کیا عورتیں نماز جنازہ میں شریک ھوسکتی ہیں؟
شاید بھائی ابو الحسن علوی بھائی اور شیخ کفایت اللہ بھائی بہت مصروف ہیں۔ تفصیلی جواب تو ٹائم ملتے ہیں ہمارے ان دونوں شیوخ میں سے کوئی شیخ فراہم کریں گے۔مختصر جواب پیش ہے۔
نماز جنازہ مرد اور عورت دونوں كے ليے مشروع ہے، اس كى دليل نبى كريمﷺ كا فرمان ہے۔
مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ.... رواه مسلم:946
" جو شخص جنازہ ميں شريك ہوا اسے ايك قيراط، اور جو شخص اس كے دفن تك جنازے كے ساتھ رہا اسے دو قيراط اجر حاصل ہوتا ہے، ایک قیراط احد پہاڑ کی مثل ہوتا ہے۔( ثواب میں)
وضاحت:
لفظ
’ من ‘ کےعموم میں مرد اور عورت دونوں داخل ہیں۔ کسی ایک کو بھی استثناء حاصل نہیں ہے۔
ليكن عورتيں جنازہ كے ساتھ قبرستان نہيں جا سكتيں كيونكہ انہيں ايسا كرنے سے منع كيا گيا ہے، اس كى دليل صحيحين میں ام عطیۃ رضی اللہ تعالی عنہا کی روایت سےملتی ہے۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ عورتوں کو نماز جنازہ کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا ۔ لیکن یہ حکم ایسا نہیں کہ عورت بالکل نماز جنازہ کے ساتھ جا ہی نہیں سکتی۔ واللہ اعلم
باقی نماز جنازہ مسجد میں اداء کیا جائے، یا گھر میں یا عید گاہ میں یا جناز گاہ میں عورت شریک ہوسکتی ہے۔