1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 29، 2019۔

  1. ‏جولائی 13، 2019 #151
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تجہیز و تکفین
    سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’راحت پانے والا ہے یا اس سے اوروں نے راحت پائی‘‘ مومن بندہ دنیا کے رنج ومصیبت سے راحت پاتا ہے اور اس ایذاء سے اللہ کی رحمت کی طرف آرام پاتا ہے اور فاجر بندہ سے انسان، شہر، درخت اور جانور راحت پاتے ہیں۔‘‘
    (بخاری: الرقاق، باب: سکرات الموت: ۲۱۵۶، مسلم: ۰۵۹.)

    عالم نزع میں تلقین :
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’ان لوگوں کو جو مرنے کے قریب ہوں (لا الہ الا اللہ) کی تلقین کرو۔‘‘
    (مسلم، الجنائز، باب تلقین الموتی (لا الہ الا اللہ) حدیث ۶۱۹، ۷۱۹.)
    یعنی ان کے قریب (لا الہ الا اللہ) پڑھو تا کہ اسے سن کر وہ بھی پڑھیں لیکن افسوس کہ جہلا زندہ، قریب المرگ کو تو اس کی تلقین نہیں کرتے البتہ موت کے بعد چارپائی کو کندھا دیتے وقت کہتے جاتے ہیں ’’کلمہ شہادت، حالانکہ خیر القرون کے مسلمانوں میں سے کسی نے بھی یہ کام نہیں کیا پھر یہ آج ہمارے دین کا حصہ کیسے بن سکتا ہے؟ (ع، ر)
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :
    ’’جس کا آخر کلام (لا الہ الا اللہ) ہوا وہ جنت میں داخل ہو گا۔‘‘
    (ابو داود، الجنائز، باب فی التلقین: ۶۱۱۳۔ اسے حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا۔)
    کیونکہ اس نے آثار موت دیکھ کر نہیں بلکہ اللہ سے ڈر کر (لا الہ الا اللہ) پڑھا لیکن چند ہی لمحوں بعد اللہ کی قضا آ گئی اور (لا الہ الا اللہ) اس کی زندگی کا آخری کلام بن گیا۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق دے آمین۔ (ع، ر)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ تو بھلائی کی بات کہو کیونکہ اس وقت تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔‘‘
    (مسلم، الجنائز، باب ما یقال عند المریض والمیت: ۹۱۹.)

    اللہ تعالیٰ کے بارے میں نیک گمان رکھنا :
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’تمہیں اس حال میں موت آنی چاہیے کہ تم اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھتے ہو۔‘‘
    (مسلم: الجنۃ، باب: الأمر بحسن الظن باللہ تعالیٰ عند الموت: ۷۷۸۲.)

    اللہ تعالیٰ سے امید اور گناہوں سے خوف :
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قریب المرگ نوجوان کے پاس سے گزرے آپ نے پوچھا اپنے آپ کو کیسا محسوس کرتے ہو؟ اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے خائف ہوں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جس بندے کے دل میں اس وقت یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں اللہ تعالیٰ اسے وہی عطا فرما دیتے ہیں جسکی وہ امید رکھتا ہے اور اسے اس چیز سے امن بخشتا ہے جس سے وہ خائف ہوتا ہے ۔‘‘
    (ابن ماجہ۱۶۲۴، ترمذی الجنائز باب ما جاء فی التشدید عند الموت:۳۸۹.)

    مکہ یا مدینہ میں مرنے کی تمنا کرنا:
    ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا:
    ’’اللّٰہُمَّ ارْزُقْنِیْ شَہَادَۃً فِی سَبِیْلِکَ وَاجْعَلْ مَوْتِیْ فِیْ بَلَدِ رَسُوْلِکَ‘‘
    ’’اے اللہ! مجھے شہادت کی موت دے اور مجھے مدینہ رسول میں موت دے۔‘‘
    (بخاری: أبواب فضائل المدینہ: ۰۹۸۱)

    موت کی آرزو کی ممانعت:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’موت کی آرزو نہ کرو۔ اگر تم نیک ہو تو شاید زیادہ نیکی کر سکو گے اور اگر بدکار ہو تو شاید توبہ کر کے اللہ کو راضی کر سکو گے۔‘‘
    (بخاری، التمنی، باب مایکرہ من التمنی: ۵۳۲۷.)
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "نہ موت کی آرزو کرو نہ موت کی دعا کرو، کیونکہ جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کی (نیکی کرنے کی) امید ختم ہو جاتی ہے اور مومن کی لمبی عمر سے اس کی نیکیاں بڑھتی ہیں۔‘‘
    (مسلم، الذکر و الدعاء باب کراھیۃ تمنی الموت: ۲۸۶۲.)
    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا :
    ’’دنیا میں اس طرح رہ گویا کہ تو مسافر بلکہ راہی ہے‘‘
    چنانچہ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے، جب شام ہو تو صبح کا انتظار نہ کر۔ جب صبح ہو تو شام کا انتظار نہ کر۔ تندرستی کو بیماری اور زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جان۔
    (بخاری، الرقاق، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم کن فی الدنیا کانک غریب: ۶۱۴۶.)

    میت کو بوسہ دینا :
    جس کا کوئی قریبی دوست یا عزیز فوت ہو جائے تو اس کو میت کا فرط محبت سے بوسہ لینا جائز ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیا اور اس وقت وہ فوت ہو چکے تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ کے آنسو بہہ رہے تھے۔
    (ابو داؤد الجنائز، باب فی تقبیل المیت:۳۶۱۳،ترمذی۹۸۹.)
    سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا پھر آپ پر جھکے اور آپ کا بوسہ لیا۔
    (بخاری: الجنائز، باب: الدخول علی المیت بعد الموت إذا أدرج فی کفنہ: ۱۴۲۱.)

    میت پر چادر ڈالنا:
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
    ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو ایک دھاری دار یمنی چادر سے آپ کو ڈھانپ دیا تھا۔‘‘
    (بخاری: الجنائز، باب: الدخول علی المیت بعد الموت: ۱۴۲۱.)
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت پر چادر ڈالنی چاہیے جو بوقت ضرورت ہٹائی جا سکتی ہے۔
     
  2. ‏جولائی 13، 2019 #152
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    فوت ہونے والے کے دوستوں اور رشتے داروں کو مرنے کی اطلاع دینا:
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے مرنے کی اس دن خبر دی جس دن وہ فوت ہوا۔‘‘ (بخاری: ۵۴۲۱.)
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ موتہ میں پہلے سیّدنا زید پھر سیّدنا جعفر اور پھر سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی اطلاع دی اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔‘‘ (بخاری: الجنائز، باب: الرجل ینعی إلی أہل المیت: ۶۴۲۱.)

    نوحہ کرتے ہوئے یا تکبر اور ریا کے لیے مرنے والے کی موت کا اعلان کرنا:
    سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں مر جاؤں کوئی اس کا اعلان نہ کرے ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ اعلان نعی نہ بن جائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعی سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔
    (ترمذی، الجنائز، ما جاء فیکراھیۃ النعی،۶۸۹، ابن ماجہ، الجنائز، ما جاء فی النھی عن النعی،۶۷۴۱.)
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جس نعی سے شریعت نے منع کیا ہے وہ اہل جاہلیت کا طریقہ ہے ‘جس کی صورت یہ تھی کہ لوگ موت کی اطلاع دینے والوں کو بھیجتے جو گھروں کے دروازوں اور بازاروں میں اعلان کرتے (اس میں نوحہ ہوتا اور اس کے ساتھ میت کے افعال حمیدہ کا بیان ہوتا)۔ (فتح الباری :۳/۳۵۴.)
     
  3. ‏جولائی 13، 2019 #153
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    میت کی آنکھیں بند کرنا:
    ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
    ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کو آئے اور ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، پھر آپ نے ان کو بند کیا اور فرمایا: کہ جب جان نکلتی ہے تو آنکھیں اس کے پیچھے لگی رہتی ہیں۔‘‘
    (مسلم: الجنائز، باب: فی أغماض المیت: ۰۲۹.)
    سیّدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے مردوں کے پاس آؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو کیونکہ نگاہیں روح کا پیچھا کرتی ہیں اور اچھی بات کہو کیونکہ فرشتے اس بات پر آمین کہتے ہیں جو بات گھر والے زبان سے نکالتے ہیں ۔
    (ابن ماجہ، الجنائز، ما جاء فی التغمیض المیت،۵۵۴۱.)

    میت کو جلد دفن کرنا:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’میت کو جلد دفن کرو۔ اگر وہ نیک ہے تو جس طرف تم اسے بھیج رہے ہو وہ اس کے لیے فائدہ مند ہے اور اگر وہ برا ہے تو اس کو اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔‘‘
    (بخاری، الجنائز، باب السرعۃ بالجنازۃ: ۵۱۳۱۔ مسلم، الجنائز، باب الاسراع بالجنازۃ: ۴۴۹.)
    سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی الجنۃ الدائمۃ کا فتوی ہے کہ تجہیز و تدفین میں جلدی کرنی چاہیے تاکہ میت کو جلد خیر و بھلائی کی طر ف لے جایا جائے یا اس سے جلد چھٹکارا حاصل کر لیا جائے۔ ہاں اس پر انتظار جائز ہے کہ وہ لوگ جمع ہو جائیں جو جنازہ پڑھیں اس کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں بشرطیکہ انتظار کی وجہ سے تاخیر نہ ہو۔ بلا ضرورت ایک یا ایک سے زیادہ دنوں تک میت کے دفن میں تاخیر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے۔
    (فتاوی اسلامیہ ،ص۶۹.)
     
  4. ‏جولائی 13، 2019 #154
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    میت کا غسل :
    سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو نہلا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اس کو ۳، ۵ یا ۷ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری بار (پانی میں) کچھ کافور بھی ملا لو۔ اور غسل سے فراغت پر مجھے اطلاع کر دینا غسل دائیں طرف اعضائے وضو سے شروع کرو‘‘
    (سیدہ ام عطیہ کہتی ہیں) ہم نے (غسل دیتے وقت) اس کے بالوں کو کھولا اور ان کو دھویا پھر تین چوٹیاں گوندھیں اور ان کو پیچھے ڈال دیا۔
    (بخاری، الجنائز، باب یجعل الکافور فی الاخر: ۸۵۲۱، مسلم، الجنائز، باب فی غسل المیت: ۹۳۹.)
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو عورتیں ہی غسل دیں گی۔ اور عورت کے بالوں کو کنگھی کی جائے گی۔

    میاں بیوی کا ایک دوسرے کو غسل دینا:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ
    ’’اگر تم مجھ سے پہلے مر گئیں تو میں تمہیں غسل دوں گا، کفن پہناؤں گا اور تم پر نماز جنازہ پڑھوں گا اور تمہیں دفن کروں گا۔‘‘
    (ابن ماجۃ، الجنائز، باب ماجاء فی غسل الرجل امراتہ و غسل المراۃ زوجھا: ۵۶۴۱.)
    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے اگر اس بات کا پہلے خیال آجاتا جو بعد میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بیویوں کے سوا کوئی غسل نہ دیتا۔
    (ابن ماجہ، ما جاء فی الجنائز،غسل الرجل امراتہ وغسل المراۃ زوجھا،۴۶۴۱.)
    ان روایات سے اس تصور کا مکمل رد ہوتا ہے جو ہمارے معاشرہ میں رائج ہے کہ مرنے کے بعد میاں بیوی کا تعلق ختم ہو جاتا ہے، خاوند بیوی کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی قبر میں اتار سکتا ہے ۔
    الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ ایک سوال کا جواب یوں دیتے ہیں :
    ’’شرعی دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ بیوی اپنے شوہر کو غسل دے اور اسے دیکھے اور شوہر اپنی بیوی کو غسل دے اور اس کی طرف دیکھے۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خود غسل دیا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی کہ انہیں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ غسل دیں۔‘‘ (فتاوی اسلامیہ ،جلد دوم ،ص۷۴.)

    یاد رہے کہ غسل میت کا طریقہ بھی تقریبا غسل جنابت والا ہے البتہ غسل کے دوران اکرام میت کا بہت خیال رکھنا چاہیے، تفصیل درج ذیل ہے :
    ۱: وفات کے فوراً بعد میت کا منہ اور آنکھیں بند کی جائیں، بازو، ٹانگیں اور ہاتھ پاؤں کی انگلیاں بھی سیدھی کر دی جائیں نیز قمیص اور بنیان وغیرہ اتار کر چادر سے میت کا بدن ڈھانپ دیا جائے۔ میت کے بازو، گلے، یا پنڈلی میں کوئی تعویذ دھاگہ یا کڑا وغیرہ ہو تو اسے اتار دیں۔
    ۲: پانی اور بیری کے پتے ابال لیے جائیں پھر نیم گرم پانی استعمال کیا جائے لکڑی کا ایک تختہ ایسی جگہ رکھا جائے جہاں پانی کا نکاس اور گندگی کو ٹھکانے لگانا آسان ہو، میت کو اس تختے پر لٹایا جائے۔ ناف سے گھٹنوں تک کی جگہ کپڑے سے ڈھانپ دی جائے اور دوران غسل، میت کی شرمگاہ پر نظر پڑے نہ ہی کپڑے کے بغیر اسے ہاتھ لگے۔
    ۳: اگر جسم زخمی ہو اور اس پر پٹیاں بندھی ہوئی ہوں تو احتیاط سے پٹیاں کھول کر روئی اور نیم گرم پانی سے آہستہ آہستہ زخم دھوئے جائیں۔ ہر کام کی ابتدا دائیں طرف سے کریں سوائے اس کے کہ صرف بائیں جانب توجہ کی مستحق ہو۔
    ۴: ناف کی طرف ہاتھ سے میت کا پیٹ دو یا تین دفعہ دبایا جائے (تاکہ اندرکی گندگی امکانی حد تک خارج ہو جائے) پھر بائیں ہاتھ پر کپڑے کا دستانہ وغیرہ (جو کفن کے ساتھ بنایا جاتا ہے) پہن کر پہلے مٹی کے تین ڈھیلوں اور پھر پانی سے اس کا استنجا کریں۔
    ۵: ناک، دانت، منہ کا خلال اور کانوں میں اچھی طرح گیلی روئی پھیر کر ان کی الگ سے صفائی کر لی جائے تاکہ بعد میں وضو کے دوران تین دفعہ سے زیادہ نہ دھونا پڑے۔
    ۶: بسم اللہ پڑھ کر میت کو مسنون وضو کرایا جائے (سر کا مسح اور پاؤں رہنے دیں) تین دفعہ اچھی طرح سر دھوئیں۔
    ۷: حسب ضرورت صابن استعمال کرتے ہوئے پورے جسم کو تین یا پانچ یا سات مرتبہ اچھی طرح دھوئیں۔ آخری دفعہ نہلاتے وقت پانی میں کچھ کافور ملا لیں۔ سب سے آخر میں پاؤں دھوئیں۔ (محمد عبدالجبار)
     
  5. ‏جولائی 13، 2019 #155
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    میت کا کفن

    کفن کے کپڑے:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین (سفید) کپڑوں میں کفن دیا گیا اس میں کرتہ تھانہ عمامہ۔
    (بخاری: الجنائز، باب: الثیاب البیض للکفن: ۴۶۲۱، مسلم: ۱۴۹.)
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ احرام کی حالت میں ایک شخص کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ’’اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور دو کپڑوں میں اسے کفن دو۔ اس کے سر اور چہرہ کو مت ڈھانپو۔ یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا۔‘‘ (بخاری: ۵۶۲۱، مسلم:۸۹( ۶۰۲۱).
    اور یہ دو کپڑے وہ ہیں جن میں اس نے احرام باندھا ہو اتھا۔
    (النسائی: الجنائز، باب: کیف یکفن المحرم إذا مات: ۵۰۹۱.)
    سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے اور ایک چادر کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس میں انہیں کفن دیا جا سکے۔
    (بخاری، الجنائز،باب الکفن من جمیع المال:۴۷۲۱.)
    سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی چادر اتنی چھوٹی تھی کہ جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پیر ننگے ہو جاتے اور جب پیر ڈھانپتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا۔ آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا سر ڈھانپنے اور قدموں پر گھاس ڈالنے کا حکم دیا۔ (بخاری۶۷۲۱، مسلم الجنائز، باب فی کفن المیت۰۴۹.)
    سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دو دو شہیدوں کو ایک ایک کپڑے میں کفن دیا اور حکم دیا کہ ان کو خون آلود (کپڑوں سمیت) دفن کیا جائے اور نہ وہ غسل دیئے گئے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔‘‘
    (بخاری: الجنائز، باب: الصلاۃ علی الشہید: ۳۴۳۱.)

    اچھا کفن:
    سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور ایک صحابی کا ذکر کیا جو فوت ہو گئے ان کو ہلکا کفن دے کر رات ہی کو دفن کر دیا۔ آپ نے رات کو دفن کر نے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا :
    "جب تم اپنے مسلمان بھائی کو کفن دو تو اچھا کفن دو۔‘‘
    (مسلم، الجنائز، فی تحسین کفن المیت،۳۴۹.)
    سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ’’سفید کپڑا پہنا کرو ۔ یہ تمہارا بہترین لباس ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو ۔‘‘
    (ابو داؤد، الدیات، فی البیاض،۱۶۰۴.)

    پرانے کپڑوں میں کفن دینا:
    ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ میرے کپڑے دھو دو اور مجھے پرانے کپڑوں میں کفن دینا۔ فوت ہو نے والے کے مقابلے میں زندہ نئے کپڑوں کے زیادہ حقدار ہیں۔
    (بخاری، الجنائز، موت یوم الاثنین،۷۸۳۱.)

    مرنے سے پہلے اپنا کفن تیار کرنا:
    سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بنی ہوئی حاشیہ دار چادر تحفہ میں لائی۔ آپ کو اس وقت چادر کی ضرورت تھی آپ نے لے لی اور اس کا تہہ بند بنایا۔ ایک صحابی (سیدنا عبدالرحمن بن عوف) کہنے لگے کیا عمدہ چادر ہے آپ مجھے دے دیجئے۔ آپ نے چادر انہیں دے دی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چادر مانگ کر اچھا نہیں کیا آپ کو خود ضرورت تھی۔ سیّدنا عبدالرحمن کہنے لگے: اللہ کی قسم میں نے پہننے کے لیے نہیں مانگی بلکہ میں اس کو اپنا کفن بناؤں گا۔ پھر وہ چادر ان کا کفن بنی۔‘‘
    (بخاری: الجنائز، باب: من استعد الکفن فی زمن النبی: ۷۷۲۱.)
     
  6. ‏جولائی 13، 2019 #156
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    میت کا سوگ :
    ام المومنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی کا انتقال ہو گیا۔ تین دن بعد انہوں نے خوشبو منگوائی اور اس کو ملا۔ پھر کہا مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جو عورت اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگ کرے، سوائے شوہر کے جس کا سوگ چار ماہ دس دن ہے۔
    (بخاری: الجنائز، باب: حد المرأۃ علی غیر زوجھا: ۲۸۲۱، مسلم: ۷۸۴۱.)
    سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا لڑکا فوت ہو گیا۔ تیسرے دن انہوں نے زردی منگوا کر بدن پر ملی اور کہا:
    ’’ہمارے لیے شوہر کے علاوہ کسی اور (کی وفات) پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا ممنوع ہے۔‘‘
    (بخاری: ۹۷۲۱.)

    میت پر رونا :
    اگر میت کو دیکھ کر رونا آئے اور آنسو جاری ہوں تو منع نہیں، اس لیے کہ اس طرح کا بے اختیار رونا جائز ہے۔
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن عبادہ کی بیہوشی پر روئے صحابہ بھی آپ کو دیکھ کر روئے پس آپ نے فرمایا سنو:
    ’’اللہ تعالیٰ آنکھ کے رونے اور دل کے پریشان ہونے کی وجہ سے عذاب نہیں کرتا بلکہ زبان (کے چلانے اور واویلا کرنے) سے عذاب کرتا ہے۔‘‘ (بخاری، الجنائز، باب البکاء عند المریض:۴۰۳۱ ومسلم: ۴۲۹.)
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "
    (اللہ کے ہاں) وہ صبر معتبر ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو۔"
    (بخاری: ۲۰۳۱ ومسلم، الجنائز، باب فی الصبر علی المصیبۃ عند الصدمۃ الاولی: ۶۲۹.)
    یعنی واویلا اور بین کرنے کے بعد صبر کرنا، صبر نہیں ہے۔ اصل صبر یہ ہے کہ مصیبت کے وقت تسلیم و رضا کا مظاہرہ کیا جائے اور اظہار غم کے فطری طریقے کے علاوہ اور کچھ نہ کیا جائے۔
    سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’وہ ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی پکار پکارے‘‘ (یعنی نوحہ اور واویلا کرے)
    (بخاری، الجنائز، باب لیس منا من شق الجیوب: ۴۹۲۱، ومسلم، الایمان باب تحریم ضرب الخدود وشق الجیوب: ۳۰۱.)
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’میں بیزار ہوں اس سے جو (موت کی مصیبت میں) سر کے بال نوچے اور چلا کر روئے اور اپنے کپڑے پھاڑے۔‘‘
    (بخاری: الجنائز، باب: ما ینھی من الحلق عند المصیبۃ: ۶۹۲۱، مسلم: ۴۰۱.)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
    ’’میرے (اس) مومن بندے کے لیے بہشت ہے جس کے پیارے کو میں فوت کرتا ہوں اور وہ (اس کی موت پر) صبر کرتا ہے۔‘‘
    (بخاری، الرقاق باب العمل الذی یبتغی بہ وجہ اللہ، حدیث ۴۲۴۶.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں جنہیں میری امت کے لوگ بھی کریں گے۔ (۱) (اپنے) حسب پر فخر کرنا۔ (۲) (دوسرے کے) نسب پر طعن کرنا۔ (۳) ستاروں کے ذریعے پانی طلب کرنا۔ (۴) نوحہ کرنا۔، (اور یہ بھی فرمایا)
    ’’اگر نوحہ کرنے والی عورت مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس پر گندھک کا کرتا اور خارش کی اوڑھنی ہو گی۔‘‘
    (مسلم، الجنائز، باب: التشدید فی النیاحۃ: ۴۳۹.)
    اہل جاہلیت کا عقیدہ تھا کہ ستاروں کی نقل و حرکت اور طلوع و غروب کا بارش اور دیگر زمینی واقعات وحوادث کے ساتھ گہرا تعلق ہے آج کل علم نجوم بھی انہی شرکیہ خرافات سے عبارت ہے۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے آمین، (ع، ر)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے سیّدنا ابراہیم جب حالت نزع میں تھے تو آپ نے اسے اٹھایا اور فرمایا:
    ’’آنکھ آنسو بہا رہی ہے اور دل غمگین ہے مگر اس کے باوجود ہم کچھ نہیں کہیں گے سوائے اس (بات) کے جس سے ہمارا رب راضی ہو۔ اور اللہ کی قسم اے ابراہیم ! ہم تیری جدائی کے سبب غمگین ہیں۔‘‘
    (بخاری: الجنائز، باب: قول النبی: ’’انا بک لمحزونون‘‘: ۳۰۳۱، مسلم: الفضائل، باب: رحمتہ الصبیان والعیال: ۵۱۳۲.)
    معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ محبوب کی محبت میں آ کر اپنے فیصلے نہیں بدلتا بلکہ جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔ وہ کسی کی طاقت سے مرعوب ہوتا ہے نہ کسی کی محبت سے مغلوب۔ غفور رحیم ہے تو ہر ایک کے لیے اور اگر بے نیاز ہے تو سب کے لیے۔ (ع، ر)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ فوت ہوا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’یہ وہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحمت کرنے والوں پر ہی رحمت کرتا ہے۔‘‘
    (بخاری، الجنائز، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعذب المیت ببعض بکاء اھلہ علیہ: ۴۸۲۱، مسلم، الجنائز، باب البکاء علی المیت: ۳۲۹.)
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’جس عورت کے تین بچے مر جائیں اور وہ اللہ کی رضا مندی کی خاطر صبر کرے تو وہ جہنم کی آگ سے آڑ بنیں گے ایک عورت نے پوچھا اگر دو بچے مر جائیں تو؟ آپ نے فرمایا: ’’دو بچے بھی‘‘
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس سے مراد وہ بچے ہیں جو ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں۔
    (بخاری، العلم باب ھل یجعل للنساء یوم علی حدۃ فی العلم: ۱۰۱، مسلم : ۳۳۶۲، ۴۳۶۲.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ
    "وہ اپنے ماں باپ سے ملیں گے پھر ان کا کپڑا یا ہاتھ پکڑیں گے اور ان کو نہ چھوڑیں گے یہاں تک کہ اللہ ان کو اور ان کے باپوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔" (مسلم: کتاب البر والصلۃباب فضل من یموت لہ ولد فیحتسبہ: ۵۳۶۲.)
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    "اللہ تعالیٰ ان بچوں پر (اپنی) رحمت اور فضل کے سبب اس شخص کو (یعنی ان کے والد کو) جنت میں داخل کرے گا۔"
    (بخاری، الجنائز، باب فضل من مات لہ ولد فاحتسب: ۸۴۲۱)
    بشرطیکہ والد کا عقیدہ درست ہو۔ (ع، ر)
     
