ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 901
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو کر وفات پانے کا شبہ اور اس کا تحقیقی جائزہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، نبينا محمد، وعلى آله وأصحابه أجمعين، أما بعد:
شیعہ روافض کی جانب سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلاف پیش کیے جانے والے شبہات میں سے ایک مشہور شبہ یہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئی تھیں اور اسی ناراضگی کی حالت میں وفات پائی۔ پھر اس دعوے کو تقویت دینے کے لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رضا سے راضی اور ان کی ناراضگی سے ناراض ہوتا ہے۔
اس مسئلے میں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے خود ان کے مصادر سے منقول روایات کا جائزہ لیا جائے، پھر اہل سنت کی کتب میں وارد روایات کا اصول حدیث کی روشنی میں تحقیقی مطالعہ کیا جائے، اور آخر میں اس دعوے کے لازم نتائج کو خود شیعی مصادر کی روشنی میں بھی دیکھا جائے۔
شیعہ کتابوں میں اس سلسلے میں متعدد روایات منقول ہیں۔ چنانچہ ابن طاووس نے الطرائف میں ایک روایت نقل کی ہے:
«وَمِنْ ذَلِكَ مَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَسْبَاطٍ رَفَعَهُ إِلَى الرِّضَا (ع) أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَوْلَادِ الْبَرَامِكَةِ عَرَضَ لِعَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا (ع)، فَقَالَ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ لَهُ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللهُ، واللهُ أَكْبَرُ، فَأَلَحَّ السَّائِلُ عَلَيْهِ فِي كَشْفِ الْجَوَابِ، فَقَالَ (ع): كَانَتْ لَنَا أُمٌّ صَالِحَةٌ مَاتَتْ وَهِيَ عَلَيْهِمَا سَاخِطَةٌ، وَلَمْ يَأْتِنَا بَعْدَ مَوْتِهَا خَبَرٌ أَنَّهَا رَضِيَتْ عَنْهُمَا».
ترجمہ: ’’اسی سلسلے میں وہ روایت بھی ہے جسے علی بن اسباط نے امام رضا تک پہنچاتے ہوئے روایت کیا ہے کہ برامکہ کی اولاد میں سے ایک شخص امام علی بن موسیٰ رضا کے پاس آیا اور ان سے پوچھا: آپ ابوبکر کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب میں فرمایا: سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ سائل نے اصرار کیا کہ اپنا جواب واضح فرمائیے۔ تو انہوں نے فرمایا: ہماری ایک نیک ماں تھیں، وہ اس حال میں فوت ہوئیں کہ وہ ان دونوں سے ناراض تھیں، اور ان کی وفات کے بعد ہمیں ایسی کوئی خبر نہیں پہنچی کہ وہ ان دونوں سے راضی ہوگئی ہوں۔‘‘
[الطرائف في معرفة مذهب الطوائف، ابن طاووس، 1/252]
اسی طرح کتاب السقیفۃ وفدک میں ہے:
«وحدثني المؤمل بن جعفر قال: حدثني محمد بن ميمون، عن داود بن المبارك قال: أتينا عبد الله بن موسى بن عبد الله بن حسن بن الحسين، ونحن راجعون من الحج في جماعة، فسألناه عن مسائل، وكنت أحد من سأله، فسألته عن أبي بكر وعمر فقال: سألت جدي عبد الله بن الحسن بن الحسن عن هذه المسألة، فقال: كانت أمي صديقةً بنتَ نبي مرسل، فماتت وهي غضبى على إنسان، فنحن غضاب لغضبها، وإذا رضيت رضينا».
ترجمہ: ’’مجھے مؤمل بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے محمد بن میمون نے داؤد بن مبارک سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم حج سے واپس آتے ہوئے ایک جماعت کی صورت میں عبداللہ بن موسیٰ بن عبداللہ بن حسن بن حسین کے پاس پہنچے۔ ہم نے ان سے مختلف مسائل دریافت کیے اور میں بھی ان سے سوال کرنے والوں میں شامل تھا۔ میں نے ان سے ابوبکر اور عمر کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے دادا عبداللہ بن حسن بن حسن سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا تھا، تو انہوں نے فرمایا: میری والدہ ایک صدیقہ تھیں، ایک مرسل نبی کی بیٹی تھیں، وہ ایک شخص سے ناراض حالت میں وفات پاگئیں، پس ہم ان کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہیں، اور جب وہ راضی ہوں گی تو ہم بھی راضی ہوں گے۔‘‘
[السقیفۃ وفدک، ابوبکر الجوہری، 1/118]
اسی طرح شیعوں نے اہل سنت کی کتب، بالخصوص صحیحین وغیرہ میں وارد بعض روایات سے بھی استدلال کیا ہے، جن کا ذکر ہم دوران بحث کریں گے۔ ان شاء اللہ
اولاً: خود شیعہ مصادر کی مندرجہ بالا روایات سندا صحیح نہیں
جن روایات کو انہوں نے اپنی کتب سے پیش کیا ہے، وہ خود ان کے اصول رجال کے مطابق بھی صحیح ثابت نہیں ہوتیں۔ پہلی روایت منقطع الاسناد ہے۔
اور جہاں تک کتاب السقیفۃ وفدک کی روایت کا تعلق ہے تو اس کے اکثر راوی مجہول ہیں۔ داؤد بن مبارک اور مؤمل بن جعفر کے متعلق مجھے کتب رجال میں کوئی مستقل ترجمہ نہیں ملا، جبکہ عبداللہ بن موسیٰ بن عبداللہ بن حسن کا ذکر شاہ رودى نے مستدرکات علم رجال الحدیث میں کیا ہے، لیکن ان کے بارے میں نہ جرح بیان کی ہے اور نہ تعدیل۔
[مستدرکات علم رجال الحدیث، النمازی الشاہرودی، 5/118]
لہٰذا شیعی اصول رجال کے اعتبار سے بھی یہ شخص مجہول الحال ہے۔ جہاں تک اہل سنت کی روایات سے ان کے استدلال کا تعلق ہے، تو انہوں نے ایک مشہور روایت پیش کی ہے جو صحیحین وغیرہ میں وارد ہوئی ہے۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:
«حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم، مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ»
مجھے محمد بن رافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں حجین نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ انہوں نے انہیں خبر دی کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکے میں سے اپنا حصہ طلب کیا، یعنی مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے جو مال اپنے رسول کو عطا فرمایا تھا، فدک اور خیبر کے خمس میں جو باقی تھا۔
«فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَالِ»، وَإِنِّي وَاللهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم»
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہم انبیاء میراث نہیں چھوڑتے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مال میں سے صرف اپنا خرچ لیتے ہیں۔ اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا، جس حالت پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا، اسی حالت پر اسے رکھوں گا، اور اس میں وہی عمل کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔
«فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلًا»
چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس میں سے کچھ دینے سے انکار کردیا۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس معاملے میں رنج ہوا۔ راوی نے کہا: پھر انہوں نے ان سے قطع تعلق کیا اور ان سے وفات تک گفتگو نہ کی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت دفن کیا۔
[صحیح مسلم، 3/1380]
اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے:
«فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا المَالِ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ، قَالَ: فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ».
