1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فقہ اسلامی از ابوہشام (کینیڈا)

'فقہ عام' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏اپریل 29، 2013۔

  1. ‏مئی 11، 2013 #191
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    قبولیت کی چند شرائط


    یہ وہ شرائط ہیں جن سے نہ صرف فقہ اسلامی کی صحیح پہچان ہوتی ہے بلکہ اس کی ثقاہت ومتانت اور شرع سے ہٹے ہوئے مسائل کا بھی ادراک ہوتا ہے۔ فقہ چونکہ ایک فرعی مسئلے کو دلیل سے بیان کرنے کا نام ہے اس لئے علمی ثقاہت ہی اجتہادی کوشش کی بنیاد ہوگی۔ اور اسی کو اولین حیثیت حاصل ہوگی۔ اس لئے وہ اجتہادات جو دلائل سے مزین نہیں ان کی عدم قبولیت پر ہی اجماع ہے۔ فقہاء کرام کے اجتہادات میں دلائل دیکھنا اور تلاش کرنا ان کے فقہی مرتبے اورعلمی شان کو دوبالا کردے گا۔اور صحیح مدلل فقہی مسائل امت میں خیر کا باعث بنیں گے۔ اللہ تعالی کا یہ فرمان بالکل درست ہے:

    {لا یأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ‘ تنزیل من حکیم حمید}(السجدۃ۴۲)اس پر جھوٹ کا حملہ نہ آگے سے ہو سکتا ہے اور نہ پیچھے سے‘ یہ دانا وخوبیوں والے اللہ کی نازل کردہ ہے۔

    آپ ﷺ کا بھی ارشاد ہے:
    قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَائِ، لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا، لاَ یَزِیْغُ عَنْہَا بَعْدِیْ إِلاَّ ہَالِکٌ ۔ میں تمہیں ایک واضح اور روشن دین دے کرجا رہا ہوں جس کی رات بھی اس کے دن کی مانند ہے اس سے پھرنے والا ہی میرے بعد ہلاک ہوگا۔ کتاب السنۃ لابن ابی عاصم:۳۳

    اس لئے معتدل رویہ یہی ہو نا چاہئے کہ جن مسائل واستنباطات پر علماء وفقہاء کی کثرت نے دلائل سے نکیر فرمائی ہے انہیں ترک کردیا جائے اور جو فقہی مسئلہ دلائل کی بنیاد پر بیان فرمایا ہے اسے قبول کرکے اختلاف کو ختم کردیا جائے۔ یہ وہ ضابطے ہیںجو قرآن نے ہمیں عطا کئے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے :

    { فإن تنازعتم فی شیء فردوہ إلی اللہ والرسول إن کنتم تؤمنون باللہ والیوم الآخر ذلک خیر وأحسن تأویلا}۔ پھر اگر تم کسی مسئلہ میں اختلاف کرنے لگو تو اگر تم اللہ تعالی پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ۔۔ ایسا کرنا ہی خیر ہے اورانجام کے لحاظ سے بہتر ہے۔
     
  2. ‏مئی 11، 2013 #192
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    ۱۔ اطاعت واتباع اور ترک تقلید:
    قرآن مجید نے اپنی وضاحت، اللہ کی عبادت، احکام شریعت پر عمل اور اس کے صحیح فہم کے لئے رسول اکرم ﷺ کی اطاعت واتباع کرنے کا مطالبہ تقریبا چالیس سے زائد مقامات پر کیا ہے۔ اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ وہ احکام وعقائدجو جناب رسالت مآبﷺ ایک مسلمان کو ارشاد فرمائیں تو مسلمان تسلیم ورضا کا پیکر بن کر نہ صرف دل وجان سے انہیں مانے بلکہ ان پر عمل بھی کرے۔ جب کہ اتباع کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺ کے احکامات کو قبول کرنے کے علاوہ جو آپﷺ کی سیرت طیبہ کے نمایاں خدوخال تھے انہیں بھی حرز جان بنائے۔ تاکہ مسلمان رنگ ونسل، علاقہ وعادات کی تمیز کے بغیر ایک ہی کلچر اور تہذیب میں رنگے جائیں اور اسی کے خوگر رہیں۔ اطاعت کا مطالبہ اس لئے بھی ہے کہ

    ـآپﷺ کی رسالت دراصل دینی سیادت کا نام ہے اس کی راہنمائی میں آپﷺ کا کوئی شریک وسہیم نہیں۔ نبی اکرمﷺ کے علاوہ ہم کسی اور کی عصمت کا اعتقاد بھی نہیں رکھ سکتے۔

    اطاعت واتباع کے یہ دونوں لفظ یا تو اللہ کے لئے مستعمل ہوتے ہیں یا پھر ہادی برحق رسول اکرم ﷺ کے لئے۔ ان الفاظ میں پیروی ۔۔۔ ایمان ، محبت اور یقین کامل سے کرائی گئی ہے۔ جس میں جبر کا مفہوم نہیں۔ اطاعت رسول کا آسان ترین نسخہ یہ ہے کہ اپنے تمام تر میلانات کو آدمی ذہن سے نکال کر اگر سیرت رسول اور احادیث رسول کا مطالعہ کرے تو خود بخود یہ جذبہ بیدار ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ فقہی اختلاف کی صورت میں مسلمان صحیح حدیث کو ہی بہرحال ترجیح دیتا ہے۔ اور یہی قرآن کی تعلیم ہے۔ لہٰذا مقلد یا غیر مقلد یا تقلید جیسے الفاظ کی بجائے ایک بندہ مومن اپنے لئے لفظ اطاعت یا اتباع کے استعمال کو معمول بنائے۔ کیونکہ اتباع میں بات دلیل سے ہوتی ہے اور تقلید میں بغیر دلیل کے۔

    ۲۔ صحیح حدیث: ائمہ اربعہ کا رجحان: اسلامی فقہ کا خوگر بننے کے لئے شرعی تقاضا یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان کو جب حدیث رسولﷺ مل جائے یا وہ اس کے سامنے آجائے تو پھر فقہی مسئلہ حدیث رسول سے لے اور ہر قسم کے میلانات و گفتگو ترک کردے۔ حدیث کا تعلق کسی مسلک سے نہیں بلکہ یہ تو سب مسالک کی مشترکہ دولت ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہر مسلک نے اپنے ذوق اور فہم کی بنیاد پر چند احادیث کا انتخاب کرکے اپنی راہ متعین کی ہے۔اس لئے ہماری رائے میںچند نہیں بلکہ تمام احادیث سے مستفید ہونا ضروری ہے تاکہ مسالک ومذاہب کا اختلاف اپنی اپنی خواہش کے مطابق نہ رہے۔سچ تو یہ ہے کہ اگر فقہاء کرام کے فقہی مسائل اوراجتہادات واستنباطات ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر ہی پرکھ لئے جائیں تب بھی ایک اصولی بات ضرور واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہ مسئلہ ان ائمہ کرام کے ہاں بھی اجماعی ہے ۔ کہ اگر صحیح حدیث مل جائے تو وہ خود کیا بلکہ تمام صحابہ کرام کے لئے لازمی ہوگا کہ وہ صرف اسے ہی قابل عمل سمجھیں اور اپنے اپنے اجتہادات کی طرف مت دیکھیں۔
     
  3. ‏مئی 11، 2013 #193
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    حَرَامٌ عَلَی مَنْ لَمْ یَعْرِفْ دَلِیْلِیْ أَنْ یُفْتِیَ بِکَلاَمِیْ۔(میزان شعرانی:۳۸)جسے میرے اجتہاد واستنباط کی دلیل(قرآن و حدیث سے) معلوم نہ ہو اس کے لئے حرام ہے کہ میرے کلام سے فتویٰ دے۔

    در مختار میں ہے:
    إِذَا صَحَّ الْحَدیثُ فَہُوَ مَذْہَبِی إِنْ تَوَجَّہَ لَکُمْ دَلِیلٌ فَقُولُوا بِہِ۔(ج۱؍ص۵۰ )
    میرے قول یا اجتہاد کے مقابلے میں جب کوئی صحیح حدیث آجائے تومیرا مذہب بھی وہی ہوگا۔ اگر تمہیں کوئی دلیل قرآن وحدیث سے مل جائے تو اسی پر عمل کرو اور اسی کے مطابق فتوی ٰدیا کرو۔

    امام مالکؒ کا نقطہ نظر :
    اپنے بارے میں ان کا یہ قول بہت مشہور ہے۔

    إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُخْطِئُ وَأُصِیْبُ فَانْظُرُوْا فِیْ رَأْیِیْ فَکُلُّ مَا وَافَقَ الْکِتَابَ وَالسُّنَّۃَ فَخُذُوہُ وَکُلُّ مَا لَمْ یُوَافِقْ فَاتْرُکُوہُ۔
    لوگو! میں ایک انسان ہوں کبھی میری بات ٹھیک ہوتی ہے اور کبھی غلط۔ تم میری اس بات کو لے لو جو کتاب وسنت کے مطابق ہو اور جو اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دو۔ إیقاظ ہمم: ۱۰۲

    شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نقل فرماتے ہیں:
    مَا مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَمَأخُوذٌ مِنْ کَلَامِہِ وَمَرْدُودٌ عَلَیہِ إِلاَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ ۔(الإنصاف:۱۳ عقد الجید:۸۰ )
    دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں کہ اس کی تمام باتیں قبول کی جاسکیں سوائے جناب رسالت مآبﷺ کے۔

