محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,079
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
عيد کی نماز کھلے اور وسیع میدان میں ادا کرنا سنت ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت کے باوجود کھلے میدان میں نماز عید ادا کی ۔
سیدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ (صحیح البخاری، العیدین: 956)
’’نبی ﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے تو پہلے جو کام کرتے وہ نماز ہوتی۔‘‘
سیدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ (صحیح البخاری، العیدین: 956)
’’نبی ﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے تو پہلے جو کام کرتے وہ نماز ہوتی۔‘‘
- اگر کوئی عذر ہو جیسے بارش وغیرہ کی صورت میں ، یا لوگ بڑھاپے وغيره کی وجہ سے عیدگاہ نہ جا سکتے ہوں، تو مسجد میں پڑھنا بھی جائز ہے۔