ترجمہ: ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ہم میراث نہیں چھوڑتے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مال میں سے اپنا خرچ لیتے ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کام کرتے ہوئے دیکھ چکا ہوں، اسے ہرگز ترک نہیں کروں گا بلکہ وہی عمل کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے قطع تعلق کیا اور وفات تک ان سے گفتگو نہیں کی۔‘‘
[صحیح البخاری، 8/149]
اہلِ علم نے اس جملے: «فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ» کے بارے میں اختلاف کیا ہے کہ آیا یہ امام زہری کا مدرج کلام ہے یا ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے؟ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ مدرج اور غیر مدرج عبارت میں امتیاز کس طرح کیا جاتا ہے۔
علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«فَأَمَّا مُدْرَجُ الْمَتْنِ: فَتَارَةً يَكُونُ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ، كَمَا ذَكَرَهُ، وَتَارَةً فِي أَوَّلِهِ، وَتَارَةً فِي وَسَطِهِ، كَمَا ذَكَرَهُ الْخَطِيبُ، وَغَيْرُهُ. وَالْغَالِبُ وُقُوعُ الْإِدْرَاجِ آخِرَ الْخَبَرِ، وَوُقُوعُهُ أَوَّلَهُ أَكْثَرُ مِنْ وَسَطِهِ؛ لِأَنَّ الرَّاوِيَ يَقُولُ كَلَامًا يُرِيدُ أَنْ يَسْتَدِلَّ عَلَيْهِ بِالْحَدِيثِ، فَيَأْتِي بِهِ بِلَا فَصْلٍ، فَيُتَوَهَّمُ أَنَّ الْكُلَّ حَدِيثٌ».
ترجمہ: ’’رہی متن میں ادراج کی صورت تو کبھی مدرج کلام حدیث کے آخر میں ہوتا ہے، جیسا کہ اس کی مثال بیان کی گئی ہے، اور کبھی شروع میں، اور کبھی درمیان میں، جیسا کہ خطیب اور دوسرے محدثین نے ذکر کیا ہے۔ اور عام طور پر ادراج خبر کے آخر میں واقع ہوتا ہے، جبکہ شروع میں اس کا واقع ہونا درمیان کے مقابلے میں زیادہ ہے؛ کیونکہ راوی کبھی ایسی بات کہتا ہے جس سے وہ حدیث کے ذریعے استدلال کرنا چاہتا ہے، پھر وہ اسے بغیر کسی فصل کے حدیث کے ساتھ ملا دیتا ہے، جس سے سننے والے کو یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ پوری عبارت حدیث ہی ہے۔‘‘
[تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي، السيوطي، 1/317]
پھر فرماتے ہیں:
«وَيُدْرَكُ ذَلِكَ بِوُرُودِهِ مُنْفَصِلًا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى، أَوْ بِالتَّنْصِيصِ عَلَى ذَلِكَ مِنَ الرَّاوِي، أَوْ بَعْضِ الْأَئِمَّةِ الْمُطَّلِعِينَ، أَوْ بِاسْتِحَالَةِ كَوْنِهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ذَلِكَ».
ترجمہ: ’’اور مدرج کلام کی پہچان اس طرح بھی ہوتی ہے کہ وہ کسی دوسری روایت میں الگ ہو کر وارد ہوا ہو، یا خود راوی یا کسی مطلع امام نے اس بات کی صراحت کی ہو، یا اس عبارت کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کہنا ناممکن ہو۔‘‘
[تدريب الراوي، 1/315]
علامہ صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«واعلم أن الطريق إلى معرفة المدرج من وجوه: ... الثالث: أن يصرح بعض الرواة بتفصيل المدرج فيه عن المتن المرفوع بإضافته إلى قائله».
ترجمہ: ’’جان لو کہ مدرج روایت کی معرفت کے کئی طریقے ہیں۔۔۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ بعض راوی مدرج عبارت کو مرفوع متن سے الگ کرکے اس کے قائل کی طرف منسوب کرنے کی صراحت کردے۔‘‘
[توضيح الأفكار لمعاني تنقيح الأنظار، الصنعاني، 2/47-48]
جب مدرج کی پہچان کا طریقہ معلوم ہوگیا تو یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ امام زہری رحمہ اللہ سے ادراج کا وقوع معروف ہے۔
خطیب بغدادی نے اپنی کتاب الفصل للوصل المدرج في النقل میں امام زہری سے مروی تقریبا تیس احادیث ذکر کی ہیں جن میں انہوں نے ان کے ادراج کو واضح کیا ہے۔ یہاں تک کہ امام زہری کے شاگرد انہیں اس عمل سے منع بھی کیا کرتے تھے۔ یہ چیز کسی حد تک تدلیس سے مشابہ ہے، لیکن اسے تدلیس متن کہا جاتا ہے۔
علامہ زرکشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وَأما تَدْلِيسُ الْمُتُونِ فَهُوَ الَّذِي يُسَمِّيه المحدثونَ (المدرجَ)، وَهُوَ: أَن يُدرج فِي كَلَامِ النَّبِي صلى الله عليه وسلم كَلَامَ غَيره، فيظن السَّامع أَن الْجَمِيع من كَلَام النَّبِي صلى الله عليه وسلم».
ترجمہ: ’’رہا متون کا تدلیس کرنا تو محدثین اسے مدرج کہتے ہیں، اور اس سے مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں کسی دوسرے شخص کا کلام شامل کردیا جائے، جس سے سننے والا یہ گمان کرے کہ پوری عبارت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کلام ہے۔‘‘
[النكت على مقدمة ابن الصلاح، الزركشي، 2/113]
«فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ» والی روایت، یعنی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہجران کے واقعے کو امام زہری سے صالح بن کیسان، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد، معمر بن راشد، اسحاق بن راشد اور ولید بن محمد الموقری نے روایت کیا ہے۔
اور معمر نے اپنی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے کلام، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کلام اور امام زہری کے کلام کے درمیان امتیاز کیا ہے۔
صحیح بخاری میں معمر کی روایت بھی موجود ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: «قال: فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ». یعنی: ’’انہوں نے کہا: پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کنارہ کشی اختیار کی اور وفات تک ان سے گفتگو نہیں کی۔‘‘
اور عبدالرزاق کے ہاں یہ روایت مزید تفصیل کے ساتھ آئی ہے:
«عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم -وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكَ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرٍ-»
ترجمہ: معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ فاطمہ اور عباس رضی اللہ عنہما ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ترکے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت وہ فدک میں آپ کی زمین اور خیبر میں آپ کے حصے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
«فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مِنْ هَذَا المَالِ»، وَإِنِّي وَاللهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُهُ إِلَّا صَنَعْتُهُ»
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’ہم میراث نہیں چھوڑتے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مال میں سے اپنا خرچ لیتے ہیں۔‘ اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس کام کو کرتے ہوئے دیکھ چکا ہوں اسے ترک نہیں کروں گا بلکہ وہی کروں گا۔
«قَالَ: فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى مَاتَتْ، فَدَفَنَهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ»
راوی کہتے ہیں: پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کنارہ کشی اختیار کی اور اس معاملے میں وفات تک ان سے گفتگو نہیں کی۔ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت دفن کیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی وفات کی اطلاع نہیں دی۔
«قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ حَيَاةَ فَاطِمَةَ حَظْوَةٌ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ انْصَرَفَتْ وُجُوهُ النَّاسِ عَنْهُ، فَمَكَثَتْ فَاطِمَةُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ تُوُفِّيَتْ»
عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں لوگوں کی طرف سے علی رضی اللہ عنہ کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا وفات پاگئیں تو لوگوں کے چہرے علی رضی اللہ عنہ سے پھر گئے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں، پھر وفات پاگئیں۔
«قَالَ مَعْمَرٌ: فَقَالَ رَجُلٌ لِلزُّهْرِيِّ: فَلَمْ يُبَايِعْهُ عَلِيٌّ سِتَّةَ أَشْهُرٍ؟ قَالَ: لَا، وَلَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ حَتَّى بَايَعَهُ عَلِيٌّ، فَلَمَّا رَأَى عَلِيٌّ انْصِرَافَ وُجُوهِ النَّاسِ عَنْهُ، أَسْرَعَ إِلَى مُصَالَحَةِ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ...»
معمر کہتے ہیں: ایک شخص نے زہری سے پوچھا: کیا علی رضی اللہ عنہ نے چھ ماہ تک ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، نہ ہی بنی ہاشم میں سے کسی نے اس وقت تک بیعت کی تھی، یہاں تک کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیعت کرلی۔ پھر جب علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگوں کے چہرے ان سے پھر رہے ہیں تو انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مصالحت کے لیے جلدی کی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا۔۔۔
[مصنف عبدالرزاق، 5/471]
عبدالرزاق نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ان سے محمد بن یحییٰ اور محمد بن علی صنعانی نے بھی اسے نقل کیا۔ ابوعوانہ نے اپنی مسند میں (6679)، ابوصالح شراری اور اسحاق دبری نے بھی اسے نقل کیا، جسے طبری نے اپنی تاریخ میں (2/236) ذکر کیا ہے۔ احمد بن منصور نے بیہقی کے ہاں (6/300) اسے نقل کیا ہے۔
اور عبدالرزاق کی متابعت محمد بن ثور نے معمر سے کی ہے، جیسا کہ اخبار المدینۃ لابن شبہ (1/122، ح549) میں ہے۔ نیز ہشام بن یوسف صنعانی نے بھی بخاری (6346) میں اس کی متابعت کی ہے۔ لیکن مروزی نے مسند ابی بکر (38) میں یہ روایت اس طرح نقل کی:
«قالت: فهجرته فاطمة فلم تكلمه في ذلك حتى ماتت، فدفنها علي ليلًا ولم يؤذن بها أبو بكر، قالت: فكان لعلي وجه من الناس حياة فاطمة رضي الله عنها، فلما توفيت فاطمة انصرفت وجوه الناس عن علي، فمكثت فاطمة ستة أشهر بعد رسول الله ثم توفيت، قال معمر: فقال رجل للزهري رحمه الله: فلم يبايعه ستة أشهر، قال: لا ولا أحد من بني هاشم حتى بايعه علي».
ترجمہ: ’’اس نے کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کنارہ کشی کی اور اس معاملے میں وفات تک ان سے گفتگو نہیں کی۔ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت دفن کیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی وفات کی اطلاع نہیں دی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں میں ایک مقام حاصل تھا، پھر جب فاطمہ رضی اللہ عنہا وفات پاگئیں تو لوگوں کے چہرے علی رضی اللہ عنہ سے پھر گئے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں، پھر وفات پاگئیں۔ معمر کہتے ہیں: ایک شخص نے زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: تو کیا انہوں نے چھ ماہ تک ان کی بیعت نہیں کی؟ انہوں نے کہا: نہیں، نہ ہی بنی ہاشم میں سے کسی نے، یہاں تک کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیعت کی۔‘‘
لیکن اس روایت میں «قالت: فهجرته فاطمة» کے الفاظ ہیں، جبکہ دیگر روایات میں «قال: فهجرته فاطمة» ہے۔ اس روایت میں نظر ہے؛ کیونکہ عبدالرزاق سے اسے نقل کرنے والے:
- محمد بن یحییٰ،
- محمد بن علی صنعانی،
- ابوصالح شراری،
- اسحاق بن ابراہیم دبری،
- احمد بن منصور،
بلکہ شعیب، عقیل اور صالح بن کیسان کی روایت میں بھی «قال» کے الفاظ ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس جملے کا فاعل مرد ہے، عورت نہیں۔ لہٰذا یہ امام زہری کے کلام کا مدرج حصہ قرار پاتا ہے۔
اور اس کے برخلاف آنے والی روایت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اصول یہ ہے کہ جو روایت کسی مجمل امر کی وضاحت کرے، وہ مجمل روایت پر مقدم ہوتی ہے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے قطع تعلق کیا اور وفات تک ان سے گفتگو نہیں کی، دراصل امام زہری کے کلام سے ہے، اور اسے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مستقل قول یا ان کا عمل قرار دینا صحیح نہیں۔
اگر بالفرض یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا کلام ہے، تب بھی اس کا مفہوم واضح ہے؛ کیونکہ حدیث میں آنے والا لفظ: «وَجَدَتْ عَلَيْهِ» لازما اللہ کے لیے بغض اور شرعی دشمنی کے معنی میں نہیں ہوتا، بلکہ اس سے محض ایک ایمانی عتاب اور رنج مراد ہوسکتا ہے، اور ایسی کیفیت ان لوگوں کو بھی لاحق ہوسکتی ہے جن کے درمیان انتہائی محبت و مودت ہو۔
اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف فقہی نوعیت کا تھا، عقیدے کا نہیں۔ خود شیعی عالم علی شہرستانی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں:
«إنَّ أوَّل اختلاف فقهيٍّ حصل بعد وفاة الرسول الأكرم صلى الله عليه وآله وسلم كان الاختلاف بين فاطمة الزهراء بنت رسول الله، وبين الخليفة أبي بكر، ... فكان هذا أوَّل خلاف بين المسلمين في القضاء والشهادات».
ترجمہ: ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد پیدا ہونے والا پہلا فقہی اختلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ زہرا اور خلیفہ ابوبکر کے درمیان تھا۔۔۔ پس یہ مسلمانوں کے درمیان قضا اور شہادتوں کے مسئلے میں پیدا ہونے والا پہلا اختلاف تھا۔‘‘
[منع تدوين الحديث، الشهرستاني، 1/424]
پس جب خود شیعی عالم اسے فقہی اختلاف قرار دے رہا ہے تو اسے عقیدے، بغض، دشمنی یا دینی عداوت کا مسئلہ بنانا درست نہیں۔
فقہی اختلاف کی بنا پر باہمی بغض اور قطع تعلق لازم نہیں آتا، ورنہ لازم آئے گا کہ شیعہ کے تمام فقہاء ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیں، کیونکہ کوئی ایسا عالم نہیں جس کے بعض فقہی مسائل دوسرے عالم سے مختلف نہ ہوں۔
لہٰذا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اس وجد اور ہجران کو اسی معاملے میں عتاب اور گفتگو ترک کرنے پر محمول کیا جائے گا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وَقَدْ قَالَ بَعْضُ الْأَئِمَّةِ: إِنَّمَا كَانَتْ هِجْرَتُهَا انْقِبَاضًا عَنْ لِقَائِهِ وَالِاجْتِمَاعِ بِهِ، وَلَيْسَ ذَلِكَ مِنَ الْهِجْرَانِ الْمُحَرَّمِ؛ لِأَنَّ شَرْطَهُ أَنْ يَلْتَقِيَا فَيُعْرِضُ هَذَا وَهَذَا، وَكَأَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ لَمَّا خَرَجَتْ غَضْبَى مِنْ عِنْدِ أَبِي بَكْرٍ تَمَادَتْ فِي اشْتِغَالِهَا بِحُزْنِهَا ثُمَّ بِمَرَضِهَا، وَأَمَّا سَبَبُ غَضَبِهَا مَعَ احْتِجَاجِ أَبِي بَكْرٍ بِالْحَدِيثِ الْمَذْكُورِ فَلِاعْتِقَادِهَا تَأْوِيلَ الْحَدِيثِ عَلَى خِلَافِ مَا تَمَسَّكَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَكَأَنَّهَا اعْتَقَدَتْ تَخْصِيصَ الْعُمُومِ فِي قَوْلِهِ: «لَا نُورَثُ» وَرَأَتْ أَنَّ مَنَافِعَ مَا خَلَّفَهُ مِنْ أَرْضٍ وَعَقَارٍ لَا يَمْتَنِعُ أَنْ تُورَثَ عَنْهُ، وَتَمَسَّكَ أَبُو بَكْرٍ بِالْعُمُومِ، وَاخْتَلَفَا فِي أَمْرٍ مُحْتَمِلٍ لِلتَّأْوِيلِ، فَلَمَّا صَمَّمَ عَلَى ذَلِكَ انْقَطَعَتْ عَنْ الِاجْتِمَاعِ بِهِ لِذَلِكَ».
ترجمہ: ’’بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ ان کا ہجران دراصل ان سے ملاقات اور اجتماع سے گریز تھا، اور یہ وہ حرام ہجران نہیں جس سے شریعت نے منع کیا ہے؛ کیونکہ حرام ہجران کی شرط یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے ملیں اور یہ اس سے اور وہ اس سے منہ پھیر لے۔ اور غالبا فاطمہ رضی اللہ عنہا جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ناراض ہو کر واپس آئیں تو وہ پہلے اپنے غم اور پھر اپنی بیماری میں مشغول رہیں۔ رہی ان کی ناراضگی کی وجہ، باوجود اس کے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مذکورہ حدیث سے استدلال کیا تھا، تو اس کی وجہ یہ تھی کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث کی ایسی تاویل سمجھی جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے استدلال کے خلاف تھی۔ گویا انہوں نے ’ہم میراث نہیں چھوڑتے‘ کے عمومی حکم میں تخصیص سمجھی اور ان کی رائے یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو زمین اور جائیداد چھوڑی ہے، اس کے منافع کا ورثہ میں منتقل ہونا ممنوع نہیں۔ جبکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حدیث کے عموم کو اختیار کیا۔ دونوں نے ایک ایسے مسئلے میں اختلاف کیا جو تاویل کی گنجائش رکھتا تھا۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے موقف پر اصرار کیا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اسی وجہ سے ان سے ملاقات ترک کردی۔‘‘
[فتح الباري، ابن حجر، 6/202]
ثانیاً: اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ناراضگی ثابت بھی ہو تو خطا کس کی ہوگی؟
بالفرض اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس معاملے میں ناراض ہوئیں، تو یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہے، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مخالفت مقصود نہیں ہوسکتی۔
لہٰذا اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کسی عمل کے نتیجے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رنج ہوا بھی ہو تو محض اس رنج سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا شرعی خطاکار ہونا لازم نہیں آتا؛ بلکہ اگر کسی ایسے شرعی حکم پر عمل کیا جائے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت سمجھتے تھے تو محض کسی کی ناراضگی اس حکم کو حرام نہیں بنا دیتی۔
بلکہ خود شیعہ علماء نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ کسی مباح عمل سے کسی مؤمن کو ایذا پہنچنے کی صورت میں بھی محض ایذا کی وجہ سے وہ مباح عمل حرام نہیں ہوجاتا۔
خوئی نے المباني في شرح العروة الوثقى میں لکھا ہے:
«بل حتى لو فرض كونه إيذاءً لها -أي فاطمة- فإنَّه لا دليل على حرمة الفعل المباح المقتضي لإيذاء المؤمن قهرًا، على ما ذكرنا في محلِّه، وحيث إنَّ المقام من هذا القبيل؛ لأنَّ التزوُّج بالثانية أمرٌ مباح في حدِّ نفسه، فمجرد تأذي فاطمة عليها السلام لا يقتضي حرمته».
ترجمہ: ’’بلکہ اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ اس سے فاطمہ کو ایذا پہنچتی تھی، تب بھی اس مباح عمل کی حرمت پر کوئی دلیل نہیں جو کسی مؤمن کو اضطراری طور پر ایذا پہنچانے کا سبب بنے، جیسا کہ ہم اس کی اپنی جگہ تفصیل بیان کرچکے ہیں۔ چونکہ یہ مسئلہ بھی اسی قبیل سے ہے، کیونکہ دوسری عورت سے نکاح فی نفسہٖ ایک مباح امر ہے، لہٰذا محض فاطمہ علیہا السلام کے رنجیدہ ہونے سے اس کی حرمت لازم نہیں آتی۔‘‘
[المباني في شرح العروة الوثقى، الخوئي، 2/364]
جب شیعی اصول کے مطابق مباح عمل محض کسی کو ایذا پہنچنے سے حرام نہیں ہوجاتا، تو پھر اس صورت میں کیا کہا جائے گا جب معاملہ صرف مباح کا نہ ہو بلکہ کسی شرعی حکم اور واجب اتباع سنت کا ہو؟
ثالثاً: فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حرام ہجران کرنا ثابت نہیں
یہ بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ایسا شرعی ہجران کیا جو حرام ہو۔ اس لیے کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرسکتیں، خصوصا جبکہ خود شیعی مصادر میں امام ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے: «لا هجرة فوق ثلاث». ترجمہ: ’’تین دن سے زیادہ ہجران نہیں۔‘‘
[الكافي، الكليني، 4/55]
مجلسى نے اس کی شرح میں لکھا:
«وظاهره أنه لو وقع بين أخوين من أهل الإيمان موجدة أو تقصير في حقوق العشرة والصحبة، وأفضى ذلك إلى الهجرة؛ فالواجب ألَّا يبقوا عليها فوق ثلاث ليال».
ترجمہ: ’’اس کا ظاہر یہ ہے کہ اگر اہل ایمان کے دو بھائیوں کے درمیان باہمی رنج یا باہمی میل جول اور صحبت کے حقوق میں کوئی کوتاہی واقع ہوجائے اور اس کے نتیجے میں ہجران پیدا ہوجائے، تو واجب ہے کہ وہ تین راتوں سے زیادہ اس ہجران پر قائم نہ رہیں۔‘‘
[مرآة العقول، المجلسي، 10/360]
لہٰذا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہجران کو خاص طور پر میراث کے مسئلے میں گفتگو ترک کرنے پر محمول کرنا ضروری ہے۔
امام ترمذی نے روایت کیا ہے:
«حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «إِنِّي لَا أُورَثُ» قَالَتْ: وَاللهِ لَا أُكَلِّمُكُمَا أَبَدًا، فَمَاتَتْ وَلَا تُكَلِّمُهُمَا، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى: مَعْنَى لَا أُكَلِّمُكُمَا؛ تَعْنِي فِي هَذَا الْمِيرَاثِ أَبَدًا، أَنْتُمَا صَادِقَانِ».
ترجمہ: ’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکے میں اپنا حصہ طلب کیا۔ دونوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’مجھے میراث نہیں دی جاتی۔‘ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں آئندہ کبھی تم دونوں سے بات نہیں کروں گی۔ چنانچہ وہ وفات پاگئیں اور ان دونوں سے گفتگو نہ کی۔ علی بن عیسیٰ کہتے ہیں: ’میں تم دونوں سے گفتگو نہیں کروں گی‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس میراث کے معاملے میں کبھی گفتگو نہیں کروں گی۔ تم دونوں سچے ہو۔‘‘
[سنن الترمذي، 3/255، تحقیق بشار]
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وأما ما ذكر من هجران فاطمة أبا بكر فمعناه انقباضها عن لقائه، وليس هذا من الهجران المحرم، الذي هو ترك السلام والإعراض عند اللقاء، وقوله في هذا الحديث: «فلم تكلمه» يعني: في هذا الأمر، أو لانقباضها لم تطلب منه حاجة ولا اضطرت إلى لقائه فتكلمه، ولم ينقل قط أنهما التقيا فلم تسلم عليه ولا كلمته».
ترجمہ: ’’فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہجران کے بارے میں جو ذکر کیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان سے ملاقات سے گریز کرتی تھیں۔ یہ وہ حرام ہجران نہیں جو سلام چھوڑ دینے اور ملاقات کے وقت منہ پھیرنے کا نام ہے۔ اور اس حدیث میں جو فرمایا گیا ہے کہ ’انہوں نے ان سے گفتگو نہیں کی‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں گفتگو نہیں کی، یا اس لیے کہ وہ ان سے ملنے سے گریز کرتی تھیں، اس لیے انہیں کسی حاجت کے لیے ان سے ملنے اور گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ اور کبھی یہ نقل نہیں کیا گیا کہ دونوں کی ملاقات ہوئی ہو اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں سلام نہ کیا ہو یا ان سے گفتگو نہ کی ہو۔‘‘
[شرح صحيح مسلم، 12/73]
علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ حدیث کی شرح میں فرمایا:
«ثم إنها (أي فاطمة) لم تلتقِ بأبي بكر لشغلها بمصيبتها برسول الله، ولملازمتها بيتها، فعبر الراوي عن ذلك بالهجران، وإلا فقد قال رسول الله: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ»، وهي أعلم الناس بما يحل من ذلك ويحرم، وأبعد الناس عن مخالفة رسول الله».
ترجمہ: ’’پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صدمے میں مشغول ہونے اور اپنے گھر میں رہنے کی وجہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نہیں مل سکیں۔ راوی نے اس کیفیت کو ہجران سے تعبیر کردیا۔ ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ہجران کرے۔‘ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا اس بات کو سب سے زیادہ جاننے والی تھیں کہ اس میں کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے سب سے زیادہ دور تھیں۔‘‘
[صحيح البخاري، 10/492؛ صحيح مسلم، 4/1984]
رابعاً: کتب اہل سنت اور کتب شیعہ دونوں سے ثابت ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرلیا تھا
یہ امر بھی ثابت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رضامندی حاصل کی اور وہ ان سے راضی ہوگئیں۔
شعبی رحمہ اللہ سے صحیح طور پر منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا:
«لَمَّا مَرِضَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رضي الله عنه فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رضي الله عنه: يَا فَاطِمَةُ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكِ، فَقَالَتْ: أَتُحِبُّ أَنْ آذَنَ لَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَتْ لَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَتَرَضَّاهَا وَقَالَ: «وَاللهِ مَا تَرَكْتُ الدَّارَ وَالْمَالَ وَالْأَهْلَ وَالْعَشِيرَةَ إِلَّا ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللهِ وَمَرْضَاةِ رَسُولِهِ وَمَرْضَاتِكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ»، ثُمَّ تَرَضَّاهَا حَتَّى رَضِيَتْ».
ترجمہ: ’’جب فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فاطمہ! ابوبکر آپ سے اندر آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں انہیں اجازت دے دوں؟ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔ چنانچہ انہوں نے انہیں اجازت دے دی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور انہیں راضی کرنے کی کوشش کی اور فرمایا: ’اللہ کی قسم! میں نے اپنا گھر، مال، اہل و عیال اور خاندان صرف اللہ کی رضا، اس کے رسول کی رضا اور تم اہل بیت کی رضا حاصل کرنے کے لیے چھوڑا ہے۔‘ پھر وہ انہیں راضی کرتے رہے یہاں تک کہ وہ راضی ہوگئیں۔‘‘
[السنن الكبرى، البيهقي، 6/491]
یہ روایت مرسل حسن ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ شعبی کی مرسل روایت کو اہل علم نے صحیح قرار دیا ہے۔
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«إذا حدث الشعبيُّ عن رجل فسماه فهو ثقة يحتج بحديثه».
ترجمہ: ’’جب شعبی کسی شخص سے حدیث بیان کریں اور اس کا نام ذکر کریں تو وہ شخص ثقہ ہے اور اس کی حدیث سے حجت قائم کی جائے گی۔‘‘
[الجرح والتعديل، ابن أبي حاتم، 6/323]
اور عجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«مرسل الشعبي صحيح، لا يرسل إلا صحيحًا صحيحًا».
ترجمہ: ’’شعبی کی مرسل روایت صحیح ہے، وہ صرف صحیح، بالکل صحیح روایت ہی ارسال کرتے ہیں۔‘‘
[الثقات، العجلي، ص244]
صرف اہل سنت کی کتابوں ہی میں یہ امر نہیں ملتا بلکہ شیعی کتب میں بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے رضامندی کا ذکر موجود ہے۔
شرح نہج البلاغہ میں ہے:
«كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأخذ من فدَك قوتكم ويقسم الباقي ويحمل منه في سبيل الله، ولك عليَّ أن أصنع بها كما كان يصنع، فرضيت بذلك وأخذت العهد عليه به».
ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فدک سے تمہارے کھانے کے بقدر لے لیتے تھے اور باقی تقسیم کردیتے تھے، اور اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ اور تم سے میرا عہد ہے کہ میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ پس وہ اس پر راضی ہوگئیں اور انہوں نے اس بارے میں ان سے عہد لے لیا۔‘‘
[شرح نهج البلاغة، ميثم البحراني، 5/101]
خامساً: «إن الله يغضب لغضبك ويرضى لرضاك» والی روایت صحیح نہیں
جہاں تک اس مشہور روایت کا تعلق ہے: «إن الله يغضب لغضبك ويرضى لرضاك» ’’بے شک اللہ تمہاری ناراضگی سے ناراض اور تمہاری رضا سے راضی ہوتا ہے۔‘‘ تو یہ روایت نہ سندا صحیح ہے اور نہ متنا۔
سند کے اعتبار سے اس روایت کی تمام اسانید ضعیف طریقوں سے آئی ہیں اور ان میں اکثر روایتیں حسین بن زید کے طریق سے ہیں۔
امام حاکم رحمہ اللہ نے اپنی سند سے روایت کیا:
«حُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم لِفَاطِمَةَ: «إِنَّ اللهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِكِ وَيَرْضَى لِرَضَاكِ».
امام حاکم نے کہا: «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ».
ترجمہ:’’یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔‘‘
[المستدرك، 3/167، حدیث 4730]
لیکن حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس پر تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: «بل حسين بن زيد منكر الحديث». ترجمہ: ’’بلکہ حسین بن زید منکر الحدیث ہے۔‘‘
[المستدرك، 3/167]
علامہ ابوطاہر مقدسی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت اور اس کی سند ذکر کرنے کے بعد فرمایا: «وَهَذَا يرويهِ حُسَيْنٌ هَذَا، وَهُوَ مُنكرُ الحَدِيث». ترجمہ: ’’اس روایت کو یہی حسین روایت کرتا ہے، اور وہ منکر الحدیث ہے۔‘‘
[ذخيرة الحفاظ، أبو الفضل المقدسي، 2/783]
ڈاکٹر ابراہیم المدیہش نے اپنی موسوعہ میں اس حدیث کی تخریج کے سلسلے میں تفصیلی بحث کی ہے اور اس کی متعدد طرق جمع کیے ہیں۔ آخر میں وہ لکھتے ہیں:
«الحكم على الحديث: الراجح في الحديث الوجه المرسل؛ لترجيح الإمام الدارقطني، والضعف في الحديث من حسين بن زيد، وهو مِمَّا أُنكر عليه -كما سبق في قول ابن عدي والذهبي-، وقد اضطرب فيه فرواه من وجوه عدة، وزيادةً على ضَعفِه، فإنَّ في الوجه الثاني عليَّ بنَ عُمر بن علي، وفيه ضعف كما سبق، وفي الثالث شذوذًا لمخالفة رواية الباقين؛ حيث رواه عن أبيه، وجعله من مسند الحسين». پھر فرمایا: «لا يصح في المبحث حديث».
ترجمہ: ’’اس حدیث کے بارے میں راجح بات یہ ہے کہ اس میں مرسل طریق زیادہ صحیح ہے، کیونکہ امام دارقطنی نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ حدیث میں ضعف حسین بن زید کی وجہ سے ہے، اور یہ انہی کی ان منکرات میں سے ہے جن کی ان پر نکیر کی گئی ہے، جیسا کہ ابن عدی اور ذہبی کے اقوال میں گزر چکا ہے۔ نیز انہوں نے اس حدیث کو متعدد طریقوں سے روایت کیا ہے اور اس میں اضطراب واقع ہوا ہے۔ مزید برآں دوسرے طریق میں علی بن عمر بن علی موجود ہے، جس میں ضعف ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا، اور تیسرے طریق میں شذوذ ہے کیونکہ وہ دیگر راویوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسے اپنے والد سے روایت کرتا ہے اور اسے حسین کی مسند سے قرار دیتا ہے۔‘‘ پھر انہوں نے فیصلہ کن طور پر کہا: ’’اس بحث میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں۔‘‘
[فاطمة بنت النبي صلى الله عليه وسلم سيرتها، فضائلها، مسندها، 5/250]
متن کے اعتبار سے بھی یہ روایت قابل قبول نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مطلق رضا اور مطلق غضب کو کسی غیر معصوم شخص کی رضا اور غضب کے ساتھ اس طرح معلق کرنا درست نہیں کہ اس شخص کا ہر غضب لازما اللہ کا غضب قرار پائے۔
بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ آذَيْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَصَلَاةً».
ترجمہ: ’’میں بھی ایک انسان ہوں، جیسے انسان غصہ کرتا ہے میں بھی غصہ کرتا ہوں۔ پس جس شخص کو میں نے کوئی ایذا دی یا اسے کوڑا مارا تو اے اللہ! اسے اس کے لیے زکاۃ اور پاکیزگی بنا دے۔‘‘
[مسند أحمد، 12/262]
پس کسی غیر معصوم انسان کا ہر غضب لازما اللہ تعالیٰ کے غضب کا موجب قرار دینا درست نہیں۔
سادساً: بالفرض حدیث صحیح بھی ہو تو ہر غضب مراد نہیں
بالفرض اگر یہ حدیث صحیح بھی تسلیم کرلی جائے تو ہم یہ کہیں گے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ہر غضب لازما اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب کا سبب نہیں ہوسکتا۔ بلکہ دوسرے تمام نصوص وعید کی طرح یہاں بھی شروط کا تحقق اور موانع کا انتفاء ضروری ہوگا۔
غصہ انسانی فطرت کا حصہ ہے، اور غصہ کبھی حق کی بنیاد پر ہوتا ہے اور کبھی باطل کی بنیاد پر۔ اگر غصہ کسی باطل وجہ سے ہو تو قطعا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کے نتیجے میں لازما وہ شرعی وعید بھی متحقق ہوجائے گی جو اس غلط عمل کے بارے میں وارد ہوئی ہے۔
مثلا کوئی شخص کسی گناہ کا ارتکاب تاویل یا جہالت کی وجہ سے کرے تو محض گناہ کے واقع ہوجانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس شخص پر وعید بھی قطعی طور پر متحقق ہوگئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے: «رِضَا الرَّبِّ فِي رِضَا الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ». ترجمہ: ’’رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔‘‘
[صحيح الأدب المفرد، ص33]
اب کیا یہ کہا جائے گا کہ والد کا اپنے بیٹے سے ہر قسم کا غضب لازما اللہ تعالیٰ کے غضب کا موجب ہے؟ یہ بات کوئی جاہل ہی کہہ سکتا ہے۔
لہٰذا بالفرض حدیث کو تسلیم کیا جائے تب بھی ہم کہیں گے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اس ارشاد سے انہیں عام مؤمن عورتوں کے مقابلے میں ایک بلند مقام عطا فرمایا، جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو قرآن مجید نے عام مؤمن عورتوں کے مقابلے میں خصوصی مقام عطا فرمایا ہے:
«﴿وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾» ’’اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ خصوصی فضیلت اور ذمہ داری واضح فرمائیں کہ جہاں تک ممکن ہو، کوئی شخص انہیں بلاوجہ ناراض نہ کرے۔ لیکن اگر وہ کسی معاملے میں بغیر حق کے ناراض ہوں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ بھی اس پر ناراض ہوگیا۔
خود شیعی کتب میں مؤمن کی رضا حاصل کرنے کی تاکید ہے۔ شیعی کتب میں یہ بھی وارد ہے کہ مؤمن کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، اسے راضی رکھا جائے اور اس کی ناراضگی سے بچا جائے، ورنہ ولایت سے خروج کا حکم لگتا ہے۔
معلی بن خنیس کہتے ہیں:
«قلت لأبي عبد الله عليه السلام: ما حق المؤمن على المؤمن؟ قال: إني عليك شفيق، إني أخاف أن تعلم ولا تعمل وتضيع ولا تحفظ، قال: فقلت: لا حول ولا قوة إلا بالله، قال: للمؤمن على المؤمن سبعةُ حقوق واجبة، وليس منها حق إلا وهو واجب على أخيه، إن ضيع منها حقًّا خرج من ولاية الله، وترك طاعته، ولم يكن له فيها نصيب. أيسرُ حَق منها: أن تحب له ما تحب لنفسك، وأن تكره له ما تكرهه لنفسك، والثاني: أن تعينه بنفسك ومالك ولسانك ويديك ورجليك، والثالث: أن تتبع رضاه، وتجتنب سخطه، وتطيع أمره، .....».
ترجمہ: ’’میں نے ابوعبداللہ علیہ السلام سے پوچھا: مؤمن کا دوسرے مؤمن پر کیا حق ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں تمہارے بارے میں شفیق ہوں، مجھے خوف ہے کہ تم علم حاصل کرو مگر اس پر عمل نہ کرو، اسے ضائع کردو اور اس کی حفاظت نہ کرو۔ میں نے کہا: لاحول ولا قوۃ إلا باللہ۔ انہوں نے فرمایا: مؤمن کے دوسرے مؤمن پر سات واجب حقوق ہیں۔ ان میں سے کوئی حق ایسا نہیں جو اس کے بھائی پر واجب نہ ہو۔ اگر وہ ان میں سے کسی حق کو ضائع کرے تو اللہ کی ولایت سے نکل جاتا ہے، اس کی اطاعت ترک کردیتا ہے اور اس ولایت میں اس کا کوئی حصہ باقی نہیں رہتا۔ ان میں سب سے آسان حق یہ ہے کہ تم اس کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، اور اس کے لیے وہی ناپسند کرو جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو۔ دوسرا یہ کہ اپنی جان، مال، زبان، ہاتھ اور پاؤں کے ذریعے اس کی مدد کرو۔ تیسرا یہ کہ اس کی رضا کی پیروی کرو، اس کی ناراضی سے بچو اور اس کے حکم کی اطاعت کرو۔۔۔‘‘
[كتاب المؤمن، ص40]
اب کیا یہ کہا جائے گا کہ کسی بھی مؤمن کو کسی بھی وجہ سے ناراض کردینے سے بلاشرط اللہ تعالیٰ کا غضب لازم آجاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
سابعاً: خود شیعی کتب میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کا علی رضی اللہ عنہ کو ناراض کرنا منقول ہے
مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ شیعی کتب ہی میں یہ بھی منقول ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ناراض کیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ شوہر کی رضا اللہ کی رضا اور شوہر کی ناراضگی اللہ کی ناراضگی ہے۔
تستری نے لکھا ہے:
«شدة اهتمام فاطمة عليها السَّلام لرضى علي رواه جماعة من أعلام القوم، منهم: العلامة الشيخ عثمان بن حسن بن أحمد الخوبري في «درة الناصحين» (ص 49 ط بمبئى)، فقد روى عن سلمان الفارسي أنه قال: دَخَلَت فاطمة رضي اللّه عنها على رسول الله «ص» فلما نظرت إليه دمَعت عيناها وتغير لونها، فقال عليه السلام: ما لك يا بنتي؟ قالت: يا رسول الله، كان بيني وبين علي البارحة مزاحٌ، ونشأ من الكلامِ أن غضب عليٌّ بكلمة خرجت من فِيّ، فلما رأيت أن عليًّا قد غضب ندمت وغممت، فقلت له: يا حبيبي ارض عني، وطفت حوله اثنتين وسبعين مرة حتى رضِيَ عني وضحك في وجهى مع الرضا، وأنا خائفة من ربى، فقال لها النبي «ص»: يا بنتي، والذي بعثني بالحق ! إنك لو مِت قبل أن تُرضي عليًّا لم أُصَل عليك، ثم قال: يا بنتي، أما علمت أن رضي الزوج هو رضي الله، وغضب الزوج هو غضب الله».
ترجمہ: ’’فاطمہ علیہا السلام کی علی کی رضا کے بارے میں شدید اہتمام کا واقعہ قوم کے متعدد بڑے علماء نے روایت کیا ہے۔ ان میں علامہ شیخ عثمان بن حسن بن احمد الخوبری بھی ہیں جنہوں نے ’درۃ الناصحین‘ میں روایت کیا ہے کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ان پر پڑی تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کا رنگ متغیر ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے میری بیٹی! تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! گزشتہ رات میرے اور علی کے درمیان مزاح ہوا اور گفتگو کے دوران میرے منہ سے ایک ایسا لفظ نکل گیا جس سے علی ناراض ہوگئے۔ جب میں نے دیکھا کہ علی ناراض ہوگئے ہیں تو مجھے ندامت اور غم ہوا۔ میں نے ان سے کہا: اے میرے محبوب! مجھ سے راضی ہوجائیے۔ پھر میں نے ان کے گرد بہتر مرتبہ چکر لگایا، یہاں تک کہ وہ مجھ سے راضی ہوگئے اور رضا مندی کے ساتھ میرے چہرے پر مسکرائے۔ اس کے باوجود میں اپنے رب سے خوف زدہ ہوں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے میری بیٹی! اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اگر تم علی کو راضی کرنے سے پہلے مرجاتیں تو میں تمہاری نمازِ جنازہ نہ پڑھاتا۔ پھر فرمایا: اے میری بیٹی! کیا تم نہیں جانتیں کہ شوہر کی رضا اللہ کی رضا ہے اور شوہر کا غضب اللہ کا غضب ہے؟‘‘
[إحقاق الحق وإزهاق الباطل، التستري، 19/112]
اب سوال یہ ہے کہ اگر اس روایت کو تسلیم کیا جائے تو کیا فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علی رضی اللہ عنہ کو ناراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے دو اعتبار سے ناراض ہوا؟ ایک اس لیے کہ علی رضی اللہ عنہ شیعوں کے یہاں امام معصوم تھے، اور دوسرا اس لیے کہ وہ ان کے شوہر تھے؟
پھر اگر علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ناراض کیا، تو کیا اسی اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ علی رضی اللہ عنہ سے بھی ناراض ہوا، جیسا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایذا پہنچانے والی بحث میں استدلال کیا جاتا ہے؟ یقینا یہ ایک عجیب بات ہے!
رہی یہ حدیث: «من آذى فاطمة...» ’’جس نے فاطمہ کو ایذا دی۔۔۔‘‘ تو اس روایت پر مستقل طور پر الگ بحث کی جائے گی۔
بہرحال فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان جو معاملہ پیش آیا، وہ میراث اور فدک کے ایک فقہی مسئلے سے متعلق تھا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی بنیاد پر اپنا موقف اختیار کیا اور اسی سنت کو برقرار رکھا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت سمجھتے تھے۔
مزید برآں خود شیعی مصادر کی روایات سندا اس دعوے کو ثابت کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ اہل سنت کی روایات کے الفاظ اور ان کے مختلف طرق کا تحقیقی جائزہ یہ بتاتا ہے کہ «فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ» کے الفاظ زہری کا ادراج ہیں، ان الفاظ سے پہلے ” قال" آیا ہے، جو دلالت کناں ہے کہ یہ زہری کے الفاظ ہیں اور زہری کا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سماع ولقا نہیں ۔
اور اگر بالفرض فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس معاملے میں رنج ہوا بھی ہو تو یہ ایک اجتہادی و فقہی اختلاف تھا، جس میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مقدم رکھا۔ بعد کے شواہد اور روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رضامندی حاصل کی اور وہ ان سے راضی ہوگئیں۔
لہٰذا اس واقعے کو بنیاد بنا کر خلیفہ راشد، یار غار، افضل امت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرنا روافض کی جہالت و خباثت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی محبت، ان کے فضائل کی معرفت اور سنت نبوی کی صحیح اتباع نصیب فرمائے۔ آمین
وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، والحمد لله رب العالمين۔