1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 29، 2019۔

  1. ‏جولائی 15، 2019 #161
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    کبیرہ گناہ کے مرتکب شخص کا نماز جنازہ:
    مسلمانوں کو گناہ گاروں کا نماز جنازہ پڑھنا چاہیے۔ البتہ کسی بڑے عالم کو اس کا نماز جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے جو حرام کام کرنے میں مشہور ہو تاکہ لوگ عبرت پکڑیں اور اس کام سے رک جائیں۔
    سیّدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک جنازہ لایا گیا اور آپ سے عرض کی گئی کہ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں۔
    آپ نے پوچھا کیا اس پر قرض ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ پس آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
    پھر دوسرا جنازہ لایا گیا۔ آپ نے پوچھا کیا اس پر قرض ہے؟ آپ کو بتایا گیا ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کیا اس نے وراثت چھوڑی ہے؟ صحابہ نے کہا تین دینار۔ آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
    پھر تیسرا جنازہ لایا گیا۔ آپ نے پوچھا کیا اس پر قرض ہے؟ صحابہ نے کہا ہاں تین دینار آپ نے فرمایا تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اس کا قرض میرے ذمے ہے آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
    (بخاری الحوالات،ان احال دین المیت علی رجل جاز، ۹۸۲۲.)
    سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کی جنگ میں ایک شخص فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    "اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھو بے شک اس نے مال غنیمت میں سے چوری کی ہے۔"
    (النسائی، الجنائز، الصلاۃ علی من غل، ۱۶۹۱.)
    سیدناجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جس نے خود کشی کی تھی۔‘‘
    (مسلم: الجنائز، باب: ترک الصلاۃ علی القاتل نفسہ: ۸۷۹.)
    رئیس دارالافتاء سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خودکشی کرنے والے کو غسل دیا جائے گا اس کا جنازہ بھی پڑھا جائے گا اسے مسلمانوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا اس لیے کہ وہ گناہ گار ہے کافر نہیں۔ خودکشی معصیت ہے کفر نہیں لیکن معروف عالم دین اور ایسے لوگوں کو جن کی خاص اہمیت ہو چاہیے کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں تاکہ یہ گمان نہ ہو کہ وہ اس کے عمل سے راضی ہیں۔ (فتاویٰ اسلامیہ ص۹۹.)
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جو شخص اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر مارتا ہے وہ جہنم میں اپنا گلا گھونٹتا رہے گا اور جو شخص نیزہ چبھو کر اپنی جان دیتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو نیزہ مارتارہے گا اور وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔‘‘
    (بخاری، الجنائز، باب ماجاء فی قاتل النفس: ۵۶۳۱، مسلم: ۹۰۱.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے اپنی جان خود لی اس لیے میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔‘‘
    (بخاری، احادیث الانبیاء: ۳۶۴۳، مسلم: الإیمان، باب: غلظ تحریم قتل الإنسان نفسہ: ۳۱۱.)
    لہٰذا معزز اہل علم اس کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوں تا کہ باقی لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ (ع، ر)
    البتہ کوئی گناہ گار توبہ کر لے یا اس پر دنیا میں حد جاری ہو جائے تو بڑے عالم کو اس کا نماز جنازہ پڑھانا چاہیے۔
    ایک صحابیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اعتراف کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کی پھر اس کا نماز جنازہ پڑھا اور دفن کی گئی۔ (مسلم، الحدود، من اعترف علی نفسہ بالزنی،۵۹۶۱.)
     
  2. ‏جولائی 15، 2019 #162
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جنازے کے ساتھ چلنا:
    سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’سوار جنازے کے پیچھے رہے اور پیدل چلنے والے جنازے کے قریب رہتے ہوئے آگے، پیچھے دائیں اور بائیں چل سکتے ہیں۔‘‘
    (ابوداوٗد، الجنائز باب المشی امام الجنازۃ ۰۸۱۳، ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے۔)
    سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جنازے کے آگے چل رہے تھے۔(ابو داؤد ۹۷۱۳۔ ابن ماجہ ۳۸۴۱.)
    البتہ جنازے کے ساتھ سوار ہو کر چلنے والے جنازے کے پیچھے چلیں۔ اور سوار ہو کر جانا پسندیدہ عمل نہیں ہے۔
    سیدناثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جانور لایا گیا جبکہ آپ جنازے کے ساتھ تھے تو آپ نے اس پر سوار ہو نے سے انکار کر دیا لیکن جب آپ جنازے سے واپس ہوئے اور آپ کے پاس جانور لایا گیا تو آپ سوار ہو گئے جب آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا بیشک فرشتے (جنازے کے ساتھ)چل رہے تھے تو میں ایسا نہ کر سکا کہ سوار ہو جاتا اور وہ چل رہے ہوتے لیکن جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا۔(ابو داؤد، الجنائز باب الرکوب فی الجنازہ: ۷۷۱۳.)
    سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک گھوڑا لایا گیا آپ سیدنا ابن دحداح کے جنازے سے واپسی پر سوار ہو کر لوٹے۔(مسلم، الجنائز باب رکوب المصلی علی الجنازہ اذا انصرف: ۵۶۹.)
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ نے عورتوں کو جنازے کے پیچھے جانے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ
    ’’ اس میں ان کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔‘‘(سلسلہ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ۲۱۰۳.)

    نمازہ جنازہ کی صفیں طاق بنانا:
    نمازہ جنازہ کی صفیں طاق بنانا ضروری نہیں۔
    سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات پر فرمایا کہ
    ’’بے شک تمہار ابھائی فو ت ہو گیا ہے پس اس کا جنازہ پڑھو۔‘‘
    پس ہم کھڑے ہو گئے اور ہم نے دو صفیں بنائیں۔
    (مسلم، الجنائز، فیمن یثنیٰ علیہ خیر او شر من الموتی۶۶(ٰ۲۵۹).
     
  3. ‏جولائی 15، 2019 #163
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قبر پر نماز جنازہ:
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جسے گذشتہ شب دفن کر دیا گیا تھا۔(بخاری۰۴۳۱۔ مسلم الجنائز، باب الصلاۃ علی القبر: ۴۵۹.)
    معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص نماز جنازہ نہ پڑھ سکا ہو وہ قبر پر جا کے نماز جنازہ پڑھ سکتا ہے۔
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیاہ رنگ کی ایک خاتون مسجد (نبوی) میں جھاڑو پھیرا کرتی تھی۔ وہ مر گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی موت کا علم نہ ہوا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ وہ فوت ہو گئی ہے۔ آپ نے فرمایا :
    ’’تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟ مجھے اس کی قبر بتاؤ‘‘
    صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ کو اس کی قبر بتائی۔
    پھر آپ نے قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا :
    ’’یہ قبریں تاریکی اور ظلمت سے بھری ہوتی ہیں۔ میری نماز کے سبب اللہ تعالیٰ ان کو روشن کر دیتا ہے۔‘‘
    (بخاری، الجنائز، باب الصلاۃ علی القبر بعد ما یدفن: ۷۳۳۱۔ مسلم، ۶۵۹.)
    اس سے معلوم ہوا کہ مسجد کی صفائی کرنے کی بڑی فضیلت ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی غیبی خبریں عطا نہیں کی تھیں۔ (ع ر)

    غائبانہ نماز جنازہ:
    جس دن نجاشی رحمہ اللہ فوت ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ نکلے، صف بندی کی اور چار تکبیرات کے ساتھ (نماز جنازہ) ادا کی۔
    (بخاری، الجنائز، باب الرجل ینعی الی اہل المیت بنفسہ: ۵۴۲۱ ومسلم: ۱۵۹.)
    اور فرمایا کہ "اپنے بھائی کی نماز جنازہ ادا کرو کیونکہ ارض غیر میں فوت ہوا۔"
    (ابن ماجہ: الجنائز، باب: ما جاء فی الصلاۃ علی النجاشی: ۷۳۵۱.)
    سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    ’’رسول اللہ ایک دن باہر نکلے اور احد کے شہداء کے لیے اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر نماز پڑھتے ہیں۔‘‘
    (بخاری: ۴۴۳۱، مسلم: الفضائل:باب اثبات حوض نبینا ۶۹۲۲.)
    اس سے معلوم ہوا کہ میت کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے امام شافعی اور احمد بن حنبل کا یہی مسلک ہے۔
    مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمھم اللہ میں غائبانہ نماز جنازہ کے معمول نہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ خلفائے راشدین کی غائبانہ نماز جنازہ پوری اسلامی مملکت میں ادا کی جاتی۔ مگر ایسا کسی سے بھی منقول نہیں ہے۔ ابن قیم، ابن تیمیہ، علامہ ناصر الدین البانی رحمھم اللہ اور محققین کی ایک جماعت غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی قائل نہیں ہے۔
    حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’اگر غائب پر نماز جنازہ جائز ہوتی تو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کرتے اسی طرح شرق و غرب میں رہنے والے مسلمان خلفائے راشدین کی بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھتے، مگر ایسا کسی سے بھی منقول نہیں ہے۔‘‘
    ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا:
    ’’مسلمانوں میں بہت سے ایسے لوگ فوت ہوئے جو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے غائب تھے مگر آپ نے ان میں سے کسی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا نہیں کی۔‘‘
     
  4. ‏جولائی 15، 2019 #164
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تدفین کے اوقات:
    سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین اوقات میں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا:
    (الف) طلوع آفتاب کے وقت حتیٰ کہ بلند ہو جائے۔
    (ب) جب سورج دوپہر کے وقت عین سر پر ہو حتیٰ کہ ڈھل جائے۔
    (ج) غروب آفتاب کے وقت حتیٰ کہ غروب ہو جائے۔"
    (مسلم، صلاۃ المسافرین، باب الاوقات التی نھی عن الصلاۃ فیھا: ۱۳۸.)
    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نماز فجر اور نماز عصر کے بعد نماز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے۔
    (موطا مالک، الجنائز، باب الصلاۃ علی الجنائز بعد الصبح الی الاسفار: ۱/۹۲۲.)

    قبر گہری بنانا:
    جنگ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ
    ’’ قبر گہری کھودو اور اسے ہموار اور صاف رکھو۔‘‘
    (ابوداود، الجنائز، باب فی تعمیق القبر: ۵۱۲۳۔ امام ترمذی نے اسے صحیح کہا۔

    میت کو پاؤں کی طرف سے قبر میں داخل کرنا:
    سیّدنا حارث رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ عبد اللہ بن یزید رضی اللہ عنہ میرا جنازہ پڑھائیں۔ پس سیدنا عبد اللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے حارث کا نماز جنازہ پڑھایا پھر میت کو پاؤں کی طرف سے قبر میں داخل کیا اور فرمایا کہ یہ سنت ہے۔
    (ابو داود، الجنائز، باب کیف یدخل المیت قبرہ: ۱۱۲۳۔ بیہقی نے اسے صحیح کہا۔)

    عورت کی میت کو قبر میں نامحرم مرد کا اتارنا:
    سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کی وفات کے وقت موجود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، آپ نے پوچھا:
    ’’کیا کوئی ایسا ہے جو آج رات عورت کے پاس نہ گیا ہو ؟ ‘‘
    سیدنا ابو طلحہ نے کہا، میں ہوں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم قبر میں اترو۔‘‘
    وہ اترے اور میت کو قبر میں دفن کیا۔
    (بخاری، الجنائز،من یدخل قبر المراۃ،۲۴۳۱.)

    قبرستان میں روشنی کے لیے چراغ لے جانا:
    سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی کو رات کے وقت دفن کیا گیا اور اس کو قبر میں (دفن کر نے کے لیے) روشنی کی گئی۔(ابن ماجہ، الجنائز الاوقات التی لا یصلی فیھا علی المیت، ۰۲۵۱، ترمذی، الجنائز، الدفن بالیل،۷۵۰۱.)

    میت کو قبر میں رکھتے وقت کی دعا:
    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کو قبر میں رکھتے تو کہتے :
    ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ.‘‘
    (أبو داود: الجنائز، باب: فی الدعاء للمیت إذا وضع فی قبر: ۳۱۲۳۔ اسے امام حاکم اور امام ذہبی نے صحیح کہا۔)
    ’’اللہ کے نام سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذہب اور طریقے پر (اسے دفن کرتے ہیں)۔‘‘
    افسوس کہ یہ سنت بھی مٹتی چلی جا رہی ہے کیونکہ لوگوں نے اس کا متبادل ڈھونڈھ رکھا ہے یعنی وہی نعرہ کلمہ شہادت: ’’أشھد أن لا إلہ إلا اللّٰہ‘‘ (ع، ر)

    لحد بنانا:
    سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ میرے لیے لحد بنانا اور اس پر کچی اینٹیں لگانا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا گیا تھا۔ (مسلم، الجنائز، باب فی اللحد، و نصب اللبن علی المیت: ۶۶۹.)
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اونٹ کی کوہان جیسی تھی۔
    (بخاری، الجنائز، باب ما جاء فی قبر النبی و ابی بکر و عمر رضی اللہ عنہما: ۰۹۳۱’)
     
  5. ‏جولائی 16، 2019 #165
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ایک قبر میں ایک سے زائد افراد کو دفن کرنا :
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہیدوں کے متعلق فرمایا:
    "ایک قبر میں دو یا تین آدمیوں کو رکھو۔" (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ۵۴۰۳.)

    قبر پر چھڑکاؤ:
    سیّدنا عبد اللہ بن محمد بن عمر اپنے والد سے مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ آپ نے اپنے بیٹے ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکا۔
    (أبو داود، الجنائز، باب الاستغفار عند القبر للمیت: ۱۲۲۳۔ حاکم اور حافظ ذہبی نے اسے صحیح کہا۔)

    تدفین کے بعد دعا:
    سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کے دفن سے فارغ ہو جاتے تو قبر پر کھڑے ہوکر فرماتے: ’’اپنے بھائی کے لیے بخشش اور ثابت قدمی کی دعا کرو کیونکہ اب اس سے سوال وجواب ہو رہے ہیں۔‘‘
    (أبو داود، الجنائز، باب الاستغفار عند القبر للمیت: ۱۲۲۳۔ حاکم اور حافظ ذہبی نے اسے صحیح کہا۔)
    تدفین کے بعد میت کے سر پر سورۃ البقرہ کی ابتدائی آیات اور پاؤں کی جانب آخری آیات پڑھنے والی روایات ضعیف اور ناقابل احتجاج ہیں۔

    قبر پر بطور علامت پتھر نصب کرنا:
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر پر علامت کے طور پر ایک پتھر نصب فرمایا۔‘‘
    (ابن ماجہ: الجنائز، باب: ما جاء فی العلامۃ فی القبر: ۱۶۵۱.)
    آپ نے سیّدنا عثمان بن مظعون کی قبر پر سر کی طرف پتھر رکھ کر فرمایا:
    "(میں نے یہ پتھر اس لیے رکھا تا کہ)میں اس کے ذریعے اپنے بھائی کی قبر پہچان سکوں اور اس کے ساتھ اپنے خاندان کی میتیں دفن کر سکوں۔"
    (ابو داؤد فی جمع الموتی فی قبر ،والقبر یعلم۶۰۲۳.)
    گویا خاندان کی اکٹھی قبریں بنائی جا سکتی ہیں ۔

    قبر پر مٹی ڈالنا:
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ کی نماز پڑھی پھر قبر کے پاس آئے اور سر کی طرف سے تین لپ مٹی ڈالی۔‘‘ (ابن ماجہ: الجنائز: ۵۶۵۱.)

    مردے کی ہڈی توڑنا:
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "کسی مردے کی ہڈی توڑنا زندہ انسانوں کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے۔"
    (ابو داؤد ۷۰۲۳، ابن ماجہ ۶۱۶۱.)
     
  6. ‏جولائی 16، 2019 #166
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قبر پر بیٹھنا:
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "تم میں سے کوئی شخص انگارے پر بیٹھے اور وہ اس کے کپڑوں کو جلا کر جلد تک پہنچ جائے ۔یہ اس کے لیے قبر پربیٹھنے سے زیادہ بہتر ہے۔"
    (مسلم ۱۷۹)
    چاہے کوئی شخص مجاور بن کر بیٹھے یا چلہ کشی کے لیے سب ناجائز ہے۔

    قبروں کو پختہ بنانے کی ممانعت:
    قبروں کو اونچا کرنا، پختہ بنانا، ان پر گنبد اور قبے بنانا حرام ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ قبریں اور ان پر عمارت (گنبد وغیرہ) بنانے سے منع کیا آپ نے قبر پر بیٹھنے اور ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ (مسلم، الجنائز، باب النھی عن تجصیص القبر والبناء علیہ: ۰۷۹.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر لکھنے سے منع فرمایا ہے۔
    (ابوداود، الجنائز، باب البناء علی القبر: ۶۲۲۳۔ حاکم (۱/۰۷۳) اور حافظ ذہبی نے اسے صحیح کہا۔)
    الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ جائز نہیں کہ میت کی قبر پر لوہے، پتھر یا کسی اور چیز پر قرآنی آیات یا کچھ اور لکھ کر لگایا جائے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر لکھنے سے منع فرمایا ہے(ترمذی ۲۵۰۱) کیونکہ یہ ایک طرح کا غلو ہے لہٰذا اس سے منع کرنا واجب ہے۔ کتابت اور تحریر وغیرہ کے غلو کے بسا اوقات ایسے خطرناک نتائج بھی برآمد ہو تے ہیں جو شرعاً ممنوع ہیں لہٰذا حکم شریعت بس یہی ہے کہ قبر کی اپنی ہی مٹی اس پر ڈالی جائے اور اسے تقریباً ایک بالشت برابر اونچا کر دیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ قبر ہے۔ قبروں کے بارے میں یہی وہ سنت ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل تھا اسی طرح قبروں پر مسجدیں بنانا، غلاف اور چادریں چڑھانا اور قبے بنانا بھی جائز نہیں۔ (فتاوی اسلامیہ ،جلد دوم ،ص۴۶.)
    سیّدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں ہر تصویر مٹا دوں اور ہر اونچی قبر برابر کر دوں۔
    (مسلم، الجنائز، باب الامر بتسویۃ القبر: ۹۶۹.)
    ام المومنین اُمّ حبیبہ اور ام المومنین اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک گرجے کا ذکر کیا کہ اس میں تصویریں لگی تھیں۔ آپ نے فرمایا کہ: ’’جب ان لوگوں کا کوئی نیک شخص مر جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور وہاں تصویریں بناتے۔ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے۔‘‘
    (بخاری: الصلاۃ، باب: ہل تنبش قبور مشرکی الجاہلیۃ: ۷۲۴، مسلم: ۸۲۵.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری بیماری (مرض الموت) میں فرمایا :
    ’’اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا‘‘
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
    ’’اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ لوگ آپ کی قبر کو مسجد بنا لیں گے تو آپ کی قبر کھلی جگہ میں ہوتی۔‘‘
    (بخاری: ۰۹۳۱۔ مسلم: المساجد، باب: النھی عن بناء المساجد علی القبور: ۹۲۵.)
     
  7. ‏جولائی 16، 2019 #167
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قبر کشائی:
    سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد جنگ احد میں شہید ہوئے اور وہ دوسرے آدمی کے ساتھ اکٹھے قبر میں دفن کیے گئے لیکن میرے دل کو اچھا نہ لگا۔ میں نے چھ ماہ کے بعداپنے والد کو قبر سے نکالا اور الگ دفن کیا ۔ان کا جسم ایسے تھا جیسے آج ہی دفن کیا گیا ہو۔
    (بخاری، الجنائز، ھل یخرج المیت من القبر،۱۵۳۱.)
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی شدید ضرورت کی بنا پر میت کو قبر سے نکالا جا سکتا ہے۔

    قبروں کی زیارت:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۔ اب تم ان کی زیارت کیا کرو۔‘‘
    (مسلم، الجنائز، باب استئذان النبی ربہ عز و جل فی زیارۃ قبر امہ: ۷۷۹.)
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی۔ خود بھی روئے اور جو آپ کے ساتھ تھے وہ بھی روئے۔ پھر آپ نے فرمایا:
    ’’میں نے اپنی والدہ کی بخشش کی دعا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت مانگی، مجھے اجازت نہیں ملی، پھر میں نے اس کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی پس مجھے اجازت دے دی گئی پس تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ قبروں کی زیارت موت یاد دلاتی ہے۔‘‘ (مسلم: ۶۷۹.)