    امام شافعیؒ کا نقطہ نظر: صحیح حدیث کے بارے میں امام شافعیؒ کا قول یہ ہے:

    إِذَا صَحَّ الْحَدیثُ فَہُوَمَذْہَبِی، وَإِذَا رَأَیْتُمْ کَلاَمِیْ یُخَالِفُ الْحَدیثَ فَاعْمَلُوا بِالْحَدِیثِ وَاضْرِبُوا کَلاَمِیْ الْحَائِطَ۔ (عقد الجید:۸۱ )
    صحیح حدیث ہی میرا مذہب ہے۔ جب تم میرے اجتہاد واستنباط کو حدیث کے خلاف پاؤ تو حدیث پر عمل کرو اور میرے قول کو دیوار پر دے مارو۔

    امام احمدؒ کا نقطہ نظر: امام اہل السنۃ ہیں مگر پھر بھی فرماتے ہیں:
    لَیْسَ لِأحَدٍ مَعَ اللہِ وَرَسُولِہِ کَلاَمٌ۔ (عقد الجید:۸۱)
    اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں کسی کا کلام کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔

    ان کا یہ ارشاد بھی ہے:
    لاَ تُقَلِّدُونِیْ وَلاَ تُقَلِّدَنَّ مَالِکًا وَلاَ الأَوْزَاعِیَّ وَلاَ الثَّورِیَّ، وَخُذُوا الأَحْکَامَ مِنْ حَیثُ أَخَذُوا مِنَ الْکِتَاب وَالسُّنَّۃِ۔ (عقد الجید:۸۱ )
    خبردار! کبھی میری تقلید نہ کرنا اور نہ امام مالکؒ کی، نہ اوزاعی اور نہ ثوری کی بلکہ جہاں سے یہ بزرگ احکام لیا کرتے تھے وہیں سے تم بھی لیا کرو۔ یعنی قرآن وحدیث سے۔

    یہ بیانات ائمہ کرام کی طرف سے اعلان عام ہیں کہ لوگوں کی طرف سے عائد کردہ یہ تقلیدی روش اور اس کی دعوت ہمارا منشأ نہیں اور نہ ہی ہم اس کے داعی ہیں۔ ان کے نزدیک حدیث صحیح ہی ایک سپریم لاء کی حیثیت رکھتی ہے جس نے فقہی مسائل کو نہ صرف حل کیا ہے بلکہ ان کے حل کا راستہ بھی دکھا دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سب علماء و فقہاء کا اس کی اس حیثیت پر اجماع واتفاق بھی ہے۔
     
  4. ‏مئی 11، 2013 #194
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    ۳۔ غیر واقع مسائل سے اجتناب :

    انسانی مسائل کی چونکہ حدود متعین نہیں ہیں بلکہ وقتا فوقتا یہ پیش آتے رہتے ہیں مثلا کلوننگ، تبدیلی اعضاء وغیرہ۔ اس لئے ان کے حل کے لئے شریعت کی طرف ہی رجوع کرنا پڑتا ہے۔ البتہ یہ سوال برمحل ہے کہ کیا مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل کا ابھی سے ادراک کرکے ، ان کا فقہی حل تلاش کرلیا جائے۔ کیا ایسا کرنا صحیح ہوگا؟ اس بارے میں عموماً دو آراء سامنے آتی ہیں:

    أ۔ پہلی رائے کے مطابق اگر ان مسائل کا ادراک فقہاء وعلماء کرلیں تو انہیں زیر بحث لانے اور ان کا حل پیش کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اس لئے کہ علم روز بروز زوال پذیر ہے ۔ علماء وفقہاء رخصت ہورہے ہیں ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ایسے علماء پیدا نہ ہوں جو اس قابل ہوں کہ فقہی استنباط کرسکیں اس لئے موجود فقہاء اگر لَو کَانَ کی بنیاد پر مفروضہ مسائل کا حل پیش کردیں تو یہ امت پر بڑااحسان ہوگا اور ان کے آسمان علم سے دنیا مستفید ہوگی۔

    ب۔ دوسری رائے یہ ہے کہ جب تک انسانوں میں وہ مسئلہ پیدا نہ ہو اس وقت تک اس تکلف کی ضرورت ہی نہیں کہ کوئی رائے دی جائے اور فرضی مسائل بنائے جائیں۔ وہ یہ کہتے ہیں: کہ عِلْمُ مَا لَمْ یَقَعْ وَالْجَہْلُ عَمَّاوَقَعَ جو واقع نہیں ہوا اس کا جاننا اور جو واقع ہو چکا ہے اس سے لا علم رہنا فقہ نہیں۔ ہاں جب وقوع پذیر ہوں گے تو ان شاء اللہ امت ان علماء وفقہاء سے بانجھ نہیں ہوگی جو اپنے علم کی حد تک ان کا اسلامی حل پیش نہ کرسکے۔ اس لئے کہ اللہ تعالی نے اس دین کو باقی رکھنا ہے اور اس کے خادمین کو بھی۔ماضی میں جو مسائل بھی ابھرے فقہ اسلامی نے اپنی تازگی اورشگفتگی کے سبب ان کا جواب دیا۔ مگر جب سے یہ تکلف سامنے آیا کہ غیر وقوع مسائل بھی موضوع بحث بنے ان سے کتب کی ضخامت تو بڑھ گئی مگر ان سے مستفید ہونا تو کجا ایک عام مسلمان بھی انہیں جان نہ سکا اس لئے کہ مفروضہ دور میں ان جدید مسائل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ بیشتر علماء وفقہاء محض عقلی اورمفروضہ مسائل کے بیان کرنے کو … فقہی حدود سے تجاوز سمجھتے ہیں۔
     
  5. ‏مئی 11، 2013 #195
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    فقہ اسلامی پرکھنے کے معیارات:


    …عام وخاص جب مطالعہ کتب فقہ وحدیث کرتے ہیں تو انہیں دونوں لٹریچر میں اختلاف نیز ترجیح کے انبار نظر آتے ہیں اور اسی بنیاد پر اس کا ذہن یا تو فقہی ہوکر حدیث سے متنفر ہوجاتا ہے یا حدیثی بن کر فقہ کو مخالف حدیث سمجھ بیٹھتا ہے۔ جبکہ یہ سب علمی باتیں ہیں جو محض ایک دو کتب کو پڑھ کریا چند ایک لیکچرز سن کر طالب علم کو معتدل نہیں بناتیں۔بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ کتب کابتدریج اور گہرائی سے مطالعہ کیا جائے۔

    … کتب حدیث ہوں یا مصطلحات دونوں بہر حال فقہ واصول فقہ سے قبل کے علوم ہیں۔ کیونکہ حدیث تو زمانہ رسول سے بہ سند چلی آرہی ہے مگر فقہ کے احکام خمسہ اور ان کی اصطلاحات سے صحابہ رسول واقف نہ تھے۔یہی حال مصطلحات کا ہے جو روایت حدیث کے ساتھ ہی متعارف ہوئی ہیں جیسا کہ اصول فقہ، تدوین فقہ کے ساتھ۔

    …عصر اول میں محدثین متن حدیث سے استنباط کرتے اور مسئلہ کے تمام ادلہ حتی کہ اقوال رجال تک دھیان نہ دیتے مگر مفتی یا فقیہ مسئلہ کو سمجھ کر دوسری اشیاء بھی مستحضر کرلیتے ۔ نتیجۃً فقیہ ومحدث کے کلام میں اختلاف ہوتا۔

    …کتب حدیث میں عصری مسائل کا جواب صرف متن حدیث سے دیا جاتا اوربلادلیل مفروضہ سے حتی الامکان اجتناب کیا جاتا۔مگر فقہی کتب میں گو مسائل بکثرت ہوتے ہیں مگر زیادہ تراقوال اختلافی یا بلادلیل مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں۔

    …کتب حدیث میں نصوص سے استدلال زیادہ ہے مگر کتب فقہ میں آیات، احادیث، اجماع اور قیاس سے ہے۔

    … ایک بڑی کمی جو کتب فقہ میںنظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ فقہی مذہب کی ہر کتاب خواہ اس میں طویل اختلاف کو بیان کیا گیا ہو یاعالی ونازل کو۔ ان میں حدیث پر نظر اپنے مذہب کے مطابق ہی کی جاتی ہے۔ایک وسعت پسند طالب علم کے لئے کتب فقہ میں یہ عام کمی ہے جسے پھر وہ احادیث میں غور کرکے مکمل کرتا ہے۔

    …اصول استنباط کیا ہیں؟ اصول فقہ ہی ہیں اس لئے فقیہ اگرچہ متون کو کھنگالتا ہے اور استنباط وترجیح بھی ان سے کرتا ہے مگر تقلید سے وہ بچ نہیں پاتا اور مسائل کو اپنے مذہب کے مطابق ترجیح دیتا ہے۔

    …بعض فقہی کتب میں تفرقہ اور اختلاف کا ایسا انداز اپنایا گیا ہے جو اتفاق اور باہمی مودت کی بجائے بغض وعداوت کو انگیخت دیتا ہے ۔نتیجۃً طعن، لعن، اور ہمز ولمز کے ساتھ لڑائی اور مقاطعہ تک شروع ہوجاتا ہے۔دوسرے کے پیچھے نماز چھوڑ دی جاتی ہے۔ یہ سب ایسے امور ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے۔

    … اس لئے فقہی مسائل کی تشہیر کے وقت ہمارے ہاں مختلف گروہی انداز سامنے آتے ہیں۔ مسئلہ پوچھنے پریا تو صراحۃ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ہماری فقہ میں اس کا حل یہ ہے۔ یا بعض دفعہ سواد اعظم ہونے کی دلیل دی جاتی ہے کہ چونکہ اکثریت ہماری ہے اس لئے یہ مسئلہ اس فقہ کے مطابق یوں ہے۔ مگر حدیث رسول جو وضاحت سے مسئلے کو پیش کررہی ہوتی ہے اس سے صرف نظر عام دیکھنے یا سننے میں آتا ہے۔ یہ مذہبی اور گروہی تعلیمی انداز تو اسلاف کے نہ تھے اور نہ ہی انہیں اقلیت واکثریت کا خبط تھا۔ تلاش حق کے لئے یہ ذریعہ بھی انتہائی کمزور ہے اس لئے کہ ہر مسلک مختلف مسالک ونظریات کا پرچارک ہے اور ہر ایک تقسیم در تقسیم ہوچکا ہے ۔ دینی اعتبار سے ایک مسلمان معیار حق اکثریت کو نہیں بلکہ مدلل بات کو بناتا ہے جو قرآن وسنت رسول میں کہہ دی گئی ہے اس لئے ان دونوں مآخذ سے مستنبط مسائل ہی کو فقہ اسلامی کہا جا سکتا ہے نہ کہ ان بے جا دعووں کو۔ ایسی فقہ اسلامی ہمیں درج ذیل طریقوں سے معلوم ہوسکتی ہے۔
     
  6. ‏مئی 11، 2013 #196
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    فقہی کتب اور ان کا انتخاب:


    فقہاء نے کتب فقہ میں وارد مسائل کو ثقاہت کے اعتبار سے تقسیم کیا ہے۔ ظاہرہے یہ سب مسائل کتب حدیث سے ہی ماخوذ ہوتے ہیں۔ اس لئے ان مسائل کی حقیقت جاننے اور صحیح و غلط میں تمیز کرنے کے لئے کسی بھی مسئلہ کا ریفرنس ضرور دیکھنا ہوگا ۔ تاکہ قاری کو مسئلے کی صحت اور ضعف کا اندازہ ہو سکے۔ ریفرنس دیکھتے وقت درج ذیل کتب کی catagoriesکو ہمیشہ یاد رکھئے اور انہی کا ہی مطالعہ کیجئے یہ آپ کو رسول اکرم ﷺ کے ساتھ ڈائریکٹ جوڑدیں گی۔ انہی کی روشنی میں فقہی مسئلہ کو فہرست کتاب میںتلاش کیجئے اوربآسانی پرکھئے۔ واضح رہے یہ تقسیم کتب ہر مکتب فکر کے فقہاء وعلماء کے ہاں مسلمہ ہے۔

    پہلا درجہ:کتب متفق علیہ اور موطا کا ہے-یعنی صحیح بخاری و صحیح مسلم کی وہ احادیث جنہیں دونوں مؤلفین نے اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔ اس لئے کہ علماء امت کا اتفاق ہے کہ یہ دونوں قرآن مجید کے بعد صحیح ترین کتب ہیں۔ موطأامام مالک بھی اسی درجہ کی کتاب ہے۔ اس میں مسند مرفوع احادیث کے علاوہ اقوال و فتاوٰی صحابہ و تابعین بھی ہیں۔ مگر ہمارے لئے صرف متصل مسند مرفوع احادیث ہی اولین حیثیت رکھتی ہیں۔

    دوسر ا درجہ: اس درجہ میں سنن ابی داؤد، سنن ترمذی ، سنن نسائی اور ابن ماجہ کی کتب شامل ہیں جنہیں سنن اربعہ کہا جاتاہے۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میںمرتب فقہی مسائل ہیں۔ جہاں ان مؤلفین نے حدیث کے ضعیف ہونے کی نشاندہی کی ہے اسے ہم ظاہر ہے ترک کر دیں گے۔ اور جو مسئلہ دوسرے درجہ کی کتب میں باوضاحت نہیں تو ان کتب سے ہم مدد لیں گے۔ مسند احمد کو بھی اس درجہ میں رکھا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ چند وہ احادیث قابل اعتناء نہ سمجھی جائیں جو امام احمد کے بیٹے عبد اللہ اور ان کے شاگرد ابو بکر قطیعی نے اضافہ کی ہیں۔

    تیسرا درجہ: یہ کتب مصنف ابن أبی شیبہ،مصنف عبدالرزاق، امام طحاوی کی کتب و دیگر غیر معروف کتب ہیں جن میں ہر قسم کی موضوع ،ضعیف، مرسل روایات بکثرت ہیں۔ مگر صحیح بہت کم۔

    چوتھا درجہ: ان کتب کا ہے جو مختلف مسالک کے فقہاء کرام نے لکھی ہیں۔ ان میں چونکہ مسلکی مسائل کی تفصیل اور ان کی دیگر مسالک کے مسائل ودلائل پرترجیح قائم کی جاتی ہے نیز استاد وشاگرد کا اختلاف بھی ان میں نمایاں ہوتا ہے اس لئے صحیح اور ثابت دلیل کی بنیاد پر فقہی مسئلے کو قبول کیا جائے گا خواہ وہ کسی بھی امام کاہو۔

    انتخاب : بے شمار فقہی کتب مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ ان کے انتخاب میں ان دو امور کا ضرور خیال رکھیئے۔

    ۱۔ ان کتب کا انتخاب مت کیجئے۔ جو محض مفروضہ مسائل ، غیر مستند اقوال اور غیر ضروری باتوں پر مبنی ہوں۔ اس لئے کہ ایسی کتب کے پڑھنے سے دین اور رسول کی محبت میں کمی آ جاتی ہے۔ اور آدمی وسوسوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ معمولی اور غیر اہم باتیں پھر اہم ہو جاتی ہیں۔ اور اہم مسائل کی کوئی قدر نہیں رہتی۔بلکہ ایسی کتب کا انتخاب کیجئے جن میں مسائل کو آیات قرآنیہ و احادیث رسولﷺ یا اقوال صحابہ سے مدلل کیا گیا ہو۔

    ۲۔ اگر فقہی مسئلہ حدیث میں واضح نہ ہو تو پھر ایسی فقہی کتب کا انتخاب کیجئے جن میں صرف ایک ہی مذہب کی باتیں نہ ہوں۔ بلکہ چاروں مذاہب و دیگر علماء وفقہاء کی علمی کاوشوں اور دلائل کا ذکر بھی ہو۔ تا کہ سب علماء کے علمی و فکری نکتہء نظر و استدلال سے مستفید ہوا جا سکے۔ کیونکہ سبھی علماء وفقہاء برحق تھے۔ ایک کو سختی سے اختیار نہ کیجئے ورنہ ہمارے اس طرز عمل کا کہیں یہ مطلب نہ لے لیا جائے کہ دیگر علماء و فقہاء حق پر نہیں تھے یا وہ علم و فقہ میں دوسرے سے کہیں کم تر تھے۔ بلکہ سبھی کو یکساں مقام دے کر سبھی سے مستفید ہوا جائے۔
     
  7. ‏مئی 11، 2013 #197
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    عمومی انداز: اس لٹریچر میں فقہی مسائل کو عنوانات کی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ بھی دو قسم کے ہیں:

    ۱۔مسلکی: جس سے مراد وہ کتب فقہ ہیں جن میںکسی ایک فقیہ کی فقہ سے مستفاد مسائل کو مربوط و مرتب شکل میں لکھا گیا۔ اور دوسرے فقہاء کرام کی فقہ کی طرف توجہ اس لئے نہیں دی گئی کہ ان کا مسلک یا فقہی نکتہ نظر مؤلف سے مختلف ہے۔ اس قسم کی فقہ تقلیدی اور جامد کہلاتی ہے جومحض متون وشروح اور فروع کے ظواہر پر قناعت کرنے کا نام ہے۔ان عبارات کو صحیح یا غیر صحیح دیکھے بغیر من وعن قبول کرلیا گیا ہے اور مسائل لکھ دیے گئے ہیں۔ عام فہم ہے۔ عربی، اردو، انگلش میں بھی یہ دستیاب ہے۔ ان کتب میں مسلکی چھاپ ایسی نمایاں ہے۔کہ آدمی ادھرسے ادھرنہیں ہو پاتا۔ان کے مطالعہ کے دوران ایک قاری اصل مصادر (قدیم وجدید)سے بمشکل آگاہ ہوپاتا ہے۔ بہرحال ان کے مطالعے سے دیگر فقہاء کرام کے علم و استدلال سے قاری محروم رہتا ہے۔
    ۲۔غیرمسلکی:اس قسم کے لٹریچر میں تقریباً بیشتر فقہاء کی فقہ سے فائدہ اٹھایاگیا ہے۔ اور دیانت دارانہ طور پر سب فقہاء ومحتہدین کے طریق استدلال اور دلائل پر بحث کی گئی ہے۔ ایسا مواد یقینا اہل تحقیق کے لئے بہت ہی دل چسپ و مفید ہے۔ کسی بھی اختلافی مسئلے کی حقیقت کو بآسانی جانا جا سکتا ہے۔ اور عام افراد کو اس سے آگاہ بھی کیا جاسکتا ہے۔اور یوں اپنی دینی ذمہ داری کو ادا کرنے کا صحیح لطف آتا ہے۔ قاری اس مرتب و مربوط فقہ سے جہاں مستفید ہوتا ہے وہاں وہ فقہاء کرام کی وسعت نظری، عدم تعصبی اور دلائل کو جان کر اپنے علم ،عادات اورفکر میں ایک گونہ اضافہ کرتا ہے۔ ایسے لٹریچر سے متأثر عوام اور خواص دونوں تعصبات وباہمی نفرت کو خیرباد کہنے کا ضرور سوچتے ہیں اور اس کا عزم بھی کرتے ہیں۔ صحیح احادیث سے مستفاد فقہی مسائل پر مبنی لٹریچر بھی اسی میں داخل ہے۔ جن میں فروعی واصولی مسائل کو احادیث سے مستنبط کیا گیا ہے۔ فقہ السنہ و دیگر کتب طہارت، نماز، روزہ، حج وغیرہ کے مسائل پر مبنی کتب بازار میں اب دستیاب ہیں۔ جن سے فرقہ واریت کی بو نہیں آتی۔ اس لٹریچر کی اساس قدیم مآخذ پر رکھی گئی ہے۔
     
  8. ‏مئی 11، 2013 #198
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    مجتہدانہ انداز:جدید صنعتی اور فکری انقلاب نے امت مسلمہ کے سامنے جن مسائل کا انبار کھڑا کر دیا ہے۔ ان میں علماء و فقہاء کرام کو تقلیدی ذہن سے نکل کر اجتہادی ذہن کی طرف آنا ہوگا۔تقلیدی انسان کا ذہنی سفر ایک حد تک پہنچ کر رک جاتا ہے اور اجتہادی انسان کا ذہنی سفر برابر آگے جاری رہتا ہے۔وہ موت سے بہلے کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ بے شمار چیلنجزکے ہوتے ہوئے وہ ان جدید مسائل کا شرعی حل کیونکر تلاش کریں۔ گویہ ایک انتھک اور دشوارگذار کام ہے مگر علماء کے کرنے کا کام ہے یہی۔نہ کہ نماز جنازہ یا نکاح پڑھانے یا وضوء کے معمولی مسائل کو دقیق بنا کر پیش کرنے کا۔ اس کام میں علماء کو قرآن و حدیث اور اسلاف کی کاوشوں کو مدنظر رکھ کراپنے علمی وذہنی سفر کو مسلسل ترقی کی طرف لے جائیں۔ یہی اسلاف کا احترام ہے اورامہ کی ترقی کا زینہ۔ اسلاف سے فائدہ اٹھائیے اور آگے بڑہتے جائیے۔


    قدیم زمانہ کے مسائل بھی اس دور میں اجتہادی تھے اور آج کے مسائل بھی اجتہادی نوعیت کے ہیں۔ اس لئے جیسے ماضی میں فقہاء کرام کے درمیان فکرو نظر کا اختلاف ہوا آج بھی ان متعدد مسائل میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔فقہ کی ہر کتاب ماضی کا یہی نقشہ پیش کرتی ہے اور آج بھی اس موضوع پر لکھی جانے والی کتب اس نوع کے اختلافات سے خالی نہیں ہونگی۔ تاہم یہ مخلصانہ کوشش قابلِ تحسین ہو گی اور مسلمانوں کی مشکلات کے حل کیلئے ایک مثبت سمت اٹھنے والا قدم بھی۔ ایسا مجتہدانہ لٹریچر کسی خاص نوعیت کے مسائل پر مبنی ہوتا ہے۔ جو وقتاً فوقتاً مسلمانوں میں متنوع ضروریات(Various Neccessities) کے تحت سامنے آیا ہے۔ یہ فقہی موادا بھی ترقی پذیر ہے۔اور مزید اجتہادی کوشش کا مستحق بھی۔ بیشتر لٹریچر جن میں بطور خاص کلوننگ،بینکنگ،سود، طب، اقتصاد وغیرہ کے مسائل ہیں جوانفرادی رائے پر مبنی ہیں۔ جن میں استدلال (Arguments) کی ابھی مزید ضرورت ہے۔ ان علوم کے ماہرین ابھی دیگر امکانات کی وجہ سے اپنے اجتہادات سے مطمئن نہیں۔ بہتر یہ ہو گا کہ ایسے مسائل میں علماء کی مشترکہ کاوشوں کا مسلسل دخل ہو اور کوئی بھی رائے قائم کرنے میں غوروتأمل اور وسیع الصدری &More Patient) (Wider کا عنصر غالب ہو۔ یہ فقہی موادعام افراد کی ضرورت کا نہیں۔ خواص ہی اس میں رائے دیتے ہیں اور اس سے مستفید ہوتے ہیں۔نیز جدید چیلنجز اور مسائل کا بھی شرح صدر سے جواب دینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً احترام انسانیت، جمہوریت،حالات کی رعایت،کیا ممکن ہے اور کیا ممکن نہیں؟میدان عمل کی تبدیلی اور مسلمان کی ذمہ داری، نفاذ احکام میں تدریج، فقہ کی از سرنو تدوین، جدید امکانات کا استعمال، تفسیر بالرائے، گلوبلایزیشن وغیرہ پر مزید بھی سوچا جاسکتا ہے۔
     
  9. ‏مئی 11، 2013 #199
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    چند مفید فقہی کتب:


    ۱۔ فقہ السنۃ (اردو) مؤلف: عاصم الحداد، لاہور۔ فقہ السنۃ (عر بی ، انگلش) مؤلف: سید سابقؒ

    ۳۔ عمدۃ الأحکام (اردو) مؤلف: عبد الغنی المقدسی (اردو شرح:: ضیاء الکلام از محموداحمد غضنفر)

    ۴۔ بلوغ المرام (اردو) مؤلف: ابن حجر عسقلانی (اردو ترجمہ محمد سلیمان کیلانی) (انگلش ترجمہ از دار السلام۔ ریاض)

    ۵۔ منہاج المسلم کا اردو ترجمہ اسلامی طرز زندگی کے نام سے چھپ گیا ہے۔انگلش میں بھی منہاج المسلم کے نام سے چھپا ہے۔ دور حاضر کی بہترین کتاب ہے۔ اس کے مؤلف عالم اسلام کی معروف شخصیت اور حرم نبوی کے مدرس جناب ابوبکر الجزائری ہیں۔

    ۶۔ اسلامی تعلیم (اردو) مؤلف: مولانا عبد السلام بستوی۔ یہ ایک بہت ہی شاندار اور انتہائی مفید فقہی کتاب ہے ۔تمام کتب حدیث کا مواد اس میں موجود ہے۔اور باب باندھ کر یعنی Headings دے کر اس مسئلے سے متعلق تمام احادیث کا اردو ترجمہ کرکے جمع کردیا گیا ہے۔ مثلا اگر آپ عقیقہ کے بارے میں جاننا چاہیں تو صحیح احادیث پر مبنی تمام مرتب مسائل عقیقہ کے باب میں مل جائیں گے۔

    ۷۔ اسی طرح فقہ اسلامی کی آسان اور سادہ سی مطبوعات میں تفہیم السنۃ کا پورا سیٹ، جو اُردو، انگلش وغیرہ میں اب مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ یہ وہ کتب ہیں جن کی ہر گھر کو ضرورت ہے۔جہاں ایک چھوٹی سی فقہی لا ئبریری بھی بنائی جاسکتی ہے۔
     
  10. ‏مئی 11، 2013 #200
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    فقہی مسائل کی جانچ


    ۱۔ کسی بھی فقہی مسئلے کے انتخاب میں ریفرنسز دیکھنا مت بھولئے۔ ریفرنس اگرمندرجہ بالا کتب میں سے چوتھے درجے کی کتب کا ہو تو اسے اس صورت میں قبول کیجئے جبکہ پہلے تین درجوں کی کتب میں وہ مسئلہ نہ ہو۔ اسی طرح تیسرے درجے کی کتب کا ریفرنس ہو تو اسے اس صورت میں قبول کیجئے جبکہ پہلے دو درجوں کی کتب میں وہ مسئلہ موجودنہ ہو۔ اسی طرح آگے بھی یہی صورت اختیار کرناہوگی۔ یہ وہ درجات ہیں جو محدثین و فقہاء نے طے کئے ہیں۔ اور ان درجات سے ملتے جلتے ہیں جو فقہاء کے مابین پائے جاتے ہیں کہ کسی فقہی مسئلے میں اختلاف کی صورت میں کس درجے کے فقیہ کی رائے کو ترجیحا لینا ہوتا ہے۔

    ۲۔ طلاق کا مسئلہ ہو یا نکاح کا، نماز کا ہو یا وضو کا۔۔ جو مسائل صحیح احادیث میں واضح ہوں انہیں لیجئے اور اس کے مقابل میں قیاس، قول اور فتوی وغیرہ سے حتی الامکان اجتناب کیجئے۔ کیوں کہ صحیح حدیث ہی تمام فقہاء کرام کا چناؤ ہے۔ اور مسلک ہے۔

    ۳۔ بزرگو ں کے تجربے، باتیں اور خواب وغیرہ کو فقہ کا درجہ نہ دیجئے۔ یہ نہ دین ہیں اور نہ ہی عمل صالح۔

    صحیح فقہی مسائل جاننے کے لئے یہ تر تیب ملحوظ رہے تومسئلہ کا حوالہ دیکھ کر بآسانی اس کی وقعت جانی جا سکتی ہے۔

    نوٹ: براہ راست قرآن پاک سے صرف استنباط مسائل کا دعوی فقہاء نے کیا ہے اور نہ ہی کوئی کر سکتا ہے۔ فقہاء کرام حدیث سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔ ایسے استنباطات کا معیار تو ایک طرف ،کسی ضعیف حدیث سے بھی مستنبط مسئلے کو فقہی مسئلہ کہنا ایک منصف عالم کے لئے بہت دشوار ہوتاہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں