• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی آداب زندگی (سبیل المؤمنین)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
دین کی وجہ سے تکلیف برداشت کرنا:
شریعت کے مطابق عمل کرنے سے بعض اوقات ایک مسلمان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ اسے طعنے دیتے ہیں اس پر تشدد کیا جاتا ہے۔ بہت سے مفادات کا نقصان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر وہ ہر قسم کے سخت حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتا اور اس کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ صبر کی اعلیٰ قسم ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کا حال بیان کر رہے تھے جسے اس کی قوم نے خون آلودہ کر دیا اور وہ اپنے چہرے سے خون بھی صاف کر رہے تھے اور کہے جا رہے تھے
’’اے اللہ میری قوم کی مغفرت فرما کیونکہ یہ جانتے نہیں ہیں۔‘‘
(بخاری کتاب الانبیاء)

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اپنی چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ڈال کر بہت زور سے آپ کا گلا گھونٹنے لگا۔
اتنے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عقبہ کو ہٹایا اور کہا:
"کیا تم ایک آ دمی کو صرف اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میرا رب صرف اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے پاس اپنے رب کے ہاں سے واضح دلائل بھی لے کر آیا ہے۔"
(صحیح بخاری باب فضل ابی بکر رضی اللّٰہ تعالی عنہ)

ایک دن رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سایہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل اور قریش کے کچھ لوگ وہاں موجود تھے۔ اس دن مکہ معظمہ میں ایک اونٹ نحر کیا گیا تھا۔ ابو جہل نے کہا کون آل فلاں کے اونٹ کی طرف جائے گا وہاں اس کا گوبر، خون اور اوجھڑی لائے پھر آپ کے سجدہ کے وقت آپ کے کندھوں پر ان چیزوں کو ڈال دے۔ کچھ لوگ گئے اور اوجھڑی اٹھا لائے۔ ایک بدبخت عقبہ بن ابی معیط نے اسے سجدہ کی حالت میں آپ کے کندھوں پر رکھ دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دیر تک سجدہ میں پڑے رہے۔ کفار مکہ ہنستے رہے حتی کہ ہنسنے کے سبب وہ ایک دوسرے پر جھک جاتے تھے۔ ایک شخص نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی وہ ابھی لڑکی ہی تھیں دوڑتی ہوئی آئیں آپ ابھی تک سجدہ ہی میں تھے۔ انہوں نے آپ پر سے اوجھڑی ہٹائی اور کافروں کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔
جب آپ نے نماز ختم کی تو آپ نے دعا کی کہ
"اے اللہ قریش کو پکڑلے۔ اے اللہ قریش کو پکڑ لے۔"
یہ بددعا قریش کو بہت شاق گزری کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے جب انہوں نے بددعا سنی تو ہنسنا بند کر دیا اور خوفزدہ ہو گئے۔ پھر آپ نے ایک ایک کا نام لیا :
"اے اللہ عمرو بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، عقبہ بن ابی معیط، امیہ بن خلف اور عمارہ بن ولید کو پکڑ لے۔"
جن لوگوں کے آپ نے نام لیے یہ سب جنگ بدر میں قتل ہوئے اور عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے۔
(صحیح بخاری کتاب الجہاد والسیر باب الدعاء علی المشرکین، مسلم کتاب الجہاد باب مالقی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من االمشرکین المنافقین)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو ان کے اسلام لاتے ہی تمام لوگوں نے ان کا مکان گھیر لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں خوفزدہ ہو کربیٹھ گئے۔ لوگ باہر چلا رہے تھے عمر بے دین ہو گیا۔ آپ کا ایک حلیف عاص بن وائل آپ کے پاس آیا اور آپ کو اس نے امان دی۔ لوگوں میں اعلان کیا کہ میں نے عمر کو پناہ دے دی۔ اب تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ سن کر لوگ واپس چلے گئے ۔
(صحیح بخاری کتاب مناقب الانصار باب اسلام عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ)

سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کعبہ کے سائے تلے چادر کا سرہانہ لگا کر لیٹے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان (تکالیف کی) شکایت کی (جو مشرکینِ مکہ پہنچا رہے تھے) اور کہا:
’’کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا بدلہ نہیں لیں گے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے دعا نہیں کریں گے؟‘‘
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’تم سے پہلے لوگوں میں ایسے مرد بھی تھے جنہیں گرفتار کر کے زمین میں زندہ گاڑ دیا جاتا اور پھر آرے سے ان کے جسموں کو دو ٹکڑے کر دیا جاتا اور لوہے کی کنگھیاں ان کے گوشت اور ہڈیوں کے درمیان کھینچی جاتیں۔ یہ بات بھی انہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے دین سے نہیں روکتی تھی۔‘‘
(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سخت مصیبت میں اپنا ایمان چھپانے کا جواز:
مکہ میں جب اہل ایمان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے تو عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ دین کی معلومات لینے کے بعد عرض کیا کہ میں آپ کی پیروی کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا :
"ابھی تم اس کی طاقت نہیں رکھتے کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے۔ ابھی تم اپنے گھر چلے جاؤ جب تم سنو کہ میں غالب آگیا تو پھر تم میرے پاس آجانا۔ غرض وہ اپنے گھر واپس چلے گئے۔"
(مسلم کتاب فضائل قرآن باب اسلام عمرو بن عبسۃ)

سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بھی مکہ میں اسلام قبول کیا آپ نے فرمایا:
"ابو ذر ابھی اس بات کو خفیہ رکھو، اپنے شہر لوٹ جاؤ جب ہمارے غلبہ کی خبر تمہیں ملے تو پھر آجانا۔"
ابوذر غفاری نے عرض کیا:
’’قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں ان لوگوں کے سامنے اعلان کروں گا‘‘
پھر وہ مسجد میں گئے قریش موجود تھے۔ انہوں نے کہا:
"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔"
لوگوں نے آپ کو اتنا مارا کہ آپ مرنے کے قریب ہو گئے۔
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو چھڑایا۔ اور کہا تمہاری بربادی ہو کیا تم نہیں جانتے کہ یہ غفار خاندان کا ہے اور تمہاری شام کی تجارت ان کے راستے پر ہے۔
(بخاری کتاب المناقب باب قصہ اسلام ابی ذر، مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل ابی ذر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مصیبت میں بھلائی کرنا:
مصیبتوں پر صبر کرنا مثلاً انسان سخت بیمار ہو جائے یا کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے یا کاروبار میں کوئی نقصان ہو تو ایک مومن اپنی تقدیر پر راضی رہتے ہوئے صبر کرتا ہے۔ واویلا اور ماتم نہیں کرتا تو اس صبر پر اس کے لیے بڑا اجر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو مصیبت سے دوچار کر دیتا ہے۔‘‘
(بخاری کتاب المرضی باب ما جاء فی کفارہ المرض)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’مسلمان کو جو بھی تکان، بیماری، فکر، غم اور تکلیف پہنچتی ہے حتیٰ کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘
(بخاری کتاب المرضی باب فی ماجاء فی کفارۃ المرض، مسلم کتاب البر باب ثواب المومن فیما یصیبہ من مرض)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں جس مومن بندہ کی محبوب ترین چیز واپس لے لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے تو اس کے لیے میرے پاس جنت کے سوا کوئی بدلہ نہیں۔‘‘
(بخاری کتاب الرقاق باب العمل الذی یبقی بہ وجہ اللّٰہ تعالٰی)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بیماری پر صبر کی وجہ سے جنت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں اپنے بندے کو اس کی دو پیاری چیزوں کے ذریعہ (آنکھوں سے محروم کر کے) آزماؤں۔ پس اگر وہ صبر کرے تو اسے جنت دوں گا۔‘‘
(بخاری کتاب المرضی باب فضل من ذھب بصرہ)

عطاء بن ابی رباح کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
’’میں تجھے جنتی عورت نہ دکھاؤں۔ یہ کالی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ
’’ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے میں ننگی ہو جاتی ہوں۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا فرمائیں۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’اگر تو چاہے تو اس تکلیف پر صبر کر۔ اس کے بدلے تیرے لیے جنت ہے۔ اگر تو چاہے تو دعا کرتا ہوں کہ اللہ تجھے شفا دے۔‘‘
اس نے کہا: ’’میں صبر ہی اختیار کرتی ہوں، تاہم میں دورے کے وقت ننگی ہو جاتی ہوں آپ اللہ سے یہ دعا فرمائیں کہ میں ننگی نہ ہوا کروں۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ
’’یہ دورے میں ننگی نہ ہو۔‘‘
(بخاری کتاب المرضی باب فضل من یصرع من الریح، مسلم کتاب البر باب ثواب المومن فیما یصیبہ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
صبر صدمہ کے آغاز میں ہے:
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر پر بیٹھی اپنے بچے کی موت پر رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’اللہ سے ڈر اور صبر کر۔‘‘
اس نے کہا: ’’مجھ سے دور ہو جاؤ۔ تمہیں وہ مصیبت نہیں پہنچی جو مجھے پہنچی ہے۔‘‘
اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پہچانا تھا۔ بعد میں اسے بتایا گیا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ
’’ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پہچانا تھا، اس لیے نامناسب بات زبان سے نکل گئی۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’صبر تو وہ ہے جو صدمے کے آغاز میں کیا جائے‘‘(بعد میں صبر آہی جاتا ہے)
(بخاری کتاب الجنائز باب زیارۃ القبور، مسلم کتاب الجنائز باب الصبر علی المصیبۃ عند الصدمۃ الاولٰی)

ام سلیم کا حیرت انگیز صبر:
ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بیٹے کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے گھر والوں کو ہدایت کی کہ اس کے والد ابو طلحہ کو اس کے مرنے کی خبر نہ کرنا۔ میں خود انہیں بتاؤں گی۔ رات کو ابو طلحہ آئے۔ ام سلیم نے کھانا لا کر سامنے رکھ دیا۔ ابو طلحہ نے کھانا کھایا۔ پانی پیا پھر ام سلیم نے ان کے لیے بناؤ سنگھار کیا حتی کہ ابو طلحہ رات کو ان کے ساتھ سوئے جب ام سلیم نے دیکھا کہ ابو طلحہ کھا پی کر سیر ہو گئے اور ان کی خواہش بھی پوری ہو گئی تو کہنے لگیں:
"اے ابو طلحہ اگر کچھ لوگ کسی گھر سے کوئی چیز عاریتہ لیں پھر وہ اپنی چیز مانگیں تو کیا عاریتہ لینے والے وہ چیز روک سکتے ہیں۔"
ابو طلحہ نے کہا نہیں۔
ام سلیم نے کہا:
"تو میں تمہارے بیٹے کے انتقال کی خبر دیتی ہوں۔"
یہ سن کر ابو طلحہ خفا ہوئے اور کہا :
"تم نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا حتی کہ میں نے صحبت بھی کی اور اب بتا رہی ہو۔"
صبح کو ابو طلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعہ سنایا۔
آپ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ تمہاری گزری ہوئی رات میں برکت عطا فرمائے۔"
ام سلیم حاملہ ہو گئیں اور پھر بیٹے کو جنم دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبد اللہ رکھا۔
(مسلم باب من فضائل ابی طلحۃ الانصاری)

خلیفہ کے ظلم پر صبر کرنا:
زبیر بن عدی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حجاج کے ظلم کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا:
’’اس پر صبر کرو۔ اب جو بھی وقت آئے گا وہ پہلے سے بدتر ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔"
میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
(بخاری کتاب الفتن ۔باب لایأتی زمان الاالذی بعدہ شرمنہ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
"میرے بعد ناروا ترجیح دینے کا عمل ہو گا اور ایسے کام ہوں گے جنہیں تم برا سمجھو گے۔"
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے سوال کیا:
یا رسول اللہ (ان حالات میں) آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟
آپ نے فرمایا:
"تم وہ حق ادا کرو جو تمہارے ذمے ہوں اور اپنے حق (جو دوسروں کے ذمے ہوں) کا سوال اللہ سے کرو۔"
(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام، مسلم کتاب الامارہ باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلیفۃ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
صبر کی تلقین کرنا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کا فرزند فوت ہونے لگا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میری بیٹی کو میرا سلام کہو اور میرا پیغام دو۔
((اِنَّ لِلّٰہِ مَااَخَذَوَلَہٗ مَااَعْطٰی وَکُلٌّ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُسَمًّی))
’’اللہ ہی کے لیے جو اس نے لے لیا اور جو اس نے دیا وہ بھی اسی کا ہے۔ ہر چیز کا اس کے ہاں ایک وقت مقرر ہے۔ بس اسے چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اس میں ثواب کی نیت کرے۔‘‘
(بخاری الجنائز باب قول الرسول صلی اللہ علیہ وسلم یعذب المیت ببعض بکاء اھلہ، مسلم الجنائز باب البکاء علی المیت)

موت پر فطری طریقے سے درد و غم کا اظہار جائز ہے:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب زیادہ بیمار ہوئے تو اضطراب اور بے چینی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چھا گئی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے منہ سے نکلا: ’’ہائے ابا جان کی تکلیف‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا:
’’تمہارے باپ پر آج کے بعد بے چینی نہیں ہو گی۔‘‘
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو فاطمہ نے فرمایا:
’’اے ابا جان! رب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب کی پکار پر لبیک کہا۔ اے ابا جان! جنت الفردوس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹھکانہ ہے۔ اے ابا جان! جبرائیل کو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی خبر دیں گے۔‘‘
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفنا دیا گیا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے پوچھا:
’’کیا تمہارے نفسوں نے یہ گوارا کر لیا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر پر مٹی ڈالو؟‘‘
(بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ)


فطری رونا صبر کے خلاف نہیں:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں آپ کا نواسہ تھا جب کہ اس کی جان بے چین اور مضطرب تھی۔ (اس کی یہ حالت دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا:
’’یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’یہ جذبہ شفقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھا ہے۔‘‘
ایک روایت میں ہے کہ
’’یہ جذبہ شفقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے جن بندوں کے دلوں میں چاہا رکھا اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحمت فرماتا ہے ۔‘‘
(بخاری الجنائز باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعذب المیت ببعض بکاء اھلہ علیہ، مسلم الجنائز باب البکاء علی المیت)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیٹے ابراہیم کے پاس آئے اور وہ جان کنی کے عالم میں تھے۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے۔ عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :
"اے اللہ کے رسول کیا آپ بھی روتے ہیں؟
آپ نے فرمایا :
"اے ابن عوف! یہ رحمت و شفقت ہے "
آپ پھر دوبارہ رو پڑے اور فرمایا:
’’بے شک آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور دل غمگین ہے لیکن ہم وہی بات کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی کر دے اے ابراہیم! ہم تیری جدائی پر یقیناً غمگین ہیں۔"
(بخاری الجنائز باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم انا بک لمحزونون، مسلم کتاب الفضائل باب رحمتہ الصبیان والعیال وتواضعہ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جس کے گھر موت کا حادثہ ہو وہ کیا کہے؟
امِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جب تم بیمار یا میت کے پاس آؤ تو اچھی بات کہو۔ اس لیے کہ تم جو بھی بات کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔‘‘
(مسلم ۔ح۔۹۱۹)

امِ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میرے خاوند ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا:
’’یا رسول اللہ! ابو سلمہ وفات پا گئے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کہو۔
((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلَہٗ وَاَعْقِبْنِیْ مِنْہُ عُقْبَی حَسَنَۃٌ))
’’اے اللہ! مجھے اور اسے بخش دے اور مجھے اس سے بہتر بدل عطا فرما۔‘‘
پس میں نے انہی الفاظ میں دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر بدل محمد صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرما دیے۔
(مسلم کتاب الجنائز باب مایقال عند المریض المیت)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
میت پر بین نہ کرنا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے رخساروں کو پیٹا۔ گریبان چاک کیا اور جاہلیت کے بول بولے (بین کیا)۔
(بخاری کتاب الجنائز باب لیس منا من شق الجیوب، مسلم کتاب الایمان باب تحریم ضرب الخدود)

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سخت بیمار ہوئے ان پر غشی طاری ہوئی۔ ان کا سر ان کی بیوی کی گود میں تھا وہ چیخ چیخ کر رونے لگی۔ آپ (بے ہوشی کی وجہ سے) نہ روک سکے۔ جب انہیں ہوش آیا تو فرمایا:
"میں اس سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا ہے۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے والی، سر منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورت سے بیزار ہیں۔"
(بخاری کتاب الجنائز باب ماینھی من الحلق عند المصیبۃ، مسلم کتاب الایمان باب تحریم ضر ب الخدود)

آپ نے فرمایا :
"بین کرنے والی عورت اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو اسے قیامت کے دن تارکول کا کرتہ اور خارش کی زرہ پہنائی جائے گی۔"
(مسلم کتاب الجنائز باب التشدید فی النیاحۃ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
در گزر کرنا:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"در گزر کیا کرو تم سے در گزر کیا جائے گا۔"
(السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی۶۵۴۱ ومسند احمد ۲۲۱۲.)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا :
"اے اللہ کے رسول ہم خادم کو کتنی مرتبہ معاف کریں"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس نے پھر وہی بات دہرائی آپ خاموش رہے تیسری دفعہ پوچھنے پر آپ نے فرمایا:
"ہر دن میں ستر مرتبہ درگزر کرو۔"
(السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی۸۸۴ وسنن ابی داود۶۹۴۴.)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک آدمی نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو گالی دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو رہے تھے اور مسکرا رہے تھے جب اس نے بہت زیادہ گالیاں دیں تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے جواب دے دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہو گئے اور وہاں سے کھڑے ہو گئے ابو بکر صدیق نے عرض کیا:
"اے اللہ کے رسول وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا اور آپ بیٹھے ہوئے تھے جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ غصے ہو کر کھڑے ہو گئے"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا جب تم نے اس کی کسی بات کا جواب دے دیا تو شیطان آگیا اور میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھتا پھر فرمایا ابو بکر تین باتیں مکمل حق ہیں جس بندے پر کوئی ظلم کیا گیا لیکن اس نے اللہ کے لئے چشم پوشی کی اللہ تعالیٰ اپنی مدد سے اسے عزت دے گا اور جس شخص نے سخاوت کا دروازہ کھولا اور اس کے ذریعے صلہ رحمی کی نیت تھی تو اللہ تعالیٰ اسے اور عطا کرے گا اور جس شخص نے مانگنے کا دروازہ کھولا اور اس کے ذریعے زیادہ دولت جمع کرنا چاہتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کے مال میں بے برکتی کر دے گا۔"
(مسند احمد ۱۵۲۹، السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی ۱۳۲۲.)

بدلہ لینا :
جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے مجھے فرمایا:
"اگر کوئی شخص تم میں موجود کسی خامی کو دیکھ کر تم پر ہنسے اور عار دلائے تو تم اس میں موجود کسی خامی کو دیکھ کر اسے عار نہ دلاؤ اس بات کا تمہیں اجر ملے گا اور اس پر گناہ ہو گا۔ اور کسی شخص پر مت ہنسو۔"
(السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی ۰۷۷ومسند احمد ۵۱۷۹۱.)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۴۔ عدل و انصاف:

مومن کا ہر کام عدل پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ عقائد و نظریات میں حق کو تسلیم کر کے عادل ہو نے کا ثبوت دیتا ہے۔ کفر، شرک اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے دور رہتا ہے۔ اپنی اولاد اور بیویوں میں انصاف و عدل سے کام لیتے ہوئے ان کے حقوق ادا کرتا ہے۔ لوگوں میں عدل کے ساتھ فیصلے کرتا ہے اور عدل صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین کے ساتھ ہی قائم رہ سکتا ہے۔ وہ اللہ کے نازل کردہ دین کو چھوڑ کر لوگوں کی خواہشات کے مطابق بنائے ہوئے باطل ادیان سے فیصلے نہیں کرتا۔ اور نہ ہی دنیاوی لالچ کے تحت کسی پر ظلم و زیادتی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ ﴿٩٠﴾ النحل
’’بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے ، احسان کرنے اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ۔‘‘
وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ﴿٩﴾ الحجرات
’’اور انصاف کرو بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ ﴿١٥٢﴾ الانعام
’’اور جب تم بات کہو تو انصاف سے کہو چاہے وہ رشتہ دار ہی (کے خلاف) ہو۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جو لوگ اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور جو کام ان کے سپرد ہیں ان میں انصاف کرتے ہیں وہ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر ہوں گے۔"
(مسلم کتاب الامارہ باب فضیلۃ الامیر العادل وعقوبۃ الجائر)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’تین قسم کے لوگ جنتی ہیں۔
۱: انصاف کرنے والا حکمران۔
۲: ہر مسلمان اور رشتہ دار کے لیے مہربان اور نرم د ل رکھنے والا مسلمان۔
۳: عیال دار ہونے کے باوجود سوال سے بچنے والا مسلمان۔"
(مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا باب الصفات التی یعرف بھا فی الدنیا اھل الجنۃ واھل النار)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’سات قسم کے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے سائے تلے جگہ دے گا جس دن اس سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔
۱: انصاف کرنے والا حکمران۔
۲: وہ نوجوان جس کی جوانی اللہ کی عبادت میں گزری۔
۳: وہ مومن جس کا دل مسجد کے ساتھ اٹکا ہوا ہو۔
۴: وہ دو مومن جو ایک دوسرے سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتے ہیں۔ اسی پر وہ جمع ہوتے ہیں اور اسی پر ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں۔
۵: وہ مومن جسے کوئی حسین و جمیل عورت دعوتِ گناہ دے لیکن وہ (انکار کرتے ہوئے) کہے کہ میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں۔
۶: وہ مومن جس نے اس طرح چھپا کر صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو علم نہیں کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔
۷: وہ مومن جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔‘‘
(بخاری کتاب الاذان با ب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ، مسلم کتاب الزکوۃ باب فضل اخفاء الصدقۃ)
 
Top