• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جہاد فی سبیل اللہ کے مقاصد

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
944
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
جہاد فی سبیل اللہ کے مقاصد
​

از قلم : شیخ ابو حمزہ البغدادی رحمہ اللہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ رسولہ الأمین، وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین، أما بعد!

ہم کیوں قتال کرتے ہیں؟ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے جہاد کے ذریعے کیا حاصل کرنا اور کس منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا، اس کے مفہوم کو سمجھنا اور اس کے پس منظر و مقاصد سے آگاہ ہونا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔

اس سوال کے جواب کی ابتدا میں چند امور کا جاننا ضروری ہے:

سب سے پہلے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اسلام دین رحمت ہے، اور اس کے نزول کا مقصد لوگوں کو ہدایت دینا، انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا، نیز شریعت اسلامیہ کے عدل و رحمت کو قائم کرنا ہے۔ بھٹکے ہوئے لوگوں کو ہدایت نصیب ہو اور کفر کی تاریکی مٹ جائے، اس کے لیے درج ذیل امور کا تحقق ضروری ہے:

1۔ یہ کہ زمین میں شریعت اسلام اور اس کے عدل کا بول بالا ہو۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«المراد من إرسال الرسل وإنزال الكتب إعدام الكفر والشرك من الأرض» رسولوں کو مبعوث کرنے اور کتابوں کو نازل کرنے سے مقصود زمین سے کفر اور شرک کا خاتمہ کرنا ہے۔

[مجموع الفتاوى، 7/494]

2۔ زمین سے فساد کے اسباب کا خاتمہ کرنا، مثلا بتوں، بدکاری اور زنا کے اڈوں کو مٹانا، باطل کے داعیوں کو خاموش کرنا، انہیں لوگوں پر اثر انداز ہونے سے روکنا، اور ان اقتدار و سلطنت کے مراکز کو توڑ دینا جو ان اداروں کی سرپرستی اور حفاظت کرتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«فالمقصود من إرسال الرسل وإنزال الكتب أن يقوم الناس بالقسط في حقوق الله وحقوق خلقه» پس رسولوں کو مبعوث کرنے اور کتابوں کو نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کی مخلوق کے حقوق میں عدل و انصاف قائم کریں۔

[مجموع الفتاوى، 28/263]

ان دونوں مقاصد کے حقوق کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ پورے عالم میں اسلام ہی غالب اور نمایاں دین ہو۔ یہ مقصد درج ذیل طریقوں سے حاصل ہوگا:

● یہ کہ پوری دنیا میں حکم دینے اور روکنے کا اختیار شریعت اسلام کے پاس ہو۔

● یہ کہ کفر مغلوب، مقہور، دبایا ہوا، ذلیل و خوار، بے بس اور اقتدار و قوت سے محروم ہو۔ یہاں تک کہ کفار کے ہتھیار چھین لیے جائیں، ان کے احبار و رہبان کو لوگوں کو گمراہ کرنے سے روک دیا جائے، اور اسلامی داعیوں کو یہ موقع حاصل ہو کہ وہ تمام لوگوں کے سامنے حق پیش کر سکیں اور کوئی شخص ان کے اور لوگوں کے درمیان حائل نہ ہو۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے کوشش کرنے والے مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے لوگوں کو دعوت دے اور جس دین پر وہ ایمان رکھتا ہے، اسے ان کے سامنے پیش کرے۔ اگر وہ ایمان لے آئیں تو یہ بہت ہی اچھی بات ہے، اور اگر وہ اعراض کریں تو پھر ان لوگوں سے قتال کیا جائے جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں۔

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

«أَنْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ»

اپنے اطمینان اور وقار کے ساتھ آگے بڑھو، یہاں تک کہ ان کے میدان میں اتر جاؤ، پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اسلام کے سلسلے میں اللہ کا کون سا حق ان پر واجب ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں کے مالک ہونے سے کہیں بہتر ہے۔

[متفق علیہ]

مسلمان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے اور کافر کو بھی یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ قتل بذات خود مقصود نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کا ہدایت یافتہ ہونا اور اسلام میں داخل ہونا ہمارے نزدیک انہیں قتل کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «أن الله تعالى أباح من قتل النفوس ما يحتاج إليه في صلاح الخلق» اللہ تعالیٰ نے انسانی جانوں میں سے اتنی جانوں کے قتل کی اجازت دی ہے جتنی مخلوق کی اصلاح کے لیے ضرورت ہو۔

[السياسة الشرعية، ص: 154]

لوگوں کے سامنے اسلام پیش کرنے کے بعد جن لوگوں کو اسلام کی دعوت دی گئی ہو، ان کے حالات تین صورتوں سے خالی نہیں ہوتے:

1۔ مکمل طور پر اسلام کو قبول کرنا اور اس کے تمام احکام کو تفصیلی طور پر تسلیم کرنا۔

2۔ اسلام میں داخل ہونے کو قبول کرنا، لیکن اس کی شریعت کی پابندی نہ کرنا، یا اس کے بعض ظاہری شعائر اور واجب احکام کو معطل کر دینا۔

3۔ اسلام میں داخل ہونے سے کلی طور پر انکار کر دینا۔

رہا معاملہ ان لوگوں کا جنہوں نے اسلام میں داخل ہونا قبول کیا اور اسے مکمل طور پر اختیار کر لیا، تو یہ ہمارے دینی بھائی ہیں؛ ان کے حقوق بھی وہی ہیں جو ہمارے حقوق ہیں، اور ان پر بھی وہی ذمہ داریاں ہیں جو ہم پر ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴾ پس اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں، اور ہم جاننے والوں کے لیے اپنی آیات کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

[سورۃ التوبۃ: 11]

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ»

مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پس جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے اپنے خون اور اپنے مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، سوائے اسلام کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔

[صحیح البخاری]

رہے وہ لوگ جو اسلام کے بعض حصوں پر ایمان لائے اور بعض دوسرے حصوں سے اعراض کیا، تو ان سے قتال واجب ہے، یہاں تک کہ وہ پورے اسلام کو قبول کر لیں اور اس کے احکام اور ظاہری شعائر کو معطل نہ کریں۔ جس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ نہ دینے والوں سے قتال کیا تھا، اور جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کے اسلام کو قبول نہیں کیا تھا جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے لیے بیت اللہ کے حج کو ترک کرنے کی شرط لگائی تھی۔

عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: «لَمَّا نَزَلَتْ: ﴿وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ﴾ قَالَتِ الْيَهُودُ: فَنَحْنُ مُسْلِمُونَ ... فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، فَقَالُوا: لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْنَا، وَأَبَوْا أَنْ يَحُجُّوا، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾»

جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اختیار کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا‘‘ تو یہودیوں نے کہا: ہم بھی تو مسلمان ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر بیت اللہ کا حج فرض کیا ہے، بشرطیکہ وہ وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا: یہ ہم پر فرض نہیں کیا گیا، اور انہوں نے حج کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور جس نے کفر کیا تو بے شک اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔‘‘

[تفسیر ابن کثیر، 3/386]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «وَذَلِكَ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾، فَإِذَا كَانَ بَعْضُ الدِّينِ لِلَّهِ وَبَعْضُهُ لِغَيْرِ اللَّهِ وَجَبَ قِتَالُهُمْ حَتَّى يَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴾»

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ’’اور ان سے قتال کرو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔‘‘ پس جب دین کا کچھ حصہ اللہ کے لیے ہو اور کچھ حصہ غیر اللہ کے لیے، تو ان سے قتال واجب ہے، یہاں تک کہ دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’پس اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں، اور ہم جاننے والوں کے لیے اپنی آیات کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔‘‘

[سورۃ التوبۃ: 11؛ مجموع الفتاوى، 28/469]

پس جن لوگوں نے اسلام کے بعض حصوں پر ایمان قبول کیا اور بعض کا انکار کیا، وہ دو قسم کے ہیں:

پہلی قسم: مرتدین، یعنی وہ لوگ جو اسلام میں داخل ہونے کے بعد اس کے بعض احکام کا انکار کر بیٹھے اور اس کی شریعت کے ایک حصے کو ترک کر دیا۔

دوسری قسم: وہ لوگ جو اسلام میں اس شرط کے ساتھ داخل ہوئے کہ وہ اس کے تمام احکام کی پابندی نہیں کریں گے۔

ان لوگوں کے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «فَهَؤُلَاءِ الْكُفَّارُ الْمُرْتَدُّونَ وَالدَّاخِلُونَ فِيهِ مِنْ غَيْرِ الْتِزَامٍ لِشَرَائِعِهِ وَالْمُرْتَدُّونَ عَنْ شَرَائِعِهِ لَا عَنْ سَمْتِهِ كُلُّهُمْ يَجِبُ قِتَالُهُمْ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَلْتَزِمُوا شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ وَحَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ وَحَتَّى تَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ الَّتِي هِيَ كِتَابُهُ وَمَا فِيهِ مِنْ أَمْرِهِ وَنَهْيِهِ وَخَبَرِهِ هِيَ الْعُلْيَا»

پس یہ کافر مرتدین، وہ لوگ جو اسلامی شریعت کی پابندی کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے، اور وہ لوگ جو اس کے طریقے سے نہیں بلکہ اس کے شرعی احکام سے منحرف ہوئے، ان سب سے مسلمانوں کے اجماع کے مطابق قتال واجب ہے، یہاں تک کہ وہ اسلامی شریعت کی پابندی اختیار کر لیں، فتنہ باقی نہ رہے، دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے، اور اللہ کا کلمہ، یعنی اس کی کتاب اور اس میں موجود اس کے احکام، نواہی اور خبریں، سب سے بلند ہو جائیں۔

[مجموع الفتاوى، 28/416]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے ان لشکروں کے متعلق سوال کیا گیا جو تاتاریوں سے قتال کرنے سے گریز کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان تاتاریوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں زبردستی ان کے ساتھ نکالا گیا ہے؟ آپ نے جواب دیا:

«الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. قِتَالُ التَّتَارِ الَّذِينَ قَدِمُوا إِلَى بِلَادِ الشَّامِ وَاجِبٌ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي الْقُرْآنِ: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾، وَالدِّينُ هُوَ الطَّاعَةُ، فَإِذَا كَانَ بَعْضُ الدِّينِ لِلَّهِ وَبَعْضُهُ لِغَيْرِ اللَّهِ وَجَبَ الْقِتَالُ حَتَّى يَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ»

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ شام کے علاقوں میں آنے والے تاتاریوں سے قتال کرنا کتاب و سنت کی رو سے واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: ’’اور ان سے قتال کرو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔‘‘ دین سے مراد اطاعت ہے۔ لہٰذا جب دین کا کچھ حصہ اللہ کے لیے ہو اور کچھ حصہ غیر اللہ کے لیے، تو قتال واجب ہے، یہاں تک کہ دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔

اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۝ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سود کا جو حصہ باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم واقعی ایمان والے ہو۔ پھر اگر تم ایسا نہیں کرتے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔

یہ آیت اہل طائف کے بارے میں نازل ہوئی، جب وہ اسلام میں داخل ہوئے اور نماز و روزے کی پابندی اختیار کر لی، لیکن سود چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ اگر وہ سود سے باز نہ آئے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے محارب ہیں۔

مسلمان علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی ایسا گروہ جو مسلمانوں کی اجتماعی قوت کے تحت ہو، اسلام کے بعض ظاہری اور متواتر واجبات کی ادائیگی سے انکار کرے، تو اس کے خلاف قتال واجب ہے، اگرچہ وہ کلمہ شہادت کا اقرار کرتے ہوں۔ مثلا وہ نماز، زکوٰۃ، رمضان کے روزوں، بیت اللہ کے حج، یا کتاب و سنت کے مطابق اپنے باہمی معاملات کے فیصلے سے انکار کریں؛ یا فواحش، شراب، محرم رشتوں کی عورتوں سے نکاح، ناحق جان و مال کو حلال سمجھنے، سود، جوئے، کفار کے خلاف جہاد، اہل کتاب سے جزیہ وصول کرنے اور اسی طرح کے دیگر اسلامی احکام سے انکار کریں، تو ان احکام کے معاملے میں ان سے قتال کیا جائے گا، یہاں تک کہ دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔

صحیحین میں ثابت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف قتال کے معاملے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا:

«كَيْفَ لَا أُقَاتِلُ مَنْ تَرَكَ الْحُقُوقَ الَّتِي أَوْجَبَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَإِنْ كَانَ قَدْ أَسْلَمَ كَالزَّكَاةِ؟»

میں ان لوگوں سے قتال کیوں نہ کروں جنہوں نے ان حقوق کو چھوڑ دیا ہے جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے واجب قرار دیا ہے، اگرچہ وہ اسلام قبول کر چکے ہوں، جیسے زکوٰۃ؟

اور آپ نے فرمایا:

«فَإِنَّ الزَّكَاةَ مِنْ حَقِّهَا، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا»

اللہ کی قسم! اگر انہوں نے زکوٰۃ میں ایک بکری کا بچہ بھی مجھے دینے سے روک لیا، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے قتال کروں گا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ»

اس کے بعد کچھ اور نہیں ہوا، بس میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ قتال کے لیے کھول دیا ہے، تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہی حق ہے۔

اہل طائف کے ان لوگوں سے قتال کے معاملے میں جو سود چھوڑنے سے انکاری تھے، جو شخص شک کرے، وہ دین اسلام سے سب سے زیادہ ناواقف ہے۔ جب ان سے قتال واجب ہو تو ان سے قتال کیا جائے گا، اگرچہ ان میں کچھ لوگ مجبور بھی ہوں، اور اس بات پر مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ تاتاری اور ان جیسے دوسرے گروہ، زکوٰۃ روکنے والوں اور خوارج کی نسبت اسلامی شریعت سے کہیں زیادہ انحراف کرنے والے ہیں۔

حضرت عباس رضی اللہ عنہ جب غزوہ بدر کے دن قیدی بنائے گئے تو انہوں نے کہا:

«يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي خَرَجْتُ مُكْرَهًا»
اے اللہ کے رسول! مجھے زبردستی نکالا گیا تھا۔

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«أَمَّا ظَاهِرُكَ فَكَانَ عَلَيْنَا وَأَمَّا سَرِيرَتُكَ فَإِلَى اللَّهِ»
تمہارا ظاہری معاملہ تو ہمارے خلاف تھا، اور تمہارے باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔

[مجموع الفتاوى، 28/176]

اور رہے اصل کافر، تو ہم سب سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دیں گے۔ اگر وہ انکار کریں تو ان کے سامنے دو امور پیش کیے جائیں گے:

1۔ جزیہ ادا کرنا اور ذلت و محکومی قبول کرنا۔

یہ حکم ان اہل کتاب اور مجوس کے لیے ہے جن سے جزیہ قبول کیا جاتا ہے۔ نیز انہیں اسلام کے احکام کے تابع ہونا ہوگا، تاکہ فطرت کو بگاڑنے والے اسباب کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ کفر کے ظاہری شعائر کو مٹا دیا جائے، کفر کے پیشواؤں، یعنی احبار، رہبان اور قسیسین کو لوگوں کی عقلوں پر اثر انداز ہونے سے روکا جائے، اور بدکاری و زنا کے اڈے، سودی بینک اور اس جیسے دوسرے ادارے بند کر دیے جائیں۔

2۔ اگر وہ مذکورہ امور کو قبول کرنے سے انکار کریں تو ان سے قتال کیا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی ممانعتیں غالب ہو جائیں۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«فَمَنْ لَمْ يَزَلْ عَلَى الشِّرْكِ مُقِيمًا لَمْ يَحُوْلْ عَنْهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَالْقَتْلُ عَلَى الرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ مِنْهُمْ» پس جو شخص شرک پر قائم رہے اور اس سے اسلام کی طرف منتقل نہ ہو، تو ان میں سے مردوں کے خلاف قتل کا حکم ہے، عورتوں کے خلاف نہیں۔

[الأم، 1/257]

سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَقَالَ: إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ، أَوْ خِلَالٍ، فَأَيَّتُهَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ: ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ: يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَادْعُهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ، فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ تَعَالَى وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ تَعَالَى فَلَا تُنْزِلْهُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَحْكُمُ اللَّهُ فِيهِمْ، وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ، ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ بَعْدَ مَا شِئْتُمْ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا فوجی دستے پر کسی امیر کو مقرر فرماتے تو اسے خصوصی طور پر اپنی ذات کے معاملے میں اللہ سے ڈرنے اور اپنے ساتھ موجود مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت فرماتے۔ پھر ارشاد فرماتے: جب تمہاری مشرک دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو انہیں تین باتوں میں سے کسی ایک کی دعوت دینا۔ ان میں سے جس بات کو بھی وہ قبول کر لیں، تم اسے قبول کر لینا اور ان سے تعرض نہ کرنا۔

انہیں اسلام کی دعوت دینا؛ اگر وہ قبول کر لیں تو ان کا اسلام قبول کر لینا اور ان سے باز رہنا۔ پھر انہیں اپنے علاقے سے دار المہاجرین کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دینا اور انہیں بتانا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں۔

اگر وہ انکار کریں اور اپنے علاقے ہی میں رہنے کو ترجیح دیں تو انہیں بتا دینا کہ وہ مسلمان دیہاتیوں کی طرح ہوں گے؛ ان پر اللہ کا وہی حکم نافذ ہوگا جو دوسرے اہل ایمان پر نافذ ہوتا ہے، اور انہیں مال فے اور غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں۔

پھر اگر وہ انکار کریں تو انہیں جزیہ ادا کرنے کی دعوت دینا۔ اگر وہ قبول کر لیں تو ان سے قبول کر لینا اور ان سے باز رہنا۔ اور اگر وہ انکار کریں تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا اور ان سے قتال کرنا۔

اور جب تم کسی قلعے والوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے درخواست کریں کہ تم انہیں اللہ کے حکم کے مطابق اپنے فیصلے کے تابع کر لو، تو انہیں اللہ کے حکم کے سپرد نہ کرنا، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اللہ ان کے بارے میں کیا فیصلہ فرمائے گا۔ بلکہ انہیں اپنے فیصلے کے تابع کرنا، پھر ان کے بارے میں جو فیصلہ چاہو، کر دینا۔


[سنن أبي داود]

جبیر بن حیہ کہتے ہیں:

