محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,099
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ (صحيح البخاري، الحيض: 294)
’’یہ امر تو اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر لکھ دیا ہے، لہٰذا تم وہ تمام کام کرو جو حاجی کرتا ہے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنْ الْحَائِضِ (صحيح البخاري، الحج: 1755، صحيح مسلم، الحج: 1328)
’’لوگوں کو حکم دیا گیا کہ سب سے آخر میں ان کا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورت سے تخفیف کی گئی ہے۔‘‘
ایسے ہی اگر عورت کو حیض آ جائے اور اس کا طواف افاضہ باقی ہو، لیکن اس کی واپسی کی فلائٹ کی تاریخ آ چکی ہے، وہ فلائٹ کی تاریخ یا ویزے کی تاریخ بڑھانے کی استطاعت نہیں رکھتی اور اخراجات کے زیادہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ آنے کی استطاعت بھی نہیں ہے تو وہ دو کاموں میں سے ایک کام کر سکتی ہے :
والله أعلم بالصواب.
- اگر عورت نے عمرے کی نیت کی ہے، مکہ پہنچ کر یا اس سے پہلے ہی اسے حیض آ گیا ہے تو اس کے لیے بیت اللہ کا طواف کرنا منع ہے ۔ وہ مکہ میں انتظار کرے گی، حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کر کے عمرہ ادا کرے گی۔اگر اس نے حیض آنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا ہے تو وہ اسی حالت میں ہی صفا اور مروہ کی سعی کر سکتی ہے ، کیونکہ حیض کی حالت میں صرف بیت اللہ کا طواف کرنا منع ہے۔
- اگر عورت نے حج کی نیت کی ہے ، اور اسے حیض کا خون آ گیا ہے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرنے کے علاوہ باقی تمام مناسک حج ادا کرے گی، لیکن طواف تب کرے گی جب وہ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کرلے گی۔
إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ (صحيح البخاري، الحيض: 294)
’’یہ امر تو اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر لکھ دیا ہے، لہٰذا تم وہ تمام کام کرو جو حاجی کرتا ہے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔‘‘
- اگر عورت نے حج کے تمام مناسک ادا کر لیے ہیں ، طواف افاضہ بھی کر لیا ہے ، لیکن مکہ مکرمہ چھوڑنے سے پہلے اسے حیض آ جائے تو اس پر طواف وداع کرنا واجب نہیں ہو گا ، وہ طواف وداع کیے بغیر ہی مکہ سے جا سکتی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنْ الْحَائِضِ (صحيح البخاري، الحج: 1755، صحيح مسلم، الحج: 1328)
’’لوگوں کو حکم دیا گیا کہ سب سے آخر میں ان کا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورت سے تخفیف کی گئی ہے۔‘‘
- اگر عورت نے حج کے تمام مناسک ادا کر لیے ہیں ، لیکن طواف افاضہ نہیں کیا تو وہ حیض سے پاک ہونے تک انتظار کرے گی ۔ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کر کے طواف افاضہ کر ے گی۔
- اگر عورت کو خدشہ ہو کہ طواف افاضہ کرنے سے پہلے اسے حیض آ جائے گا اور اس کے مکہ میں قیام کے دن بھی کم رہ گئے ہیں ، یعنی حیض سے پاک ہونے تک وہ مکہ میں نہیں ٹھہر سکتی اور نہ ہی دوبارہ آ سکتی ہے تو مانع حیض ادویات استعمال کر سکتی ہے۔ واضح رہےکہ اس طرح کی ادویات استعمال کرنے کا نقصان بھی ہو سکتا ہے ، اس لیے کسی معتبر ڈاکٹر سے مشورہ کر لیا جائے۔
ایسے ہی اگر عورت کو حیض آ جائے اور اس کا طواف افاضہ باقی ہو، لیکن اس کی واپسی کی فلائٹ کی تاریخ آ چکی ہے، وہ فلائٹ کی تاریخ یا ویزے کی تاریخ بڑھانے کی استطاعت نہیں رکھتی اور اخراجات کے زیادہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ آنے کی استطاعت بھی نہیں ہے تو وہ دو کاموں میں سے ایک کام کر سکتی ہے :
- حیض روکنے کے لیے کوئی ٹیکہ وغیرہ لگوا لے ، جب حیض رک جائے غسل کر کے طواف کر لے۔
- یا شرمگاہ پر مضبوطی سے کپڑا باندھ لے تاکہ مسجد میں خون کے قطرے نہ گریں اور طواف کر لے۔
والله أعلم بالصواب.