جزاک اللہ خیرالسلام علیکم
ابن کثیر نے ابن تیمیہ کے جنازہ کے بارے میں بزارلی سے نقل کیا ہے کہ
إن الخيط الذي كان فيه الزئبق الذي كان في عنقه بسبب القمل، دفع فيه مائة وخمسون درهما
جوؤں کے باعث جو آپ نے اپنی گردن میں جو پارے والا دھاگہ ڈالا تھا۔
”البدایہ والنہایہ ج 14 ص 159، ترجمہ مولانا اختر فتح پوری"
ح
========
یہ علاج حکمت سے ہے، پارہ لگا دھاگہ جو کہ جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانے کے کام آتا ہے اور اس سے جسم میں پڑی جوئیں گرتی رہتی ہیں۔ کیمیکل ری ایشن۔ اسے کسی بھی زاویہ سے تعویز کہنا درست نہیں ہو گا۔
برطانیہ میں بلی کے جس میں جب جوئیں پڑتی ہیں تو"سپاٹ اون" ایک ٹیوب ہے اس میں 3 قطرے ہوتے ہیں ہے جو پارہ جیسے مزید کیمکملز سے تیار کی جاتی ہے جسے بلی کی گردن میں پیچھے 3 قطرے لگا دئے جاتے ہیں جس سے بلی کے جسم کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ کسی کونے میں جا کر بیٹھ جاتی ہے اور وقفوں کے ساتھ جسم کو جھڑکتی رہتی ہے جس سے جوئیں گرتی رہتی ہیں۔نوٹ: پارہ کو کبھی چکھنے کی بھی کوئی کوشش نہ کرے ورنہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔والسلام
اگر بطور علاج پارہ لگا دھاگہ گلے میں باندھا جا سکتا ہے؟ تو بطور علاج کلام الله کیوں نہیں؟ بشرطیکہ اس کی توہین نہ ہو تو..یہ علاج حکمت سے ہے، پارہ لگا دھاگہ جو کہ جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانے کے کام آتا ہے اور اس سے جسم میں پڑی جوئیں گرتی رہتی ہیں۔ کیمیکل ری ایشن۔ اسے کسی بھی زاویہ سے تعویز کہنا درست نہیں ہو گا۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہالسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
اوپر ایک ویڈیو ہے لیکن اوپن نہی ہو رہا ہے عمر اثری صاحب و ویڈیوبہیج سکتے ہےدوبارہ