«فَنَدَبَنَا عُمَرُ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْنَا النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَرْضِ الْعَدُوِّ، وَخَرَجَ عَلَيْنَا عَامِلُ كِسْرَى فِي أَرْبَعِينَ أَلْفًا، فَقَامَ تُرْجُمَانٌ فَقَالَ: لِيُكَلِّمْنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: سَلْ عَمَّا شِئْتَ، قَالَ: مَا أَنْتُمْ؟ قَالَ: نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ، كُنَّا فِي شَقَاءٍ شَدِيدٍ، وَبَلَاءٍ شَدِيدٍ، نَمُصُّ الْجِلْدَ وَالنَّوَى مِنَ الْجُوعِ، وَنَلْبَسُ الْوَبَرَ وَالشَّعَرَ، وَنَعْبُدُ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرَضِينَ تَعَالَى ذِكْرُهُ وَجَلَّتْ عَظَمَتُهُ إِلَيْنَا نَبِيًّا مِنْ أَنْفُسِنَا نَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، فَأَمَرَنَا نَبِيُّنَا رَسُولُ رَبِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُقَاتِلَكُمْ حَتَّى تَعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ أَوْ تُؤَدُّوا الْجِزْيَةَ، وَأَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رِسَالَةِ رَبِّنَا: أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي نَعِيمٍ لَمْ يَرَ مِثْلَهَا قَطُّ، وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَلَكَ رِقَابَكُمْ»

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں جہاد کے لیے تیار کیا اور حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا۔ یہاں تک کہ جب ہم دشمن کے علاقے میں پہنچے تو کسریٰ کا ایک عامل چالیس ہزار کے لشکر کے ساتھ ہمارے مقابلے میں آ گیا۔ اس کے بعد ایک ترجمان کھڑا ہوا اور کہنے لگا: تم میں سے کوئی شخص مجھ سے بات کرے۔

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چاہو پوچھ لو۔

اس نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم عرب کے لوگ ہیں۔ ہم سخت بدحالی اور شدید مصیبت میں مبتلا تھے۔ بھوک کی شدت سے چمڑے اور کھجور کی گٹھلیاں چوستے تھے، اون اور بالوں سے بنے ہوئے کپڑے پہنتے تھے اور درختوں اور پتھروں کی عبادت کرتے تھے۔ ہم اسی حالت میں تھے کہ آسمانوں اور زمینوں کے رب، جس کا ذکر بلند ہے اور جس کی عظمت جلیل ہے، نے ہماری ہی قوم میں سے ایک نبی ہماری طرف مبعوث فرمایا، جس کے والد اور والدہ کو ہم جانتے تھے۔

ہمارے نبی، جو ہمارے رب کے رسول ہیں، صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تم سے قتال کریں، یہاں تک کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے لگو یا جزیہ ادا کرو۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے رب کے پیغام کے متعلق بتایا کہ ہم میں سے جو شخص قتل کیا جائے گا، وہ جنت میں ایسے عیش و آرام میں داخل ہوگا جس کی مثال اس نے کبھی نہیں دیکھی، اور ہم میں سے جو زندہ رہے گا، وہ تمہاری گردنوں کا مالک ہوگا۔

[صحیح البخاری]

اللہ تعالیٰ نے ان تمام احکام کو اپنے اس ارشاد میں جامع طور پر بیان فرمایا ہے:

﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾

اہل کتاب میں سے ان لوگوں سے قتال کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ یوم آخرت پر، نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے، اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور ذلیل و محکوم ہوں۔

[سورۃ التوبۃ: 29]

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَقَوْلُهُ: ﴿حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ﴾ أَيْ إِنْ لَمْ يُسْلِمُوا، ﴿عَنْ يَدٍ﴾ أَيْ عَنْ قَهْرٍ لَهُمْ وَغَلَبَةٍ، ﴿وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ أَيْ ذَلِيلُونَ حَقِيرُونَ مُهَانُونَ؛ فَلِهَذَا لَا يَجُوزُ إِعْزَازُ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَلَا رَفْعُهُمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ بَلْ هُمْ أَذِلَّاءُ صَغَرَةٌ أَشْقِيَاءُ»

اللہ تعالیٰ کے فرمان: ’’یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کریں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اسلام قبول نہ کریں۔ اور ’’اپنے ہاتھ سے‘‘ کا مطلب ہے کہ وہ مغلوب اور مقہور ہو کر جزیہ ادا کریں۔ اور ’’ذلیل و محکوم ہوں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذلیل، حقیر اور رسوا ہوں۔ اسی لیے اہل ذمہ کو عزت دینا اور انہیں مسلمانوں کے مقابلے میں بلند مرتبہ دینا جائز نہیں، بلکہ وہ ذلیل، محکوم اور بدبخت ہیں۔

[تفسیر ابن کثیر، 2/248]

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«فَإِنَّ مِنْ كَوْنِ الدِّينِ كُلِّهِ لِلَّهِ: إِذْلَالَ الْكُفْرِ وَأَهْلِهِ وَصَغَارَهُ وَضَرْبَ الْجِزْيَةِ عَلَى رُؤُوسِ أَهْلِهِ وَالرِّقَّ عَلَى رِقَابِهِمْ، فَهَذَا مِنْ دِينِ اللَّهِ، وَلَا يُنَاقِضُ هَذَا إِلَّا تَرْكُ الْكُفَّارِ عَلَى عِزِّهِمْ وَإِقَامَةِ دِينِهِمْ كَمَا يُحِبُّونَ بِحَيْثُ تَكُونُ لَهُمُ الشَّوْكَةُ وَالْكَلِمَةُ»

دین کے مکمل طور پر اللہ کے لیے ہونے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ کفر اور اس کے پیروکاروں کو ذلیل و خوار کیا جائے، انہیں محکوم بنایا جائے، ان کے سروں پر جزیہ عائد کیا جائے اور ان کی گردنوں پر غلامی مسلط کی جائے۔ یہ سب اللہ کے دین میں سے ہے۔ اس کے منافی صرف یہی بات ہے کہ کفار کو ان کی عزت و سربلندی پر برقرار رکھا جائے اور انہیں اپنے پسندیدہ طریقے کے مطابق اپنا دین قائم رکھنے دیا جائے، یہاں تک کہ قوت اور اقتدار انہی کے ہاتھ میں ہو۔

[أحكام أهل الذمة، 1/111]

امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾، قَالَ: فَلَمْ يَأْذَنْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَنْ تُؤْخَذَ الْجِزْيَةُ مِمَّنْ أُمِرَ بِأَخْذِهَا مِنْهُ حَتَّى يُعْطِيَهَا عَنْ يَدٍ صَاغِرًا»

اللہ عزوجل نے فرمایا: ’’یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور ذلیل و محکوم ہوں۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے ان لوگوں سے جزیہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جن سے جزیہ لینے کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے ذلت و محکومی کی حالت میں ادا کریں۔

امام شافعی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

«وَسَمِعْتُ عَدَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: الصَّغَارُ أَنْ يَجْرِيَ عَلَيْهِمْ حُكْمُ الْإِسْلَامِ» میں نے اہل علم کی ایک جماعت کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ذلت و محکومی سے مراد یہ ہے کہ ان پر اسلام کا حکم نافذ ہو۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَمَا أَشْبَهَ مَا قَالُوا بِمَا قَالُوا لِامْتِنَاعِهِمْ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَإِذَا جَرَى عَلَيْهِمْ حُكْمُهُ فَقَدْ أَصْغَرُوا بِمَا يَجْرِي عَلَيْهِمْ مِنْهُ»

ان اہل علم کی بات اس مفہوم سے بہت مناسبت رکھتی ہے، کیونکہ وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں؛ لہٰذا جب ان پر اسلام کا حکم نافذ ہوگا تو اس کے نفاذ کے ذریعے وہ ذلت و محکومی قبول کرنے والے شمار ہوں گے۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَإِذَا أَحَاطَ الْإِمَامُ بِالدَّارِ قَبْلَ أَنْ يَسْبِيَ أَهْلَهَا أَوْ قَهَرَ أَهْلَهَا الْقَهْرَ الْبَيِّنَ وَلَمْ يَسْبِهِمْ ... فَعَرَضُوا عَلَيْهِ أَنْ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَلَى أَنْ يَجْرِيَ عَلَيْهِمْ حُكْمُ الْإِسْلَامِ لَزِمَهُ أَنْ يَقْبَلَهَا مِنْهُمْ، وَلَوْ سَأَلُوهُ أَنْ يُعْطُوهَا عَلَى أَنْ لَا يَجْرِيَ عَلَيْهِمْ حُكْمُ الْإِسْلَامِ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ لَهُ، وَكَانَ عَلَيْهِ أَنْ يُقَاتِلَهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا أَوْ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ وَهُمْ صَاغِرُونَ بِأَنْ يَجْرِيَ عَلَيْهِمْ حُكْمُ الْإِسْلَامِ»

جب امام کسی علاقے کا محاصرہ کر لے، اس سے پہلے کہ وہاں کے باشندوں کو قیدی بنائے، یا اس علاقے کے باشندوں کو واضح طور پر مغلوب کر لے لیکن انہیں قیدی نہ بنائے، پھر وہ اس کے سامنے یہ پیشکش کریں کہ وہ اس شرط پر جزیہ ادا کریں گے کہ ان پر اسلامی احکام نافذ ہوں، تو امام کے لیے لازم ہے کہ ان سے جزیہ قبول کرے۔ لیکن اگر وہ یہ مطالبہ کریں کہ جزیہ تو ادا کریں گے مگر ان پر اسلامی احکام نافذ نہ ہوں، تو امام کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے کہ ان سے قتال کرے، یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیں یا اس حالت میں جزیہ ادا کریں کہ ان پر اسلامی احکام نافذ ہوں اور وہ ذلت و محکومی قبول کریں۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«فَإِنْ سَأَلُوهُ أَنْ يَتْرُكُوا شَيْئًا مِنْ حُكْمِ الْإِسْلَامِ إِذَا طَلَبَهُمْ بِهِ غَيْرُهُمْ أَوْ وَقَعَ عَلَيْهِمْ بِسَبَبٍ غَيْرِهِمْ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يُجِيبَهُمْ إِلَيْهِ وَلَا يَأْخُذَ الْجِزْيَةَ مِنْهُمْ عَلَيْهِ، فَأَمَّا إِذَا كَانَ فِي غَزْوِهِمْ مَشَقَّةٌ أَوْ مَنْ بِإِزَائِهِمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَمَنْ يَنْتَابُهُمْ عَنْهُمْ ضَعْفٌ أَوْ بِهِمْ انْتِصَافٌ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُوَادَعُوا وَإِنْ لَمْ يُعْطُوا شَيْئًا أَوْ أَعْطَوْهُ عَلَى النَّظَرِ»

اگر وہ یہ درخواست کریں کہ اسلام کے کسی حکم کو ان سے معاف کر دیا جائے، جب کوئی دوسرا شخص اس حکم کا مطالبہ کرے یا کسی دوسرے سبب سے وہ حکم ان پر نافذ ہونے لگے، تو امام کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان کی یہ درخواست قبول کرے اور اس شرط پر ان سے جزیہ وصول کرے۔ البتہ اگر ان کے خلاف جنگ کرنے میں دشواری ہو، یا ان کے مقابل موجود مسلمان اور ان کے علاقوں میں آنے جانے والے مسلمان کمزور ہوں، یا مسلمانوں کو ان سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، تو کوئی حرج نہیں کہ ان کے ساتھ عارضی صلح کر لی جائے، خواہ وہ کچھ ادا نہ کریں یا مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ ادا کریں۔

[الأم، 4/176]

گزشتہ تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس بات کی کوشش کریں کہ زمین میں اللہ تعالیٰ کا دین تمام دوسرے ادیان پر غالب اور نمایاں ہو، اور پوری دنیا میں اللہ عزوجل کے دین کے خلاف پیدا ہونے والے فتنے کو دور کریں۔

اسی بنا پر مسلمان کی دعوت ان بین الاقوامی سرحدوں تک محدود نہیں ہوتی جنہیں صلیبی طاقتوں نے اپنے طور پر مقرر کیا ہے۔ وہ محض کسی بے معنی پابندی کو قبول کرنے، یا بعض شرعی احکام کو نافذ کرنے اور بعض کو چھوڑ دینے کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا، اور نہ ہی کفار کے بارے میں اس وقت تک خاموش رہتا ہے جب تک وہ ذلیل و محکوم نہ ہو جائیں۔

اللہ تعالیٰ سورہ انفال میں فرماتا ہے:

﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾ اور ان سے قتال کرو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو بے شک اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔

ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَيْ يَخْلُصُ لَهُ التَّوْحِيدُ» اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے، اس کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یعنی توحید خالص اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔

[زاد المسير، 1/200]

امام شوکانی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

«فِيهِ الْأَمْرُ بِمُقَاتَلَةِ الْمُشْرِكِينَ إِلَى غَايَةٍ هِيَ أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَأَنْ يَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ وَهُوَ الدُّخُولُ فِي الْإِسْلَامِ وَالْخُرُوجُ عَنْ سَائِرِ الْأَدْيَانِ الْمُخَالِفَةِ لَهُ، فَمَنْ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَقْلَعَ عَنِ الشِّرْكِ لَمْ يَحِلَّ قِتَالُهُ»

اس آیت میں مشرکین سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کی انتہا یہ ہے کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔ اس سے مراد اسلام میں داخل ہونا اور اس کے مخالف تمام دوسرے ادیان کو چھوڑ دینا ہے۔ پس جو شخص اسلام میں داخل ہو جائے اور شرک سے باز آ جائے، اس سے قتال کرنا جائز نہیں رہتا۔

[فتح القدير، 1/191]

امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«الْقَوْلُ فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾ ... يَقُولُ تَعَالَى ذِكْرُهُ لِلْمُؤْمِنِينَ بِهِ وَبِرَسُولِهِ: وَإِنْ يَعُدْ هَؤُلَاءِ لِحَرْبِكَ ... فَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا يَكُونَ شِرْكٌ وَلَا يُعْبَدَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، فَيَرْتَفِعَ الْبَلَاءُ عَنْ عِبَادِ اللَّهِ مِنَ الْأَرْضِ وَهُوَ الْفِتْنَةُ، وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ يَقُولُ: حَتَّى تَكُونَ الطَّاعَةُ وَالْعِبَادَةُ كُلُّهَا لِلَّهِ خَالِصَةً دُونَ غَيْرِهِ»

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ ’’ان سے قتال کرو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے‘‘ امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اور اپنے رسول پر ایمان رکھنے والوں سے فرماتا ہے کہ اگر یہ لوگ تمہارے خلاف دوبارہ جنگ کے لیے لوٹ آئیں تو ان سے قتال کرو، یہاں تک کہ کوئی شرک باقی نہ رہے اور صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے، جس کا کوئی شریک نہیں۔ اس طرح زمین سے اللہ کے بندوں کی آزمائش اور مصیبت، یعنی فتنہ، دور ہو جائے گا۔ اور دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے، یعنی اطاعت اور عبادت مکمل طور پر صرف اللہ کے لیے خالص ہو جائے، اس کے سوا کسی دوسرے کے لیے نہ ہو۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے الفاظ ﴿حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ کے متعلق منقول ہے کہ اس سے مراد شرک کا خاتمہ ہے۔

اور ﴿وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾ کے متعلق ان سے منقول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں تک کہ صرف «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کلمے کی خاطر قتال کیا اور اسی کی طرف دعوت دی۔

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی آزمائش باقی نہ رہے۔

ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مومن کو اس کے دین سے نہ پھیرا جائے، توحید خالص اللہ کے لیے ہو، اس میں شرک کی کوئی آمیزش نہ ہو اور اللہ کے سوا تمام معبودان باطلہ کو چھوڑ دیا جائے۔

ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی کفر باقی نہ رہے، اور دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو، یعنی تمہارے دین کے ساتھ کوئی دوسرا کفر موجود نہ ہو۔

[تفسیر الطبري، 2/194]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَمِمَّا يُوَضِّحُ ذَلِكَ أَنَّهُ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ﴾، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾، فَأَمَرَ بِالْجِهَادِ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَحَتَّى يَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ، فَجَعَلَ الْمَقْصُودَ عَدَمَ كَوْنِ الْفِتْنَةِ وَوُجُودَ كَوْنِ الدِّينِ كُلِّهِ لِلَّهِ، وَنَاقَضَ بَيْنَهُمَا، فَكَوْنُ الْفِتْنَةِ يُنَافِي كَوْنَ الدِّينِ لِلَّهِ، وَكَوْنُ الدِّينِ لِلَّهِ يُنَافِي كَوْنَ الْفِتْنَةِ، وَالْفِتْنَةُ قَدْ فُسِّرَتْ بِالشِّرْكِ، فَمَا حَصَلَتْ بِهِ فِتْنَةُ الْقُلُوبِ فَفِيهِ شِرْكٌ وَهُوَ يُنَافِي كَوْنَ الدِّينِ كُلِّهِ لِلَّهِ، وَالْفِتْنَةُ جِنْسٌ تَحْتَهُ أَنْوَاعٌ مِنَ الشُّبُهَاتِ وَالشَّهَوَاتِ، وَفِتْنَةُ الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ مِنْ أَعْظَمِ الْفِتَنِ»

اس بات کی وضاحت کرنے والی چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور ان سے قتال کرو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے، پھر اگر وہ باز آ جائیں تو ظالموں کے سوا کسی کے خلاف زیادتی نہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور ان سے قتال کرو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے، پھر اگر وہ باز آ جائیں تو بے شک اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘

پس اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا، یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔ اس طرح اس نے مقصود یہ قرار دیا کہ فتنہ موجود نہ رہے اور دین مکمل طور پر اللہ ہی کے لیے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ایک دوسرے کے متضاد قرار دیا ہے؛ چنانچہ فتنے کا وجود اس بات کے منافی ہے کہ دین اللہ ہی کے لیے ہو، اور دین کے اللہ ہی کے لیے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ موجود نہ ہو۔

فتنے کی تفسیر شرک سے بھی کی گئی ہے۔ لہٰذا جس چیز سے دلوں میں فتنہ پیدا ہوتا ہے، اس میں شرک پایا جاتا ہے، اور یہ بات دین کے مکمل طور پر اللہ ہی کے لیے ہونے کے منافی ہے۔

فتنہ ایک جامع جنس ہے جس کے تحت شبہات اور خواہشات کی مختلف اقسام آتی ہیں۔ اور ان لوگوں کا فتنہ، جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے محبت ہونی چاہیے، سب سے بڑے فتنوں میں سے ہے۔


[قاعدة في المحبة، ص: 88]

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top