• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عاشوراء کے روزے سے جشن آزادی کا جواز نکالنے کا باطل استدلال

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
865
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
عاشوراء کے روزے سے جشن آزادی کا جواز نکالنے کا باطل استدلال
بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

آج کل بعض لوگ یوم عاشوراء کے روزے کو اپنے خود ساختہ جشن آزادی کے جواز کے لیے دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملی اور اس نعمت پر شکرانے کے طور پر روزہ رکھا گیا، اسی طرح کسی وطن کو آزادی ملنے پر ہر سال مخصوص دن مقرر کرکے خوشی منانا اور اس دن کو خاص کرنا بھی جائز ہے۔

عاشوراء کے روزے سے وطن کی آزادی کے لیے سالانہ جشن اور مخصوص شعار کا جواز نکالنا مغالطے کے سوا کچھ نہیں یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا شریعت نے کسی وطن کی آزادی کو ہر سال ایک مخصوص دن بنانے اور اس کے ساتھ مخصوص شعائر وابستہ کرنے کا حق ہمیں دیا ہے؟

یہ بات اصولا مسلم ہے کہ سابقہ انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں کے احکام ہمارے لیے اس وقت تک مستقل حجت نہیں جب تک ہماری شریعت نے ان کی مشروعیت کو برقرار نہ رکھا ہو۔ لہٰذا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے زمانے میں پیش آنے والے کسی واقعے سے یہ اصول اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کسی تاریخی نجات، فتح یا آزادی کی یاد میں مسلمان کوئی مخصوص عمل مقرر کر سکتا ہے۔

ہماری شریعت نے عاشوراء کے روزے کو مشروع قرار دیا ہے لیکن اس مشروعیت سے یہ کلیہ اخذ کرنا کہ جب بھی کسی قوم کو کسی مصیبت یا غلامی سے نجات ملے تو ہر سال اس دن خوشی، جشن یا مخصوص اعمال مقرر کی جا سکتی ہے! یہ ایک نیا مدعا ہے، جس کے لیے مستقل شرعی دلیل درکار ہے۔

اگر عاشوراء کے روزے کو اس بنیاد پر پیش کیا جا رہا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملی، لہٰذا اس نعمت پر خوشی اور تشکر کے لیے ایک مخصوص سالانہ عمل مشروع ہوا، تو پھر وہ خود اس امر کو تسلیم کر رہے ہیں کہ نجات، آزادی اور اس پر اظہار تشکر کا یہ مخصوص تعلق محض عرفی یا سیاسی معاملہ نہیں، بلکہ دینی عمل کے دائرے سے متعلق ہے۔ یعنی اگر عاشوراء کو جشن آزادی کی دلیل بنایا جائے تو خود یہ ماننا پڑے گا کہ معاملہ دینی ہے۔

اب اس دینی عمل کی حد شریعت ہی مقرر کرے گی یا انسانی عقل؟ اگر شریعت نے عاشوراء کے روزے کی صورت مقرر کی ہے تو اسی صورت کو مشروع مانا جائے گا۔ شریعت نے یہ نہیں فرمایا کہ ہر قوم اپنی وطنی آزادی کے دن کو سالانہ دینی تہوار بنا لے، مخصوص مراسم مقرر کرے، خوشی کے شعائر ایجاد کرے یا اس دن کو مخصوص اعمال کے لیے خاص کرے۔ پس جس دلیل سے وہ اپنے دعوے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، وہی دلیل ان پر حجت بن جاتی ہے۔

اگر عاشوراء سے جشن آزادی ثابت ہوتا ہے تو ہر مشابہ واقعے پر حکم جاری کرنا لازم ہوگا۔ اگر کہا جائے: موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو آزادی ملی، اس لیے ہر سال اس دن روزہ رکھنا یا خوشی منانا درست ہے۔ تو سوال ہوگا: کیا ہر تاریخی آزادی کے واقعے میں یہی حکم ہوگا؟

مثلا کسی قوم کو دشمن کے قبضے سے نجات ملی، کسی شہر کو فتح حاصل ہوئی، کسی ظالم حکومت کا خاتمہ ہوا، کسی قیدی کو رہائی ملی کیا ان تمام مواقع پر ہر سال ایک مخصوص دن مقرر کرکے اسے خوشی اور عبادت کا دن بنایا جا سکتا ہے؟

