وہ گفتگو ہمارے لیے حجت ہے کہ نہیں ۔؟
اور دوسری بات آپ نے کہا کہ
آپ راویوں اور محد ثوں کی باتوں کو رسول کی اطاعت اور رسول کا قول اور رسول کی حدیث ثابت کردیں، میں تسلیم کرلوں گا۔
بھائی آپ اس قرآن کواللہ کا قرآن ثابت کرسکتے ہیں ۔؟ آپ کے پاس کیا ذرائے یا وہ کیسا علم ہے جس کی وجہ سے آپ اس قرآن کو اللہ کا قرآن سمجھتے ہیں ۔؟
ہاں آپ کے جو ذرائے قرآن پاک کو اللہ کا کلام سمجھنے کےہیں وہی ذرائع حدیث کو رسول اللہ کا فرمان سمجھنے کے ہیں ۔حدیث اور قرآن میں فرق صرف اتنا ہے کہ حدیث کے الفاظ رسول اللہ ﷺ کے ہیں مراد اللہ کی ہے اور قرآن کے الفاظ بھی اللہ کے مراد بھی اللہ کی ہے۔
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
مسلم بھائی جان آپ ماشاءاللہ صرف قرآن پاک کو مانتے ہیں اور قرآن کا ہی نعرہ لگاتے ہیں ۔چلیں ایک آیت پیش کرتا ہوں۔شاید کہ تیری سمجھ میں بیٹھ جائے کوئی بات۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ محمد جوان خود نہیں بولتے بلکہ وحی سے بولتے ہیں اور وحی بھی اللہ کی طرف سے آتی تھی ۔رائٹ
تو
اگر آپ کہتے ہیں کہ محمدﷺ صرف قرآن ہی پڑھتے اور پڑھاتے تھے ۔تو پھر محمدﷺ پر قرآن تو اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہے ۔یعنی یہ قرآن وہ قرآن ہے جس میں محمدﷺ کا اپنی طرف سے بنایا گیا کوئی لفظ موجود نہیں بلکہ سارے کا سارا اللہ کا کلام ہے۔بس محمدﷺ پر انسانوں کی ہدایت کی خاطر نازل ہوا ہے ۔

اس آیت کا مقصد اور مطلب تب سمجھ آتا ہے کہ جب ہم محمدﷺ کی بات کو بھی شریعت سمجھیں گے۔کیونکہ اللہ نے خود فرمادیا ہے کہ محمد جوان جو بھی بولتا ہے وحی سے بولتا ہے۔
اب آپ یہ بتائیں کہ محمد جوان نے 63 سالہ زندگی میں قرآن کے علاوہ جو گفتگو کی ہے وہ کہاں ہے۔؟ کیا وہ گفتگو حدیث کی شکل میں ہمارے پاس موجود نہیں ۔؟ یا آپ بتادیں کہ وہ گفتگو کس صورت میں ہمارے پاس ہے ۔؟ یا (نعوذباللہ) وقت کےساتھ وہ گفتگو دنیائے فانی سے مٹ چکی ہے ۔؟ اورہاں محمد جوان کی وہ گفتگو ہمارے لیے حجت ہے کہ نہیں ۔؟
اور دوسری بات آپ نے کہا کہ

بھائی آپ اس قرآن کواللہ کا قرآن ثابت کرسکتے ہیں ۔؟ آپ کے پاس کیا ذرائے یا وہ کیسا علم ہے جس کی وجہ سے آپ اس قرآن کو اللہ کا قرآن سمجھتے ہیں ۔؟
ہاں آپ کے جو ذرائے قرآن پاک کو اللہ کا کلام سمجھنے کےہیں وہی ذرائع حدیث کو رسول اللہ کا فرمان سمجھنے کے ہیں ۔حدیث اور قرآن میں فرق صرف اتنا ہے کہ حدیث کے الفاظ رسول اللہ ﷺ کے ہیں مراد اللہ کی ہے اور قرآن کے الفاظ بھی اللہ کے مراد بھی اللہ کی ہے۔
السلام علیکم۔
آپ کی تحریر پڑھ کر چند سوالات زہن میں آرہے ہیں۔

١- "کیا اللہ نے محمدٖٖ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو طرح کی وحی کی ہے؟ ایک وحی متلو اور دوسری وحی خفی؟"

اگر ایسا ہے تو اللہ کی یہ سنت انبیاء سابقین کے لئے بھی ہونی چاہیئے۔ کیونکہ اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔


سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا ﴿١٧-٧٧﴾

یہ ہمارا مستقل طریق کار ہے جو اُن سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا، اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پاؤ گے -

سُنَّةَ اللَّـهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا ﴿٣٣-٦٢﴾

یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آ رہی ہے، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ۔

مَّا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّـهُ لَهُ ۖ سُنَّةَ اللَّـهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا ﴿٣٨-٣٣﴾

نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے ۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ ﴿٢٩-١٤﴾

ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا آخر کار اُن لوگوں کو طوفان نے آ گھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے (٢٩-١٤)

٢- " نوح علیہ سلام، ابراہیم علیہ سلام، موسیٰ علیہ سلام، عیسیٰ علیہ سلام اور دیگر انبیاء نے، اللہ کے کلام کے علاوہ جو گفتگو کی وہ کہاں ہے؟
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
آپ راویوں اور محد ثوں کی باتوں کو رسول کی اطاعت اور رسول کا قول اور رسول کی حدیث ثابت کردیں، میں تسلیم کرلوں گا۔
مسلم صاحب نے پھر اپنے پرانے طریقہ کار کے مطابق جاری موضوع کو کسی انتہاء تک پہنچانے کی بجائے نیا سوال کر دیا ہے۔

حوصلہ رکھئے، ان شاء اللہ آپ کے اس سوال پر بھی آتے ہیں!

پہلے اس بات کو کلیئر کر لیں:

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ اپنی اور رسول کریمﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔
اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ کی اطاعت سے مراد قرآن کریم کو ماننا جبکہ رسول کریمﷺ کی اطاعت سے مراد قرآن کریم کی تبیین وتشریح (حدیث مبارکہ) کو ماننا ہے۔
تمام منکرین حدیث اس بات پر اپنی پوری صلاحیت لگا دیتے ہیں کہ قرآن کریم کو ماننا ہی اللہ اور رسول دونوں کی اطاعت ہے؟؟؟
لیکن سوال یہ ہے کہ کیسے؟؟؟ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں بس کج بحثی اور کٹ حجتی؟؟؟
کبھی کہتے ہیں کہ باقی سارا کلام اللہ کا ہے، اسے ماننا تو اللہ کی بات ماننا ہے، جبکہ ’قل‘ کے بعد والی آیات کو ماننا رسول کی اطاعت ہے۔ اس پر اگر سوال کیا جائے کہ کیا ’قل‘ کے بعد والی آیات رسول کا کلام ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں وہ اللہ کا ہی کلام ہے، تو پھر یہی تو سوال ہے کہ اللہ کے کلام کو ماننا رسول کی اطاعت کیسے ہوئی؟؟؟ (علاوہ ازیں میں اوپر اپنی ایک پوسٹ میں وہ تمام آیات جمع کردی ہے، جن میں ’قل‘ کے بعد والی کلام کو کسی طور رسول کی اطاعت قرار ہی نہیں دیا جا سکتا ۔۔۔ جس کا مسلم صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں)

اگر مسلم صاحب کے کہنے کے مطابق یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ’قل‘ کے بعد والی آیات تو کلام اللہ ہی ہیں لیکن انہیں ماننا رسول کی اطاعت ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جن جن کا قول ذکر کیا ہے، خواہ انبیاء کرام﷩ ہوں، اولیاء ہوں، جانور پرندے ہوں، اللہ کے دشمن فرعون، ہامان، قارون ہوں یا شیطان ہو تو وہ مسلم صاحب کے قاعدہ کلیہ کے مطابق وہ کلام تو اللہ کی ہوگی، لیکن اسے ماننا انہی لوگوں کی اطاعت ہوگی۔
گویا
مسلم صاحب شیطان کی بھی اطاعت کرتے ہیں، فرعون، ہامان اور قارون کی اطاعت بھی کرتے ہیں۔ جانوروں اور پرندوں کی اطاعت بھی کرتے ہیں وغیرو غیرہ ۔۔۔
لیجئے رسول کی اطاعت سے بھاگے تو اپنے نفس کے ساتھ ساتھ کس کس کی اطاعت کرنی پڑی ۔۔۔۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
مسلم صاحب نے پھر اپنے پرانے طریقہ کار کے مطابق جاری موضوع کو کسی انتہاء تک پہنچانے کی بجائے نیا سوال کر دیا ہے۔

حوصلہ رکھئے، ان شاء اللہ آپ کے اس سوال پر بھی آتے ہیں!

پہلے اس بات کو کلیئر کر لیں:
اصل پیغام ارسال کردہ از: انس نضر
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ اپنی اور رسول کریمﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔
اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ کی اطاعت سے مراد قرآن کریم کو ماننا جبکہ رسول کریمﷺ کی اطاعت سے مراد قرآن کریم کی تبیین وتشریح (حدیث مبارکہ) کو ماننا ہے۔
تمام منکرین حدیث اس بات پر اپنی پوری صلاحیت لگا دیتے ہیں کہ قرآن کریم کو ماننا ہی اللہ اور رسول دونوں کی اطاعت ہے؟؟؟
لیکن سوال یہ ہے کہ کیسے؟؟؟ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں بس کج بحثی اور کٹ حجتی؟؟؟
کبھی کہتے ہیں کہ باقی سارا کلام اللہ کا ہے، اسے ماننا تو اللہ کی بات ماننا ہے، جبکہ ’قل‘ کے بعد والی آیات کو ماننا رسول کی اطاعت ہے۔ اس پر اگر سوال کیا جائے کہ کیا ’قل‘ کے بعد والی آیات رسول کا کلام ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں وہ اللہ کا ہی کلام ہے، تو پھر یہی تو سوال ہے کہ اللہ کے کلام کو ماننا رسول کی اطاعت کیسے ہوئی؟؟؟ (علاوہ ازیں میں اوپر اپنی ایک پوسٹ میں وہ تمام آیات جمع کردی ہے، جن میں ’قل‘ کے بعد والی کلام کو کسی طور رسول کی اطاعت قرار ہی نہیں دیا جا سکتا ۔۔۔ جس کا مسلم صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں)

اگر مسلم صاحب کے کہنے کے مطابق یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ’قل‘ کے بعد والی آیات تو کلام اللہ ہی ہیں لیکن انہیں ماننا رسول کی اطاعت ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جن جن کا قول ذکر کیا ہے، خواہ انبیاء کرام� ہوں، اولیاء ہوں، جانور پرندے ہوں، اللہ کے دشمن فرعون، ہامان، قارون ہوں یا شیطان ہو تو وہ مسلم صاحب کے قاعدہ کلیہ کے مطابق وہ کلام تو اللہ کی ہوگی، لیکن اسے ماننا انہی لوگوں کی اطاعت ہوگی۔
گویا
مسلم صاحب شیطان کی بھی اطاعت کرتے ہیں، فرعون، ہامان اور قارون کی اطاعت بھی کرتے ہیں۔ جانوروں اور پرندوں کی اطاعت بھی کرتے ہیں وغیرو غیرہ ۔۔۔
لیجئے رسول کی اطاعت سے بھاگے تو اپنے نفس کے ساتھ ساتھ کس کس کی اطاعت کرنی پڑی ۔۔۔۔
بھائی صاحب پوسٹ توجہ اور غور سے پڑھا کریں۔
"قل سے شروع ہونے والی آیات، اللہ کا کلام ہیں جو وہ رسول کے زریعہ کہلوارہا ہے۔ ان آیات میں جو احکامات ہیں، ان احکامات کو ماننا اور ان پر عمل کرنا، رسول کی اطاعت ہے۔

مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ﴿٤-٨٠﴾

جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی اور جو منہ موڑ گیا، تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔



اب بخاری یا کسی اور حدیث کی کتاب سے اللہ کی اطاعت تو ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ کتابیں ،اللہ نے نازل نہیں کی ہیں اور نہ ہی رسول نے ان کی تصدیق کی ہے۔
ہر باشعور شخص جانتا ہے کہ اطاعت احکامات کی ہی کی جاتی ہے۔ انبیاء کے علاوہ جن کی آپ نے مثالیں آپ نے دی ہیں مثلا" جانور، پرندے، قارون، ہامان، فرعون، شیطان وغیرہ۔ ان کے زریعہ اللہ کوئی احکامات نہیں دے رہا، بلکہ حدیث واقعہ بیان کررہا ہے۔


گفتگو کو مختصر اور بامعنیٰ بنانے کے لئے پوسٹ # ١٨ میں کئے گئے سوالات کا جواب دیں۔
 
Top