• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

iski wazahat karen

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
Assalamu Alaykum
asal me ye ek thread roze k fawaid me hamare bhai Amair ne ahadees share kiye the usme se ye hadees bhi hai to hamne wahin iske mutalliq sawal kiye the lekin jawab nahi mila to hamari bahen aisha parveen k kehne par ham yahan ek naya thread laga rahe hain is umeed se ke yahan jawab miljayega

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : " یا رسول اللہ دلنی علی عمل ادخل بہ الجنۃ قال :علیک بالصوم فانہ لا مثل لہ " " اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے کہ اسے انجام دے لوں تو اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوجاؤں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روزہ رکھو اس لئے کہ روزے کا مقابلہ کوئی عمل نہیں کرسکتا " { صحیح ابن حبان :3406 ، 5/296 } ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ فرمان نبوی سن لینے کے بعد حضرت ابو امامہ کے گھر میں دن میں دھواں دکھائی نہیں دیتا تھا الا یہ کہ آپ کے یہاں کوئی مہمان آجائے ، چنانچہ جب لوگ دن میں آپ کے گھر سے دھواں اٹھتا دیکھتے تو جان لیتے کہ آپ کے یہاں آج کوئی مہمان ضرور آیا ہے ۔

buhut he ahem baate yaha pe ziker hue Roza k bare mei JazakAllah Khair...aur es hadith k bare aapse pochna tha k eska kia yahi matlab hai k yeh hamisha roza rakte the ya phir kuch aur??
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
۱۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کا صحیح قرار دیا ہے۔تفصیل لیے یہ لنک دیکھیں۔
۲۔ اس روایت میں ہی یہ بات موجود ہے کہ یہ ہمیشہ کا روزہ نہیں تھا بلکہ مہمان نوازی والے دن روزہ نہیں رکھا جاتا تھا۔
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
۱۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کا صحیح قرار دیا ہے۔تفصیل لیے یہ لنک دیکھیں۔
۲۔ اس روایت میں ہی یہ بات موجود ہے کہ یہ ہمیشہ کا روزہ نہیں تھا بلکہ مہمان نوازی والے دن روزہ نہیں رکھا جاتا تھا۔
jazakallah bhai
lekin mehman to har roz nahi aate ghar
to aise hamesha roza rakhna kya shariat me jaiz hai
hamara ilm naqis hai isliye islah karen aur inshaAllah apke ne jo link diya hai usse ham padhenge
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,356
پوائنٹ
800
Assalamu Alaykum
asal me ye ek thread roze k fawaid me hamare bhai Amair ne ahadees share kiye the usme se ye hadees bhi hai to hamne wahin iske mutalliq sawal kiye the lekin jawab nahi mila to hamari bahen aisha parveen k kehne par ham yahan ek naya thread laga rahe hain is umeed se ke yahan jawab miljayega

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : " یا رسول اللہ دلنی علی عمل ادخل بہ الجنۃ قال :علیک بالصوم فانہ لا مثل لہ " " اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے کہ اسے انجام دے لوں تو اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوجاؤں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روزہ رکھو اس لئے کہ روزے کا مقابلہ کوئی عمل نہیں کرسکتا " { صحیح ابن حبان :3406 ، 5/296 } ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ فرمان نبوی سن لینے کے بعد حضرت ابو امامہ کے گھر میں دن میں دھواں دکھائی نہیں دیتا تھا الا یہ کہ آپ کے یہاں کوئی مہمان آجائے ، چنانچہ جب لوگ دن میں آپ کے گھر سے دھواں اٹھتا دیکھتے تو جان لیتے کہ آپ کے یہاں آج کوئی مہمان ضرور آیا ہے ۔

buhut he ahem baate yaha pe ziker hue Roza k bare mei JazakAllah Khair...aur es hadith k bare aapse pochna tha k eska kia yahi matlab hai k yeh hamisha roza rakte the ya phir kuch aur??
اس حدیث کی سند کو امام ہیثمی﷫ نے صحيح قرار دیا ہے۔
اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ سیدنا ابو امامہ باہلی﷜ کے گھر سے دن میں دھواں دکھائی نہیں دیتا تھا الا یہ کہ آپ کے یہاں کوئی مہمان آجائے۔ جس سے کثرتِ صوم یا کچھ عرصہ مسلسل روزہ رکھنا مراد ہے، (اسے اصطلاح میں ’سرد الصّوم‘ کہا جاتا ہے، جو ممنوع نہیں بلکہ مستحب ہے، ممنوع یہ ہے کہ بلا ناغہ روزہ رکھا جائے کہ کسی دن بھی نہ چھوڑا جائے۔
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح مسلم میں مروی ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی﷜ نے نبی کریمﷺ نے سوال کیا: إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ کہ ’’میں مسلسل روزے (سرد الصوم) رکھتا ہوں کیا سفر میں بھی روزہ رکھوں؟‘‘ آپﷺ نے جواب میں فرمایا: « صُمْ إِنْ شِئْتَ ، وَأَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ » کہ ’’چاہو تو روزہ رکھو، چاہو تو چھوڑ دو۔‘‘ وجۂ استدلال یہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے حضر میں سرد صوم سے منع نہیں فرمایا۔
یہ عمل نبی کریمﷺ سے بذاتِ خود بھی صحیح سند سے ثابت ہے، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: كان رسول الله ﷺ يصوم الأيام يسرد حتى يقال لا يفطر ويفطر الأيام حتى لا يكاد أن يصوم إلا في يومين من الجمعة إن كانا في صيامه وإلا صامهما ولم يكن يصوم من شهر من الشهور ما يصوم من شعبان فقلت يا رسول الله إنك تصوم لا تكاد أن تفطر وتفطر حتى لا تكاد أن تصوم إلا يومين إن دخلا في صيامك وإلا صمتهما قال أي يومين قال قلت يوم الإثنين ويوم الخميس قال ذانك يومان تعرض فيهما الأعمال على رب العالمين وأحب أن يعرض عملي وأنا صائم قال قلت ولم أرك تصوم من شهر من الشهور ما تصوم من شعبان قال ذاك شهر يغفل الناس عنه بين رجب ورمضان وهو شهر يرفع فيه الأعمال إلى رب العالمين فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم یعنی نبی کریمﷺ کچھ عرصہ مسلسل روزہ رکھتے حتیٰ کہ کہا جاتا کہ کبھی روزہ ترک نہیں کریں گے .... الخ
واللہ تعالیٰ اعلم!
مسلسل روزہ رکھنے سے متعلّق مزید تفصیل کیلئے یہ عربی لنک دیکھئے!
 
Top