• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حکومتی افواج کی حمایت کرنے اور وعظ و نصیحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے والوں کا کیا حکم ہے؟

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
921
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
حکومتی افواج کی حمایت کرنے اور وعظ و نصیحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے والوں کا کیا حکم ہے؟
​

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے کوشش کرنے اور اس کی سربلندی کی خاطر لڑنے والے تمام لوگوں کے نام! اللہ کی قسم! میں اللہ کی خاطر آپ سب سے محبت کرتا ہوں۔ میں اپنے ایک بھائی کے ساتھ کام کرتا ہوں، اور میرا یہ بھائی بھی ان لوگوں میں شامل ہے جن کا ذکر میں آگے کرنے والا ہوں۔

میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو لبنان میں موحد مسلمانوں کو قتل کرنے اور گرفتار کرنے کے سلسلے میں فوج کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد امن قائم کرنا، پرامن زندگی کو یقینی بنانا اور انتہاپسندی کا راستہ روکنا ہے۔ ان کی مراد انتہاپسندی سے سلفی جماعت ہے۔

جب ہم ان لوگوں کے سامنے شرعی دلائل، احادیث نبویہ اور قرآن کریم کی آیات پیش کرتے ہیں تو وہ ان دلائل اور دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیا ایسے لوگ کافر ہو جاتے ہیں؟ کیا ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، ان کی صحبت اختیار کرنا یا انہیں سلام کرنا جائز ہے، خواہ وہ ہمارے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں؟

میری گزارش ہے کہ شیخ ابو محمد المقدسی یا نگرانی کرنے والی کمیٹی جلد از جلد میرے سوال کا جواب دے، کیونکہ میں اپنے اسی بھائی کے ساتھ کام کرتا ہوں جس کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے۔ ایسی صورت میں میرے لیے کیا کرنا ضروری ہے؟

جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اللہ تعالیٰ آپ سے بھی محبت فرمائے، جس کی خاطر آپ نے ہم سے محبت کی، اور زمین میں آپ کے لیے قبولیت پیدا فرمائے۔

بسم اللہ، تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ حمد و صلاۃ کے بعد!

اے میرے سوال کرنے والے بھائی! جان لو کہ موالات سے مراد محبت، دوستی، پیروی اور زبان و ہتھیار کے ذریعے حمایت و مدد کرنا ہے۔ یہ موالات مسلمانوں کے لیے ہونی چاہیے، اور اسے کفار کے لیے صرف کرنا دین سے ارتداد ہے۔

یہ بات معلوم ہے کہ مسلمانوں کے ممالک میں اقتدار پر قابض طاغوتی حکومتیں، نیز ان کی افواج، سب کفر و ارتداد کے گروہوں میں شامل ہیں۔ ان کی موالات درست نہیں، بلکہ ان سے براءت اختیار کرنا واجب ہے۔

لہٰذا لبنانی فوج سے موالات رکھنا، اس کی حمایت کرنا اور موحدین کو قتل کرنے اور گرفتار کرنے میں اس کی مدد کرنا صریح ارتداد ہے۔ امن قائم کرنے، پرامن زندگی کو یقینی بنانے اور انتہاپسندی کا راستہ روکنے جیسے جو بھی جواز وہ پیش کرتے ہیں، ان میں سے کوئی چیز بھی کسی صورت اس عمل کو جائز نہیں بنا سکتی۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ۝ الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا}

’’منافقوں کو خوش خبری دے دیجیے کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور حمایتی بناتے ہیں۔ کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ پس بے شک تمام عزت اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘ [النساء: 138-139]

رہا اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانا، تو یہ بھی کفر بواح ہے، اور ہمارے پاس اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل موجود ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ۝ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ}

’’اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو وہ ضرور کہیں گے کہ ہم تو محض باتیں کر رہے تھے اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دیجیے: کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑا رہے تھے؟ بہانے مت بناؤ، تم اپنے ایمان کے بعد کفر کر چکے ہو۔‘‘ [التوبہ: 65-66]

یہ آیات اس شخص کے کفر پر صریح نص ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتا ہے، خواہ اس کا مذاق اڑانا محض باتوں، ہنسی مذاق اور دل لگی کے طور پر ہو، نہ کہ کسی عقیدے کی بنیاد پر یا کسی چیز کو حلال سمجھتے ہوئے۔

لہٰذا جس شخص کے سامنے کسی مسئلے کے متعلق اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پیش کی جائیں، پھر وہ ان دونوں کا، یا دین کی کسی بات یا اس کے احکام میں سے کسی حکم کا مذاق اڑائے، تو وہ کافر اور مرتد ہے۔

جس شخص کی حالت یہ ہو، اس کے ساتھ نہ مجلس جمائی جائے، نہ اس کی صحبت اختیار کی جائے، نہ اسے سلام کیا جائے اور نہ اس کے ساتھ میل جول رکھا جائے، سوائے اس مقصد کے کہ اسے دعوت دین دی جائے۔ مختصر یہ کہ ایسے شخص سے براءت کا اظہار کرنا واجب ہے، خواہ وہ قریبی رشتہ داروں میں سے ہی کیوں نہ ہو۔

البتہ اگر مذکورہ لوگوں میں سے کسی کے ساتھ کام کرنا کسی جائز کام کی نوعیت کا ہو، مثلا تجارت، اور اس کام میں کفار کی حمایت یا ان کی مدد شامل نہ ہو، تو ایسا کام حرام نہیں، بشرطیکہ اس کے ساتھ کام کرنے سے اس کے ساتھ بے تکلفی، ہنسی مذاق، دلی میلان اور اس کی طرف جھکاؤ پیدا نہ ہو، یا اس طرح کے دوسرے افعال صادر نہ ہوں جو انس و الفت، میل جول اور طویل صحبت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔

تاہم بہتر یہی ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ کام کرنے سے اجتناب کیا جائے، خصوصا جب اس کے علاوہ کسی دوسرے کام کا موقع بھی دستیاب ہو۔

لیکن اے ہمارے بھائی! ہم آپ کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ پہلے اچھی طرح تحقیق کر لیں کہ جن لوگوں کا آپ نے ذکر کیا ہے، ان کا مذاق واقعی اللہ تعالیٰ کی آیات اور احادیث نبویہ ہی کا تھا، نہ کہ آپ کے اپنے فہم کا نتیجہ؛ خصوصا اس صورت میں جب آپ کی اپنی سمجھی ہوئی بات درست اور راجح نہ ہو۔

اگر ان کی طرف سے یہ بات بحث و تکرار اور باہمی مناظرے کے دوران صادر ہوئی ہو، تو ایسی صورت میں محض جھگڑے اور نفسانی خواہشات کی بنا پر ان کی تکفیر کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ان کے اقوال و افعال کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرنی چاہیے اور جب ان کی باتوں میں مختلف احتمالات کی گنجائش ہو تو ان کی حقیقت کی پوری تحقیق کرنی چاہیے۔

اور توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔

جواب دینے والے : شیخ ابو الولید المقدسی
رکن اللجنہ الشرعيہ منبر التوحيد والجهاد
تاریخ اشاعت: 9 اکتوبر 2009ء
​
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
921
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
حكم الذين يوالون جيوش الأنظمة ويستهزئون بآيات الله عند وعظهم ؟ ​


رقم السؤال:253 القسم : العقيده
تاريخ النشر:9 /10/2009
​
المجيب: اللجنة الشرعية في المنبر
نص السؤال:

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته:

إلى كل من ساهم في إعلاء كلمة الله وقاتل لأجل إعلائها....والله إني أحبكم في الله، أنا أعمل مع أخي الذي هو من الذين سأذكرهم في النص..أما سؤالي فهو أنه هناك في مجتمعنا الكثير من الناس الذين يوالون الجيش عل قتل المسلمين الموحدين واعتقالهم في لبنان من أجل ما يقولون بأنه إحلال السلام والعيش بسلام وقطع باب التطرف، ويقصدون بالتطرف الجماعة السلفية، وعندما نواجههم بالحجج الشرعية والأحاديث النبوية وآيات من القرآن الكريم يستهزئون بها وبالدين. فهل هؤلاء الناس يكفرون؟ وهل يجوز مرافقتهم أو إلقاء السلام عليهم وإن كانوا من ذوي الرحم؟ أرجو من الشيخ أبي محمد المقدسي أو اللجنة المشرفة الرد على سؤالي بسرعة؛ لأني أعمل مع أخي الذي ذكرت بأنه منهم، وما هو المفروض منّي أن أفعله ؟

السائل: عاشق الشهادة

* * *​

الجواب:

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته...

أحبك الله الذي أحببتنا من أجله ووضع لك القبول في الأرض.

بسم الله، والحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وبعد...

اعلم أخي السائل أن الموالاة هي: المحبة والمودة والمتابعة والنصرة باللسان والسنان، وهي تكون للمسلمين، وصرف ذلك للكافرين هي ردة عن الدين، ومن المعلوم أن الحكومات الطاغوتية المتسلطة على أزمة الحكم في بلاد المسلمين وكذلك جيوشها هم جميعا طوائف كفر وردة، لا تصح موالاتهم، بل يجب البراءة منهم.

وعليه فموالاة الجيش اللبناني ومناصرته ومعاونته على قتل الموحدين واعتقالهم هي ردة صريحة، لا يسوغها بحال ما يذكرونه من مبررات كإحلال السلام والعيش بسلام وقطع باب التطرف.

قال تعالى: {بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (138) الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا} [النساء: 138 ، 139].

أما الاستهزاء بالله وآياته ورسوله فهو أيضا كفر بواح، عندنا من الله فيه برهان، قال الله تعالى: {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ (65) لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ} [التوبة: 65 ، 66].

فهذا نص صريح في كفر من يستهزئ بالله وآياته ورسوله، ولو كان استهزاؤه على وجه الخوض والهزل واللعب، وليس على وجه الاعتقاد أو الاستحلال. وعليه؛ فمن أُلقيت على مسامعه آيات الله وأحاديث رسوله في مسألة من المسائل فاستهزأ بهما أو بشيء من الدين أو أحكامه فهو كافر مرتد، ومن كان هذا حاله لا يجالس ولا يصاحب ولا يُلقى عليه السلام ولا يُختلط به إلا لدعوته، وبالجملة يجب إظهار البراءة منه، حتى وإن كان من ذوي الأرحام.

أما إن كان العمل مع أحد من المذكورين هو عمل حلال كتجارة مثلا، وليس فيه مناصرة أو معاونة للكافرين، فلا تحرم، بشرط أن لا يكون العمل معه يؤدي إلى ملاطفته ومضاحكته والركون إليه، ونحو ذلك من الأفعال التي تأتي عن طريق الاستئناس والمعاشرة وطول الصحبة. وإن كان الأولى البعد عن العمل معه وخاصة إن كان هناك عمل متاح غيره. ولكن نوصيك أخانا بالتحقق من أن استهزاء المذكورين هوحقا بالآيات والأحاديث وليس بفهمك أنت خصوصا إن كان مرجوحا ؛ إن صدر ذلك منهم أثناء النقاش والمماراة ، فلا ينبغي التعجل بتكفيرهم إن كان الحال كذلك بسبب الخصومة وحظوظ النفس ، بل ينبغي تمحيص أقوالهم وأفعالهم والتحقق منها إن كانت محتملة .. هذا وبالله تعالى التوفيق.

إجابة عضو اللجنة الشرعية :
الشيخ أبو الوليد المقدسي

​
 
Top