    عورتوں کا قبرستان جانا:
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘
    (ترمذی، الجنائز، باب ماجاء فی کراھیۃ زیارۃ القبور للنساء:۵۵۰۱۔ ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا۔)
    شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی، مگر اس کے بعد آپ نے اجازت دے دی تو اس میں مرداور عورت دونوں شامل ہیں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عورت پر سے گزرے جو قبر پر بیٹھی رو رہی تھی آپ نے اسے اللہ سے ڈرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا۔
    (بخاری، الجنائز، باب قول الرجل للمراۃ عندالقبر اصبری: ۲۵۲۱۔ مسلم: الجنائز، باب: فی الصبر علی المصیبۃ عند الصدمۃ الاولی: ۶۲۹.)
    اگر عورتوں کا قبرستان جانا ناجائز ہوتا تو آپ اس کو قبرستان میں آنے سے بھی منع کر دیتے۔
    اُمّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی سیدنا عبدالرحمن کی قبر کی زیارت کو گئیں ان سے کہا گیا، کیا نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے (عورتوں کو) اس سے منع نہیں کیا تھا؟ توام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، پہلے منع کیا تھا پھر اجازت دے دی تھی۔
    (مستدرک حاکم (۱/۶۷۳) اسے حافظ ذہبی نے صحیح اور حافظ عراقی نے جید کہا۔)
    ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، جب میں قبرستان میں جاؤں تو کون سی دعا پڑھوں؟ آپ نے دعا سکھائی۔ (مسلم: الجنائز، باب: ما یقال عند دخول القبور والدعاء لأ ھلھا: ۴۷۹.)
    اس سے بھی معلوم ہوا کہ عورتوں کا کبھی کبھار قبرستان جانا جائز ہے۔
    *عورتوں کے لیے قبروں کی کثرت سے زیارت منع ہے) کیونکہ ان میں صبر کا مادہ کم ہوتا ہے نیز وہ شرکیہ امور میں بھی تیز ہوتی ہیں۔ یہ قبروں کی زیارت اس لیے مشروع نہیں کہ وہاں جا کر شرک و بدعت کے کام کئے جائیں بلکہ قبروں کی زیارت سے موت کو یاد کرنا مقصود ہے۔ (ع، ر)

    مُردوں کو برا کہنا:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مُردوں کو برا نہ کہو وہ تو آگے بھیجے ہوئے (اعمال) کی طرف چلے گئے ہیں۔‘‘
    (بخاری، الجنائز، باب ما ینھی من سب الاموات: ۳۹۳۱)
     
  8. ‏جولائی 16، 2019 #168
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اہل قبور کے لیے دعا کرتے وقت ہاتھ اٹھانا:
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ
    ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے اور (مدینہ کے قبرستان) بقیع پہنچے اور دیر تک وہاں کھڑے رہے۔ پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ آپ نے تین بار ایسا کیا۔ پھر واپس آئے، پھر آپ نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ میرے پاس جبریل آئے اور کہا کہ تمہارا رب تمہیں حکم فرماتا ہے کہ تم بقیع کے قبرستان جاؤ اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ میں ان کے لیے کیسے دعا کروں تو آپ نے فرمایا یوں کہو:
    ’’اَلسَّلَامُ عَلَی أَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِیْنَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ أَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃ.‘‘
    ’’مومن اور مسلمان گھر والوں پر سلامتی ہو۔ ہم میں سے آگے جانے والوں اور پیچھے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی عنقریب تم سے ملنے والے ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کی دعا کرتا ہوں۔‘‘
    (مسلم، الجنائز، باب ما یقال عند دخول القبور و الدعاء لاھلھا: ۵۷۹،۴۷۹.)

    ایصال ثواب کے طریقے:
    ۱۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مرنے کے بعد انسان کے اعمال کے ثواب کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے لیکن تین چیزوں کا ثواب میت کو ملتا رہتا ہے۔
    (۱) صدقہ جاریہ (۲) لوگوں کو فائدہ دینے والا علم
    (۳) نیک اولاد جو میت کے لیے دعا کرے۔‘‘
    (مسلم: الوصیۃ، باب: ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ: ۱۳۶۱.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مومن کو مرنے کے بعد ان اعمال اور نیکیوں کا ثواب ملتا رہتا ہے:
    (۱) وہ علم ہے جو اس نے لوگوں کو سکھایا اور پھیلایا
    (۲) نیک اولاد ہے جو اس نے اپنے پیچھے چھوڑی۔
    (۳) قرآن کی تعلیم جو لوگوں کو سکھائی۔
    (۴) مسجد جو تعمیر کرائی۔
    (۵) مسافر خانہ۔
    (۶) وہ صدقہ جو صحت کی حالت میں اس نے نکالا۔
    (ابن ماجہ: مقدمۃ، باب: ثواب معلم الناس الخیر: ۲۴۲.)
    ۲۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ماں کی نذر کے بارے میں سوال کیا جسے پورا کرنے سے پہلے وہ فوت ہو گئی تھی۔ آپ نے فرمایا:
    "اپنی ماں کی طرف سے تم نذر پوری کرو۔"
    (بخاری: الوصایا، باب:ما یستحب لمن توفیٰ فجاۃ ۱۶۷۲، مسلم: النذر: ۸۳۶۱.)
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میری ماں نے حج کی نذر مانی تھی لیکن حج کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی کیا میں اس کی طرف سے حج کروں۔ آپ نے فرمایا: ’’ہاں! اس کی طرف سے حج کرو، اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتیں؟‘‘ اس نے عرض کیا ہاں! آپ نے فرمایا:
    ’’اللہ کا قرض یعنی نذر ادا کرو، اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔‘‘
    (بخاری: جزاء العید، باب: الحج والنذور عن المیت: ۲۵۸۱.)
    ۳۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ’’جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے باقی ہوں تو اس کا وارث روزے رکھے۔‘‘
    (بخاری: الصوم، باب: من مات وعلیہ صوم: ۲۵۹۱، مسلم: الصیام، قضاء الصیام عن الموت: ۷۴۱۱.)
    ۴۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرا باپ فوت ہو گیا ہے اور اس نے کچھ مال چھوڑا ہے لیکن کوئی وصیت نہیں کی۔ اگر میں اس کی طرف سے خیرات کروں تو کیا یہ اس کے گناہوں کا کفارہ بنے گا۔ آپ نے فرمایا: ’’ہاں!۔‘‘ (مسلم: الوصیۃ، باب: وصول ثواب الصدقات إلی المیت: ۰۳۶۱.)
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص (سیدنا سعد بن عبادہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری ماں اچانک مر گئی اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ بات کرتی تو کچھ صدقہ وخیرات کرتی، اب اگر میں اس کی طرف خیرات کروں تو کیا اس کو کچھ ثواب ملے گا، آپ نے فرمایا: ’’ہاں!۔‘‘
    (بخاری : الجنائز، باب: موت الفجاۃ البغتۃ: ۸۸۳۱، مسلم: الزکاۃ، باب: وصول ثواب الصدقۃ الی المیت: ۴۰۰۱.)
    ۵۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ’’مومن کی روح قرض کے ساتھ معلق رہتی ہے جب تک وہ ادا نہ کر دیا جائے۔‘‘
    (ترمذی: الجنائز: ۸۷۰۱.)
     
  9. ‏جولائی 16، 2019 #169
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جنازے اور دفن کرنے کے بعد کی بدعات

    نماز جنازہ کے بعد دعا:
    فتویٰ کمیٹی اللجنۃ الدائمۃ سعودی عرب کا فتویٰ ہے کہ نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز ہرگز ثابت نہیں۔ نہ آپ کی سنت سے یہ ثابت ہے اور نہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت ہی سے اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یا صحابہ کرام نے نماز جنازہ کے بعد دعا کی ہوتی تو وہ بھی اسی طرح ثابت ہوتی جس طرح آپ سے نماز جنازہ میں، زیارت قبور کے موقع پر اور دفن سے فراغت کے بعد دعا ثابت ہے لہٰذا جب نماز جنازہ کے بعد آپ سے دعا ثابت نہیں ہے تو اسے یقیناً بدعت قرار دیا جائے گا اور کسی بھی مسلمان کو اس موقع پر دعا کرنا زیب نہیں دیتا۔
    (فتاویٰ اسلامیہ ج۲،ص۴۵.)

    مغفور اور مرحوم کے الفاظ کہنا:
    مفتی حرم شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نص کے بغیر کسی کو جنتی یا جہنمی کہنا جائز نہیں۔ کتاب اللہ میں مثال جیسے ابو لہب کو جہنمی کہا گیا اور سنت رسول سے مثال جیسے عشرہ مبشرہ کو جنتی کہا گیا کسی کو مغفور یا مرحوم کہنے کے بھی یہی معنی ہیں کہ ہم اس کے جنتی ہو نے کی بھی گواہی دیتے ہیں لہٰذا مغفور مرحوم کے الفاظ کی بجائے یہ کہنا چاہیے ’’غفر اللہ لہ (اللہ اسے معاف کرے) یا رحمۃ اللہ علیہ (اللہ اس پر رحم کرے۔) (فتاوی اسلامیہ ،ص۲۹.)

    بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھنا:
    فتویٰ کمیٹی الجنۃ الدائمۃ سعودی عرب قبرستان کی طرف جنازہ لے جاتے ہوئے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھنے کا حکم یوں بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ جب آپ جنازے کے ساتھ تشریف لے جاتے تو آپ سے نہ کلمہ طیبہ کا ورد سنا جاتا نہ قرآن مجید کی تلاوت اور نہ کچھ اور۔ ہمارے علم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازے کے ساتھ اجتماعی طور پر کلمہ طیبہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔
    آپ نے فرمایا:"جنازے کے ساتھ آواز بلند نہ ہو اور نہ ہی آگ کو لے جایا جائے۔"(ابو داؤد ۱۷۱۳.)
    اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ بلند آواز سے جنازوں کے ساتھ کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادت پڑھنا ایک قبیح قسم کی بدعت ہے اسی طرح اس موقع پر لوگوں کہ یہ کہنا کہ بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھو یا اللہ کا ذکر کرو یا قصیدہ وغیرہ پڑھو یہ سب بدعت ہے۔
    (فتاوی اسلامیہ ،جلد دوئم ،ص۰۸.)
     
  10. ‏جولائی 16، 2019 #170
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قبر پر قرآن خوانی:
    شیخ محمد صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل علم کا راجح قول یہ ہے کہ دفن کے بعد قبر پر قرآن خوانی بدعت ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس کا کوئی رواج نہ تھا۔آپ نے اس کا حکم دیا نہ خود ایسا کیا اگر قبر کے پاس قرآن خوانی شریعت کا حکم ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس کا حکم دیتے تاکہ امت کو شریعت کا یہ حکم معلوم ہو جاتا اسی طرح کسی میت کی روح کے ایصال ثواب کے لیے گھروں میں جمع ہو کر قرآن خوانی کی بھی کوئی دلیل نہیں یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔ (فتاوی اسلامیہ ،جلد دوئم ص۶۸.)
    دارلاافتاء الجنۃ الدائمۃ سعودی عرب کا فتویٰ ہے:
    قبروں کی بکثرت زیارت کے باوجود یہ بات ثابت نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے لیے کبھی سورہ فاتحہ یا قرآن مجید کی کچھ آیات پڑھی ہوں اگر یہ جائز ہوتا تو آپ خود بھی ایسا کرتے اور صحابہ کرام کے سامنے بھی اس بات کو واضح فرماتے۔ (فتوی اسلامیہ ،ص۵۸.)

    قبر پر اذان اور اقامت کہنا:
    رئیس دارالافتاء سعودی عرب شیخ ابن باز لکھتے ہیں کہ میت کو قبر میں رکھتے وقت اذان اور اقامت کہنا بلا شک و شبہ بدعت ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی کوئی سند نازل نہیں فرمائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے ایسا ہرگز ثابت نہیں۔ (فتاوی اسلامیہ ،جلد دوئم ص۱۸.)

    کچھ دیر کے لیے خاموش کھڑے ہونا:
    دارلافتاء الجنۃ الدائمۃ سعودی عرب کے فتاویٰ میں مذکور ہے:
    بعض لوگ شہداء اور اکابر لوگوں کی وفات پر ان کی تعظیم و تکریم کے لیے کچھ دیر کے لیے خاموش کھڑے ہو جاتے ہیں یہ ان بدعات اور منکرات میں سے ہے جن کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین کے دور میں قطعا کوئی رواج نہ تھا یہ بات توحید کے آداب اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے اخلاص کے منافی ہے۔ افسوس بعض جاہل مسلمان بھی اس قسم کی بدعت میں کافروں کی پیروی کرتے ہیں ان کی قبیح عادات کو اختیار کرتے اور اکابر اور رؤسا کی تعظیم میں ان کی طرح غلو سے کام لیتے ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابو داؤد۱۳۰۴، فتاوی اسلامیہ ،جلد دوئم ص ۰۸.)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں