1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محمدیہ پاکٹ بک

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 09، 2014۔

  1. ‏اپریل 16، 2014 #101
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ناظرین کرام! چونکہ یہ اعتقاد سخت گندہ ہے کہ یوں کھلے بندوں انبیاء کرام کی ایک کثیر تعداد کو شیطانی پھندے میں پھنسا ہوا تسلیم کیا جائے وہ بھی اس رنگ میں کہ آخری وقت تک وہ اپنی کذب گوئی پر مصر بلکہ حسب بیان بائیبل لڑنے مرنے پر نظر آئیں اور یہ لڑائی بھی ایک صادق بنی کے ساتھ ہو جو رو در رو کہہ رہا ہے کہ یہ پیشگوئی جھوٹی ہے (جیسا کہ آگے چل کر ہم یہ تمام واقعہ نقل کریں گے) اس لیے مرزائی مجیب اس مقام پر فَبُھِتَ الَّذِیْ کَفَرَ(۷۴۸) کا زندنہ نمونہ بن رہا ہے۔ اگر وہ ان کو نبی تسلیم کرتا ہے تو علم و دیانت پر چھری پھیرنے کے علاوہ اس کا ضمیر بھی اسے ملامت کرتا ہے اور اگر نبی نہیں مانتا تو مرزا صاحب کی نبوت جو ذریعہ معاش ہے ہاتھ سے چھوٹی جاتی ہے۔ بیچارہ کرے تو کیا کرے آخر بصد غور و فکر ان لوگوں کی راہ چلتا ہے جن کے حق میں وارد ہے:
    وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً۔
    ایک تیسری صورت نکالتا ہے کہ وہ اشخاص نہ نبی تھے نہ متنبی بلکہ:
    '' وہ صرف محدث کے درجے پر تھے، ان کی وحی دخل شیطان سے پاک نہ تھی، بموجب آیت وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ من رسول ولا نبی صرف انبیاء کی وحی دخل شیطان سے پاک کی جاتی ہے۔ (مفہوم الفضل ۲۰؍ نومبر ۳۲ء) (۷۴۹)
    معلوم ہوتا ہے کہ مرزائی مجیب اپنے دل میں سمجھ رہا ہے کہ میرے مضامین پڑھنے والے مرزائی ہی تو ہیں جو ایمان و اسلام کے علاوہ عدل و انصاف سے بھی مبرا ہیں۔ اس لیے جو چاہوں لکھوں۔ مرزا صاحب نے سچ فرمایا ہے کہ:
    '' جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے بکے کون اس کو روکتا ہے۔'' (۷۵۰)
    مگر جناب ہم تو جھوٹے کو گھر تک پہنچا کر چھوڑیں گے۔ سنیے صاحب! یہ اشخاص محدث بھی نہیں بنائے جاسکتے کیونکہ تمہارے نبی کے فرمان کے موحب محدث کی وحی بھی دخل شیطان سے پاک ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو تحریر ذیل :
    '' محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔ رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے۔'' (۷۵۱)
    اسی طرح ایک اور مقام پر خاص اسی آیت کی رو سے جو مرزائی مجیب نے صرف انبیاء کی وحی کے متعلق لکھی ہے حسب قرأت ابن عباس مرزا صاحب نے محدث کو بھی اسی میں داخل کیا ہے۔ (۷۵۲)لہٰذا مرزائی صاحب کا ان چار سو اشخاص کو محدثین میں شامل کرنا جھوٹ ہے، فریب ہے، بہتان ہے کیونکہ ان کی وحی غلطی سے پاک نہیں کی گئی۔ جیسا کہ بائیبل کے مطالعہ سے صاف ظاہر ہے اور خود ہمارے مخاطب نے اپنی کتاب تفہیمات ربانیہ میں تسلیم کیا ہے:
    '' تورات سے ان نبیوں کا جو حال ثابت ہے وہ یہ ہے کہ وہ اخیر تک اپنی بات پر ضد رہے۔'' (۷۵۳)
    پھر اور سنیے مرزا صاحب کے نزدیک ''محدث ارشاد و ہدایت خلق اللہ کے لیے مامور ہوتا ہے۔'' (۷۵۴)بخلاف اس کے یہ چار سو صاحب مامور خدا وہادی خلق اللہ تو کیا۔ انتہائی گمراہی پر کمر بستہ نظر آرہے ہیں چنانچہ آپ خود مانتے ہیں کہ وہ اپنی غلط پیشگوئیوں پر یوں اڑے بیٹھے تھے کہ جب ان کے رو برو ایک '' صادق نبی اللہ'' نے ان کی کذب گوئی عیاں کی تو:
    '' ان میں سے ایک نے میکا یاہ نبی کی راست گوئی پر ایک تھپڑ بھی مار دیا۔''(۷۵۵)
    حیرت ہے کہ باوجود اس کافرانہ جرأت و جسارت کے بھی انہیں مامور الٰہی محدث وغیرہ تسلیم کیا جاتا ہے:
    ہوا تھا کبھی سر قلم قاصدوں کا
    یہ تیرے زمانے میں دستور نکلا
    آگے چل کر اور گل کھلایا ہے کہ :
    '' بلعم بن باعور کی طرح ناتمام سالک تھے۔''
    کہاں نبی اللہ۔ کہاں محدث اور کہاں ناتمام سالک جو بقول مرزا آیت ھَلْ اُنَبِّئُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطیْنُ تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ کے تحت داخل ہیں۔(۷۵۶)
    اس ''کوڑھ پہ کھاج'' اور ملاحظہ ہو کر یہی صاحب اپنی کتاب تفہیمات ربانیہ میں یہ بھی لکھ گئے کہ :
    ' ' بائیبل کے ان چار سو نبیوں کی حیثیت معمولی کاہنوں کی حیثیت تھی۔'' (۷۵۷)
    واہ رے تیری تہافت، اچھا صاحب اگر یہ محض معمولی کاہنوں کی حیثیت میں تھے تو آپ کے نبی نے ان کاہنوں کی کذب گوئی کو اپنی پیشگوئی پر بطور نظیر کیوں پیش کیا اور ان کے مقابلے پر اپنے لیے لفظ '' عاجز'' کیوں لکھا؟ کیا مرزا صاحب ان جیسے یا ان سے بھی گئے گزرے تھے؟
    میرے پہلو سے کیا پالا ستم گر سے پڑا
    مل گئی مرزا تجھے کفران نعمت کی سزا
    مولوی صاحب آئیے آپ کے نبی کی تحریر سے تمہیں کاہنوں کی تصویر کے درشن کراؤں۔ ہوش و حواس کو قائم کرکے اپنے ایمان کے آئینہ میں ان کا عکس جمائیے کیوں کہ آخر بقول شمایہ آپ کے مسلمہ مقتدا کے ہم شکل ہیں ملاحظہ ہو مرزا صاحب فرماتے ہیں:
    '' اللہ نے جو کاہنوں اور مجنونوں کی تردید کی ہے تو اسی واسطے کہ آخر ان کو بھی بعض باتیں معلوم ہو جاتی ہیں۔'' (۷۵۸)
    معلوم ہوا کہ کاہن زمرہ مردودین میں داخل ہیں۔ مولوی صاحب آپ نے لکھا تھا کہ ''اہلحدیث'' اپنے دعویٰ یعنے اشخاص کے جھوٹے نبی ہونے کا ثبوت دے۔ لیجئے ہم نے بائیبل کے حوالہ سے پہلے پہلے خود آپ ہی کی تحریرات سے ثابت کردیا کیا کہتے ہو؟ اگر کچھ کسر ہے تو اور سنیے خود آپ کے قلم سے حق تعالیٰ نے لکھوا دیا ہے کہ وہ جھوٹے نبی تھے۔ ملاحظہ ہو آپ لکھتے ہیں:
    '' حضرت (مرزا صاحب) نے بائیبل کے چار سو نبیوں والے قصہ کو متعدد کتب میں ذکر فرمایا ہے ضرورۃ الامام میں ان کے الہام کو شیطانی قرار دیا (ص۱۷) اور ازالہ اوہام میں ان کے جھوٹے ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔'' (۷۵۹)
    کیا خوب:
    الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
    لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
    -----------------------------
    (۷۴۸) پ۳ البقرہ آیت نمبر ۲۵۸
    (۷۴۹) مفہوم اخبار ، الفضل ۲۰ ؍ نومبر ۱۹۳۲ء
    (۷۵۰) اعجاز احمدی ص۳ و روحانی ص۱۰۹، ج۱۹
    (۷۵۱) توضیح مرام ص۱۸ و روحانی ص۶۰، ج۲
    (۷۵۲) ازالہ اوہام ص۴۲۲ و روحانی ص۳۲۱، ج۳ و تفیسر مرزا ص۱۵۳، ج۶
    (۷۵۳) تفہیمات ربانیہ ص۳۸۸
    (۷۵۴) ضرورۃ الامام ص۲۴ و روحانی ص۴۹۴، ج۱۳ و مفہوم توضیح مرام ۱۸ روحانی ص۶۰، ج۲
    (۷۵۵) تفہیمات ربانیہ ص۳۹۳، نوٹ: اللہ دتہ جالندھری کا سورہ الحج کی آیت سے انبیاء کے علاوہ کی وحی میں دخل شیطانی کے ہونے کا استدلال کرنا، مرزا کی تصریحات کے خلاف ہے، چنانچہ مرزا کہ جس طرح نبی اور رسول کی وحی محفوظ ہوتی ہے اسی طرح محدث کی وحی بھی محفوظ ہوتی ہے جیسا کہ اس آیت (سورہ حج) میں پایا جاتا ہے، الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۲ء ص۶ بحوالہ تفسیر مرزا ص۱۶۳، ج۶
    (۷۵۶) ضرورۃ الامام ص۱۳ و روحانی ص۴۸۴، ج۱۳ و تفسیر مرزا ص۳۷۴، ج۶
    (۷۵۷) تفہیمات ربانیہ ص۳۹۳
    (۷۵۸) الحکم جلد ۱۱ نمبر۴۰ مورخہ ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۷ء ص۸ و ملفوظات مرزا ص۳۴۸، ج۵
    (۷۵۹) الفضل ۲۰؍ نومبر ۱۹۳۲ء
     
  2. ‏اپریل 16، 2014 #102
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قطع نظر ان ہیرا پھیریوں کے جو مرزائی صاحب نے کی ہیں۔ ابھی یہ سوال باقی ہے کہ انہوں نے جو بلعم بن باعور کو ناتمام سالک لکھ کر زمرہ افاک واثیم میں داخل کیا ہے یہ کس بنا پر؟
    مولوی صاحب! آپ کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ آپ کے نبی نے اسے ہلاک شدہ لکھا ہے (ص۳ ضرورۃ الامام) اس لیے آپ نے بھی ان کی اندھی تقلید میں ٹھوکر کھائی ہے۔ اے جناب غلط قصہ جات کی بنا پر کسی ''لحب اللہ'' کو اخوان الشیطن میں داخل کرنا۔ علم و دیانت عقل و اخلاق کے منافی ہے۔ اتقوا اللّٰہ
    ناظرین کرام! مرزائی تحریر کے بخئے ادھیڑنے کے بعد اب ہم بائیبل سے ثابت کرتے ہیں کہ وہ چار صد شخص کافر محب الشیاطین تھے بحولہ وقوتہٖ:
    '' اور شاہ یہوداہ کی سلطنت کے اٹھتیسویں سال اخی اب بنی اسرائیل کا بادشاہ ہوا (اس نے) خداوند کے حضور بدکاریاں ۱۶،۳۰ کیں۔ اس نے یہ سمجھ کر کہ یربعام کے گناہوں کی راہ چلنا چھوٹی (حقیر) بات ہے۔ صیدانیوں کے بادشاہ استبعل کی بیٹی ایزبل سے بیاہ کیا اور جاکے بعل (بت) کو پوجا ۱۶،۳۱ اور بعل کے گھرجو اس نے بنایا تھا بعل کے لیے ایک مذبح تیار کیا ۱۶،۳۲، اور ایک گھنا باغ لگایا (ناظرین گھنے باغ کو خوب یاد رکھیں ۱۶،۳۲) اس سے آگے جناب ایلیاہ '' بنی اللہ'' اور شاہ اخی اب کا مکالمہ درج ہے ایلیاہ کا قحط کی پیشگوئی کرکے چلا جانا مرقوم ہے اور ایسا ہوا کہ بہت دنوں کے بعد خداوند کا کلام ایلیاہ پر نازل ہوا کہ جا اور اپنے تئیں اخی اب کو دکھا میں زمین پر برساؤں گا ۱۸،۱ ، سو ایلیاہ روانہ ہوا ۱۸،۲، اس وقت اخی اب نے عبدیاہ کو جو اس گھر کا دیوان تھا طلب کیا ۱۸،۳، اور عبدیاہ خداوند سے بہت ڈرتا تھا کیونکہ جس وقت (اخی اب کی کافرہ بیوی) ایزبل نے خداوند کے (صادق) نبیوں کو قتل کیا تو عبدیاہ نے سو نبیوں کو چھپا دیا اور انہیں روٹی پانی سے پالا ۱۸،۵۰۳(اس عبارت سے صاف واضح ہے کہ اخی اب اور اس کی بیوی کے سامنے جتنے صادق نبی تھے وہ سب کے سب قتل کئے گئے بجز ایک سو کے جن کو عبدیاہ نے چھپا دیا ہے۔ ناقل) اور ایسا ہوا کہ جب (ایلیاہ) اخی اب (کے سامنے آیا تو اس) نے ایلیاہ کو کہا کیا تو ہی اسرائیل کا ایذا دینے والا ہے ۱۸،۱۷ وہ (ایلیاہ) بولا نہیں بلکہ تو اور تیرے باپ کاگھرانا ہے کہ تم نے خداوند کے حکموں کو ترک اور بعلیم کے پیرو ہوئے ۱۸،۱۸ اب تو لوگ بھیج اور سارے اسرائیل کو اور بعل کے ساڑھے چار سو نبیوں کو اور گھنے باغوں کے چار سو نبیوں کو جو ایزبل کے دستر خوان پر کھاتے ہیں کوہ کر مل پر میرے پاس اکٹھا کر ۱۸،۱۹ (تحریر ہذا صاف مظہر ہے کہ بعل کے ۴۵۰ نبی اور گھنے باغوں کے چار سو نبی جملہ ۸۵۰ کافر ہی تھے کیونکہ ایزبل صادقوں کی دشمن اور قاتلہ تھی اور یہ بدبخت اس کے دستر خوان کی مکھیاں تھے۔ ناقل) چنانچہ اخی اب نے سارے بنی اسرائیل کو طلب کیا اور نبیوں کو کوہ کرمل پر اکٹھا کیا ۱۸،۲۰، اور ایلیاہ نے لوگوں کے درمیان آکر کہا کہ تم کب تک دو فکروں میں لٹکے رہو گے۔ اگر خداوند خدا ہے تو اس کے پیرو رہو۔ اگر بعل ہے تو اس کے پیرو ہو۔ مگر لوگوں نے اس کے جواب میں ایک بات نہ کہی ۱۸،۲۲ تب ایلیاہ نے کہا کہ خداوند کے نبیوں میں سے میں ہاں میں ہی اکیلا باقی ہوں (یہ بیان کھلے طور پر شاہد ہے کہ اس وقت سوائے ایلیاہ جملہ ۸۵۰ نبی خدا کے نبی نہ تھے۔ ناقل) پر بعل کے نبی کہلانے والے چار سو پچاس ہیں ۱۸،۲۲ سو وہ ہم کو دو بیل دیں اور اپنے لیے (ان میں سے) ایک پسند کرلیں اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کریں اور لکڑیوں پر دھریں اور آگ نہ دیں اور میں دوسرا بیل لوں گا اور اسے لکڑیوں پر دھروں گا اور آگ نہ دوں گا ۱۸،۳ تب تم اپنے خداؤں کا نام لو اور میں یہوداہ کا نام لوں گا۔ (ان الفاظ سے ثابت ہے کہ جناب ایلیاہ کے مقابلہ پر بعل کے چار سو پچاس نبی آئے تھے دوسرے ۴۰۰ نبی جو اس کافرہ ایزبل کے دست نگر اور اس کے ایوانِ نعمت کے چوہے تھے وہ مقابلہ پر نہیں بلائے گئے (اس سے آگے مذکور ہے کہ ۴۵۰ اشخاص بعل کے نبی بوجہ نہ دکھا سکنے معجزہ کے بذلت دخواری جناب ایلیاہ کے ہاتھوں قتل کئے گئے آگے ملاحظہ ہو) پھر اخی اب نے سب کچھ ایزبل سے آکر کہا کہ ایلیاہ نے یوں یوں کیا اور کیونکر اس نے (بعل کے) سارے نبیوں کو تہ تیغ کیا ۱۹،۱ سو ایزبل نے قاصد کی معرفت ایلیاہ کو کہلا بھیجا کہ اگر میں کل کے دن اسی وقت تجھے بھی ان میں کا ایک (یعنی مقتول) نہ کردوں تو معبود مجھے ایسا ایسا کریں ۱۹، ۲ یہ سن کر ایلیاہ وہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا (اور) ایک غار میں گیا اور وہیں رہا اور دیکھو کہ خداوند کا کلام اس پر نازل ہوا اور اس نے کہا اے ایلیاہ تو کیا کرتا ہے ۱۹،۹ وہ بولا خداوند بنی اسرائیل نے تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور میں ہاں میں ہی اکیلا جیتا بچا۔ سو وہ میری جان کے خواباں ہیں کہ اسے لیں ۱۹،۱۰ (اس کے آگے بنی اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کی لمبی کہانی ہے۔ اس ضمن میں جناب ایلیاہ کی پیشگوئی ہے کہ اخی اب یوں مرے گا وغیرہ آگے باب ۲۲ سے ملاحظہ ہو) بعد اس کے تین برس تک اسرائیل اور ارام کے درمیان لڑائی نہ ہوئی اور تیسرے سال ایسا ہوا کہ یہوداہ کا بادشاہ یہوسفط شاہ اسرائیل کے یہاں اتر آیا ۲۲،۲۰۱ تب شاہ اسرائیل نے اپنے ملازموں سے کہا تم جانتے ہو کہ رات جلعاد ہمارا ہے کیا ہم چپکے رہیں اور شاہ ارام کے ہاتھ سے پھر نہ لے لیں؟ ۲۲،۳ یہوسفط نے شاہ سے کہا آج دن خداوند کی مرضی الہام سے دریافت کیجئے ۲۲،۵ تب شاہ اسرائیل نے اس روز نبیوں کو جو قریب چار سو کے تھے اکٹھا کیا (ناظرین!) یہ چار سو نبی شاہ اسرائیل کے خوشامدی وہی پرانے پاپی گھنے باغ والے بت پرست ایزبل کے مصاحب اس کے خوانِ طعام کی ہڈیاں چچوڑنے والے انسان نما حیوان ہیں۔ ناقل) اور ان سے پوچھا میں رامات جلعاد پر بڑھنے چڑھوں یا اس سے باز رہوں؟ وہ بولے چڑھ جا کہ خداوند اسے بادشاہ کے قبضے میں کردے گا ۲۲،۶ پھر یہوسفط بولا کہ ان (بناوٹی نبیوں) کے سوا خداوند کا کوئی نبی ہے کہ ہم اس سے پوچھیں ۲۲،۷ تب شاہ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا کہ ایک شخص املہ کا بیٹا میکایاہ تو ہے (یہ نبی یا تو ان سو نبیوں سے ہے جن کو قتل ہونے سے بچا کر عبدیاہ نے چھپا دیا تھا۔ یا پھر جناب ایلیاہ کے چلے جانے کے بعد خلعت نبوت سے مقلع کیا گیا ہوگا) اس (میکایاہ) سے ہم خداوند کی مشورت پوچھ سکتے ہیں لیکن میں اس سے دشمنی رکھتا ہوں۔ کیونکہ وہ میرے حق میں بدی کی پیش خبری کرتا ہے۔ تب یہوسفط بولا بادشاہ ایسا نہ فرمائیے ۲۲،۸ تب شاہ اسرائیل نے ایک خواجہ سرا کو حکم کیا کہ املہ کے بیٹے میکایاہ کو لا ۲۲،۱۰ سو وہ شاہ پاس آیا ۲۲،۱۵ پھر اس نے کہا کہ اس لیے کہ تم خداوند کے سخن کو سنو۔ میں نے خداوند کو کرسی پر بیٹھے دیکھا اور آسمانی لشکر آس پاس اس کے داہنے اور اس کے بائیں ہاتھ کھڑا تھا ۲۲،۱۹ خداوند نے فرمایا کہ اخی اب کو کون ترغیب دے گا کہ وہ چڑھ جائے اور رامات جلعاد کے سامنے کھیت آئے تب ایک اس طرح سے بولا اور ایک اُس طرح سے ۲۲،۲۰ ایک روح اس وقت نکل کے خداوند کے سامنے آکھڑی ہوئی اور بولی کہ میں اسے ترغیب دوں گی ۲۲،۲۱ پھر خداوند نے فرمایا کہ کس طرح سے وہ بولی میں روانہ ہوں گی اور جھوٹی روح بن کے اس کے سارے نبیوں کے منہ میں پڑوں گی وہ بولا تو اسے ترغیب دے گی اور غالب بھی ہوگی۔ روانہ ہو اور ایسا کر ۲۲، ۲۳ یہ بیان کرکے جناب میکایاہ نے فرمایا) سو دیکھ خداوند نے تیرے ان سب نبیوں کے منہ میں جھوٹی روح ڈالی ہے اور (مجھے) خداوند ہی نے تیری بابت بری خبر دی ہے ۲۲۔۲۳ ،الخ (۷۶۱)
    معزز قارئین کرام! بائیبل کی اس تمام عبارت سے ظاہر باہر ثابت و عیاں ہے کہ وہ چار سو اشخاص جن کو مرزا قادیانی نے خدا کے نبی قرار دے کر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ جھوٹے کافر بت پرست تھے۔ خاص کر آخری سطور میں اس آسمانی روح یعنی فرشتے کا بیان جس نے ان نبیوں کو فتح کی خبر دی اور جناب میکایاہ کے یہ الفاظ:
    '' میں جھوٹی روح بن کے اس کے نبیوں کے منہ پڑوں گی'' خداوند نے تیرے ان نبیوں کے منہ میں جھوٹی روح ڈالی ہے۔
    تو اور بھی وضاحت کر رہے ہیں کہ وہ نبی خدا کے رسول نہ تھے بلکہ شاہ اخی اب کے مزعومہ نبی تھے وھذ اھو المطلوب ۔(۷۶۲)
    ----------------------------------------------------------------------
    (۷۶۰) ضرورۃ الامام ص۳ و روحانی ص۴۷۳، ج۱۳
    (۷۶۱) ملخصًا ، سلاطین باب ۱۶ کی آیت نمبر ۲۹ سے لے کر باب ۲۲ کی آیت نمبر ۲۳ تک مندرجہ مجموعہ بائبل ، عہد نامہ قدیم ص۳۴۴ تا ۳۵۲، طبعہ بائبل سوسائٹی لاہور ۱۸۹۶ء
    (۷۶۲) اس پر مزید بحث عصاء موسٰی ص۲۳۹ طبعہ ... مؤلفہ مولانا الٰہی بخش صاحب اکاؤنٹنٹ میں دیکھئے
     
  3. ‏اپریل 16، 2014 #103
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مرزا صاحب کے کاذب ہونے پر نویں دلیل

    توہین انبیاء کرام علیہم السلام
    مرزا صاحب نے جملہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کی ۔ خاص کر حضرت مسیح علیہ السلام کو تو کھلے الفاظ میں گالیاں دی ہیں۔ مسیح علیہ السلام کو کھلی کھلی گالیاں دینے کا سبب یہ تھا کہ مرزا صاحب کا دعویٰ مسیح ہونے کا تھا اور حضرت ان کے دعویٰ میں روک تھے۔ اس لیے حسبِ قاعدۂ ذیل ضروری تھا کہ حضرت مسیح کی توہین کرتے۔
    '' جاہلوں کا ہمیشہ سے یہی اصول ہوتا ہے کہ وہ اپنی بزرگی کی پٹڑی جمنا اسی میں دیکھتے ہیں کہ بزرگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کریں۔''(۷۶۳)
    مگر یاد رکھو:
    '' وہ (شخص) بڑا ہی خبیث اور ملعون اور بدذات ہے جو خدا کے برگزیدہ و مقدس لوگوں کو گالیاں دیتا ہے۔'' (۷۶۴)
    '' اسلام میں کسی نبی کی بھی تحقیر کرنا کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے۔'' (۷۶۵)
    مرزا صاحب کی گالیاں بحق مسیح علیہ السلام
    ۱۔ '' حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا بد زبانی میں اس قدر بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا۔ اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں۔'' (۷۶۶)
    ۲۔ '' انجیل میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے یسوع کو نیک کہا تو جناب نے جواب دیا۔ تو نے مجھے کیوں نہیں کہتا ہے کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا۔'' (۷۶۷)
    مرزا صاحب کو تسلیم ہے کہ نیک نہ کہلانے والا حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھا:
    '' حضرت مسیح تو وہ بے نفس انسان تھے جنہوں نے یہ بھی نہ چاہا کہ کوئی ان کو نیک کہے۔''(۷۶۸)
    مگر جب مرزا صاحب پر غیظ و غضب کا زور ہوا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین کا بھوت سوار ہوا تو آپ نے لکھا:
    '' یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چال چلن۔'' (۷۶۹)
    ۳۔ اناجیل مروجہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ آپ نے ایک بدکار عورت سے عطر ملوایا (بہ روایت مرزا)۔ (۷۷۰)
    مرزا صاحب مانتے ہیں کہ عطر ملوانے والا یسوع در حقیقت حضرت مسیح علیہ السلام تھا اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس فعل پر اعتراض کرنے والا شیطان طینت بدخصلت انسان ہے۔ (۷۷۱)جیسا کہ ہم باب کذبات مرزا صاحب پاکٹ بک ہذا پر آئینہ کمالات کے حوالہ سے لکھ آئے ہیں۔ مگر جب مرزا صاحب کو حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین مطلوب ہوئی تو اسی فعل پر یوں اعتراض کیا کہ:
    '' آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اس وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چال چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔ '' (۷۷۲)
    ۴۔ مرزا صاحب باوجود یہ ماننے کے کہ '' شراب ام الخبائث ہے۔'' (۷۷۳)پھر بھی لکھتے ہیں کہ:
    (۱) عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ یا پرانی عادت کی وجہ سے مگر قرآن انجیل کی طرح شراب کو حلال نہیں ٹھہراتا۔(۷۷۴)
    (ب) '' میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا۔'' (۷۷۵)
    (ج) کسی نے مرزا صاحب کو مرض ذیابیطس کے علاج کے لیے افیون کھانے کا مشورہ دیا تو مرزا نے کہا:
    '' میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کرکے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا دوسرا افیونی۔''(۷۷۶)
    مرزائی عذر:
    مرزا صاحب نے انجیل کے حوالہ سے ایسا لکھا ہے۔
    الجواب:
    گو انجیل کے حوالہ سے ہی کہا ہو۔ مگر خود ان کا اپنا مذہب بھی اس بارے میں یہی ہے۔ جیسا کہ لکھا جا چکا ہے۔
    ۵۔ مرزا صاحب یہ مانتے ہوئے کہ انبیاء کا خاندان ہمیشہ پاک ہوتا ہے۔(۷۷۸) پھر بھی حضرت مسیح علیہ السلام پر بدیں دریدہ دہنی زبان طعن کھولتے ہیں۔
    (ا) '' آپ (یسوع) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کیسی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔(۷۷۹)
    اعتراض:
    یہ سب اعتراضات انا جبل کے بیانات کی بنا پر ہیں اور یہاں یسوع کا ذکر ہے نہ کہ مسیح کا۔
    الجواب:
    (۱) جن نبیوں کا اس وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی میں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔(۷۸۰)
    (۲) '' ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے مگر میں ایک بندہ عاجز مگر نبی مانتا ہوں۔'' (۷۸۱)
    (۳) حضرت عیسیٰ علیہ السلام یسوع اور جیزس یایوز آسف کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ (۷۸۲)
    (۴) یہ اعتقاد رکھنا پڑتا ہے کہ جیسا کہ ایک بندہ خدا کا عیسیٰ نام جس کوعبرانی میں یسوع کہتے ہیں تیس برس تک موسیٰ رسول اللہ کی شریعت کی پیروی کرکے خدا کا مقرب بنا۔(۷۸۳)
    -------------------------------------------------------------------------------------------------
    (۷۶۳) ست بچن ص۸ و روحانی ص۱۲۰، ج۱۰
    (۷۶۴) الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ء و ملفوظات مرزا ص۶۶۵، ج۵ نوٹ: مولانا معمار رحمۃ اللہ علیہ نے مرزا جی کی عبارت کا مفہوم بیان کیا ہے جبکہ مرزا کے الفاظ ہیں کہ اور مجھ پر خواہ مخواہ جھوٹ اور تہمت سے الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ میں پیغمبروں کو گالیاں دیتا ہوں مگر کیسا ہی خبیث اور ملعون ہے وہ شخص جو کہ برگزیدہ بندوں کا انکار کرے یا ان کی کسی طرح سے اپنے قول سے یا فعل سے توہین کرے۔ انتھی بلفظہٖ ۔ ابو صہیب
    (۷۶۵) ضمیمہ چشمہ معرفت ص۱۸ و روحانی ص۳۹۰، ج۲۳
    (۷۶۶) چشمہ مسیحی ص۱۱ و روحانی ص۳۴۶، ج۲۰
    (۷۶۷) انجیل مرقس باب ۱۰ آیت: ۱۸
    (۷۶۸) چشمہ مسیحی ص۵۷ و روحانی ص۳۷۵،ج۲۰
    (۷۶۹) حاشیہ ست بچن ص۱۷۲ و روحانی ص۲۹۶، ج۱۰
    (۷۷۰) آئینہ کمالات ص۵۹۷
    (۷۷۱) ایضًا ص۵۹۷
    (۷۷۲) حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۷ و روحانی ص۳۹۱، ج۱۱
    (۷۷۳) نصرۃ الحق ص۲۶ و روحانی ص۳۶، ج۲۱
    (۷۷۴) حاشیہ کشتی نوح ص۶۵ و روحانی ص۷۱، ج۱۹
    (۷۷۵) ریویو ص۱۲۴،ج۱ ، ۱۹۰۲ء
    (۷۷۶) نسیم دعوت ص۶۹ و روحانی ص۴۳۵، ج۱۹
    (۷۷۷) احمدیہ پاکٹ بک ص۹۵۶ طبعہ ۱۹۴۵
    (۷۷۸) اعجاز احمدی ص۷۱ و روحانی ص۱۸۳ تا ۱۸۴، ج۱۹
    (۷۷۹) حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۷ و روحانی ص۲۹۱، ج۱۱
    (۷۸۰) توضیح مرام ص۳ و روحانی ص۵۲، ج۲ نوٹ: حضرت یوحنا علیہ السلام کا نام ادریس نہیں بلکہ الیاس علیہ السلام تھا مرزا قرآن و حدیث کی طرح تاریخ انبیاء سے بھی نابلد محض تھے۔ ابو صہیب
    (۷۸۱) مکتوب مرزا بنام ڈوئی مورخہ سمتبر ۱۹۰۲ء مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ستمبر ۱۹۰۲ء ص۳۴۴ و تاریخ احمدیت ص۲۴۹، ج۳ و مجدد اعظم ص۸۶۸، ج۲
    (۷۸۲) راز حقیقت ص۱۹ و روحانی ص۱۷۱، ج۱۴
    (۷۸۳) چشمہ مسیحی ص۶۷ و روحانی ص۳۸۱ و تفسیر مرزا ص۲۵۸، ج۱ نوٹ: مرزائی کہا کرتے ہیں کہ خاتم النبیین کا معنیٰ افضل و مہر ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے ایک امتی شخص مقام نبوت حاصل کرسکتا ہے، دیکھئے حقیقت النبوۃ ص۱۸۵ تا ۱۸۸۔ جبکہ چشمہ مسیحی کی مذکورہ عبارت صاف دلالت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مقام نبوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی اور اتباع کامل سے پایا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ایسا وصف ہے جس میں کوئی دوسرا نبی شریک وسہیم نہیں ہے۔ (دیکھئے محمدیہ پاکٹ بک میں ختم نبوت پر دوسری حدیث)
    اگر یہی خاتم النبیین کی تفسیر ہے تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص نہ رہی بلکہ بقول مرزا اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام شریک و سہیم ہوئے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تخصیص کا دعویٰ فرما رہے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ قادیانیوں کی تفسیر اور معنیٰ غلط اور باطل ہے۔ ابو صہیب
     
  4. ‏اپریل 16، 2014 #104
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مندرجہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ یسوع مسیح اور عیسیٰ ایک ہی ہستی کا نام ہے۔
    علاوہ ازیں مرزا صاحب مانتے ہیں کہ جس یسوع کی دادیوں نانیوں پر اعتراض ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام میں اور ساتھ ہی یہ بھی مانتے ہیں کہ اعتراض واقعی وزنی ہے۔ ایسا وزنی کہ مجھ کو بھی اس کا جواب نہیں آتا چنانچہ عیسائیوں کے جواب میں لکھتے ہیں:
    '' ہاں مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے اس کا جواب بھی کبھی آپ نے سوچا ہوگا۔ ہم تو سوچ کر تھک گئے اب تک کوئی عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا۔ کیا ہی خوب خدا سے جس کی دادیاں نانیاں اس کمال کی ہیں۔'' (۷۸۴)
    ۶۔ مرزا صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام کا مقابلہ کرتے ہوئے ہاں یسوع کا نام لے کر نہیں بلکہ ''حضرت مسیح'' ( علیہ السلام ) کا نام لے کر مقابلہ کرتے ہوئے لکھا کہ:
    '' مسیح کا چال چلن کیا تھا ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر خودبین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔'' (ص۲۱ تا ص۲۴ مکتوباتِ احمدیہ جلد ۳) (۷۸۵)
    ۷۔ جناب یسوع علیہ السلام کے معجزات پر بھی یہود نے اعتراضات کئے ہیں۔ مرزا صاحب اقراری ہیں کہ یسوع در حقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں چنانچہ لکھتے ہیں:
    '' عیسائیوں کو کس بات پر ناز ہے۔ اگر ان کا خدا ہے تو وہی ہے جو مدت ہوئی مر گیا اور سری نگر محلہ خان یار کشمیر میں اس کی قبر سے اور اگر اس کے معجزات میں تو دوسرے نبیوں سے بڑھ کر نہیں بلکہ الیاس نبی کے معجزات اس سے بہت زیادہ ہیں اور بموجب بیان یہودیوں کے اس سے کوئی معجزہ نہیں ہوا محض فریب اور مکر تھا کیا دنیا کی بادشاہت حضرت عیسیٰ کو پیشگوئی کے موافق مل گئی۔'' (۷۸۶)
    اس بیان سے ظاہر ہے کہ عیسائی جسے خدا سمجھتے جس کے معجزات یہود، فریب اور مکر کے الفاظ استعمال کرتے ہیں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ بہت خوب۔ ناظرین اسے ملحوظ رکھ کر یہود ثانی کا بیان سنیں۔
    '' آپ (یسوع) کے ہاتھ میں سوا مکرو فریب کے کچھ نہیں تھا۔'' (۷۸۷)
    ۸۔ انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بعض پیشگوئیاں منسوب کی گئی ہیں۔ جو بظاہر الفاظ صحیح نہیں نکلیں۔ ہمارے نزدیک تو اناجیل غیر معتبر ہیں اور مرزا صاحب بھی یہی مانتے ہیں۔(۱) مگر چونکہ خود مرزا صاحب کی اکثر پیشگوئیاں جھوٹی نکلی ہیں۔ اس لیے انہوں نے اپنی کالک دھونے کی بجائے حضرات انبیاء کرام کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کی ناپاک کوشش کی اور یہود نا مسعود کی کتب کی بنا پر عیسائیوں کے سامنے ہی نہیں خود اہل اسلام کے مقابلہ پر بھی انجیلی غلط پیشگوئیاں کو پیش کیا چنانچہ لکھا ہے:
    ۱۔ مرزا صاحب خود لکھتے ہیں کہ '' یہ چاروں انجیلیں ایک زرہ قابل اعتبار نہیں۔'' (۷۸۸)
    (ا) '' جو اس فاضل یہودی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئیاں پر اعتراض کئے ہیں وہ نہایت سخت اعتراض ہیں۔ بلکہ وہ ایسے اعتراض ہیں کہ ان کا تو ہمیں بھی جواب نہیں آتا۔ اگر مولوی ثناء اللہ یا مولوی محمد حسین یا کوئی پادری صاحبوں سے ان اعتراضات کا جواب دے سکے تو ہم ایک سو روپیہ نقد بطور انعام کے اس کے حوالے کریں گے۔ خدا کہلا کر پیشگوئیاں کا یہ حال ہے اس سے تو ہمیں بھی تعجب ہے ایسی پیشگوئیوں پر توفسخ بھی جاری نہیں ہو سکتا نا یہ خیال کیا جائے کہ وہ منسوخ ہوگئیں ہاں وعید کی پیشگوئیاں جیسا کہ آتھم کی پیشگوئی یا احمد بیگ کے داماد کی پیشگوئی، ایسی پیشگوئیاں ہیں جن کی قرآن اور توریت کی رو سے تاخیر بھی ہوسکتی ہے اور ان کا التوا ان کے کذب کو مستلزم نہیں۔ (۷۸۹)
    (ب) یہود تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں ان کی پیشگوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں بغیر اس کے کہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے۔ (۷۹۰)
    (ج) ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشگوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔ (۷۹۱)
    ----------------------------------------------------------------
    (۷۸۴) مکتوبات احمدیہ ص۲۱، ۲۴، ج۳
    (۷۸۵) نور القرآن ص۱۲ حصہ دوم و روحانی ص۳۸۷، ج۹
    (۷۸۶) چشمہ مسیحی ص۹ تا ۱۰ و روحانی ص۳۴۴، ج۲۰
    (۷۸۹) اعجاز احمدی ص۵ و روحانی ص۱۱۱، ج۱۹
    (۷۹۰) ایضًا ص۱۳ و روحانی ص۱۲۰، ج۱۹
    (۷۹۱) ایضًا ص۱۴ و روحانی ص۱۲۱، ج۱۹
     
  5. ‏اپریل 16، 2014 #105
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    برادران! دیکھئے کس یقینی انداز میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئیوں کو جھوٹا قرار دیا ہے حالانکہ یہی مرزا صاحب انہی مسیح علیہ السلام کے متعلق لکھ آئے ہیں کہ:
    '' قرآن شریف میں ہے بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی (یہ جھوٹی ہے ناقل) بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگوئیاں ٹل جائیں۔'' (۷۹۲)
    ۹۔ مردمی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔ (۷۹۳)
    ۱۰۔ خدا کے نبی توحید سکھانے آتے ہیں اب اگر نادان لوگ انہیں خدا بنا لیں تو اس میں انبیاء کا کوئی قصور نہیں۔ اس بنا پر نبیوں کو مورد طعن بنانے والا بد دیانت انسان کہلائے گا مگر افسوس کہ مرزا صاحب اس خصوص میں بھی پیش پیش ہیں چنانچہ لکھتے ہیں:
    '' ایک دفعہ حضرت عیسیٰ زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہوگئے۔ دوبارہ آکر وہ کیا بنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہشمند ہیں۔'' (۷۹۴)
    معاذ اللہ۔ استغفر اللہ۔ کیسا صریح توہین آمیز بہتان ہے۔
    ناظرین! یہ اقوال صرف بطور نمونہ سمجھیں۔ ورنہ اس قسم کے بیسیوں حوالے ہیں۔ جن میں مرزا جی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین کی ہے۔
    مرزائی عذر:
    یہ تحریرات جوابی طور پر لکھی گئی ہیں۔ (۷۹۵)
    الجواب:
    '' مسلمانوں سے یہ ہرگز ہوسکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔'' (۷۹۶)
    مرزائی عذر:
    مرزا صاحب نے یسوع کو برا کہا ہے نہ کہ مسیح علیہ السلام کو۔ (۷۹۷)
    الجواب:
    یہ بھی غلط عذر ہے کیونکہ ہم نے ثابت کردیا ہے کہ یسوع اور مسیح دونوں ایک ہی ہیں پھر لطف یہ کہ مرزا صاحب کی اکثر تحریریں ہم نقل کر آئے ہیں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے ہیں۔ ماسوا اس کے اگر مان بھی لیا جائے کہ بعض جگہ اپنی کتب میں مرزا صاحب نے عیسائیوں کے کسی فرضی یسوع کو برا بھلا کہا ہے۔ تو یہ بھی خود مرزا صاحب کے نزدیک ایک گندہ طریقہ ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
    (ا) اس کتاب (براہین احمدیہ) میں کوئی ایسا لفظ نہیں کہ جس میں کسی بزرگ یا پیشوا کسی فرقے کی کسرِ شان لازم آوے۔ خود تم ایسے الفاظ کو صراحتاً یا کنایۃً اختیار کرنا حدیث عظیم سمجھتے ہیں اور مرتکب ایسے امر کو پرلے درجے کا شریر النفس خیال کرتے ہیں۔
    مختلف فرقوں کے بزرگ ہادیوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا پرلے درجے کی خباثت اور شرارت ہے۔ (۷۹۸)
    (ب) مولوی اللہ د تا جالندھری احمدی اپنی کتاب '' تفہیمات ربانیہ'' میں لکھتا ہے:
    '' میں دنیا کے شرفا کے سامنے اس ذہنیت پر افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ایک شخص لاکھوں انسانوں کے پیشوا جان و مال اور عزت سے بدرجہا محبوب پیشوا پر حملے کرتا ہے اور ناواجب اور سوقیانہ الفاظ استعمال کرتا ہے لاکھوں بندگانِ خدا کے دلوں کو دکھ دیتا ہے۔ اور پھر اس کو خدمت دین سمجھتا ہے کیا سچ مچ اسلام کا یہی منشا ہے؟ کیا بانیٔ اسلام کا یہی اسوہ ہے؟ اور پھر کیا اسی طریق سے اصلاح ہوسکتی ہے؟'' (۷۹۹)
    ----------------------------------
    (۷۹۲) کشتی نوح ص۵ و روحانی ص۵، ج۱۹
    (۷۹۳) ملخصًا نور القرآن ص۱۷، ج۲ و روحانی ص۳۹۲،ج۹
    (۸۹۴) بدر جلد ۶، نمبر۱۹ مورخہ ۹؍ مئی ۱۹۰۷ء ص۵ و ملفوظات مرزا ص۱۸۸، ج۵
    (۷۹۵) احمدیہ پاکٹ بک ص۱۷۴
    (۷۹۶) ضمیمہ تریاق القلوب نمبر۳ ص، ج و روحانی ص۴۹۱، ج۱۵ و مجموعہ اشتھارات مرزا قادیانی ص۱۴۲، ج۲
    (۷۹۷) احمدیہ پاکٹ بک ص۹۵۶
    (۷۹۸) براھین احمدیہ ص۱۰۱ تا ۱۰۲، ج۲ و روحانی ص۹۰ تا ۹۲، ج۱
    (۷۹۹) تفہیمات ربانیہ ص۴
     
  6. ‏اپریل 16، 2014 #106
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ضمیمہ توہین مسیح علیہ السلام
    احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تیس ۳۰،۲۰ دجال و کذاب پیدا نہ ہولیں کُلُّھُمْ یَزْعَمُ اِنَّہٗ نَبِیُّ اللّٰہِ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیْین لَا نَبِیَّ بَعْدِی۔ (۸۰۰)ہر ایک ان میں سے دعویٰ نبوۃ کا کرے گا حالانکہ میں ''ختم کرنے والا نبیوں'' کا ہوں۔ (۸۰۱)میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ حدیث بالا کو ملحوظ رکھ کر مرزا صاحب کے حالات پر نظر ڈالیں تو صاف معلوم ہوگا کہ آپ یقینا تیس میں سے ایک ہیں۔
    مرزا جی نے جب تک دعویٰ مسیحیت و نبوت نہ کیا تھا تب تک وہ مسلمانوں کی طرح عقائد رکھتے تھے اور معجزات انبیاء کے قائل تھے جو نہی انہوں نے دعویٰ رسالت کیا۔ حدیث نے اپنی صداقت کا جلوہ دکھایا کہ مرزا جی عقائد کے حصار سے نکل کر دجالوں، کذابوں کی ٹولی کی طرف سرکنا شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ ان سے بھی دس قدم آگے بڑھ گئے۔
    انبیاء کرام صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کو جادو، شعبدہ، مکرو فریب وغیرہ کہنا کفار کی سنت مستمرہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیات بینات لے کر آئے تو کفار نے کہا ھذا سحر مبین (النمل ۱ع) یہ تو کھلا جادو ہے۔ ایسا ہی:
    '' صریح قرآن شریف میں وارد ہوا کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور جب کافروں نے یہ نشان دیکھا تو کہا جادو ہے۔'' (۸۰۲)
    اسی طرح یہود نامسعود نے:
    '' حضرت مسیح علیہ السلام سے کئی معجزات دیکھے مگر ان سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا۔ '' (۸۰۳)
    بلکہ یہاں تک عداوت و ظلم پر اتر آئے کہ مسیح سے:
    '' کوئی معجزہ نہیں ہوا محض فریب اور مکر تھا۔'' (۸۰۴)
    بخلاف اس کے مومن باللہ انسان کبھی اس قسم کی ظالمانہ جرأت و گستاخی کے مرتکب نہیں ہوئے اور ہمیشہ اس قسم کے اقوال کفر یہ و شبہات باطلہ واہیہ سے محفوظ رہے۔ چنانچہ مرزا صاحب راقم ہیں:
    '' جن لوگوں نے منقولی معجزات کو مشاہدہ کیا ان کے لیے وہ تسلی تام کا موجب نہیں ٹھہر سکے کیونکہ بہت سے ایسے عجائبات بھی ہیں کہ ارباب شعبدہ بازی دکھلاتے پھرتے ہیں گو وہ اور ہیں مگر اب مخالف بداندیش پر کیونکہ ثابت کرکے دکھلا دیں کہ انبیاء سے جو عجائبات ظاہر ہوئے ہیں یہ اس قسم کی دست بازیوں سے منزہ ہیں۔ یہ مشکلات ممکن ہے انہی زمانوں میں پیدا ہوگئی ہوں مثلاً جب ہم یوحنا کی انجیل دیکھتے ہیں تو اس میں لکھا ہوا پاتے ہیں اور یروشلم میں باب الضان کے پاس ایک حوض ہے اس کے پانچ اسارے ہیں ان میں اندھوں لنگڑوں کی ایک بھیڑ پانی کے ہلنے کی منتظر تھی پانی ہلنے کے بعد جو کوئی پہلے اس میں اترتا کیسی ہی بیماری کیوں نہ ہو اس سے چنگا ہو جاتا وہاں ایک شخص تھا جو کہ اٹھتیس برس سے بیمار تھا یسوع نے جب اسے پڑے ہوئے دیکھا تو کہا کیا تو چاہتا ہے کہ چنگا ہو جائے۔ بیمار نے کہا کہ اے خداوند میرے پاس آدمی نہیں کہ جب پانی ہلے تو مجھے اس میں ڈال دے ۔'' (یہ بیان انجیل سے نقل کرکے مرزا صاحب لکھتے ہیں۔ناقل) اب ظاہر ہے کہ جو شخص حضرت عیسیٰ کی نبوت کا منکر ہے اور ان کے معجزات کا انکاری ہے جب (انجیل) یوحنا کی یہ عبارت پڑھے گا تو خواہ و مخواہ اس کے دل میں ایک قوی خیال پیدا ہوگا کہ حضرت کا ممدوح اسی حوض کے پانی میں کچھ تصرف کرکے ایسے خوارق دکھلاتے ہوں گے۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ کے ہاتھ سے اندھوں لنگڑوں وغیرہ کو شفا حاصل ہوئی تو بالیقین یہ نسخہ حضرت مسیح نے اسی حوض سے اڑایا ہوگا۔ بالخصوص جبکہ یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح (انجیل میں یسوع لکھا ہے) اسی حوض پر اکثر جایا بھی کرتے تھے غرض اس بات کے ثبوت میں بہت سی مشکلات پڑتی ہیں کہ یہودیوں کی رائے کے موافق مسیح مکار اور شعبدہ باز نہیں اور سچ مچ معجزات ہی دکھائے ہیں اگرچہ قرآن شریف پر ایمان لانے کے بعد ان دساوس سے نجات حاصل ہو جاتی ہے مگر جو شخص قرآن شریف پر ایمان نہیں لایا اور یہودی یا ہندو یا عیسائی ہے وہ کیونکر ایسے دساوس سے نجات پاسکتا ہے۔'' (۸۰۵)
    تحریر بالا مزید تشریح کی محتاج نہیں۔ صاف واضح ہے کہ انجیل کا جسے یہود مکار و شعبدہ باز کہتے تھے دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں اور ان کے معجزات کا انکار کرنے والا ان کے معجزات کو حوض کی تاثیر بتانے والا قرآن شریف کا منکر، معجزات بلکہ نبوتِ مسیح کا کافر بے ایمان ہے، بہت خوب!
    آئیے اب مرزا صاحب کی تحریرات پڑھیں کہ ان میں معجزات مسیحیہ کو کس نظر سے دیکھا ہے یہ تحریر مرزا صاحب کی اس وقت کی ہے جب انہوں نے دعویٰ رسالت کا ذبہ نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے جب دعویٰ کیا۔ اور لوگوں نے ان سے مثیل مسیح ہونے کے ثبوت میں معجزات عیسویہ علیہ السلام کی مثال مانگی تو مرزا صاحب نے وہی جواب دیا جو کفار منکرین نبوت کی سنت ہے چنانچہ کہیں تو مسیحی معجزات کو ناچیز محض اسی تالاب کی وجہ سے مشکوک قرار دیا۔ (۸۰۶)اور کہیں مسمریزم، عمل ترب، فطرتی طاقت خداداد بتایا۔ مگر بایں گستاخی کہ میں اس عمل کو مکروہ قابل نفرت سمجھتا ہوں اور کہیں کھلونے ساز بخاروں کی مثال دے کر معجزات مسیحی کو مصنوعی قرار دیا۔ (۸۰۷)آخر بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ:
    '' عیسائیوں نے آپ (یسوع مسیح) کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا ممکن ہے آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کو ر وغیرہ کا علاج کیا ہو مگر بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کردیا کہ آپ سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے۔ آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے کچھ نہ تھا۔'' (۸۰۸)
    -----------------------------------------------
    (۸۰۰) مسند امام ص۲۷۸، ج۵ و ابوداؤد ص۲۳۴، ج۲ فی الفتن وترمذی مع تحفہ ص۲۲۷،ج۳ فی الفتن وابن ماجہ ص۲۹۲ فی الفتن والحاکم فی المستدرک ص۴۴۹، ج۴ کتاب الفتن من روایت ثوبان رضی اللّٰہ عنہ
    (۸۰۱) ازالہ اوہام ص۶۱۴ و روحانی ص۴۳۱، ج۳ وتفسیر مرزا ص۵۲،ج۷
    (۸۰۲) سرمہ چشم آریہ ص۶۲ و روحانی ص۱۱۰، ج۲ وتفسیر مرزا ص۳۷،ج۸
    (۸۰۳) نصرۃ الحق ص۳۲ و روحانی ص۴۲،ج۲۱
    (۸۰۴) چشمہ مسیحی ص۹ و روحانی ص۳۴۴، ج۲۰
    (۸۰۵) براھین احمدیہ ص۴۳۱ تا ۴۴۹، ج۴ و روحانی ص۵۵۵، ج۱
    (۸۰۶) ازالہ اوہام ص۷ و روحانی ص۱۰۶،ج۳
    (۸۰۷) ایضًا ص۳۰۹ تا ۳۲۲ و روحانی ص۲۵۷ تا ۲۶۳، ج۳
    (۸۰۸) حاشیہ انجام آتھم ص۶،۷ و روحانی ص۲۹۰،۲۹۱،ج۱۱
     
  7. ‏اپریل 16، 2014 #107
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قارئین کرام! ملاحظہ فرمائیے۔ وہی یسوع مسیح۷ انجیلی ہے وہی اس کے معجزات، وہی تالاب کا قصہ، اور وہی مرزا صاحب قادیانی۔
    پہلے بیانوں میں جو مسلم نما حالت کے ہیں۔ ان معجزات کو ''سچ مچ'' من عند اللہ مان کر ان کے انکار کرنے والے کو۔ یا اسے حوض کی وجہ سے مشکوک ٹھہرانے والے کو:
    بد اندیش مخالف، یہودی، ہندو، منکر قرآن، خارج اسلام قرار دیا ہے مگر اس جگہ بعد دعویٰ نبوت کے اسی یسوع کے معجزات کو۔
    حق بات یہی ہے کہ اس سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ کہہ کر انہیں یہود کی طرح، مکار، فریبی لکھا ہے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین
    ہم سابقاً معیار انبیاء میں قرآن پاک سے ثابت کر آئے ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ نبی اپنی ساری عمر بھر کسی وحی الٰہی کو نہ سمجھ سکے۔
    ۱۔ چونکہ مرزا صاحب نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور وہ نشانیاں اور علامات جو مسیح موعود کے وقت کی ہیں۔ آپ میں پائی نہیں گئیں اس لیے مرزا صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر یہ گستاخانہ حملہ کیا کہ:
    '' ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت منکشف نہ ہوئی ہو۔ اور دجال کے ستر باغ کے گدھے کی اصل کیفیت نہ کھلی ہو۔ اور نہ یاجوج ماجوج دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ظاہر فرمائی گئی۔'' (۸۰۹)
    بخلاف اس کے اپنے مریدوں کا حال یہ لکھتے ہیں کہ:
    '' اب رہی اپنی جماعت کا خدا کا شکر ہے کہ (انہوں) نے دمشق کے منارہ پر مسیح کے اترنے کی حقیقت، دجال کی حقیقت، ایسا ہی دابۃ الارض (وغیرہ کے بارے میں) خدا نے ان کو معرفت کے مقام تک پہنچا دیا ہے۔'' (۸۱۰)
    ۲۔ مرزا صاحب '' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تو صرف تین ہزار معجزات بتاتے ہیں۔ ''(۸۱۱) مگر اپنے ''دس لاکھ نشان۔'' (۸۱۲)
    واضح رہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک نشان اور معجزہ ایک ہی ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
    '' سچا مذہب ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خارق عادت امر ہے۔'' (۸۱۳)
    -----------------------------------------------------------------------
    (۸۰۹) ازالہ اوہام ص۶۹۱ و روحانی ص۴۷۳، ج۳
    (۸۱۰) فتاوٰی احمدیہ ص۵۱، ج۱
    (۸۱۱) تحفہ گولڑویہ ص۴۰ و روحانی ص۱۵۳، ج۱۷
    (۸۱۲) تذکرۃ الشھادتین ص۴۱ و روحانی ص۴۳، ج۲۰
    (۸۱۳) نصرۃ الحق ص۵۰ و روحانی ص۶۳،ج۲۱
     
  8. ‏اپریل 16، 2014 #108
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ۳۔ قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہوگیا (قرآن شریف میں انگل کا اشارہ مذکورہ نہیں یہ قرآن پر جھوٹ ہے۔ ناقل) اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے یہ سراسر فضول باتیں ہیں۔ (۸۱۴)
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معجزہ کو از قسم کسوف خسوف کہنا اس کی عظمت کو کم کرنا ہے جیسا کہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
    '' اگر آج شق القمر کا معجزہ ہو تو یہ ہیئت و طبعی کے ماہر اور سائنس کے دلدادہ فی الفور اس کو کسوف خسوف میں داخل کرکے اس کی عظمت کو کم کرنا چاہیں گے۔'' (۸۱۵)
    مگر افسوس کہ مرزا صاحب نے نہ صرف اس معجزہ نبوی کو کسوف و خسوف ہی قرار دیا ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی عظمت جتانے کو یوں لکھا ہے کہ:
    '' اس کے لیے چاند کا خسوف کا نشان ظاہر ہوا ہے اور میرے لیے چاند سورج دونوں کا۔''(۸۱۶)
    خیال زاغ کو بلبل سے برتری کا ہے
    غلام زادے کو دعویٰ پیمبری کا ہے
    ۴۔ مرزا صاحب خطبہ الہامیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی فوقیت ایک عجیب فریب میں بتاتے ہیں کہ:
    '' حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت، (برنگِ مرزا) چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں اقویٰ اکمل اشد ہے بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح اسلام ملال (پہلی رات کے چاند کا وصفی نام ہلال ہے۔ ناقل)(۸۱۷) کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ آخری زمانہ (یعنی مرزا کے زمانہ) میں بدر (چودھویں شب کے چاند کا وصفی نام بدر ہے ناقل ) کی شکل اختیار کرے۔'' (۸۱۸)
    ناظرین کرام! دیکھئے کس فریب آمیز طریقہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہونے کا دعویٰ کیا ہے:
    بت کریں آرزو خدائی کی
    شان ہے تیری کبریائی کی
    قطع نظر اس سے صاحب علم غور کریں کہ اسلام کی ابتدا جسے مرزا پہلی کے چاند جیسا لکھتے ہیں ایسی درخشندہ ہے کہ جب سے دنیا کی بنیاد پڑی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی، مٹھی بھر نہتے اور غیر مدنی بے سروسامان انسانوں نے اپنی اولو العزنی، یک جہتی، جان نثاری اور وفاداری سے قیصر و کسریٰ ایسے جابر و قاہر بادشاہوں کے تختوں کو الٹ دیا۔ ان کی تہذیب دینداری خدا پرستی غرض جملہ اوصاف شرافت ایسے نمایاں ہیں کہ آج غیروں میں تو درکنار خود مسلمانوں میں بھی ایک شخص ڈھونڈھتے سے ان جیسا نہیں ملتا پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ان کے بھی مزکی تھے، آپ کی روحانیت کا تو ٹھکانا ہی کیا۔ بقول مرزا صاحب:
    '' آدم سے لے کر اخیر تک کسی نبی کو ایسی قوت قدسی نہیں دی گئی جو آنحضرت کو عطا کی گئی اور افسوس ہے کہ ایسی جماعت ہم کو بھی نہیں ملی۔'' (۸۱۹)
    پس مرزا صاحب کا اپنے وقت کی روحانیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے چودہ حصے بڑھ کر لکھنا سراسر خلاف واقعات اور ایک سفید جھوٹ ہے جو توہین نبوی ہے۔
    ۵۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حاصل ہوئی ہے۔ (قادیانی ریویو ماہ مئی ۱۹۲۹ء) (۸۲۰)
    ------------------------------------------
    (۸۱۴) ضمیمہ چشمہ معرفت ص۴۱ و روحانی ص۴۱۱، ج۲۳
    (۸۱۵) تقریر مرزا برجلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء مندرجہ رپورٹ جلسہ ص۱۵۸ وملفوظات مرزا ص۸۹، ج۱
    (۸۱۶) اعجاز احمدی ص۷۱ و روحانی ص۱۸۳، ج۱۹
    (۸۱۷) خطبہ الھامیہ ص۱۸۱ و روحانی ص۲۷۲، ج۱۶
    (۸۱۸) ایضًا ص۱۸۴ و روحانی ص۲۷۵،ج۱۶
    (۸۱۹) الحکم جلد ۱۰ نمبر۱ مورخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۶ء و ملفوظات مرزا ص۵۹۱ تا ۵۹۲،ج۴ ملخصًا
    (۸۲۰) مضمون ڈاکٹر شاہ نواز مرزائی ریویو مورخہ مئی ۱۹۲۹ء
     
  9. ‏اپریل 16، 2014 #109
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ۶۔ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتیٰ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ (۸۲۱)
    ۷۔ ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کر کھڑا کیا۔ (۸۲۲)
    مرزا صاحب کے کاذب ہونے پر دسویں دلیل مبالغاتِ مرزا
    مثال اوّل:
    مرزا صاحب مبالغہ گوئی میں اپنی مشاقی کا ثبوت دینے کو یوں راقم ہیں:
    دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑہا اس کے ارادہ سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ (۸۲۳)
    اس قول میں حضرت قابض الارواح جل شانہ کی صفت اہلاک کا جس انتہائی مبالغہ آرائی سے اظہار کیا گیا ہے۔ اس کی نظیر انبیاء صادقین کی تحریروں میں تو کہاں ملے گی، کسی افسانہ گو شاعر کی تالیفات میں بھی ... شاذ و نادر نظر آئے گی۔
    خدا نہ کرے کہ کسی وقت فی الواقع ارادہ الٰہی بموجب تحریر مرزا ظہور کرے ... اگر ایسا ہو جائے تو غالباً بلکہ یقینا دو تین دن کے اندر ہی سب جانداروں کا صفایا ہو جائے۔ رہ جائیں دو دو تین تین کے چھوٹے چھوٹے بچے سو وہ بھی ایک دو دن میں بلبلاتے ہوئے بحر فنا میں غرق ہو جائیں اور ربع مسکون پر ایک متنفس بھی جیتا جاگتا چلتا پھرتا نظر نہ آئے۔ پناہ بہ خدا!
    مرزائیو! تم بلکہ تمہارے اعلیٰ حضرت بھی انجیل کے اس قول پر کہ:
    '' بہت سے کام میں جو یسوع نے کئے، اگر وے جُدا جُدا لکھے جاتے تو میں گمان کرتا ہوں کہ کتابیں جو لکھی جاتیں دنیا میں نہ سما سکتیں۔'' (۸۲۴)
    چٹخارے لے لے کر بڑی ترنگ میں جھوم جھوم کر زبان طعن اور آوازۂ تضحیک دراز کیا کرتے ہو۔ خدارا کبھی اپنے ان مہمل اور بے معنی مبالغات پر بھی نظر ڈالا کرو، کیا وہی بات تو نہیں کہ:
    '' ظالم کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا پر غیر کی آنکھ کا تنکا بھی خار بن کر اس کے سینہ میں کھٹکتا ہے۔''
    --------------------------------------------------------
    (۸۲۱) ڈائری مرزا محمود مندرجہ الفضل جلد ۱۰نمبر ۵ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۲۲ء ص۵
    (۸۲۲) کلمۃ الفصل ص۱۱۳ مندرجہ ریویو ریلیجنز جلد ۱۴ نمبر ۱۳
    (۸۲۳) کشتی نوح ص۳۷ و روحانی ص۴۱، ج۱۹
    (۸۲۴) انجیل یوحنا باب ۲۱ آیت: ۲۵
     
  10. ‏اپریل 16، 2014 #110
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مثال دوم:
    مرزا صاحب نے اپنی زندگی میں جو اشتہار دئیے وہ انگلیوں پر شمار ہوسکتے ہیں چنانچہ منشی قاسم علی احمدی نے تبلیغ رسالت جلد اول سے دس تک میں ان کو درج کیا ہے جن کی جملہ تعداد ۲۶۱ہے(۸۲۵) مگر مرزا صاحب نے جس مبالغہ آرائی سے اس کا ذکر کیا ہے وہ قابلِ دید و شنید ہے، آپ لکھتے ہیں:
    '' میں نے چالیس کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعویٰ کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کئے ہیں وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں۔'' (۸۲۶)
    مرزائیو! ایمان سے کہو (اگر تم میں کچھ ایمان باقی ہے) کہ یہ سچ ہے قادیانی دروغ بے فروغ؟ بصورت اثبات ان ساٹھ ہزار رسالوں کا ذرا ہمیں بھی درشن کرانا بصورتِ ثانیہ افترا اور جھوٹ کی وعید شدید اِنما یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْن یٰایَتِ اللّٰہ سے ڈرو۔
    مثالِ سوم:
    مرزا صاحب نے اسی کے قریب کتابیں لکھی ہیں۔ (۸۲۷) ان سب کو (۸۲۸)اکٹھا کیا جائے تو بمشکل ایک الماری بھرے گی مگر مرزا صاحب قادیانی اپنی جبلی عادت مبالغہ گوئی سے مجبور ہو کر فرماتے ہیں:
    میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔(۸۲۹)
    اس اظہارِ وفا داری پر حکومت کا مرزا صاحب کو کوئی خطاب نہ دینا پرلے درجے کی ناقدر شناسی ہے :
    ہم کو ان سے ہے وفا کی امید
    جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
    حالانکہ مرزا صاحب نے خطاب کی آرزو میں الہام بھی گھڑنا شروع کردئیے کہ '' لَکَ خَطَابُ الْعِزَّتِ لَکَ خَطَابُ الْعِزت''۔ (۸۳۰)
    تیرے لیے عزت کا خطاب تیرے لیے عزت کا خطاب۔ مگر۔ ع
    اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
    -------------------------------------
    (۸۲۵) مرزائی عبداللطیف بہاولپوری نے جو مجموعہ اشتھارات مرزائی کے عنوان سے شائع کیا ہے اس میں کل اشتھارات ۲۸۳ ہیں۔ ابو صہیب
    (۸۲۶) اربعین ص۲۹ نمبر۳ و روحانی ص۴۱۸،ج۱۸
    (۸۲۷) پ ۱۴ النحل آیت : ۱۰۶
    (۸۲۸) تاریخ احمدیت ص۴۰۰،ج۳
    (۸۲۹) تریاق القلوب ص۱۵ و روحانی ص۱۵۵، ج۱۵
    (۸۳۰) ضمیمہ تریاق القلوب ص۱ و روحانی ص۵۰۱،ج۱۵ و تذکرہ ص۳۳۹ و اربعین ص۳۷ نمبر ۳ و روحانی ص۴۲۸،ج۱۷
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں