- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
دین کی وجہ سے تکلیف برداشت کرنا:
شریعت کے مطابق عمل کرنے سے بعض اوقات ایک مسلمان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ اسے طعنے دیتے ہیں اس پر تشدد کیا جاتا ہے۔ بہت سے مفادات کا نقصان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر وہ ہر قسم کے سخت حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتا اور اس کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ صبر کی اعلیٰ قسم ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کا حال بیان کر رہے تھے جسے اس کی قوم نے خون آلودہ کر دیا اور وہ اپنے چہرے سے خون بھی صاف کر رہے تھے اور کہے جا رہے تھے
’’اے اللہ میری قوم کی مغفرت فرما کیونکہ یہ جانتے نہیں ہیں۔‘‘
(بخاری کتاب الانبیاء)
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اپنی چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ڈال کر بہت زور سے آپ کا گلا گھونٹنے لگا۔
اتنے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عقبہ کو ہٹایا اور کہا:
"کیا تم ایک آ دمی کو صرف اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میرا رب صرف اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے پاس اپنے رب کے ہاں سے واضح دلائل بھی لے کر آیا ہے۔"
(صحیح بخاری باب فضل ابی بکر رضی اللّٰہ تعالی عنہ)
ایک دن رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سایہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل اور قریش کے کچھ لوگ وہاں موجود تھے۔ اس دن مکہ معظمہ میں ایک اونٹ نحر کیا گیا تھا۔ ابو جہل نے کہا کون آل فلاں کے اونٹ کی طرف جائے گا وہاں اس کا گوبر، خون اور اوجھڑی لائے پھر آپ کے سجدہ کے وقت آپ کے کندھوں پر ان چیزوں کو ڈال دے۔ کچھ لوگ گئے اور اوجھڑی اٹھا لائے۔ ایک بدبخت عقبہ بن ابی معیط نے اسے سجدہ کی حالت میں آپ کے کندھوں پر رکھ دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دیر تک سجدہ میں پڑے رہے۔ کفار مکہ ہنستے رہے حتی کہ ہنسنے کے سبب وہ ایک دوسرے پر جھک جاتے تھے۔ ایک شخص نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی وہ ابھی لڑکی ہی تھیں دوڑتی ہوئی آئیں آپ ابھی تک سجدہ ہی میں تھے۔ انہوں نے آپ پر سے اوجھڑی ہٹائی اور کافروں کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔
جب آپ نے نماز ختم کی تو آپ نے دعا کی کہ
"اے اللہ قریش کو پکڑلے۔ اے اللہ قریش کو پکڑ لے۔"
یہ بددعا قریش کو بہت شاق گزری کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے جب انہوں نے بددعا سنی تو ہنسنا بند کر دیا اور خوفزدہ ہو گئے۔ پھر آپ نے ایک ایک کا نام لیا :
"اے اللہ عمرو بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، عقبہ بن ابی معیط، امیہ بن خلف اور عمارہ بن ولید کو پکڑ لے۔"
جن لوگوں کے آپ نے نام لیے یہ سب جنگ بدر میں قتل ہوئے اور عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے۔
(صحیح بخاری کتاب الجہاد والسیر باب الدعاء علی المشرکین، مسلم کتاب الجہاد باب مالقی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من االمشرکین المنافقین)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو ان کے اسلام لاتے ہی تمام لوگوں نے ان کا مکان گھیر لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں خوفزدہ ہو کربیٹھ گئے۔ لوگ باہر چلا رہے تھے عمر بے دین ہو گیا۔ آپ کا ایک حلیف عاص بن وائل آپ کے پاس آیا اور آپ کو اس نے امان دی۔ لوگوں میں اعلان کیا کہ میں نے عمر کو پناہ دے دی۔ اب تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ سن کر لوگ واپس چلے گئے ۔
(صحیح بخاری کتاب مناقب الانصار باب اسلام عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ)
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کعبہ کے سائے تلے چادر کا سرہانہ لگا کر لیٹے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان (تکالیف کی) شکایت کی (جو مشرکینِ مکہ پہنچا رہے تھے) اور کہا:
’’کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا بدلہ نہیں لیں گے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے دعا نہیں کریں گے؟‘‘
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’تم سے پہلے لوگوں میں ایسے مرد بھی تھے جنہیں گرفتار کر کے زمین میں زندہ گاڑ دیا جاتا اور پھر آرے سے ان کے جسموں کو دو ٹکڑے کر دیا جاتا اور لوہے کی کنگھیاں ان کے گوشت اور ہڈیوں کے درمیان کھینچی جاتیں۔ یہ بات بھی انہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے دین سے نہیں روکتی تھی۔‘‘
(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام)
شریعت کے مطابق عمل کرنے سے بعض اوقات ایک مسلمان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ اسے طعنے دیتے ہیں اس پر تشدد کیا جاتا ہے۔ بہت سے مفادات کا نقصان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر وہ ہر قسم کے سخت حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتا اور اس کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ صبر کی اعلیٰ قسم ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کا حال بیان کر رہے تھے جسے اس کی قوم نے خون آلودہ کر دیا اور وہ اپنے چہرے سے خون بھی صاف کر رہے تھے اور کہے جا رہے تھے
’’اے اللہ میری قوم کی مغفرت فرما کیونکہ یہ جانتے نہیں ہیں۔‘‘
(بخاری کتاب الانبیاء)
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اپنی چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ڈال کر بہت زور سے آپ کا گلا گھونٹنے لگا۔
اتنے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عقبہ کو ہٹایا اور کہا:
"کیا تم ایک آ دمی کو صرف اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میرا رب صرف اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے پاس اپنے رب کے ہاں سے واضح دلائل بھی لے کر آیا ہے۔"
(صحیح بخاری باب فضل ابی بکر رضی اللّٰہ تعالی عنہ)
ایک دن رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سایہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل اور قریش کے کچھ لوگ وہاں موجود تھے۔ اس دن مکہ معظمہ میں ایک اونٹ نحر کیا گیا تھا۔ ابو جہل نے کہا کون آل فلاں کے اونٹ کی طرف جائے گا وہاں اس کا گوبر، خون اور اوجھڑی لائے پھر آپ کے سجدہ کے وقت آپ کے کندھوں پر ان چیزوں کو ڈال دے۔ کچھ لوگ گئے اور اوجھڑی اٹھا لائے۔ ایک بدبخت عقبہ بن ابی معیط نے اسے سجدہ کی حالت میں آپ کے کندھوں پر رکھ دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دیر تک سجدہ میں پڑے رہے۔ کفار مکہ ہنستے رہے حتی کہ ہنسنے کے سبب وہ ایک دوسرے پر جھک جاتے تھے۔ ایک شخص نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی وہ ابھی لڑکی ہی تھیں دوڑتی ہوئی آئیں آپ ابھی تک سجدہ ہی میں تھے۔ انہوں نے آپ پر سے اوجھڑی ہٹائی اور کافروں کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔
جب آپ نے نماز ختم کی تو آپ نے دعا کی کہ
"اے اللہ قریش کو پکڑلے۔ اے اللہ قریش کو پکڑ لے۔"
یہ بددعا قریش کو بہت شاق گزری کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے جب انہوں نے بددعا سنی تو ہنسنا بند کر دیا اور خوفزدہ ہو گئے۔ پھر آپ نے ایک ایک کا نام لیا :
"اے اللہ عمرو بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، عقبہ بن ابی معیط، امیہ بن خلف اور عمارہ بن ولید کو پکڑ لے۔"
جن لوگوں کے آپ نے نام لیے یہ سب جنگ بدر میں قتل ہوئے اور عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے۔
(صحیح بخاری کتاب الجہاد والسیر باب الدعاء علی المشرکین، مسلم کتاب الجہاد باب مالقی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من االمشرکین المنافقین)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو ان کے اسلام لاتے ہی تمام لوگوں نے ان کا مکان گھیر لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں خوفزدہ ہو کربیٹھ گئے۔ لوگ باہر چلا رہے تھے عمر بے دین ہو گیا۔ آپ کا ایک حلیف عاص بن وائل آپ کے پاس آیا اور آپ کو اس نے امان دی۔ لوگوں میں اعلان کیا کہ میں نے عمر کو پناہ دے دی۔ اب تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ سن کر لوگ واپس چلے گئے ۔
(صحیح بخاری کتاب مناقب الانصار باب اسلام عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ)
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کعبہ کے سائے تلے چادر کا سرہانہ لگا کر لیٹے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان (تکالیف کی) شکایت کی (جو مشرکینِ مکہ پہنچا رہے تھے) اور کہا:
’’کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا بدلہ نہیں لیں گے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے دعا نہیں کریں گے؟‘‘
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’تم سے پہلے لوگوں میں ایسے مرد بھی تھے جنہیں گرفتار کر کے زمین میں زندہ گاڑ دیا جاتا اور پھر آرے سے ان کے جسموں کو دو ٹکڑے کر دیا جاتا اور لوہے کی کنگھیاں ان کے گوشت اور ہڈیوں کے درمیان کھینچی جاتیں۔ یہ بات بھی انہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے دین سے نہیں روکتی تھی۔‘‘
(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام)