عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,549
- ری ایکشن اسکور
- 9,997
- پوائنٹ
- 667
تبصرہ
شیخ الکل فی الکل شمس العلما، استاذ الاساتذہ سید میاں محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ(1805۔1902ء) برصغیر پاک و ہند کی عظیم المرتبت شخصیت ہیں۔ آپ نے سولہ برس کی عمر میں قرآن مجید سورج گڑھا کے فضلا سے پڑھا، پھر الہ آباد چلے گئے جہاں مختلف علما سے مراح الارواح، زنجانی، نقود الصرف، جزومی، شرح مائۃ عامل، مصباح ہزیری اور ہدایۃ النحو جیسی کتب پڑھیں اور ۱۲۴۲ھ میں دہلی کا رخ کیا وہاں پانچ سال قیام کیا اور دہلی شہر کے فاضل اور مشہور علما سے کسب ِفیض کیا۔ آخری سال ۱۲۴۶ھ میں ان کے استادِ گرامی مولانا شاہ عبد الخالق دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی دختر نیک اختر آپ کے نکاح میں دے دی۔ میاں صاحب نے شاہ محمد اسحق محدث دہلوی رحمہ اللہ سے بھی بیش قیمت علمی خزینے سمیٹے۔ جب حضرت شاہ محمد اسحق دہلوی شوال ۱۲۵۸ھ کو حج بیت اللہ کے ارادے سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو اپنے تلمیذ ِ رشید حضرت میاں صاحب کو مسند ِحدیث پر بیٹھا کر گئے بلکہ تعلیم نبویؐ اور سنت ِرسول اللہؐ کے لئے انہیں سرزمین ہند میں اپنا خلیفہ قرار دیا ۔ عالمِ اسلام بالخصوص برصغیر کے مختلف علاقوں اور خطوں کے بے شمار تلامذہ کو آپ سے فیض یابی کا شرف حاصل ہوا۔میاں صاحب کی وفات کو 124؍سال بیت چکے ہیں ۔ آپ کی حیات و خدمات کے حوالے اب تک متعدد کتب اور سینکڑوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔ زیرنظر کتاب ’’ تذکرہ نذیریہ‘‘ مایہ ناز محقق و مصنف محمد تنزیل الصدیقی الحسینی کی دو جلدوں پر مشتمل تصنیف ہے جس میں انہوں نے میاں صاحب کی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور متنوع گوشوں پر روشنی ڈالی ہے اور میاں صاحب رحمہ اللہ کے آبائی وطن، خاندان، طلب علم، تدریس،اساتذه و تلامذه، تصنیف و تالیف دینی و ملی خدمات، اخلاق و اوصاف، علوم و افکار، ذوق مطالعہ،اصلاح و کار تجدید ، تردید و مناظرہ وغیرہ عناوین کے تحت بیش قیمت تحقیقات پیش کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں مخالفین کی جانب سے شیخ الکل رحمہ اللہ پر عائد کردہ اعتراضات کا بھی حقائق کی روشنی میں مفصل جائزہ لیا گیا ہے اور تمام اشکالات کا بہ خوبی ازالہ کیا گیا ہے۔ (م۔ا)
کتاب لنک
کتاب لنک