• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

Qurbani ka masla

jackey 786

مبتدی
شمولیت
ستمبر 04، 2015
پیغامات
6
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
Kya qurbani kisi murde ke naam ki jaa sakti hai. Brahekaram batayen..????
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
Kya qurbani kisi murde ke naam ki jaa sakti hai. Brahekaram batayen..????
السلام علیکم :
شاید آپ پوچھنا چاہتے ہیں ۔۔کہ میت کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
جواب :
یہ ہے کہ میت کی طرف سے قربانی کی صریح دلیل ایک روایت پیش کی جاتی ہے ، جو درج ذیل ہے :

امام ترمذی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ سنن الترمذی ‘‘ میں فرماتے ہیں :
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي الكوفي ، حدثنا شريك ، عن ابي الحسناء عن الحكم ، عن حنش ، عن علي " انه كان يضحي بكبشين ، احدهما عن النبي صلى الله عليه وسلم ، والآخر عن نفسه " ، فقيل له:‏‏‏‏ فقال:‏‏‏‏ امرني به يعني:‏‏‏‏ النبي صلى الله عليه وسلم فلا ادعه ابدا ، قال ابو عيسى:‏‏‏‏ هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث شريك ، وقد رخص بعض اهل العلم ان يضحى عن الميت ، ولم ير بعضهم ان يضحى عنه ، وقال عبد الله بن المبارك:‏‏‏‏ " احب إلي ان يتصدق عنه ، ولا يضحى عنه ، وإن ضحى ، فلا ياكل منها شيئا ، ويتصدق بها كلها " ، قال محمد ، قال علي بن المديني ، وقد رواه غير شريك ، قلت له:‏‏‏‏ ابو الحسناء ما اسمه ، فلم يعرفه ، قال مسلم اسمه:‏‏‏‏ الحسن.(سنن الترمذی ، حدیث نمبر: 1495۔۔باب: میت کی طرف سے قربانی کا بیان )

جناب علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے، ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور دوسرا اپنی طرف سے، تو ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے اس کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے، لہٰذا میں اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا ۱؎۔

امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس کو صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: علی بن مدینی نے کہا: اس حدیث کو شریک کے علاوہ لوگوں نے بھی روایت کیا ہے، میں نے ان سے دریافت کیا: راوی ابوالحسناء کا کیا نام ہے؟ تو وہ اسے نہیں جان سکے، مسلم کہتے ہیں: اس کا نام حسن ہے،
۳- بعض اہل علم نے میت کی طرف سے قربانی کی رخصت دی ہے اور بعض لوگ میت کی طرف سے قربانی درست نہیں سمجھتے ہیں، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: مجھے یہ چیز زیادہ پسند ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے، قربانی نہ کی جائے، اور اگر کسی نے اس کی طرف سے قربانی کر دی تو اس میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ تمام کو صدقہ کر دے۔

سنن ابی داود/ الأضاحي ۲ (۲۷۹۰)، (تحفة الأشراف : ۱۰۰۸۲) (ضعیف) (سند میں ’’ شریک ‘‘ حافظے کے کمزور ہیں، اور ابو الحسناء ‘‘ مجہول، نیز ’’ حنش ‘‘ کے بارے میں بھی سخت اختلاف ہے)

اور علامہ البانی نے ’’ مشکاۃ ‘‘ کی تحقیق میں اور ضعیف سنن الترمذی میں اسے ضعیف کہا ہے ‘‘صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1495

وضاحت: ۱؎ : اس ضعیف حدیث، اور قربانی کرتے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا : «اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد» سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء کہتے ہیں کہ میت کی جانب سے قربانی کی جا سکتی ہے، پھر اختلاف اس میں ہے کہ میت کی جانب سے قربانی افضل ہے یا صدقہ ؟ حنابلہ اور اکثر فقہاء کے نزدیک قربانی افضل ہے، جب کہ بعض فقہاء کا کہنا ہے کہ قیمت صدقہ کرنا زیادہ افضل ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی دراصل دیگر عبادات (صوم و صلاۃ) کی طرح زندوں کی عبادت ہے، قربانی کے استثناء کی کوئی دلیل پختہ نہیں ہے،

علی رضی الله عنہ کی حدیث سخت ضعیف ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے وقت کی دعا سے استدلال زبردستی کا استدلال ہے جیسے بدعتیوں کا قبرستان کی دعا سے غیر اللہ کو پکارنے پر استدلال کرنا، جب کہ اس روایت کے بعض الفاظ یوں بھی ہیں «عمن لم يضح أمتي» (یعنی میری امت میں سے جو قربانی نہیں کر سکا ہے اس کی طرف سے قبول فرما) اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ” میری امت میں سے جو زندہ شخص قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو اور اس کی وجہ سے قربانی نہ کر سکا ہو اس کی طرف سے یہ قربانی قبول فرما “، نیز امت میں میت کی طرف سے قربانی کا تعامل بھی نہیں رہا ہے۔ «واللہ اعلم بالصواب»
 

jackey 786

مبتدی
شمولیت
ستمبر 04، 2015
پیغامات
6
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
ZajakAllah khair ishaque dalfi saab.matlab afjal . .*sadqa.* h na ki .*qurbani*.
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
matlab afjal . .*sadqa.* h na ki .*qurbani
جی میت کی طرف صدقہ جاریہ ۔۔جیسے پانی کا نل ۔۔رستہ بنانا ۔۔یا۔۔قرآن وسنت کے علم کے ذرائع مہیا کرنا ۔۔اور اس جیسے جاریہ نیکی کے کام
کرنا مفید ہے ۔۔
میت تک صرف انہی اعمال کا ثواب پہنچ سکتا ہے، جن کے بارے میں دلیل موجود ہے، یہی موقف راجح ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:
( وَأَنْ لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلا مَا سَعَى ) اور انسان کیلئے وہی ہے جس کیلئے اس نے خود جد و جہد کی۔[النجم:39]

اور جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة : إلا من صدقة جارية ، أو علم ينتفع به ، أو ولد صالح يدعو له ) أخرجه مسلم (1631)
(جب انسان مر جائے تو اسکے تین اعمال کے علاوہ سارے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں: صدقہ جاریہ، علم جس سے لوگ مستفید ہو رہے ہوں، یا نیک اولاد جو اسکے لئے دعا کرتی ہو) مسلم: (1631)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپکے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ، آپکی زوجہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، اور آپکی تین بیٹیاں رضی اللہ عنہن فوت ہوئیں، لیکن یہ کہیں بھی وارد نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کی طرف سے قرآن پڑھا ہو، یا خاص انکی طرف سے قربانی ، روزہ، یا نماز پڑھی ہو، ایسے ہی صحابہ کرام کی طرف سے بھی کوئی ایسا عمل منقول نہیں ہے، اور اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو صحابہ کرام ہم سے پہلے یہ کام کر چکے ہوتے۔

اور جن اعمال کے بارے میں میت تک ثواب پہنچنے کا استثناء دلائل میں موجود ہے ان میں حج، عمرہ، واجب روزہ، صدقہ، اور دعا شامل ہیں۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرمان باری تعالی: ( وَأَنْ لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلا مَا سَعَى ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

"اسی آیت سے امام شافعی اور انکے موقف کی تائید کرنے والوں نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ فوت شدگان تک تلاوت قرآن کا ثواب نہیں پہنچتا؛ کیونکہ تلاوت انہوں نے خود نہیں کی، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس کام کیلئے ترغیب نہیں دلائی، اور نہ انکے کیلئے اسے اچھا قرار دیا، اور نہ ہی اس کام کیلئے واضح یا اشارۃً لفظوں میں رہنمائی فرمائی ، آپ کے کسی صحابی سے بھی ایسی کوئی بات منقول نہیں ہے، اگر یہ کام خیر کا ہوتا تو وہ ہم سے پہلے کر گزرتے۔

عبادات کے معاملے میں شرعی نصوص کی پابندی کی جاتی ہے، اسی لئے عبادات کے متعلق قیاس آرائی نہیں کی جاسکتی، جبکہ دعا اور صدقہ کے بارے میں یہ ہے کہ یہ میت کو پہنچ جاتا ہے، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح لفظوں میں بیان کیا ہے"

( تفسير ابن كثير: 4/ 258 )
 
Top