- شمولیت
- مارچ 03، 2011
- پیغامات
- 4,178
- ری ایکشن اسکور
- 15,357
- پوائنٹ
- 800
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ اپنی اور رسول کریمﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔
اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ کی اطاعت سے مراد قرآن کریم کو ماننا جبکہ رسول کریمﷺ کی اطاعت سے مراد قرآن کریم کی تبیین وتشریح (حدیث مبارکہ) کو ماننا ہے۔
تمام منکرین حدیث اس بات پر اپنی پوری صلاحیت لگا دیتے ہیں کہ قرآن کریم کو ماننا ہی اللہ اور رسول دونوں کی اطاعت ہے؟؟؟
لیکن سوال یہ ہے کہ کیسے؟؟؟ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں بس کج بحثی اور کٹ حجتی؟؟؟
کبھی کہتے ہیں کہ باقی سارا کلام اللہ کا ہے، اسے ماننا تو اللہ کی بات ماننا ہے، جبکہ ’قل‘ کے بعد والی آیات کو ماننا رسول کی اطاعت ہے۔ اس پر اگر سوال کیا جائے کہ کیا ’قل‘ کے بعد والی آیات رسول کا کلام ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں وہ اللہ کا ہی کلام ہے، تو پھر یہی تو سوال ہے کہ اللہ کے کلام کو ماننا رسول کی اطاعت کیسے ہوئی؟؟؟ (علاوہ ازیں میں اوپر اپنی ایک پوسٹ میں وہ تمام آیات جمع کردی ہے، جن میں ’قل‘ کے بعد والی کلام کو کسی طور رسول کی اطاعت قرار ہی نہیں دیا جا سکتا ۔۔۔ جس کا مسلم صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں)
اگر مسلم صاحب کے کہنے کے مطابق یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ’قل‘ کے بعد والی آیات تو کلام اللہ ہی ہیں لیکن انہیں ماننا رسول کی اطاعت ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جن جن کا قول ذکر کیا ہے، خواہ انبیاء کرام ہوں، اولیاء ہوں، جانور پرندے ہوں، اللہ کے دشمن فرعون، ہامان، قارون ہوں یا شیطان ہو تو وہ مسلم صاحب کے قاعدہ کلیہ کے مطابق وہ کلام تو اللہ کی ہوگی، لیکن اسے ماننا انہی لوگوں کی اطاعت ہوگی۔
گویا
مسلم صاحب شیطان کی بھی اطاعت کرتے ہیں، فرعون، ہامان اور قارون کی اطاعت بھی کرتے ہیں۔ جانوروں اور پرندوں کی اطاعت بھی کرتے ہیں وغیرو غیرہ ۔۔۔
لیجئے رسول کی اطاعت سے بھاگے تو اپنے نفس کے ساتھ ساتھ کس کس کی اطاعت کرنی پڑی ۔۔۔۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ کی اطاعت سے مراد قرآن کریم کو ماننا جبکہ رسول کریمﷺ کی اطاعت سے مراد قرآن کریم کی تبیین وتشریح (حدیث مبارکہ) کو ماننا ہے۔
تمام منکرین حدیث اس بات پر اپنی پوری صلاحیت لگا دیتے ہیں کہ قرآن کریم کو ماننا ہی اللہ اور رسول دونوں کی اطاعت ہے؟؟؟
لیکن سوال یہ ہے کہ کیسے؟؟؟ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں بس کج بحثی اور کٹ حجتی؟؟؟
کبھی کہتے ہیں کہ باقی سارا کلام اللہ کا ہے، اسے ماننا تو اللہ کی بات ماننا ہے، جبکہ ’قل‘ کے بعد والی آیات کو ماننا رسول کی اطاعت ہے۔ اس پر اگر سوال کیا جائے کہ کیا ’قل‘ کے بعد والی آیات رسول کا کلام ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں وہ اللہ کا ہی کلام ہے، تو پھر یہی تو سوال ہے کہ اللہ کے کلام کو ماننا رسول کی اطاعت کیسے ہوئی؟؟؟ (علاوہ ازیں میں اوپر اپنی ایک پوسٹ میں وہ تمام آیات جمع کردی ہے، جن میں ’قل‘ کے بعد والی کلام کو کسی طور رسول کی اطاعت قرار ہی نہیں دیا جا سکتا ۔۔۔ جس کا مسلم صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں)
اگر مسلم صاحب کے کہنے کے مطابق یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ’قل‘ کے بعد والی آیات تو کلام اللہ ہی ہیں لیکن انہیں ماننا رسول کی اطاعت ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جن جن کا قول ذکر کیا ہے، خواہ انبیاء کرام ہوں، اولیاء ہوں، جانور پرندے ہوں، اللہ کے دشمن فرعون، ہامان، قارون ہوں یا شیطان ہو تو وہ مسلم صاحب کے قاعدہ کلیہ کے مطابق وہ کلام تو اللہ کی ہوگی، لیکن اسے ماننا انہی لوگوں کی اطاعت ہوگی۔
گویا
مسلم صاحب شیطان کی بھی اطاعت کرتے ہیں، فرعون، ہامان اور قارون کی اطاعت بھی کرتے ہیں۔ جانوروں اور پرندوں کی اطاعت بھی کرتے ہیں وغیرو غیرہ ۔۔۔
لیجئے رسول کی اطاعت سے بھاگے تو اپنے نفس کے ساتھ ساتھ کس کس کی اطاعت کرنی پڑی ۔۔۔۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات