• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اس حدیث کی تحقیق و تحکیم درکار ہے ؟

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,427
ری ایکشن اسکور
411
پوائنٹ
190
5702 - أنس بن مَالك
من قضى لأحد من أمتِي حَاجَة يُرِيد أَن يسره بهَا فسره فقد سرني وَمن سرني فقد سر الله وَمن سر الله أدخلهُ الْجنَّة
الدَّيْلَمي الفردوس بمأثور الخطاب 3 : 546، رقم : 5702
سیدنا انس بن ماللک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
’’ جو میرے کسی امتی کو خوش کرنے کے لیے اس کی حاجت پوری کرے اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اور جس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا ‘‘
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
5702 - أنس بن مَالك
من قضى لأحد من أمتِي حَاجَة يُرِيد أَن يسره بهَا فسره فقد سرني وَمن سرني فقد سر الله وَمن سر الله أدخلهُ الْجنَّة
الدَّيْلَمي الفردوس بمأثور الخطاب 3 : 546، رقم : 5702
سیدنا انس بن ماللک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
’’ جو میرے کسی امتی کو خوش کرنے کے لیے اس کی حاجت پوری کرے اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اور جس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا ‘‘
محترم بھائی یہ حدیث امام بیہقیؒ نے شعب الایمان میں روایت کی ہے :
أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي بن محمد الدامغاني نزيل بيهق، أنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ، نا أحمد بن علي بن الحسن بن شعيب المدائني، بمصر، نا أحمد بن علي بن الأفطح، نا يحيى بن زهدم يعني ابن الحارث، حدثني أبي، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من قضى لأحد من أمتي حاجة يريد أن يسره بها فقد سرني، ومن سرني فقد سر الله، ومن سر الله أدخله الله الجنة " قال الإمام أحمد: " سرور الله تعالى حسن قبوله لطاعة عبده وارتضاؤه إياها "( شعب الایمان 7247 )
یہ حدیث ضعیف ہے ، اس کا راوی احمد بن علی جھوٹی روایات بیان کرتا تھا ؛
علامہ الذھبیؒ میزان الاعتدال میں اس کے متعلق لکھتے ہیں :
أحمد بن علي بن الأفطح.
عن يحيى بن زهدم بطامات.
قال ابن عدي: لا أدرى البلاء منه أو من شيخه.

یعنی احمد بن علی ۔یحی بن زھدم سے تباہ کن روایات نقل کرتا ہے ، اور ابن عدی فرماتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ : مصیبت خود احمد بن علی میں ہے یا اس کے شیخ کی طرف سے ہے ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور علامہ البانی نے اس حدیث کو سلسلہ ضعیفہ میں درج فرماکر موضوع قرار دیا ہے ،
لکھتے ہیں

(من قضى لأحد من أمتي حاجة يريد أن يسره بها، فقد سرني، ومن سرني؛ فقد سر الله، ومن سر الله؛ أدخلة الله الجنة) .
موضوع.
أخرجه البيهقي في " شعب الايمان " (6/ 115/ 7653) من طريق أحمد بن علي بن الأفطح: نا يحيى بن زهدم بن الحارث: حدثني أبي عن أنس بن مالك مرفوعاً. وقال:
"سرور الله تعالى حسن قبوله لطاعة عبده وارتضاؤه إياها"!
قلت: هذا تأويل، والتأويل فرع التصحيح، وأنى له الصحة؟!
(سلسلة الاحاديث الضعيفة رقم 6857 )

ہاں البتہ مومن کی مدد کرنا اور اس کو خوش کرنے کی فضیلت میں دوسری صحیح روایات موجود ہیں ؛
 
Top