ڈاکٹر عبد اللہ بن عمر
مبتدی
- شمولیت
- مئی 13، 2025
- پیغامات
- 2
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 5
﷽
حالت نزع، عالم ارواح ، موت اور قبر کی زندگی
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ، اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم
حالت نزع، عالم ارواح ، موت اور قبر کی زندگی
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ، اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم
وقال تبارک وتعالی فی سورۃ الملک:
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ ؑ وَقِيْلَ مَنْ ۜ رَاقؑ وَظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقؑ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقؑ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ِۨالْمَسَاقؑ
صدق الله العظيم رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي
اللهم أرنا الحق حقاً وارزقنا إتباعه وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه: آمین یا ربّ العلمین
عزیز ساتھیو، میں نے آپکے سامنے سورۃ القیامہ کی چند آیات تلاوت کی ہیں، جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
ترجمہ: ہرگز نہیں، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی، اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک(دم درود) کرنے والا، اور آدمی سمجھ لے گا کہ دنیا سے اب یہ جدائی کا وقت ہے۔ اور پنڈلی پنڈلی سے جڑ جائے گی، وہ دن تیرے رب کی طرف روانگی کا ہو گا۔
محترم ساتھیو! آج کا موضوع جس پر ہم گفت و شنید کریں گے اُسکا تعلق موت اور موت کےدوران اور میں بعد پیش آنے والے حالات و واقعات سے ہے۔
یہ ایک طویل موضوع ہے جس کا ایک ہی نشست میں احاطہ کرنا مشکل تھا، اِس لیے اس کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلا حصّہ: عالم ارواح اور عالم دنیا دوسرا حصّہ: عالم برزخ
اِنسانی زندگی کے چار جہاں/عالَم
- انسان فانی نہیں ہے: ہر انسان جو پیدا ہو چکا ہے، اُسکو اب کبھی فنا نہیں ہے۔ اب وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی زندگی کے مختلف مراحل و منازل طے کرتا رہے گا، وہ آنے والے مراحل کونسے ہیں –اِس سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسانی زندگی کا نقطہ آغاز کیا ہے، کہ انسانی زندگی کب اور کہاں سے شروع ہوئی۔
- انسانی زندگی کو چار مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ جن میں سے ہر انسان ہر مرحلے میں سے گزرتا ہے۔
- عالم ارواح — عالم دنیا — عالم برزخ — عالم آخرت
عالم ارواح اِ س کائنات کی ابتداء کا سب سے پہلا مرحلہ ہے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کے ذریعے (1) فرشتوں کو؛ اور (2) تمام انسانوں کی ارواح کو پیدا کیا۔ یعنی ارواح اور فرشتوں کا مادہ تخلیق –نور–ہے[1]۔ یعنی حضرت آدم سے لے کر دنیا کے آخری انسان تک جتنے انسان بھی اِس دنیا میں آنے تھے، اُن تمام انسانوں کی ارواح کو عالم ارواح میں (دنیا کے قائم ہونے سے بہت پہلے ) پیدا کیا۔
پھر وہاں اُن سے ایک عہد لیا گیا جس کو عہد الست کہتے ہیں، جسکا ذکر سورۃ الاعراف(آیت 172) میں بھی آیا ہے۔
اِسکے بعد تمام ارواح کو سُلا دیا گیا۔ یعنی ایک زندگی اور ایک موت ہم سب عالم ارواح میں ایک دفعہ لے چکے ہیں۔
ایک دفعہ مکہ مکرمہ میں ایک خوش طبع عورت تھی جب وہ مدینہ طیبہ آئی تو اس نے ایک ہنس مکھ/خوش اِخلاق عورت کے ہاں قیام کیا۔جب حضرت عائشہ ؓ کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے فرمایا:’’میرے محبوب ﷺ نے سچ فرمایا تھا۔اس کے بعد انھوں نے یہ حدیث بیان کی (مسند أبي یعلیٰ7/344، طبع درالمامون للتراث دمشق)۔ کہ ایک دفعہ آپ ﷺ فرما رہے تھے ” (عالم ارواح میں ) روحوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ /لشکر وں کے لشکر الگ الگ تھے۔ پھر وہاں جن روحوں نے آپس میں (ایک دوسرے کو ) جانا پہچانا (تعارف حاصل کیا) ، تو دنیا میں بھی ان کے درمیان محبت ہوتی ہے اور جن روحوں کی وہاں ایک دوسرے سے جان پہچان نہ ہو سکی (تعارف حاصل نہ کر سکیں)، وہ یہاں بھی ایک دوسرے سے غیر رہتی ہیں“۔ (بخاری: 3336؛ ابو داؤد: 4834)
تشریح : یعنی جب عالم ارواح میں روحوں کو پیدا کیا گیا تو وہ ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو ایک دوسرے سے محبت یا نفرت کرنے لگیں۔ اِس سے دو اہم باتیں پتہ چلتی ہیں:
- روحوں کا آپس میں محبت و نفرت کرنا اچھے /بُرے اِخلاق کی بنا پر تھا۔ یعنی نیک ارواح نے آپس میں ––اور–– بری ارواح نے آپس میں ایک دوسرے سے اُنسیت اِختیار کی۔ اب یہی روحیں جب دنیا میں انسانی جسموں میں ڈالی جاتی ہیں ، تو دنیا میں بھی تمام انسان اپنی ابتدائی خلقت کے اعتبار سے آپس میں محبت یا نفرت کرتے ہیں۔ یعنی دنیا میں نیک /با اخلاق لوگ ––نیک اور با اِخلاق لوگوں کی طرف ہی کھچتے ہیں ، نیکیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں، کیونکہ اُن کے جسموں میں نیک ارواح موجود ہوتی ہیں۔ اور شرپسند انسان برے لوگوں کی طرف ہی کھنچتے ہیں ۔
- اب آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ ہمیں تو یہ یاد ہی نہیں کہ ہم سے کب عہد لیا گیا تھا؟ بچپن کا تعلیمی سلسلہ یاد۔۔۔؟؟
- روح بھی ہمارے جسم کی طرح ایک مکمل وجود (Complete independent personality)رکھتی ہے ۔
- یہ کوئی بے جان چیز نہیں ہے بلکہ جاندار چیز ہے۔ جیسے ہمارے جسم میں آنکھیں ، کان، ناک ہوتی ہیں جن سے ہم دیکھتے اور سنتے ہیں ، بالکل اِسی طرح روح کی بھی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں جن سے وہ دیکھتی اور سنتی ہے۔
- یہ ہمارے جسم میں موجود ہوتی ہے۔ اِسی وجہ سے جو sixth sense کا concept معاشرے میں عام ہے، اب سائنس کہہ رہی کہ اُس کےپیچھے یہی روحانی قوّتیں کارفرما ہوتی ہیں۔
- انسان پیدائش سے قبل رحم مادر میں— 40 دن نطفے — 40 دن جمے ہوئے خون—40 دن گوشت کے لوتھڑے —کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ جب یہ 120 دن مکمل ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اُس میں آ کر روح پھونکتا ہے (یہ وہی عالم ارواح سے آئی ہوئی روح ہوتی ہے)، اور پیدا ہونے والے کے متعلق 4 باتیں لکھ دی جاتی ہیں
- رزق — عمر — عمل — تقدیر (بد بختی / نیک بختی) (صحیح مسلم: 6723/2643)
- لہذا انسان جب پیدائش کے وقت اِس عالم دنیا میں قدم رکھتا ہے تو وہ دو چیزوں کا مرکب ہوتا ہے: مادی جسم+روح
- انسانی جسم
- روح
- مادہ تخلیق "مٹی " ہے
- مادہ تخلیق "نور" ہے
- گوشت ، خون اور ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ ایک تولیدی عمل سے وجود میں آتا ہے۔
- روح کسی بھی تولیدی عمل کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جسم میں پھونکی گئی ہے ، (وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي: اور جب میں اس میں اپنی روح پھونک دوں)۔
- انسانی دل روح کا مسکن ہے، روح ہمارے دل میں موجود ہوتی ہے۔ اِسی لیے جب انسان سوتا ہے تو اُس کے جسم کا ہر عضو بھی سو رہا ہوتا ہے، سوائے انسانی دل کے، جو مسلسل دھڑک رہا ہوتا ہے۔لیکن جب انسان مر جاتا ہے تو چونکہ روح اُسکے جسم سے نکل جاتی ہے اِسی لیے اُسکا دل بھی دھڑکنا بند ہو جاتا ہے۔ اِسی پر ایک شاعر نے کہا ہے کہ:
-
- مجھے یہ ڈر ہے دلِ زندہ تو نہ مر جائے
-
- کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے (خواجہ میر درد)
-
- حیوٰۃ الدنیوی میں انسانی وجود کے ساتھ تین چیزیں منسلک ہیں، جن کو سمجھ لیجئے۔ انسانی جسم— روح — جان
-
- انسانوں اور جانوروں میں جسم –– روح ––اور جان ––تینوں چیزیں ہوتی ہیں۔ انسان جب مرتا ہے تو اُسکی روح اور جان دونوں چیزیں نکل جاتی ہیں، مٹی کا جسم یہیں رہ جاتا ہے جو کہ مٹی میں دبا دیا جاتا ہے
-
- جمادات و نباتات (درختوں اور پودوں) کا بھی جسمانی وجود ہوتا ہے اور جان ہوتی ہے، مگر روح نہیں ہوتی۔
-
- عالم برزخ اور عالم آخرت میں انسان کا جسمانی وجود نہیں ہوگا بلکہ اُن کی ارواح ہونگی جن کے ساتھ سزا و جزا کے معاملات پیش آئیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن فرمائے گا کہ "آگئے نہ تم ہمارے پاس اُسی حالت میں جس میں ہم نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا"۔ (الانعام: 94)
موضوع کی ضرورت و اہمیت
اِس موضوع کی ضرورت و اہمیت کا اندازہ اِس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہم کسی بھی جگہ (مثلاً سیرو تفریح / کانفرنس میں شرکت / بیرون ملک تعلیم /یا ملازمت کے لیے ) سفر کر رہے ہوں ، تو ہم پہلے سے اُس جگہ پر آنے والے تمام حالات وواقعات کی مکمل معلومات لیتے ہیں، اور پھر پورے سفر کی مکمل پلاننگ کے ساتھ تیاری کرتے ہیں۔ مثلاً سفر کتنے دن کا ہو گا؟کہاں کہاں جانا ہے ؟کہاں کہاں Stay کرنا ہے؟ ہوٹل کی بکنگ کرواتے ہیں اور سفر سے پہلے ایک پورا پلان تیار کر چکے ہوتے ہیں۔
بالکل اِسی طرح اگر ہم کسی امتحان گاہ میں امتحان دینے جا رہے ہوں تو پہلے سے ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ میرا امتحان کیسے ہو گا؟ کن سوالات کے ذریعے میرا امتحان لیا جائے گا ؟ درست جوابات دینے کی صورت میں مجھے کتنے نمبر /انعامات ملیں گے اور فیل ہو جانے کی صورت میں میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے گا؟ وغیرہ وغیرہ ۔
عزیز ساتھیوں ! یہ زندگی ایک سفر ہے، اور دنیا ایک امتحان گاہ ہے، اِس کے سوال و جواب اگلی آنے والی قبر کی زندگی میں ہونگے۔ ہر انسان کو کچھ ہی عرصے بعد (چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے) قبر کا سفر شروع کرنا ہی کرنا ہے، لیکن بد قسمتی سے اِس کے بارے میں اکثر لوگوں کو معلومات ہی نہیں ہوتیں کہ وہ کن کن مرحلوں سے گزرنے والے ہیں---اُن کے ساتھ کیا معاملات و واقعات پیش آنے والے ہیں---آنکھیں بند ہونے کے بعد میری روح کہاں چلی جائے گی اور میرے جسم کو کہاں لے جایا جائے گا ؟ ہم سے قبر میں کیا سوال و جواب ہونگے؟ سوالوں کے درست جوابات دینے کی صورت میں مجھے کیا انعامات ملیں گے اور نہ دینے کی صورت میں ہمارے ساتھ کیا برتاو ہوگا؟ تو لہذا آج کی اِس نشست میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ انسان کے مرنے سے لے کر قبر تک کا سفر کیسا ہو گا، وہ کن مرحلوں سے گزرے گا، اور نیک اور برے انسان کے ساتھ کیا کیا معاملات پیش آئیں گے؟
- عزیز سوتھیو! دنیا میں مختلف مذاہب موجود ہیں، مثلاً بدھ مت ، عیسائیت، یہودیت ۔ ان میں سے کوئی مذہب والے اللہ تعالی کونہیں مانتے ہیں توکوئی حضور ﷺکو نہیں مانتے، کوئی آخرت کو نہیں مانتے تو کوئی قبر کی زندگی پر یقین نہیں رکھتا ، مگر موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے کوئی بھی شخص چاہے وہ کسی بھی مذہب اور فرقے سے تعلق رکھتا ہو، انکاری نہیں ہو سکتا۔
- عالم برزخ اور عالم آخرت میں انسان کا جسمانی وجود نہیں ہوگا بلکہ اُن کی ارواح ہونگی جن کے ساتھ سزا و جزا کے معاملات پیش آئیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن فرمائے گا کہ "آگئے نہ تم ہمارے پاس اُسی حالت میں جس میں ہم نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا"۔ (الانعام: 94)
- موت اور آخرت سے غفلت کی سب سے بڑی وجہ "دنیا کی محبت" ہے۔ دنیا کی محبت ہمارے دلوں میں ایسی رچ بس گئی ہے کہ اُس نے ہمیں اپنی موت سے بھی لا پرواہ کر دیا ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے) کہ بوڑھے(سے بوڑھے)انسان کا دل بھی دو معاملات میں ہمیشہ جوان رہتا ہے : (1) دنیا کی محبت اور (2) لمبی زندگی کی آرزو / تمنّا ۔[2]
- آج کل اوسط عمر 60 یا 70 سال چل رہی ہے، اور اس سے زیادہ اوسط عمر ہم پا بھی نہیں سکتے –کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ "میری امت کے لوگوں کی اوسط عمریں 60 اور 70 سال کے درمیان ہونگی، بہت کم لوگ اس سے زیادہ عمر پا سکیں گے[3]"
خود آپ ﷺ کی عمر 63 سال تھی، پھر آپکے بعد حضرت ابوبکر صدیق کی عمر بھی 63 سال تھی۔ حضرت عمر کی عمر 61 سال تھی۔ - ہم اپنی کل زندگی کا آدھا حصہ گزار چکے ہیں ،اپنی 65/60 سالہ زندگی کہ اچھا گزارنے کے لیے ہم نے 18 سالہ تعلیم حاصل کی، اور وہ زندگی جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے وہاں کی تیاری کے لیے ہم نے اپنی زندگی کا کتنا حصہ لگایا؟ لہذا اِس نشست میں ہم یہی فکر تازہ کرنے کی کوشش کریں گے ۔
- حضرت امر ابن عاص کا واقعہ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ جب اُن کی زندگی کا آخری وقت آیا ، تو اُن پر جب موت کی سکرات[4] ظاہر ہونا شروع ہوئیں جبکہ وہ بالکل اپنے ہوش و ہواس میں تھے، تو اُن کا بیٹا جو اُن کے ساتھ بیٹھا تھا، اُس نے پوچھا کہ ابا جان! میں دیکھ رہا ہوں کہ دنیا کی زندگی سے رخصت ہونے میں آپ کے چند لمحات ہی باقی رہ گئے ہیں۔ آپ ذرا حالت نزع کی کیفیت تو بیان کریں کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ صحابی نے جواب دیا کہ بیٹا "عربی لغت میں ابھی تک وہ الفاظ ہی ایجاد نہیں ہوئے جو موت کے وقت کی کی شدت وتکلیف کو بیان کر سکیں"۔ البتہ میں جو محسوس کر رہا ہوں وہ تمہیں بیان کیے دیتا ہوں۔ (رضویٰ ایک پہاڑی سلسلہ ہے، جس میں بہت بڑے بڑے پہاڑ پھیلے ہوئے ہیں) آپ نے فرمایا کہ مجھے اپنے سر پر ایسا بوجھ محسوس ہو رہا ہے کہ رضویٰ پہاڑی سلسلہ کے سارے پہاڑ میرے سر پر لاد دئے گئے ہوں، اور بدن ایسی تکلیف محسوس کر رہا ہے کہ جیسے کانٹوں پر رکھ کر گھسیٹا جا رہا ہو۔ میرا سانس ایسے آ رہا ہے جیسے سوئی کے ناکہ سے آ رہا ہو۔
- قبر !فتنہ دجال کی طرح آزمائش : ایک دفعہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو چیزیں مجھے پہلے نہیں دکھلائی گئیں تھیں، وہ میں نے آج اپنی اس جگہ سے دیکھ لی ہیں، یہاں تک کہ جنت اور دوزخ بھی۔ پس مجھے وحی کی گئی ہے کہ بے شک تم لوگ اپنی قبروں میں فتنہ دجال کی طرح آزمائے جاؤ گے۔ (صحیح مسلم: 2136؛ سنن نسائی: 2062؛ صحیح بخاری : 86)
- حضور ﷺ کو اللہ تعالی نے کئی بار عذاب قبر ہوتے ہوئے سنوایا۔ اور آپ ﷺ اپنی امت کو بھی عذاب قبر سنوائے جانے کی خواہش رکھتے تھے، جیسا کہ ایک دفعہ آپ ﷺ نے فرمایا (جسکا مفہوم ہے) کہ میں نے کئی دفعہ سوچا کہ اللہ تعاٰلی سے دعا کروں کہ تمہیں مردوں کو ہوتا ہوا عذاب سنوا دے، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم اپنے مردوں کو دفنانہ نہ چھوڑ دو۔ (صحیح مسلم: 7214)
- ایک دفعہ آپ حضور ﷺ نے فرمایا(جس کا مفہوم ہے کہ): میں نے جتنے بھی (دوزخ اور عذاب اِلہیٰ کے )مناظر دیکھے ہیں ، اُن میں قبر سے زیادہ ہولناک اور بھیانک منظر کوئی نہیں ۔ (ترمذی: 2308؛ ابن ماجہ: 4267)
ایک دفعہ حضور ﷺ اپنے گدھے پر سوار ہو کر بنو نجار (یہودی قبیلہ) کے باغ میں جا رہے تھے کہ اچانک وہ گدھا بدک گیا اور قریب تھا کہ آپ ﷺ نیچے گر جاتے ۔ (آس پاس گدھے کے بدکنے کی وجہ دیکھی تو )پتہ چلا کہ ساتھ ہی چند قبریں ہیں ، آپ ﷺ نے پوچھا کہ کوئی ان قبر والوں کو جانتا ہے؟ تو وہیں ایک آدمی نے کہا کہ جی میں جانتا ہوں، یہ لوگ شرک کی حالت میں مرے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں کہ اس وقت ان کی قبروں میں عذاب ہورہا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے صحابہ اکرام کو آگ اور عذاب قبر سے پناہ مانگنے کی تلقین کی۔ (صحیح مسلم: 7213)۔
- حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص پہلے عیسائی تھا، پھر وہ مسلمان ہو گیا ، اُس نے سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران پڑھ لی تھی، اور حضور ﷺ کا کاتب بن گیا تھا۔ پھر وہ شخص مرتد ہو کہ عیسائی ہو گیا اور پھر وہ ایک دن وہ فوت ہو گیا ، اور اسکےقبیلے کے آدمیوں نے اُسے دفن کر دیا ۔ جب صبح ہوئی تو اُنہوں نے دیکھا کہ اس مرتد شخص کی لاش قبر سے نکل کر باہر زمین پر پڑی ہوئی ہے۔ عیسائیوں نے کہا کہ یہ محمد ﷺ اور اُن کے ساتھیوں کا کام ہے۔ چونکہ اُن کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا، اسلیے اُنہوں نے اسکی قبر کھود کر لاش کو باہر پھینک دیا۔ چناچہ اُنہوں نے دوسری قبر کھودی جو بہت زیادہ گہری تھی، اور اُس میں اسکو دفنا دیا۔ مگر جب صبح ہوئی تو لاش دوبارہ قبر کے باہر پڑی تھی۔ اس مرتبہ بھی اُنہیں نے وہی الزام لگایا کہ حضور ﷺ اور اُن کے ساتھیوں نے اُنکا دین چھوڑنے پر اس کی لاش قبر سے باہر پھینک دی ۔ تو اُنہوں نے ایک بار پھر قبر کھودی، اور اُسکو اتنا گہرا کھودا جتنا وہ گہرا کھود سکتے تھے اور پھر اس کو دوبارا قبر میں ڈالا۔ لیکن صبح ہوئی تو لاش پھر باہر تھی۔ اب اُ ن کو سمجھ میں آیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں۔ اور پھر اُنہوں نے اُسے یونہی زمین پر چھوڑ دیا۔ (اور اس کی لاش کو جانور ، چرند ، پرند نوچ کر کھا گئے) (صحیح بخاری: 3617)
- حضور ﷺ کا گزر ایک مرتبہ دوقبروں پر سے ہوا۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ اِن دونوں قبروں پر عذاب ہو رہا ہے۔ اور یہ کسی ایسےعمل کی بنا پر نہیں ہو رہا جسے یہ چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ ان میں سے ایک چغل خوری[5] کرتا تھا، اور دوسرا پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔ (صحیح بخاری: 6052)
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ قبر کا عذاب عموماّ پیشاب ( کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ )سے ہوتا ہے، پس تم پیشاب کی چھینٹوں سے بچا کرو۔ (صحیح الترغیب و الترھیب: 158)
- حضور ﷺ کا گزر ایک مرتبہ دوقبروں پر سے ہوا۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ اِن دونوں قبروں پر عذاب ہو رہا ہے۔ اور یہ کسی ایسےعمل کی بنا پر نہیں ہو رہا جسے یہ چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ ان میں سے ایک چغل خوری[5] کرتا تھا، اور دوسرا پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔ (صحیح بخاری: 6052)
ایک دفعہ آپ ﷺایک قبر کے پاس سے گزرے تو فرمایا "افسوس تجھ پر" ۔ تو صحابی سمجھے کہ آپﷺ غالبا مجھے فرما رہے ہیں پھر آپ ﷺنے فرمایا نہیں تم سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ (یہ اِس شخص کو کہہ رہا ہوں جو اِس قبر میں ہے) یہ اُس شخص کی قبر ہے جسے میں نے فلاں قبیلے کی طرف بھیجا تھا تو اس شخص نے مال غنیمت میں سے ایک کمبل اٹھا لیا تھا اور اب اس وقت اسے اسی کمبل کے برابر آگ کا کمبل پہنایا جا رہا ہے۔ (مسند احمد: 3498)
- ایک دفعہ صحابہ اکرام آپ ﷺ کے ساتھ وادی قرٰی کی طرف جا رہے تھے اور آپ ﷺکے ساتھ آپ کا ایک غلام ' مدعم' تھا۔ اچانک ایک تیر آ کر اس غلام کو لگ گیا اور وہ مر گیا۔ تو یہ دیکھتے ہی لوگوں نے کہا: اِس کے لیے شہادت مبارک ہو! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، خدا کی قسم ۔۔۔جو چادر اِس نے خیبر کے دن تقسیم ہونے سے پہلے ہی مال غنیمت سے اُٹھا لی تھی، وہ اس پر شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔ آپ ﷺ کی یہ بات سن کر ایک آدمی ایک/دو تسمے لے کر آیا اور کہنے لگا کہ یہ چیز میں نے بھی اُٹھا لی تھی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اچھا ہوا تو نے یہ واپس کر دی، ورنہ) یہ بھی (تیرے لیے ) آگ کا تسمہ بنتے۔ (صحیح بخاری: 4234)
-
- ایک انصاری صحابی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور ﷺ کے ساتھ ایک انصاری صحابی کے جنازے پر نکلے۔ میں اُس وقت نو عمر تھا اور اپنے والد کے ساتھ تھا۔ حضور ﷺ قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور قبر کھودنے والے کو تلقین کرنے لگے کہ سر کی جانب سےاور پاوں کی جانب سے قبر کو کشادہ کرو، اسکے لیے جنت میں انگور کے بہت سے خوشے ہیں ۔ (مسند احمد:23465)
حضرت عثمان اگر کسی قبر کے پاس سے گزرتے تو اتنا روتے تھے کہ آپکی داڑھی آنسوں سے تر ہو جاتی تھی، تو کسی نے پوچھا کہ آپ جہنم اور جنت کے تذکرے پر تو اتنا نہیں روتے لیکن قبر کے تذکرہ پر آپ بہت زیادہ روتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ "قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، اگر انسان اس منزل میں کامیاب ہو گیا تو اگلی ساری منزلیں آسان ہو جائیں گی، اور اگر اسی منزل میں انسان ناکا م رہا تو اگلی ساری منزلوں میں ناکامی ہو گی "۔ (جامع ترمذی: 2308؛ مسند احمد : 454) یہ دیکھیں کہ کون رو رو کر اپنی داڑھی آنسوں سے تر کر رہا ہے؟ --- حضرت عثمان --
جو صحابی ہیں--- حضور ﷺ سے 8 مرتبہ دنیا میں ہی جنت کی بشارت مل چکی ہے--- اللہ تعالی کی رضا کا سرٹیفیکیٹ بھی مل چکا ہے (رضی اللہ عنھم ورضو عنہ)--- آپﷺ کی دو بیٹیاں اِن کے نکاح میں ہیں--- مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ --مگر پھر بھی قبر کے معاملے کا خوف دیکھیں ۔ ہم میں سے کسی ایک کو بھی مندرجہ بالا اعزازات میں سے ایک بھی حاصل نہیں ہے، مگر پھر بھی ہماری زندگی میں آج تک کبھی قبر کے خوف کے خیال سے ایک آنسو بھی نکلا، داڑھی کا تر ہو جانا تو بہت دور کی بات؟ اگر نہیں نکلا تو کیا ہم عثمان سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو گئے ہیں؟
بندہ مومن کی موت ، قبر تک کا سفر اور عالم برزخ
آپ ﷺ نے فرمایا: جب کسی خاص جگہ پر کسی انسان کو موت دینے کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے تو وہ جگہ اُس شخص کے لیے محبوب بنا دی جاتی ہے، اور وہاں اُس کے لیے کوئی ضرورت پیدا کر دی جاتی ہے (جس کی وجہ سے وہ وہاں خود ہی پہنچ جاتا ہے اور اسکی روح قبض کر لی جاتی ہے)۔ مسند احمد: 21984
بندہ مومن کی موت نکلنے کا منظر: حضرت براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا (جس کا مفہوم ہے)کہ جب بندہ مومن کا آخری وقت آتا ہے تو آسمان سے ایسے فرشتے اُترتے ہیں جن کے چہرےایسے نورانی اور روشن ہوتے ہیں گویا سورج چمک رہا ہو۔ اُن کے پاس جنت کا کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے۔ (یعنی جیسے ہم مٹی کے جسم کے لیے کفن دفن کا انتظام کر رہے ہوتے ہیں، ویسے ہی فرشتے انسانی روح کے لیے کفن /خوشبو کا انتظام ساتھ لے کر آئے ہوتے ہیں)۔ اور وہ اُس انسان کی نگاہوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں (اِن فرشتوں نے روح قبض نہیں کرنی ہوتی بلکہ روح کو آسمانوں پر لے جانا ہوتا ہے)۔ اس کے بعد ملک الموت (موت کا فرشتہ) حضرت عزرائیل ؑ زمین پر آتےہیں ، اور اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "اے نفس مطمئنہ! خدا کی مغفرت اور رضا مندی کی طرف چل نکل "۔ چناچہ اُس کی روح اورجان جسم سے اسطرح نکلتی ہے جیسے مشکیزے سے پانی یا دودھ کا ایک قطرہ ٹپکتا ہے۔ ملک الموت اس روح کو اُٹھا لیتے ہیں۔ اُسی وقت وہ فرشتے دوڑ کر اُس روح کو اپنے پاس لے لیتے ہیں اور ایک لمحہ بھی ملک الموت کے پاس نہیں رہنے دیتے۔ پھر وہ فرشتے اُس روح کو جنت سے لایا ہوا کفن پہنا دیتے ہیں، جنت کی خوشبو اسکو لگا تے ہیں اور پھر آسمان کی طرف لے جانے کا سفر شروع کرتے ہیں۔ (مسند احمد: 18534)
آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک مومن کی روح پسینے سے نکلتی ہے، جبکہ کافر کی روح اِس کی باچھ (منہ کا سرا) سے نکلتی ہے ، بالکل جیسے گدھے کی روح نکلتی ہے۔ (سلسلۃ الصحیحۃ: 2151)
روح کا آسمانوں کی طرف سفر اور پہلے سے موجود ارواح سے ملاقات: جہاں جہاں سے بھی وہ فرشتے اس روح کو لے کے گزرتے ہیں، تو اِردگرد کے فرشتے پوچھتے ہیں کہ کون سی بہترین روح آئی ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ فلاں بن فلاں – جو دنیا میں اسکا نام تھا وہ بتاتے ہیں۔ فرشتے اسے جب آسمان تک لے جاتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں کہ پاکیزہ روح زمین کیطرف سے آئی ہے، اللہ تعالی تجھ پر اور اُس جسم پر جس کو تونے آباد کیا ہوا تھا، رحمت نازل فرمائے[6]۔، پھر آسمان کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔ فرشتے نیک روح کواہل ایمان کی ارواح کے پاس لاتے ہیں (یعنی یہ نئی روح آسمان پرپہلے سے موجود ارواح سے ملاقات کرتی ہے)۔ روحوں کو اُس نئی روح سے مل کر اُس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جو تم میں سے کسی کو کسی بچھڑے ہوئے شخص کی آمد سے ہوتی ہے۔ نیک روحیں اُ س نئی آنے والی روح سے پوچھتی ہیں کہ "فلاں کا کیا بنا؟ فلاں کا کیا ہوا؟" (یعنی پیچھے موجود رشتے دار اور دوستوں کا حال پوچھتے ہیں)۔ پھر وہ ارواح آپس میں کہتی ہیں " ابھی ٹھیر جاو، اِس (نئی روح کو) چھوڑ دو (اِس سے سوالات مت پوچھو)، یہ ابھی دنیا کے غم میں مبتلا ہے[7]" (یعنی جان نکلنے کا کٹھن مرحلہ اس نے طے کیا، پھر اپنے رشتے داروں اور اہل خانہ کو چھوڑ کر اب یہاں یہ روح اکیلی آ گئی ہے، اِسے کچھ سکون کا سانس تو لینے دو--- یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کئی سال بعد ہمارے گھر میں کوئی مہمان آئے اور ہم اُس سے دروازے پر ہی کھڑے کھڑے کافی سوالات کر دیں ----یہاں سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ موت کا غم صرف لواحقین کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا سے جانے والے کے لیے بھی بہت بڑا غم ہوتا ہے--- کسی بھی چیز یا جگہ سےجدائی کے مرحلے کا غم ایک فطری عمل ہے، سالہا سال سے بیٹھی ہوئی کنواری لڑکی جب بیاہی جا رہی ہوتی ہے تو اُسکو بھی اپنےپرانے گھر چھوڑنے کا غم ہوتا ہے)۔
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ (جس کا مفہوم ہے)کہ جب مسلمان بندے کی روح قبض کی جاتی ہے ، تو پہلے سے فوت شدہ روحیں اُسکا ایسے استقبال کرتی ہیں جیسے دنیا میں لوگ خوشی میں ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہیں۔ جب وہ روحیں اُس سے سوال کرنا چاہتی ہیں تو وہ ایک دوسرے کو کہتی ہیں کہ اپنے بھائی کو آرام کرنے دو۔ وہ دنیا کی بے چینی اور پریشانی میں مبتلا تھا (بعض اوقات انسان کسی لمبی بیماری ، فاقہ یا طویل تنگ حالات زندگی کاٹ کر آ رہا ہوتا ہے)۔ بالآخر وہ پوچھتے ہیں کہ فلاں (رشتے دار یا دوست )کیا کر رہا تھا، فلاں بہن کی سنائیں اُسکی شادی ہو گئی تھی؟ (ما فعلت فلانت ھل تزوجت) ؟ نیک روحیں زمین والوں میں سے اپنی جان پہچان والوں کے بارے میں (جیسے رشتے دار، دوست احباب ) کے بارے میں پوچھتی ہیں، بھر وہ روح جب یہ جواب دیتی ہے کہ اُس شخص کو تو میں دنیا میں چھوڑ آیا ہوں تو یہ بات اُن کو اچھی لگتی ہے ( کہ نیک اعمال کرنے کی مہلت اُس کے پاس موجود ہے)، پھر وہ روحیں اُس سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھتی ہیں جو اُس سے پہلے مر چکا ہوتا ہے تو وہ جواب دیتا ہے کہ وہ تو مجھ سے پہلے ہی مر چکا ہے۔ تو وہ روحیں سب کہتی ہیں کہ وہ ہمارے پاس تو نہیں لایا گیا: "انا للہ وانا الیہ راجعون"، (چونکہ یہ نیک ارواح کا عالم تھا اور وہ یہاں نہیں آئی تو اسکا مطلب ہے کہ وہ بری روحوں کے پاس جا کہ اپنے ٹھکانے جہنم میں چلا گئی)۔ (السلسلۃ الصحیحۃ: 2628)
پھر روح کو ساتویں آسمان تک لے جایا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس بندے کا نام علیین (نیک لوگوں کا اعمال نامہ) میں لکھ دو۔اور اسے زمین میں واپس بھیج دو۔ پھر اسکی روح واپس قبر میں لوٹا دی جاتی ہے ۔ (مسند احمد: 18534)
میت کا جنازہ جلد از جلد اُٹھانا: جیسے ہی میت کو غسل دے دیا جائے، اور اُسکے قبل از تدفین کام مکمل ہو جائیں تو اُسکا جنازہ اُٹھانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیئے۔
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جنازے کو اُٹھانے میں جلدی کرو کیونکہ اگر مرنے والا صالح تھا تو اُسکا جنازے اُٹھانے میں جلدی کرنا ایک بھلائی کا کام ہے جو تم اُسکے ساتھ کرو گے۔ لیکن اگر مرنے والا نافرمان انسان تھا وہ ایک برائی ہے جسے تم جتنا جلدی کندھوں تک اُتار دو، اُتنا ہی بہتر ہے۔ (متفق علیہ؛ مشکوۃ 1556)
نماز جنازہ پڑھنے اور تدفین کی فضیلت: حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے ایمان اور احتساب کے ساتھ کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ رہتا ہے یہاں تک کے اُسکی نماز پڑھی جائے اور اسکی تدفین سے فارغ ہو جائیں تو وہ دہرا اجر لے کے پلٹتا ہے۔ جسکا ہر ایک حصہ اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔ اور جو شخص نماز پڑھ کے (تدفین سے قبل )واپس آ جاتا ہے تو وہ اجر کا ایک حصہ لے کر لوٹتا ہے۔ (متفق علیہ؛ مشکوۃ 1561)
قبر میں سوال و جواب اور انعامات: حضور ﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے)کہ جب لوگ نیک انسان کے جنازے کو کندھوں پر اُٹھاتے ہیں ، تو وہ نیک روح کہتی ہے کہ "مجھے جلدی لے چلو" (کیونکہ اُسکو اپنے اچھے انجام کا پتہ ہوتا ہے )[8]۔ آدمی کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور لوگ اُسکو دفن کر کے واپس لوٹتے ہیں تو وہ قبر والا لوگوں کے جوتوں کی آواز سنتا ہے (کیونکہ تدفین کے بعد روح جسم میں آ چکی ہوتی ہے)[9]، پھر قبرمیں حساب کتاب لینے والے فرشتے آ کر اسکو بیٹھا دیتے ہیں(مومن شخص کو نہ کوئی گھبراہٹ ہوتی ہے اور نہ وہ حواس باختہ ہوتا ہے سنن ابن ماجہ: 4268)۔ اور قبر کے 4 سوالات پوچھتے ہیں :
- تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتاہے کہ میرا رب اللہ تعالی ہے۔
- پھر پو چھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے۔
- پھر پوچھتے ہیں کہ کون سے پیغمبر تمہاری طرف بھیجے گئے تھے؟ وہ کہتا ہے کہ حضور ﷺ ہماری طرف بھیجے گئے تھے۔
- پھر پوچھتے ہیں تمہارے پاس کونسا علم ہے (یعنی کونسا علم لے کر یہاں آئے ہو)؟ وہ کہتا ہے کہ میں نے قرآن مجید پڑھا ہے، اس پر ایمان لایا ہوں اور اسکی تصدیق کی ہے۔
اس وقت آسمان سے(اللہ تعالیٰ کی) آواز آتی ہے۔ "میرے اس بندے نے سچ کہا، اسکے لیے جنت کا فرش بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کا دروازہ کھول دو۔ اس کے بعد جنت کی ہوائیں ، رزق اور خوشبوئیں اس کے پاس آنے لگتی ہیں۔ اور اسکی قبر تا حد نگاہ وسیع اور کشادہ کر دی جاتی ہے۔ جب مومن اپنی قبر کی کشادگی کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ فرشتوں مجھے چھوڑ دو ، میں گھر والوں کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں (یعنی ان سب انعامات کا ذکر اُن سے بھی کرنا چاہتا ہوں) ۔ لیکن اس سے کہا جاتا ہے کہ اب آرام کرو (اب واپسی ممکن نہیں)۔ (مسند احمد: 14547سنن ابی داؤد: 4751 & 4753)(یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ انسان دنیا میں ہر اچھی نعمت ، جیسے گاڑی، بنگلہ، سیر سپاٹہ ، پارٹی ، شادی بیاہ کی تقریبات وغیرہ، کو اپنے گھر والوں کے ساتھ منانا چاہتا ہے، بالکل اِسی طرح یہ نیک انسان چاہے گا کہ قبر میں ملنے والے انعامات کا تذکرہ فوراً اپنے گھر والوں سے کرے)
اتنے میں ایک خوبصورت اورحسین آدمی اس کے پاس آئے گا، جس کا لباس نہایت خوبصورت اور خوشبو سے مہک رہا ہو گا۔ اور وہ آدمی اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو جائے گا اور کہے گا کہ میں تمہیں مسرت اور آرام کی خوشخبری دیتا ہوں، اسی دن کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ بندہ مومن اُس آدمی سے پو چھے گا کہ آخر تم ہو کون؟ تمہارا چہرہ تو بہت با برکت چہرہ ہے، وہ جواب دے گا کہ میں تیرا نیک عمل ہوں ( جو تو دنیا میں کیا کرتا تھا) تو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بڑی جلدی کرتا تھا؛ اور اللہ کی نافرمانی میں انتہائی سست تھا، پس اللہ نے تجھے بہترین بدلہ دے دیا۔ اس کے بعد بندہ مومن کہے گا کہ " اے اللہ ! تو قیامت جلدی قائم کر دے، تاکہ میں اپنے بیوی بچوں سے مل سکوں"۔ (یعنی اپنے بیوی بچوں کی یاد انسان کو ہر پل ستائے گی، وہاں بھی انسان اُن کی جدائی برداشت نہیں کر سکے گا)۔ مسند احمد: 18534؛ احکام الجنائز للالبانی، صفحہ: 200
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم یہ ہے ) کہ جب انسان کو دفن کر کے اُسکے ساتھی واپس چلے جاتے ہیں ، تو ایک فرشتہ جس کے ہاتھ میں گرز (لوہے کا ہتھوڑا) ہو تا ہے ، وہ قبر میں آتا ہے اور آکر قبر والے کو بیٹھا دیتا ہے، اور اُس سے حضور ﷺ کے متعلق پوچھتا ہے کہ "تم اُس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو (یعنی حضور ﷺ کون ہیں؟) ۔ اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے کہ اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ ۔ ترجمہ: میں اِس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ حضور ﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں۔ یہ سن کر فرشتہ کہتا ہے کہ تم نے سچ کہا ۔ پھر اُس کو جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے ، کیا دیکھتا ہے کہ جہنم میں آگ کا بعض حصّہ بعض حصّے کو توڑ رہا ہوتا ہے، پھر فرشتہ اُسکو کہتا ہے کہ اگر(دنیا میں ) تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے (یعنی تمہاری دنیا کی زندگی گناہوں میں اور نافرمانیوں میں گزرتی) ، تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا ۔ لیکن تم حضور ﷺ پر ایمان رکھتے تھے (اُن کے لائے ہوئے دین کو سمجھا، اور اس پر عمل کیا) لہٰذا تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے ۔ یہ کہہ کر اُس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھولا جاتا ہے ، اسے دیکھ کر انسان اس دروازے سے جنت کے اندر داخل ہونا چاہتا ہے ، تو فرشتہ اُسکو سکون سے (قبر میں )رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ اور اُسکی قبر 70 ہاتھ کشادہ کر دی جاتی ہے اور اس میں چودھویں کے چاند کی طرح روشنی کر دی جاتی ہے۔ (صحیح مسلم : 7216؛سنن ابن ماجہ: 4268؛ صحیح الترغیب و الترھیب : 3561؛ 3552) (اور قیامت تک اُس کو صبح شام اُسکا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے صحیح مسلم: 7211)
حاضرین مجلس میں سے کسی نے پوچھا کہ حضور ﷺ وہ فرشتہ ہاتھ میں گرز لے کر جس کے سامنے بھی کھڑا ہوگا، اُس پر تو گھبراہٹ طاری ہو جائے گی (خوف اور دہشت کے مارے اُسکا تو برا حال ہو جائے گا)۔ حضور ﷺ نے فرمایا "اللہ ایمان والوں کو کلمہ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے " (مسند احمد: 11000) (یعنی جیسے دنیا کی زندگی میں ایمان والوں نے اللہ تعاٰلی کی اطاعت کی اور نافرمانیوں سے پرہیز کیا ، ویسے اللہ تعالی قبر کی زندگی میں اُنہیں توحید پر ثابت قدم رکھے گا)۔
حضرت عائشہ نے ایک دفعہ آپ ﷺ سے پوچھا کہ : اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ اُمت اپنی قبروں میں آزمائی جاتی ہے تو میرا کیا حال ہو گا، میں تو ایک کمزور عورت ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ مومنین کو قول ثابت کے ساتھ دنیا اور آخرت کی زندگیوں میں ثابت قدم رکھتا ہے"۔
تجزیہ : (1) بندہ مومن کے حساب کتاب کے لیے بھی کتنا سخت فرشتہ آ رہا ہے کہ ہاتھ میں گرز لیا ہوا ہے۔
(2) بندہ مومن کو بھی قبر میں جہنم کی کھڑکی کھول کر دکھائی جا رہی ہے۔
نیک اعمال کا قبر میں بندہ مومن کی حفاظت کرنا: حضور ﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے)کہ بندہ مومن کی قبر میں اُسکی نماز اور قرآن مجید کی تلاوت [10] اُسکے سرہانے آجاتی ہے، روزہ اُسکے دائیں طرف آ جاتاہے ، زکوٰۃ اُسکے بائیں طرف آجاتی ہےاور صدقہ بھی دونوں ہاتھوں کی طرف آجاتا ہے[11]۔ دیگر نیک کام مظلوموں کی مدد، ذکر و اذکار ، اِخلاق حسنہ اور اُسکا مسجد کی طرف جانا[12] اُسکے دونوں پاوں کی طرف آ جاتے ہیں۔ لہذا
- اگر کوئی بلا /آفت اُسکے سرہانے کیطرف سے آنے لگتی ہے تو نماز کہتی ہے کہ "میری طرف سے آنے کا راستہ نہیں"، اور قرآن مجید کی تلاوت اُسکو پیچھے کی طرف دھکیل دیتی ہے ،
- پھر اُسکے دائیں طرف سے اگر کوئی بلا آنے لگتی ہے تو روزہ کہتا ہے کہ میری طرف سے آنے کا راستہ نہیں ۔
- پھر اگر اسکے بائیں طرف سے کوئی بلا آنے لگتی ہے تو زکوۃ کہتی ہے کہ میری طرف سے آنے کا راستہ نہیں۔
- پھر اگر کوئی بلا دونوں ہاتھوں کی طرف سے آتی ہے تو صدقہ اُسکو پیچھے کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
- پھر اگر اُسکے پیروں کی طرف سے کوئی بلا آنے کی کوشش کرتی ہے تو اُسکے دیگر نیک اعمال کہتے ہیں کہ ہماری طرف سے آنے کا راستہ نہیں، اور مسجد کی طرف جانا اُ س بلا کو پیچھے کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ (یہاں بلا /آفت سے مراد قبر کے کیڑے ، عذاب کی شکلیں ہیں، جن سے اانسانی نیک اعمال اُس کا دفاع کریں گے)۔ (صحیح الترغیب و الترھیب: 3561)
مومن کا قبر میں بھی نماز ادا کرنے کی اِجازت مانگنا: ایک حدیث [13]میں آتا ہے کہ قبر میں دفن ہونے کے بعد فرشتے نیک انسان کو کہتے ہیں کہ "بیٹھ جاو"، تو وہ بیٹھ جاتا ہے۔ اسکے لیے سورج کی شکل بنا دی جاتی ہے کہ گویا وہ غروب ہونے کے قریب ہے (یعنی اُسکو ایسا منظر دکھایا جاتا ہے کہ جیسے سورج ڈوبنے لگا ہو)۔ تو فرشتے اُس سے سوال و جواب شروع کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تم اُس شخص کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ( کیا گواہی دیتے ہو )جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا (یعنی حضور ﷺ)۔ تو وہ کہتا ہے کہ" مجھے چھوڑ دو ، میں ذرا (عصر کی ) نماز ادا کر لوں"۔ فرشتے کہتے ہیں کہ (ہمیں پہلے ہی معلوم تھا کہ ) تم یقیناً ایسا ہی کرو گے ، پہلے ہمیں ہمارے سوالات کے جوابات دو۔ پھر فرشتے دوبارہ پوچھتے ہیں کہ تم اُس شخص کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ( کیا گواہی دیتے ہو )جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا۔ پس وہ مومن جواب دیتا ہے کہ وہ حضور ﷺ ہیں ، میں گوا ہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ، اور وہ اللہ کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ۔ اُسکو کہا جائے گا، تم نے اِسی (حق پر ، جو حضور ﷺ لائے تھے) پراپنی زندگی گزار دی، اور تم اسی حق پر فوت ہوئے ، اور اِسی حق پر تمہیں قیامت کے روز اُٹھایا جائے گا۔ (یعنی اگر انسان کی ساری زندگی اِس دین حق پر گزری ہو گی تبھی اُسے فرشتے سے یہ خوشخبری ملے گی)۔
تجزیہ: (1) قبر کی زندگی میں بھی وہی شخص نماز ادا کرنے کے لیے فرشتوں کو سوال و جواب سےروکے گا، جو دنیا میں بھی نماز کی خاطر ہر کام کو ترک کر دیا کرتا تھا۔ لہذا ہمیں بھی چاہئے کہ ہم لوگ اپنی دنیاوی زندگی میں نمازوں کا اہتمام کریں۔)
گناہگار اور نافرمان انسان کی موت ، قبر تک کا سفر اور عالم برزخ
(سورۃالنحل) اَلَّـذِيْنَ تَتَوَفَّاهُـمُ الْمَلَآئِكَـةُ ظَالِمِىٓ اَنْفُسِهِـمْ ۖ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوٓءٍ ۚ بَلٰٓى اِنَّ اللّـٰهَ عَلِيْـمٌ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (28) فَادْخُلُـوٓا اَبْوَابَ جَهَنَّـمَ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَـبِّـرِيْنَ (29)
ترجمہ: وہ لوگ جو دنیا میں اپنے آپ پر (اللہ کی نافرمانیاں اور گناہ کر کے ) ظلم کر رہے ہوتے ہیں ، جب فرشتے اُنکی روح قبض کرنے کے لیے آتے ہیں ، تو وہ فوراً فرمابردار بننے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کوئی برا کام تو نہیں کر رہے تھے، فرشتے کہیں گے کہ کیوں نہیں کر رہے تھے ۔ جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اُسے یقیناً خوب جانتا ہے۔ اب جہنم کے دروازوں میں سے اس میں داخل ہو جاو، تم ہمیشہ اس میں رہو گے۔
(سورۃالانفال) وَلَوْ تَـرٰٓى اِذْ يَتَوَفَّى الَّـذِيْنَ كَفَرُوا الْمَلَآئِكَـةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُـمْ وَاَدْبَارَهُـمْۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ (50) ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ وَاَنَّ اللّـٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ (51)
ترجمہ: (اے حضور ﷺ) کاش آپ اس حالت کو دیکھتے کہ فرشتے اُن نافرمان و گناہگار لوگوں کی روحیں قبض کر رہے تھے ، تو اُن کے چہرے اور اُن کی پشتوں پر ضربیں لگاتے تھے ، اور کہتے تھے کہ اب جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو۔
گناہگار اور نافرمان انسان کی موت نکلنے کا منظر: حضور اکرمﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے)کہ گناہگار انسان کی روح قبض کرتے وقت فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث روح "اُخِرجی ---چل نکل" قابل مذمت ہوکر نکل ، اور کھولتے پانی اور کانٹے دار کھانے کی خوشخبری قبول کر—یہ جملے اُس کے سامنے بار بار دھرائے جاتے ہیں کہ اُسکی روح نکل جاتی ہے۔ (مسند احمد: 25090)
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے)کہ جب گناہگار اور نافرمان انسان کے مرنے کا وقت آتا ہے تو اس کے پاس سیاہ کالے رنگ کے دو فرشتے آتے ہیں جن کے جسم پر غلیظ کمبل لپٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ اُسکی نگاہوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک الموت (حضرت عزرائیل ؑ ) بھی آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کے اے خبیث روح! چل نکل-اللہ تعالی کی ناراضگی اور غضب کی طرف چل۔ یہ سن کر اس کی روح جسم کے اندر اِدھر اُدھر بھاگنے لگتی ہے، لیکن ملک الموت اُس کو پکڑ لیتا ہے اور اسطرح بھینچتا ہے جس طرح قصاب چھریوں سے گوشت کاٹتا ہے اور اسکو ایسے تکلیف ہوتی ہے جیسے کسی ململ کے کپڑے کو کانٹے دار جھاڑیوں پر رکھ کے کھینچا جائے۔ اور ملک الموت اس روح کو باہر نکال لیتا ہے۔ اُسی وقت وہ دوفرشتے دوڑ کر اُس روح کو اپنے پاس لے لیتے ہیں اور ایک لمحہ بھی ملک الموت کے پاس نہیں رہنے دیتے۔اسے ایک کالا سیاہ بدبو دار کمبل پہنا دیتے ہیں۔ اسکی بدبو کسی بدبو دار مردار جانور سے بھی زیادہ بدتر ہوتی ہے۔یہ کہہ کر حضور ﷺ نے اپنا کپڑا ناک کے اوپر رکھ کے دکھایا۔ یہ فرشتے اس روح کو لے کر اوپر آسمانوں کا سفر طے کرنا شروع کرتے ہیں۔(صحیح مسلم : 7221؛ مسند احمد: 18534)
فرشتوں کا روح کو آسمانوں کیطرف لے جانا: جہاں جہاں سے فرشتے اس بدبو دار روح کو لے کر گزرتے ہیں، دوسرے فرشتے اُن سے پوچھتے ہیں کہ یہ کس انسان کی خبیث روح ہے کہ اتنی زیادہ خراب بدبو آ رہی ہے؟ فرشتے اسکا برا نام لے کہ کہتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اسکے بعد فرشتے اسکے لیے آسمان کے دروازے کھولنے کی درخواست کرتے ہیں ، مگر اِس خبیث روح کے لیے دروازے نہیں کھولے جاتے۔پھر اللہ تعالی حکم دیتا ہے کہ اس کا نام سجین (برے لوگوں کا اعمال نامہ) میں سب سے نیچے کی زمین پر لکھ دو۔ تب اس روح کو اوپر آسمان سے ہی نیچے زمین پر پٹخ دیا جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 4262) سورۃ الاعراف -آیت40 میں بھی اِس کیفیت کا ذکر ہے کہ "ہماری آیات پر عمل نہ کرنے والوں کے لیے نہ ہی آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنّت میں داخل ہو سکیں گے"
میت کا گھر سے قبرستان تک کا سفر اور گفتگو: ابو سعید حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب لوگ میت کو چارپائی پر رکھ کر اُسے کندھوں پر اُٹھا کر قبرستان کی طرف چلتے ہیں تو اگر مرنے والا گناہگار اور فاسق ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ ہائے افسوس ! تم لوگ مجھے کہاں لے جا رہے ہو۔ اور اسکی یہ آوازیں انسانوں کے علاوہ ہر جاندار سنتا ہے، اگر انسان اس مردے کی آہو بکا سن لیں ، تو ہیبت اور دہشت کے مارے بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ (صحیح بخاری:1316)
قبر میں سوال و جواب اورعذابِ قبر : قبر میں دفنانے کے بعد وہ روح قبر کے اندراُسکے جسم میں واپس لوٹا دی جاتی ہے۔اِسکے پاس دو سخت ڈانٹنے والے فرشتے آتے ہیں جو اِسے ڈانٹتے ہوئے بیٹھا دیتے ہیں (احکام الجنائز للالبانی، صفحہ: 201) اور(ڈانٹتے ہوئے ) پوچھتے ہیں کہ
تم (دنیا میں ) کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہے گا 'مجھے نہیں معلوم'۔ فرشتہ کہے گا کہ نہ تو نے یہ جانا اور نہ (قرآن کو ) پڑھا (کہ دنیا میں قبر کی تیاری کیسے کرنی ہے) (ابی داؤد: 4751؛ صحیح بخاری: 1338)
- تمہارا رب کون ہے؟ وہ گھبراہٹ کے مارے ہائے ہائے کرے گا اور کہے گا کہ (افسوس )مجھے کچھ معلوم نہیں۔
- پھر فرشتے پوچھیں گے کہ تمہارا دین کیا ہے؟ وہ پھر ہائے ہائے کرے گا اور کہے گا کہ (افسوس )مجھے کچھ معلوم نہیں۔
- پھر فرشتے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کونسے پیغمبر آئے تھے؟ وہ پھر ہائے ہائے کرے گا، اور کہے گا کہ (افسوس ) مجھے کچھ معلوم نہیں (کونسا شخص؟ وہ آپ ﷺ کا نام تک نہیں بتا پائے گا، اُ س سے کہا جائے گا کہ محمد ﷺ؛ تووہ کہے گا میں نہیں جانتا ، میں تو لوگوں کو بات کرتے سنتا تھا --جیسے لوگ کہتے تھے، میں بھی ویسے کہہ دیتا تھاصحیح الترغیب و الترھیب: 3561) (پھر دونوں فرشتے کہیں گے ، یقیناً ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا،سنن الترمذی: 1071) (پھر فرشتہ کہے گا ' نہ تو نے علم حاصل کیا، نہ تو نے (قرآن کی ) تلاوت کی اور نہ تو نے ہدائت پائی)مسند احمد: 11000) جیسے ایک علامہ اِقبال نے بھی اِسی کیفیت کا نقشہ اپنے ایک شعر میں کھینچا ہے :
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
جہنمی شخص کے لیے جنت کی طرف کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور اُس کو جنت کی آب و تاب اور اندر کی نعمتیں نظر آتی ہیں ، اُسے کہا جاتا ہے کہ دیکھ اللہ نے تجھے (تیرے برے اعمال کے سبب ) کس (عظیم )چیز سے محروم کر دیا ، اور وہ حسرت بھری خواہش کرے گا کہ کہ کاش اگر میں بھی دنیا میں ہدایت کے راستے پر ہوتا تو آج میں بھی یہاں ہوتا۔ پھر اِس کے لیے جہنم کی طرف کا دروازہ کھولا جاتا ہے ، کیا دیکھتا ہے کہ جہنم کی آگ آگ کو توڑ پھوڑ رہی ہے، اور اسے کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ٹھکانہ ہے۔ تم دنیا کی زندگی میں بھی شک میں تھے، اِسی حالت میں مر گئے اور اِسی حالت میں اُٹھائے جاؤ گے۔ (مسند احمد؛ سنن ابن ماجہ: 4268)
پھر آسمان سے اللہ تعالی فرمائے گا "یہ بندہ جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے آگ کا بستر بچھا دو، آگ کا لباس پہنا دو، اور جہنم کے دروازے اس پر کھول دو تاکہ جہنم کے شعلے اس کے اوپر گرتے رہیں۔ پھر اسکی قبر تنگ کر دی جاتی ہے ، جو اسکو اسطرح دبوچتی ہے کہ اس کی ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف کی پسلیوں کے اندر سے چلی جاتی ہیں ، پھر حضور ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست کر کے دکھایا۔ (سنن ابی داؤد: 4753)
قبر میں کسی نیک عمل کابطور حفاظت موجود نہ ہونا: حضور ﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے)کہ جب کافر کے پاس (بلا اور مصیبت ) سرہانے کی جانب سے آتی ہے ، تو وہاں کوئی عمل (اُسکی حفاظت کے لیے )موجود نہیں ہوتا۔ پھر اُسکے دائیں اور بائیں جانب سے (بلا اور مصیبت ) آتی ہے ، تو وہاں بھی کوئی عمل (اُسکی حفاظت کے لیے )موجود نہیں ہوتا۔ پھر اُسکے دونوں پاوں کی جانب سے (بلا اور مصیبت ) آتی ہے ، تو وہاں بھی کوئی عمل (اُسکی حفاظت کے لیے )موجود نہیں ہوتا۔ (صحیح الترغیب و الترھیب: 3561)
حضور ﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے)کہ قبر میں گناہگار اور فاسق انسان کے اوپر 99 سانپ مسلط کر دیے جاتے ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ وہ ایک سانپ کیسا ہوتا ہے ؟ وہ تمام سانپ اذدھے ہوتے ہیں ، ہر اذدھے کے سات سر ہوتے ہیں، اور وہ اُسے قیامت تک ڈستے رہیں گے۔ (صحیح الترغیب و الترھیب: 3552)
دنیا میں کیے گئے برے اعمال کا انسانی شکل میں آنا : اسکے بعد ایک بد شکل آدمی گندے غلیظ لباس میں اسکے سامنے آکر کھڑا ہو جائے گا اور اس سے کہے گا کہ میں تجھے عذاب کی خبر سناتا ہوں۔ یہی وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔ میت کہے گی کہ مجھے تیرے چہرے سے بہت ڈر لگتا ہے، وہ آدمی کہے گا کہ میں تیرا وہ خبیث عمل ہوں ( جو تو دنیا میں کیا کرتا تھا)، اسکی میت کہے گی کہ اے اللہ تو قیامت قائم نہ کرنا (کیونکہ اُسے پتہ ہے کہ اگر قیامت قائم ہو گئی تو پھر ہمیشہ ہمیسہ کے لیے آگ میں جلنا ہو گا) [14] ۔ پھر اس پر ایک ایسا فرشتہ مسلط کر دیا جاتا ہے جو اندھا، بہرہ اور گونگا ہو گا۔ اس کے ہاتھ میں اتنا وزنی گرز (لوہے کا ہتھوڑا) ہو گا کہ اگر اسکو کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو کر ریت بن جائے۔ پھر فرشتہ اُس انسان کو گرز مارنا شروع کرے گا جس سے اس کی چیخیں اور دھاڑیں نکلیں گی ، جسکو مشرق سے مغرب کے درمیان ہر جاندار شے سنتی ہے، سوائے انسان اور جنات کے ۔ پھر وہ مردہ ریزہ ریزہ ہو جائے گا، پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہےاور یہ فرشتہ اُس انسان کو گرز قیامت تک مارتا رہے گا۔اور اسکے لیے جہنم کے دروازے بھی کھول دئے جائیں گے ۔ (سنن ابی داؤد: 4753)
قبر کاہر شخص پر تنگ ہونا: ہر ایک کی قبر ایک بار بھینچی جائے گی۔ یعنی گناہگار کے لیے تو قبر تنگ ہو گی ہی سہی، مومن بندے کو بھی قبر کم از کم ایک بار ضرور بھینچے گی، دبائے گی۔ اگر وہ نیک بندہ ہو گا تو قبر کا بھنچنا اتنا شدید اور سخت نہیں ہو گا، قبر پھر اُس پر کشادہ ہو جائے گی۔
ایک انتہائی جلیل القدر صحابی ہیں حضرت سعد بن معاذ۔ یہ اتنے عظیم صحابی ہیں کہ جب اِن کا انتقال ہوا تو عرش اِلہیٰ ہل کر رہ گیا تھا (بخاری: 3803؛مسلم : 2466) —اِن کے جنازے میں آپ ﷺ اپنے پنجوں (پاؤں کی انگلیوں کے بل ) چل رہے تھے ۔ پوچھنے پر آپ نے اِرشاد فرمایا کہ اِس وقت جنازے میں اِتنے فرشتے شریک ہیں کہ میں مکمل پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں پا رہا۔ اِن کے لیے آسمان کے سارے دروازے کھول دئے گئے اور آسمان سے 70 ہزار فرشتوں نے جنازے میں شرکت کی ۔ (نسائی: 2057، مشکوٰۃ المصابیح: 5478)
اِن تمام اعزازات / درجات کے باوجود، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن معاذ کا انتقال ہوا تو ہم نے حضور ﷺ کے ساتھ اُنکا نماز جنازہ پڑھ کر اُنہیں قبر میں اُتار کے قبر کو برابر کر دیا۔ تو آپ ﷺ کافی دیر تک سبحان اللہ ، اور اللہ اکبر پڑھتے رہے تو ساتھ صحابہ اکرام نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ ساتھ سبحان اللہ، اللہ اکبر پڑھنا شروع کر دیا۔ بعد میں صحابہ اکرام نے پوچھا کہ آپ ﷺ کے اس طرح کلمات ورد کرنے کی کیا وجہ تھی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ "اللہ کے اِس بندے پر قبر تنگ ہو گئی تھی، لیکن پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے اُس کو کشادہ کر دیا"۔
اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا تھا (جس کا مفہوم ہے)کہ "قبر کو ایک بار ہر انسان پر بھینچا / تنگ کیا جاتا ہے، اگر کوئی اِس عمل سے بچ سکتا تو وہ حضرت سعد بن معاذ ہوتے[15]۔
اِسی طرح ایک دفعہ ایک بچہ دفن كیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا: "اگر قبر كے دباؤ سے كوئی بچتا تو یہ بچہ بچتا." (السلسلہ الصحیحہ البانی:3295)
قبر میں عقلوں کا واپس لوٹایا جانا: ایک مرتبہ حضور ﷺ نے قبروں میں سوالات پوچھنے والے فرشتوں کا تذکرہ کیا، تو عمر فرمانے لگے کہ اے حضور ﷺ کیا اُس وقت ہمیں ہماری عقلیں واپس لوٹا دی جائیں گی؟ (یعنی ہم senses میں ہوں گے؟)۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا "ہاں ، (بالکل ایسے )جیسے آج کے دن تمہاری حالت ہے"۔ (مسند احمد:6603)
عذاب قبر سے محفوظ رکھنے والے اعمال
- سورۃ الملک کے ذریعے عذاب قبر سے حفاظت:حضور ﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے)کہ سورۃ الملک قبر کے عذاب سے محفوظ رکھنے والی ہے۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ سورۃ الملک قیامت میں اپنے پڑھنے والے کے حق میں اللہ تعالی سے جھگڑا کرے گی (کہ یہ شخص مجھے روز پڑھا کرتا تھا، اِسکی بخشش کی جائے)۔
- واقعہ: ابو ہریرہ فرماتےہیں کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور اُنکو معلوم نہیں تھا کہ نیچے قبر ہے۔ اُنہوں نے قبر میں سے ایک آواز سنی کہ اُس قبر میں ایک انسان سورۃ الملک پڑھ رہا ہے۔ یہاں تک کہ اُس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ وہ صحابی حضور ﷺ کے پاس تشریف لائے اور بتایا کہ اُنہیں اُس قبر میں سے سورۃ الملک پڑھنے کی آواز آئی ہے جس پر اُنہوں نے غلطی سے خیمہ نصب کر دیا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا "ہی المانعۃ" یعنی یہ نجات دینے والی سورۃ ہے، یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے۔ [16]
-
- پیٹ کے مرض سے وفات پانے والا:حضور ﷺ نے فرمایا کہ پیٹ کے کسی بھی قسم کے مرض سے فوت ہونے والے کو عذاب قبر نہیں ہو گا۔ (نسائی: 2054؛ مسند احمد: 18311)
- اللہ کی راہ میں شہادت پانے والا: حضور ﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے)کہ شہید عذاب قبر سے محفوظ رہے گا۔
- جمعہ کے دن یا رات میں فوت ہونے والا: حضور ﷺ نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے)کہ جمعہ کے دن یا رات میں فوت ہونے والا بھی عذاب قبر سے محفوظ رہے گا۔ (سنن الترمذی: 1074)
- صدقہ کا قبر کی آگ کو بجھانا: حضرت عقبہ بن عامر حضور ﷺ سے روائت کرتے ہیں کہ صدقہ کرنے والوں کا صدقہ اُنکی قبر وں کی حرارت /گرمی/تپش کو بجھاتا ہے۔ اور مومن روز قیامت اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا۔ (السلسلۃ الصحیحہ: 3484)
[1] صحیح مسلم: 2996
[2] (صحیح بخاری: کتاب الرقاق حدیث نمبر :6420)
[3] سنن ترمذی
[4] دم توڑنے کی حالت، موت کی سختی، جانکنی کی تکلیف، عالم نزع
[5] چغل خوری: اِدھر کی خبریں اُدھر پہنچانا ، لوگوں کی باتیں اِدھر سے اُدھر کرنا تاکہ اُن میں لڑائی ہو، لوگوں کے دل برے ہوں اور اختلافات پیدا ہوں
[6] صحیح مسلم : 7221
[7] سنن نسائی: 1833
[8] صحیح بخاری : 1316
[9] صحیح بخاری : 1338
[10] طبرانی کی روایت میں قرآن مجید کی تلاوت کا ذکر آیا ہے۔
[11] طبرانی کی روایت میں صدقہ کا ذکر آیا ہے۔
[12] طبرانی کی روایت میں مسجد کی طرف جانے والے عمل کا ذکر آتا ہے۔
[13] سنن ابن ماجہ: 4272—المستدرک الحاکم (علی الصحیحین): 1403؛ صحیح الترغیب و الترھیب: 3561
[14] احکام الجنائزللالبانی (صفحہ): 201، مسند احمد: 18534
[15] (مسند احمد: 360) (مسند احمد: 24283)
[16] جامع ترمزی: حدیث نمبر 2890؛ سلسلۃ الصحیحۃ: 1140
اٹیچمنٹس
-
3.3 MB مناظر: 69