  7. ‏جولائی 13، 2019 #157
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اچانک موت:
    سیدنا عبید بن خالد السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اچانک موت (کافر کے لیے) اللہ تعالیٰ کے غضب کی پکڑ ہے۔‘‘
    (أبو داود: الجنائز، باب:فی موت الفجاۃ: ۰۱۱۳،)

    موت کے وقت پیشانی پر پسینہ:
    سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’موت کے وقت مومن کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے۔‘‘
    (ترمذی: الجنائز، باب: ما جاء أن المومن یموت بعرقِ الجبین: ۲۸۹، ترمذی نے حسن کہا۔)

    جس گھر میں وفات ہو ان کے ہاں کھانا پکا کر بھجوانا:
    سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’آل جعفر کے لیے کھانا تیار کرو ان لوگوں پر ایسی مصیبت آئی ہے جس میں وہ کھانا نہیں پکا سکیں گے۔‘‘
    (أبو داود: الجنائز، باب: صنعۃ الطعام لأہل المیت: ۲۳۱۳، ابن ماجہ: ۰۱۶۱.)
    کتنی بری اور نا مناسب بات ہے کہ بعض اہل میت دوسروں کے لیے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔

    تعزیت کے مسنون الفاظ :
    سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے کے متعلق جو حالت نزع میں تھے اپنی بیٹی کو تعزیت کے یہ کلمات بھیجے:
    ’’إنَّ لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلَہُ مَا أَعْطٰی وَکُلُّ شَیْءٍ عِنْدَہُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی۔‘‘
    ’’یقیناً اللہ کا (مال) ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دے رکھا ہے اس کے ہاں ہر چیز (کے فنا ہونے) کا وقت مقرر ہے‘‘
    (پھر آپ نے پیغام لے جانے والے سے کہا کہ) اسے حکم دینا کہ صبر کرے اوراس کے ثواب کی امید رکھے۔
    (بخاری، التوحید باب قول اللہ تعالیٰ قل ادعو اللہ او ادعو الرحمن :۷۷۳۷.مسلم:۳۲۹.)
    معلوم ہوا کہ اس دعا کے بعد لواحقین کو صبر کرنے اور ثواب کی امید رکھنے کی تلقین بھی کرنی چاہیے۔

    وفات کے بعد:
    سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو انہوں نے کہا کہ میرے لیے چٹائیاں مت بچھانا نہ ہی (خوشبو دار لکڑی کی) انگیٹھی جلانا اور مجھے قبرستان جلد لے جانا۔
    (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ۴۴۴.)
     
  8. ‏جولائی 15، 2019 #158
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نماز جنازہ

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے جو کسی مسلمان کے جنازہ کے ساتھ جاتا، اس کے ساتھ رہتا، اس کا جنازہ پڑھتا اور اس کو دفن کر کے فارغ ہوتا ہے تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔ ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے اور جو (صرف) جنازہ پڑھ کر واپس آ جاتا ہے تو اس کے لیے ایک قیراط ہے۔‘‘
    (بخاری، الایمان، باب اتباع الجنائز من الایمان: ۷۴، مسلم: ۵۴۹.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جس مسلمان کے جنازہ میں ایسے چالیس آدمی شامل ہوں جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس (میت کے حق) میں ان کی سفارش قبول کرتا ہے۔‘‘
    (مسلم، الجنائز، باب من صلی علیہ أربعون شفعوا فیہ: ۸۴۹.)
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جس میت پر سو مسلمان جنازہ پڑھیں، سب اس کے لیے سفارش کریں تو میت کے حق میں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔"
    (مسلم، الجنائز باب من صلی علیہ ماءۃ:۷۴۹.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’چار مسلمان جس مسلمان کی تعریف کریں اور اچھی شہادت دیں، اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا‘‘
    ہم نے عرض کیا ’’اور تین؟‘‘
    آپ نے فرمایا: ’’تین بھی‘‘
    ہم نے عرض کیا ’’ اور دو؟‘‘
    آپ نے فرمایا: ’’دو بھی۔
    پھر ہم نے ایک کے بارے میں نہیں پوچھا۔‘‘
    (بخاری، الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت: ۸۶۳۱.)
    یہاں ان مسلمانوں کی گواہی مراد ہے جن کا عقیدہ و عمل اور اخلاق و کردار کتاب و سنت کے مطابق ہو۔ واللہ اعلم۔ (ع، ر)

    امام کا جنازہ کے لیے کھڑے ہونے کا مقام:
    نماز جنازہ پڑھنے کے لیے میت کی چارپائی اس طرح رکھیں کہ میت کا سر شمال کی سمت اور پاؤں جنوب کی جانب ہوں، پھر باوضو ہو کر صفیں باندھیں۔
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ایک مرد کا جنازہ پڑھایا تو وہ (اس کے) سر کے سامنے کھڑے ہوئے پھر ایک عورت کا جنازہ لایا گیا تو وہ اس کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
    (ترمذی الجنائز باب ماجاء این یقوم الامام من الرجل والمراۃ: ۴۳۰۱، أبو داود: الجنائز، باب: أین یقوم الإمام من المیت إذا صلی علیہ: ۴۹۱۳، ترمذی نے اسے حسن کہا۔)
    سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایسی عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں فوت ہوئی تھی۔ آپ اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔
    (بخاری۱۳۳۱۔مسلم، الجنائز أین یقوم الامام من المیت:۴۶۹.)

    جنازہ کی تکبیرات:
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے جنازہ میں چار تکبیرات کہیں۔
    (بخاری، الجنائز، باب التکبیر علی الجنازۃ اربعًا، حدیث ۳۳۳۱۔ مسلم، الجنائز، باب فی التکبیر علی الجنازۃ ، حدیث ۱۵۹.)
    سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نماز جنازہ پر چار تکبیرات کہتے۔ ایک جنازہ پر انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بھی کرتے تھے۔
    (مسلم، الجنائز باب الصلاۃ علی قبر ۷۵۹.)

    جنازہ کی تکبیرات میں رفع الیدین:
    سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نمازہ جنازہ پڑھتے تو ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے اور جب نماز ختم کرتے تو سلام کہتے تھے۔ (کتاب العلل دارقطنی ۸۰۹۲.)

    جنازہ میں سورت فاتحہ:
    سیدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز جنازہ میں سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلے تکبیر کہی جائے، پھر فاتحہ پڑھی جائے، پھر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور میت کے لیے دعا (کی جائے) اس کے بعد سلام (پھیرا جائے)
    (مصنف عبدالرزاق، الجنائز باب القرأۃ والدعاء فی الصلاۃ علی المیت: ۸۲۴۶، (۳/۹۸۴ و۰۹۴، حافظ ابن حجر نے اسے صحیح کہا۔)
    سیدنا طلحہ بن عبد اللہ بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو آپ نے سورت فاتحہ پڑھی، اور فرمایا: میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔‘‘
    (بخاری، الجنائز، باب قراء ۃ فاتحۃ الکتاب علی الجنازہ: ۵۳۳۱.)
    طلحہ بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھا انہوں نے سورۂ فاتحہ اور ایک اور سورۃ پڑھی اور بلند آواز سے قراءت کی حتی کہ ہم نے سنا۔ جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ’’یہ سنت اور حق ہے۔‘‘
    (نسائی: الجنائز، باب: الدعاء: ۹۸۹۱ ابن ترکمانی نے صحیح کہا۔)
    اس سے جہری قرات بھی ثابت ہوئی، تعجب ہے جو لوگ اٹھتے بیٹھتے ’’فاتحہ‘‘ کے نام لیتے ہیں وہ نماز جنازہ میں اسے پڑھتے ہی نہیں۔ (ع، ر)
    سورت فاتحہ اور دوسری سورت پڑھ کر امام کو دوسری تکبیر کہنی چاہیے۔ اور پھر نماز والا درود شریف پڑھیں۔ اس کے بعد تیسری تکبیر کہہ کر ان دعاؤں میں سے کوئی دعا پڑھیں :

    نماز جنازہ کی دعائیں:
    ۱۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر یہ دعا پڑھی:
    ’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَأُنْثَانَا وَشَاہِدِنَا وَغَاءِبِناَ اَللّٰہُمَّ مَنْ أَحْیَیْتَہُ مِنَّا فَأَحْیِہِ عَلَی الإِیْمَانِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَہُ مِنَّا فَتَوَفَّہُ عَلَی الإِسْلَامِ اَللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَہُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَہُ.‘‘
    ’’اے اللہ! ہمارے زندہ اور مردے کو، چھوٹے اور بڑے کو، مرد اور عورت کو، حاضر اور غائب کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جس کو تو زندہ رکھے اسے ایمان پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جس کو تو فوت کرے اسے اسلام پر فوت کر۔ اے اللہ! ہمیں اس (میت) کے اجر سے محروم نہ رکھ اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر!‘‘
    (ابوداود، الجنائز، باب الدعاء للمیت، حدیث ۱۰۲۳، اسے امام ابن حبان نے صحیح کہا۔)
    ۲۔ سیدناعوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ میں یہ دعا پڑھی:
    ’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَارْحَمْہُ وَعَافِہِ وَاعْفُ عَنْہُ وَاکْرِمْ نُزُلَہُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَہُ وَاغْسِلْہُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّہِ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الثَّوْبَ الْأَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَابْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا مِنْ دَارِہِ وَأَہْلاً خَیْرًا مِّنْ أَہْلِہِ وَزَوْجاً خَیْرًا مِّنْ زَوْجِہِ وَادْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَأَعِذْہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ.‘‘
    ’’اے اللہ! اسے معاف فرما، اس پر رحم فرما، اسے عافیت میں رکھ، اس سے درگزر فرما، اس کی بہترین مہمانی فرما، اس کی قبر فراخ فرما، اس کے (گناہ) پانی، اولوں اور برف سے دھو ڈال، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے تو سفید کپڑے کو میل سے صاف کرتا ہے۔ اسے اس کے (دنیا والے) گھر سے بہتر گھر، (دنیا کے) لوگوں سے بہتر لوگ اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی عطا فرما، اسے بہشت میں داخل فرما، عذاب قبر اور عذاب جہنم سے بچا۔‘‘
    (مسلم، الجنائز، باب الدعاء للمیت فی الصلاۃ: ۳۶۹.)
    ۳۔ واثلہ بن اسقع کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی پس میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا:
    ’’اَللّٰھم اِنَّ فُلَانَ ابنَ فُلَان فِی ذِمَّتِکَ وَحَبلِ جَوَارِکَ، فَقِہِ مِن فِتنَۃِ القَبرِ وَعَذَابِ النَّار، وَاَنتَ اَھلُ الوَفَاءِ وَالحَقِّ، فَاغفِر لَہ،وَارحَمہُ،اِنَّکَ اَنتَ الغَفُورُ الرَّحِیمُ.‘‘
    ’’اے اللہ! یہ فلاں بن فلاں تیرے ذمے اور تیری رحمت کے سائے میں ہے۔ اسے فتنہ قبر اور آگ کے عذاب سے بچا، تو (اپنے وعدے) وفا کرنے والا اور حق والا ہے۔ اے اللہ! اسے معاف کر دے اور اس پر رحم فرما، بلاشبہ تو بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
    (ابو داؤد ۲۰۲۳، ابن ماجہ،الجنائز باب ما جاء فی الدعا فی الصلاۃ علی الجنازہ ۹۹۴۱.)
     