اگر جواب "ہاں" ہے تو یہ لازم قول ایک ایسے لامحدود سلسلے کو جنم دیتا ہے جس کی کوئی شرعی حد باقی نہیں رہتی۔ اور اگر جواب "نہیں" ہے تو سوال یہ ہے کہ عاشوراء کو دوسری آزادیوں سے ممتاز کرنے والی شرعی علت کیا ہے؟

اگر عاشوراء کے روزے کی علت کو ہر قسم کی آزادی پر شکر قرار دیا جائے تو پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہی علت شریعت نے معتبر قرار دی ہے۔ پھر یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ اسی علت کی بنا پر ہر دوسری آزادی کے موقع کو سالانہ دینی مناسبت بنانا شرعا جائز ہے۔

عاشوراء کے روزے کا حکم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ چونکہ موسیٰ علیہ السلام کی نجات پر روزہ رکھا گیا، اس لیے ہم اپنی طرف سے کسی بھی آزادی پر روزہ رکھ سکتے ہیں۔ شریعت نے عاشوراء کے روزے کو مشروع کرکے ہمیں بتایا کہ اس مخصوص دن کے ساتھ یہ مخصوص عبادت مشروع ہے۔

اگر عاشوراء کا واقعہ اس معنی میں عام قاعدہ ہوتا کہ کسی قوم کو کسی بڑی مصیبت سے نجات ملے تو اس دن کو ہر سال مخصوص کرکے جشن یا مخصوص اعمال کیے جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر اس اصول کو بیان فرماتے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے واقعے سے یہ کلی ضابطہ اخذ نہیں کیا کہ مسلمان اپنی ہر قومی فتح، آزادی یا سیاسی نجات کے لیے سالانہ دن مقرر کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بے شمار فتوحات اور عظیم کامیابیاں دیکھیں۔ مسلمانوں کو بڑے بڑے دشمنوں سے نجات ملی، عظیم الشان علاقوں میں اسلام غالب ہوا، باطل سلطنتیں شکست کھاتی رہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں ملتا کہ صحابہ نے کسی ایسی فتح یا آزادی کی تاریخ مقرر کرکے اسے سالانہ جشن کا دن بنایا ہو۔

اس لیے ترک نبوی، ترک صحابہ اور ترک سلف اس دعوے کے لیے کم از کم ایک نہایت قوی سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ جس عمل کو آج دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اس کی یہ نئی تعمیم آخر کس شرعی اصل سے ثابت ہوئی؟ عاشوراء کے روزے سے جشن آزادی کا استدلال درحقیقت قیاس مع الفارق، تعمیم بلا دلیل، تعدیہ حکم بلا علت شرعیہ ہے۔

شریعت نے عاشوراء کا روزہ مشروع کیا تو ہم روزہ رکھیں گے؛ لیکن شریعت نے ہر قومی آزادی کے لیے سالانہ جشن یا مخصوص دینی شعیرہ مقرر نہیں کیا، اس لیے محض عاشوراء کے روزے سے ایسی نئی تخصیص ثابت نہیں کی جا سکتی۔

لہٰذا اصول بالکل واضح ہے جو چیز شریعت نے مشروع رکھی ہے، اسے مشروع سمجھا جائے؛ اور جو تخصیص، جشن، عبادت یا سالانہ شعار شریعت نے مشروع نہیں کیا، اسے محض کسی دوسرے مشروع عمل سے قیاس کرکے دین میں داخل نہ کیا جائے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کا روزہ رکھا، اس کی ترغیب دی؛ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کسی عمومی قاعدے میں تبدیل نہیں فرمایا کہ ہر قوم اپنی کسی آزادی یا سیاسی نجات کی تاریخ مقرر کرکے اسے ہر سال خوشی کا دن بنائے۔ نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا کیا، نہ ائمہ سلف سے اس اصول کا کوئی معروف ثبوت ملتا ہے۔

پس عاشوراء دلیل ہے تو اسی عمل کی دلیل ہے جسے شریعت نے عاشوراء کے لیے مشروع کیا؛ اسے ہر قومی آزادی کے لیے سالانہ دینی جشن کی دلیل بنانا شریعت کی طرف ایسی بات منسوب کرنا ہے جس کی شرعی دلیل پیش نہیں کی گئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین میں اپنی طرف سے اضافہ کرنے، قیاس فاسد اور بے دلیل تخصیص سے محفوظ فرمائے، سنت کی اتباع نصیب فرمائے۔ آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top