  9. ‏جولائی 15، 2019 #159
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جنازہ کے مسائل

    نماز جنازہ کا سراً پڑھنا:
    سیدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز جنازہ میں سنت طریقہ یہ ہے کہ امام پہلی تکبیر کے بعد سورۃ فاتحہ سراً پڑھے پھر تین تکبیرات کہے اور آخری تکبیر کے ساتھ سلام پھیرا جائے۔ (نسائی( ۴/۵۷:۱۹۹۱) حافظ ابن حجر نے اسے صحیح کہا۔)

    بلند آواز سے جنازہ:
    بلند آواز سے بھی جنازہ پڑھایا جا سکتا ہے،
    چنانچہ سیّدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں ایک دعا پڑھی جو میں نے یاد کر لی اور میں نے تمنا کی کاش کہ یہ میرا جنازہ ہوتا۔ (مسلم، الجنائز باب الدعاء للمیت فی الصلوٰۃ: ۳۶۹.)

    جنازے کے لیے کھڑے ہونا:
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ نہ رکھا جائے۔‘‘
    (بخاری، الجنائز، باب من تبع جنازۃ فلا یقعد حتی توضع: ۰۱۳۱، مسلم: ۹۵۹.)
    جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہو نے کا حکم بعض علماء کے نزدیک منسوخ ہے اور بعض علماء کھڑے ہونے اور بیٹھے رہنے دونوں طریقوں کو جائز سمجھتے ہیں۔
    سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک جنازے کو لحد میں نہ رکھ دیا جاتا۔ پھر ایک یہودی عالم گزرا اس نے کہا اس طرح تو ہم کرتے ہیں پھر آپ نے بیٹھنا شروع کر دیا اور فرمایا: ’’تم بھی بیٹھا کرو اور ان کی مخالفت کرو۔‘‘
    (ابو داؤد، الجنائز باب القیام للجنازہ: ۶۷۱۳.)
    سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لیے کھڑے ہوتے پس ہم بھی کھڑے ہوتے پھر آپ بیٹھنے لگ گئے پس ہم بھی بیٹھنے لگ گئے۔ (ابن ماجہ۴۴۵۱،ابو داؤد۵۷۱۳.)
    سیّدنا حسن اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا۔ سیّدنا حسن رضی اللہ عنہما کھڑے ہو گئے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے نہ ہوئے۔ سیّدنا حسن نے سیدنا ابن عباس سے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نہیں ہو تے تھے؟ انہوں نے کہا وہ کھڑے ہوتے تھے پھر بیٹھنے لگ گئے۔ (نسائی، الجنائز باب الرخصہ فی ترک القیام: ۵۲۹۱.)
     
  10. ‏جولائی 15، 2019 #160
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مسجد میں نماز جنازہ:
    جب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
    "ان کا جنازہ مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی نماز جنازہ میں شریک ہو جاؤں"
    لوگوں نے تامل کیا تو انہوں نے فرمایا کہ
    "اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا سہیل رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھائی۔"
    (مسلم، الجنائز، باب الصلاۃ علی الجنازۃ فی المسجد، حدیث ۳۷۹.)
    معلوم ہوا خواتین کے لیے نماز جنازہ میں شرکت جائز ہے۔
    سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ بھی مسجد میں پڑھی گئی نیز سیدنافاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے مسجد میں پڑھائی۔ (بیہقی ۴/۲۵.)

    جس جنازے کے ساتھ خلاف شرع کام ہوں اس کے ساتھ جانا:
    سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ نوحہ اور ماتم کرنے والی عورتیں ہوں۔‘‘
    (ابن ماجہ: الجنائز، باب: فی النہی عن النیاحۃ: ۳۸۵۱.)

    مردہ پیدا ہونے والے بچہ کا جنازہ:
    مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’بچہ مردہ پیدا ہو تو اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور اس میں اس کے والدین کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔‘‘
    (ابو داؤد، الجنائز باب المشی امام الجنازۃ:۰۸۱۳.)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں