1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ھِدایۃ المُستفید اُردُو ترجمہ فتح المجید شرح کتابُ التوحید

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 29، 2013۔

  1. ‏مئی 09، 2013 #51
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    کسی کو ’’قاضی القضاہ‘‘ یعنی چیف جسٹس کہنے کی ممانعت۔
    باب:التسمی بقاضی القضاۃ و نحوہٖ

    مصنف رحمہ اللہ نے کسی کو ’’قاضی القضاۃ‘‘ کہنے کی ممانعت میں یہ عنوان تجویز کیا ہے۔ آئندہ سطور میں آنے والی حدیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ عنوان قائم کیا ہے اور اس کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس کی خالق حقیقی سے مشابہت پائی جاتی ہے۔
    وفی الصحیح عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ اَخنَعَ اِسْمٍ عِنْدَ اﷲِ رَجُلٌ تُسَمّٰی مَلِکَ الْاَمْلَاکِ لَا مَالِکَ اِلاَّ اﷲُ قَالَ سُفْیَانُ مِثْلَ شَاھَانِ شَاہْ و فی روایۃ اَغْیَظُ رَجُلٍ عَلَی اﷲِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ اَخْبَثُہٗ قولہ اَخْنَعَ یَعْنِیْ اَوْضَعَ
    صحیح بخاری میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ حقیر شخص وہ ہے جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی شہنشاہ نہیں ہے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں،
    مَلِکُ الْاَمْلَاکِ کا لفظ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی بولا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے بڑا، اور عظیم کوئی بادشاہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ مالک الملک ذوالجلال والاکرام ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اقتدار دیتا ہے اور وہ بھی عارضی طور پر اور جب چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے کہ وہ اقتدار کو ایک سے چھین کر دوسرے کے سپرد کر دیتا ہے۔ ثابت ہوا کہ دنیا کی سلطنت عارضی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ البتہ ربُّ العالمین اور احکم الحاکمین کی بادشاہت کامل اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اس کی نہ کوئی انتہا ہے اور نہ اس کو کبھی ختم ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں انصاف ہے وہ اس کی وجہ سے کسی کو بلند کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر کسی کو ذلیل و رسوا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال کی تفصیلات کو اپنے علم اور اپنے فرشتوں یعنی کراماً کاتبین کے ذریعہ محفوظ رکھتا ہے۔ ان ہی اعمال کے مطابق انسان کو بدلہ ملے گا۔ اگر اچھے کام کئے تو اجر ملے گا ورنہ عذاب میں گرفتار ہو جائے گا۔
    ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    پس ایسے شخص کے بارے میں یہ دو اُمور بیک وقت جمع ہونے کی دو وَجہیں تھیں۔ ایک یہ کہ اُس نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھا، اور دوسری یہ کہ لوگ اس کلمہ کی وجہ سے اسے بڑا سمجھیں چانچہ یہ دونوں وصف ایسے ہیں جن کا یہ اہل نہ تھا۔ نتیجہ یہ شخص تمام مخلوقِ الٰہی سے زیاد خبیث اللہ کے نزید مغضوب علیہ اور حقیر ترین بن گیا اور خبیث اور مبغوض شخص قیامت کے دن تمام مخلوق سے زیادہ حقیر اور ذلیل متصور ہو گا۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بنا پر مخلوقِ الٰہی کے سامنے اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرتا رہا۔
    زیر بحث حدیث میں ہر اُس امر سے ڈرایا گیا ہے جس میں اپنے آپ کو بڑا بنانے کا اظہار کیا گیا ہو۔ اس سلسلے میں سنن ابی داؤد میں ابن ابی مجلز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابن زبیر اور ابن عامر رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لائے تو ابن عامر نے کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ لیکن ابن زبیر رضی اللہ عنہ بدستور بیٹھے رہے۔ یہ دیکھ کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عامر سے کہا کہ آپ بھی بیٹھ جائیں کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:
    سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عصا پر ٹیک لگائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    یہ صفت ان صفات سے ہے جن کو جوں کا توں سمجھنا ضروری ہے۔ اسی طرح کتاب و سنت میں جو صفات مذکور ہیں ان کا اتباع اسی طرح ضروری ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کو لائق ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو بلا تمثیل و تنزیہہ، اور بلا تعطیل ثابت مانتے ہیں۔ اہل سنت، صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور ان کے بعد تمام اسلامی فرقوں کا یہی مسلک اور مذہب ہے۔ اور وہ اختلاف جو اس وقت ہمارے سامنے موجود ہے،یہ تیسری صدی ہجری کے آخری دَور کی پیداوار ہے۔ اور اسی تفریق اور اختلاف کی وجہ سے اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم صراط مستقیم سے ہٹ گئی ہے۔ یہ بات ہر اُس شخص کو معلوم ہے جو تاریخ پر گہری نگاہ رکھتا ہے۔ واللہ المستعان۔

    فیہ مسائل
    ٭ کسی کو مَلِکَ الْاَمْلَاکِ یعنی شہنشاہ یا شاہانِ شاہ کے نام سے موسوم کرنے کی ممانعت۔ ٭ہر وہ لفظ یا جملہ جس سے مَلِکَ الْاَمْلَاکِ کے معنی ظاہر ہوں، اس کی ممانعت۔ ٭اس باب میں اور دوسرے تمام مقامات پر جہاں اس قسم کی شدت اختیار کی گئی ہے، اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت۔ اگرچہ دِلی کیفیت اس کے مفہوم و معنی کی متحمل نہ بھی ہو پھر بھی اس قسم کے القاب و اسماء کا استعمال ممنوع ہے۔ ٭اس بات کو بھی خوب سمجھ لینا چاہیئے کہ اس نوعیت کی تمام شدتیں صرف اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت ہی کی وجہ سے اختیار کی گئی ہیں۔
     
  2. ‏مئی 09، 2013 #52
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اللہ تعالی کے اسماء و صفات کی تعظیم کی جائے۔
    باب:احترام اسماء اﷲ تعالیٰ

    اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کی تعظیم کی جائے اور اسی بنیاد پر مشرکانہ ناموں کو بدل ڈالنا ضروری ہے۔
    عن ابی شریح رضی اللہ عنہ اَنَّہٗ کَانَ یُکَنّٰی اَبَا الْحَکَمِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اﷲَ ھُوَ الْحَکَمُ وَ اِلَیْہِ الْحُکْمُ فَقَالَ اِنَّ قَوْمِیْ اِذَا اخْتَلَفُوْا فِیْ شَیئٍ اَتَوْنِیْ فَحَکَمْتُ بَیْنَھُمْ فَرَضِیَ کِلَا الْفَرِیْقَیْنِ فَقَالَ مَا اَحْسَنَ ھٰذَا
    دنیا اور آخرت میں صرف اللہ تعالیٰ ہی حاکم ہے۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرما کر فیصلہ کرتا ہے جو اس نے اپنے تمام انبیاء و رُسل پر نازل فرمائی۔ ان فیصلوں کو سمجھنا اُمت محمدیہ کے اہل علم اور اصحابِ بصیرت پر اللہ تعالیٰ نے آسان فرمایا کیونکہ بحیثیت مجموع اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہی پر متفق نہیں ہو سکتی۔ بعض مسائل میں اگرچہ علمائے اُمت نے مختلف رجحانات رکھتے ہیں لیکن ان میں کسی ایک کا حق پر ہونا لازمی اور ضروری ہے، لہٰذا جس خوش نصیب کو اللہ تعالیٰ نے قوت فہم اور صحیح بات کو سمجھنے اور پرکھنے کا ملکہ عطا فرمایا ہے اُس کے لئے حق بات کو پالینا کوئی مشکل کام نہیں۔ اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان اور اُس کی خاص توفیق سے ہی ممکن ہے اور یہ اللہ کریم کا خاص عطیہ اور اس کا فضل ہے۔ہم سب اللہ کریم سے اس عظیم عطیہ اور فضل کی بھیک مانگتے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ ہی کا فیصلہ ہو گا، جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا کہ:
    لہٰذا متنازعہ فیہ مسائل میں اللہ تعالیٰ ہی کو حکم ماننا چاہیئے۔ اس کی واحد صورت یہ ہے کہ کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جائے۔ اور یا پھر اپنے جھگڑے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنا چاہیئے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر فیصلہ کروایا جائے۔ جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیا کرتے تھے۔ اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرموجودگی میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی سنت اور احادیث کو مشعل راہ بنایا جائے اور اس کے مطابق اپنے اختلافات کو ختم کیا جائے۔
    آجکل احکامِ کتاب و سنت سے ناواقف لوگ جس افراط و تفریط میں گھرے ہوئے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ کتاب و سنت سے عدم واقفیت ہے وہ کتاب و سنت سے جاہل ہونے کے باوجود اجتہاد سے کام لیتے ہیں۔ افسوس صد افسوس۔ قیامت کے دن جب اللہ کریم اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے نزولِ اجلال فرمائے گا تو وہاں کسی کو دم مارنے کی جرات نہ ہو گی۔ وہاں صرف اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرے گا
    چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کے مطابق فیصلہ فرمائے گا۔ کیونکہ وہ اپنے بندوں کے ہر قسم کی اعمال سے آگاہ اور باخبر ہے وہاں انصاف ہی انصاف ہو گا۔ اللہ کریم فرماتا ہے:
    قیامت کے دن فیصلہ بھلائی اور برائی کے درمیان ہو گا۔ ظالم کے ظلم کے مطابق اُس کی نیکیاں لے کر مظلوم کے حوالے کر دی جائیں گی اور اگر ظالم کے اعمال میں نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کی برائیاں اٹھا کر ظالم پر ڈال دی جائیں گی اور اس فیصلہ میں فریقین پر ذرہ برابر زیادتی نہ ہو گی بلکہ عدل و انصاف سے فیصلہ ہو گا۔
    ابوشریح رضی اللہ عنہ کی قوم نے جب دیکھا کہ ابوشریح عدل و انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں اور فریقین ان سے خوش ہوتے ہیں تو وہ اپنے اس وصف کی وجہ سے ہر شخص کے منظورِ نظر بن گئے۔ اسی کو صلح کہتے ہیں کیونکہ صلح کا دارومدار ہی رضا پر ہے نہ کہ دوسرے پر بوجھ ڈالنے اور یہود و نصاریٰ کی طرح کہانت پر اعتماد و انحصار کرنے پر۔
    صلح کا دارومدار اس پر بھی نہیں کہ اہل جاہلیت کی طرح بڑوں کے اقوال کو مستند سمجھ لیا جائے۔ چنانچہ وہ کتاب و سنت کے خلاف اپنے اکابر اور اسلاف سے فیصلہ کراتے تھے جیسے آجکل اہل طاغوت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پس پشت ڈال کر اپنی خواہشات اور مرضی کے مطابق فیصلے کرتے ہیں آجکل اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثریت اسی مرض میں مبتلا ہے۔
    بعض مقلدین کا بھی یہی حال ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے جس کی تقلید کرتے ہیں اس کے قول پر اعتماد کرتے ہیں اور صحیح مسلک یعنی کتاب و سنت کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ اناﷲِ و انا الیہ راجعون۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنی کنیت رکھنا چاہے تو بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے بڑے لڑکے کے نام سے کنیت رکھے۔ اس مسئلہ کی تائید میں محدثین کرام نے احادیث بھی نقل فرمائی ہیں

    فیہ مسائل
    ٭ اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کی عزت و تکریم کرنی چاہیئے اگرچہ استعمال کرتے وقت اس کا معنی مقصود نہ ہو
    ٭ رب کریم کے اسماء و صفات کی عزت و تکریم کی وجہ سے نام تبدیل کرلینا۔ ٭ اپنی کنیت رکھتے وقت بڑے بیٹے کے نام کو اختیار کرنا۔
     
  3. ‏مئی 09، 2013 #53
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    باب: قرآن مجید، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی ایسی چیز کا مذاق اڑانا … کیسا ہے؟
    باب:من ھزل بشی فیہ ذکر اﷲ او القرآن او الرسول

    اس باب میں یہ بیان کیا جائے گا کہ قرآن کریم، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی ایسی چیز کا مذاق اُڑانا جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے ایک کافرانہ فعل ہے۔
    قولہ تعالی وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ قُلْ اَبِاﷲِ وَ اٰیٰتِہٖ وَ رَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِءُ وْنَ (التوبہ:۶۵)
    حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ
    ابن اسحق کا بیان ہے کہ جنگ تبوک کے سفر کے دوران منافقین میں سے بنی اُمیہ سے ودیعہ بن ثابت، اور قبیلہ اشجع سے مخشی بن حمیر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف اشارہ کر کے ایک دوسرے سے کہنے لگے: ’’ان لوگوں نے بنو اصفر کے بہادروں کو جن کے ساتھ جنگ کے لئے ہم جا رہے ہیں یوں سمجھ لیا ہے جیسے کہ عرب آپس میں جنگ کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہم تمہارے ساتھ کل رسیوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ جملہ ان منافقین نے مومنین کو ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کے لئے کہا تھا۔ مخشی بن حمیر بولا: ہم میں سے ہر شخص ایک ایک سو کوڑے کی سزا کا مستحق ہے کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ ہماری اس ناروا بات پر قرآن نازل ہو چکا ہو گا۔ اُدھر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جاؤ، ان منافقین نے بیہودہ باتیں کر کے اپنے آپ کو تباہ کر لیا ہے۔ ان سے پوچھو کہ تم نے اس قسم کی باتیں کی ہیں؟ اگر وہ انکار کریں تو ان سے کہہ دینا کہ تم نے یہ الفاظ کہے ہیں۔
    سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے جا کر ان منافقین سے جب یہ پوچھا تو وہ فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر معذرت کرنے لگے۔ اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر کھڑے تھے۔ ودیعہ بن ثابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی پیٹی پکڑ کر کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ہم تو آپس میں ہنسی مذاق کر رہے تھے‘‘۔ مخشی بن حمیر بولا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور میرے باپ کے نام نے مجھے تباہ و برباد کر دیا ہے۔ یہ سچے دل سے تائب ہو گئے تھے جس کی وجہ سے ان کا نام عبدالرحمن رکھا گیا۔ اس عبدالرحمن نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ مجھے شہادت نصیب ہو اور ایسی جگہ پر شہادت ہو کہ میری جگہ کا بھی کسی کو پتہ نہ چلے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء کو شرفِ قبولیت بخشا اور یہ فرزند اسلام جنگ یمامہ میں شہید ہوا اور اسکی لاش کا بھی پتا نہ چل سکا کہ کہاں ہے

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
    جیسے ایک جگہ فرمایا ہے:
    ان آیات میں اس شخص کے ایمان کی نفی کی گئی ہے جو اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایمان داروں کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ ان کے درمیان متنازعہ فیہ مسائل میں فیصلہ کر دیں تو یہ پوری دلجمعی سے سنتے اور اطاعت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ اطاعت اور فرمانبرداری ایمان کا جزوِ لاینفک ہے‘‘۔
    زیرنظر واقعہ میں اس بات کو پوری طرح واضح کیا گیا ہے کہ بعض اوقات انسان کو کسی جملے یا عمل کی وجہ سے کافر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں دِل کے ارادے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ دل کی مثال اُس سمندر کی سی ہے جس کا ساحل نہ ہو۔ نفاقِ اکبر سے خوف بھی پیدا ہوتا ہے۔

    فیہ مسائل
    ٭ سب سے اہم اور بڑا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ جو شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے مذاق کرے وہ کافر ہے۔ ٭جو بھی اس قسم کے گھناؤنے فعل کا مرتکب ہو گا تو اِسی آیت کی روشنی میں اُس پر حکم لگایا جائے گا۔ ٭ چغلی اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نصیحت کرنے میں فرق۔ ٭وہ عفو جسے اللہ کریم پسند کرتا ہے، اس میں اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے پیش آنے میں فرق۔ ٭ بعض ایسے بھی عذر ہیں جن کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
     
  4. ‏مئی 09، 2013 #54
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    انسان جب رحمت کا مزہ چکھتا ہے تو کہتا ہے کہ میں اسی کا مستحق ہوں …
    باب:قال اﷲ تعالٰی وَلَئِنْ اَذَقْنٰہُ رَحْمَۃً مِنْ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ ھٰذَا لِیْ وَ مَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمۃً وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰی رَبِّیْ اِنَّ لِیْ عِنْدَہٗ لَلْحُسْنٰی فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ (فصلت:۵۰)

    اس آیت کریمہ کے مفہوم کو واضح کرنے کے لئے شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے کتاب التوحید میں مفسرین کی عبارت کو نقل فرمایا ہے جیسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ یہ عبارتیں اتنی واضح ہیں کہ ان کو پڑھ کر انسان کی بالکل تشفی ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ہم ان عبارتوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
    قال مجاھد رحمہ اللہ ھٰذَا بِعَمَلِیْ وَ اَنَا مَحْقُوْقٌ بِہٖ و قال ابن عباسرضی اللہ عنہ یُرِیْدُ مِنْ عِنْدِیْ وقولہ قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ
    دوسرے علمائے کرام نے یہ فرمایا ہے کہ
    مجاہد رحمہ اللہ نے جو معنی بیان کئے تھے وہ دوسرے علما کے مفہوم کے خلاف نہیں۔ جس قدر مفہوم بیان کئے گئے ہیں ان میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا بلکہ ایک ہی معنی واضح ہوتے ہیں۔
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ
    پیش نظر حدیث بہت اہم ہے۔ اس میں بیشمار عبرتیں اور نصیحتیں مضمر ہیں غور فرمائیے کہ پہلے دو آدمیوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا اور نہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا اور نہ حقوق اللہ ادا کئے نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کا شکار ہو گئے۔ البتہ نابینا شخص نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا۔ حقوق اللہ کی ادائیگی کا فریضہ انجام دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ کیونکہ اُس نے شکر کے ان تینوں ارکان پر عمل کیا جن کے علاوہ شکر کا وجود ہی ممکن نہیں۔ شکر کے تین ارکان یہ ہیں: ۱۔اقرارِ نعمت۔ ۲۔ انعامات کو منعم حقیقی کی طرف منسوب کرنا۔ ۳۔ انعام کرنے والے کی رضا کے مطابق انعامات کو خرچ کرنا۔
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
     
  5. ‏مئی 09، 2013 #55
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بندوں کے نام اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب نہیں ہونے چاہئیں …
    باب :قال اﷲ تعالیٰ فَلَمَّآ اٰتٰھُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہُ شُرَکَآءَ فِیْمَا اٰتٰھُمَا فَتَعٰلَی اﷲُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ

    اس باب میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ نام اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ یہ شرک فی الالوہیت اور شرک فی العبدیت ہے۔ عبدیت کی نسبت صرف اللہ کی طرف ہونی چاہیئے اور سب لوگ اللہ تعالیٰ ہی کے بندے ہیں۔
    قال اﷲ تعالیٰ فَلَمَّآ اٰتٰھُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہُ شُرَکَآءَ فِیْمَا اٰتٰھُمَا فَتَعٰلَی اﷲُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (سورئہ اعراف:۱۹۰)
    علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سورئہ اعراف کی مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے کہا:
    علامہ ابن جریر رحمہ اللہ نے حسن بصری رحمہ اللہ کے دو اقوال نقل کئے ہیں:
    ۱۔ یہ واقعہ سابقہ اُمتوں میں سے ایک شخص کا ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔
    ۲۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ یہود و نصاریٰ کی یہ خصلت تھی کہ جب ان کے ہاں اولاد پیدا ہوتی تو وہ اپنی اولاد کو یہودی اور عیسائی بنا لیتے تھے۔
    یہ اور اس قسم کے تمام اقوال اہل کتاب سے اخذ کئے گئے ہیں، جن کا اپنا دین ہی محفوظ نہیں رہا۔
    علامہ ابن حزم رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب: ’’الملل والنحل‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ:
    ’’جن لوگوں نے اس واقعہ کو سیدنا آدم اور حوا علیہما السلام کی طرف منسوب کیا ہے کہ اُنہوں نے اپنے بیٹے کا نام عبدالحارث رکھا تھا، ان لوگوں میں نہ تو دین کی سوجھ بوجھ ہے اور نہ شرم و حیاء کا جوہر کیونکہ ان کی تمام روایات خرافات کا پلندہ، موضوع، اور کذب و افتراء کا مجموعہ ہیں۔ اور ان کی سند قطعاًصحیح نہیں ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی تھی‘‘۔
    شارح کتاب الشیخ عبداللہ بن حسن آل شیخ فرماتے ہیں:
    نیز قرآن کریم کا ظاہری سیاق بھی اسی پر دلالت کناں ہے۔ (واللہ اعلم)۔
    علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے علمائے کرام کا اس پر اتفاق نقل کیا ہے کہ غیر اللہ کی طرف کسی کی عبدیت منسوب کرنا حرام ہے۔ کیونکہ یہ اُس کی اُلوہیت، اور ربوبیت میں شرک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی ملک ہے اور اس کی غلام اور تابع ہے۔ اور اس نے خاص اپنی ہی عبادت اور توحید ربوبیت اور اُلوہیت کے لئے ان کو اپنے بندے کہا ہے۔
    پس ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کو ربوبیت اور اُلوہیت میں واحد و یکتا جانا۔ اور بعض ایسے افراد بھی ہوئے جنہوں نے اُلوہیت میں شرک کا ارتکاب کیا اور توحید ربوبیت اور توحید اسماء و صفات کا اقرار کیا۔ ایسے افراد پر وہ احکام الٰہیہ جن کا تعلق قضاء و قدر سے ہے، جاری رہے۔ اللہ تعالیٰ ان ہی کے بارے میں فرماتا ہے:
    اسی کو عبودیت عامہ کہتے ہیں۔ تو
     
  6. ‏مئی 09، 2013 #56
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اسماء الحسنیٰ کی وساطت سے اللہ سے دعا کرنا۔
    باب :قال اﷲ تعالیٰ وَ لِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَاص وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآئِہٖ (سورئہ اعراف:۱۸۰)

    اس باب میں اس حقیقت کو نکھار کر بیان کیا گیا ہے کہ اسمائے حسنی اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں، ان ہی کی وساطت سے اس کے سامنے دست دعا دراز کرو اور جو لوگ اُس کے ناموں میں شرک و الحاد سے کام لیتے ہیں ان کو نظر انداز کر دو۔
    وَ ِﷲِ الْاَسْمَاء الْحُسنٰی فَادْعُوہ بِھَا وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یلحدون فی اَسْمَائِہ (سورئہ اعراف:۱۸۰)
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام
    ھُوَ اﷲُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ
    الرّحْمٰنُ
    الرَّحِیْمُ
    الْمَلِکُ
    الْقُدُّوْس

    بڑا مہربان
    نہایت رحم والا
    بادشاہ
    پاک و بے عیب​
    السَّلَامُ
    الْمُؤْمِنُ
    الْمُھَیْمِنُ
    الْعَزِیْزُ

    سلامتی دینے والا
    امن میں رکھنے والا
    محافظ
    باعزت​
    الْجَبَّارُ
    الْمُتَکَبِّرُ
    الْخَالِقُ
    الْبَارِءُ

    زبردست
    بڑائی والا
    پیدا کرنے والا
    عالم کا بنانیوالا​
    الْمُصَوِّرُ
    الْغَفَّارُ
    الْقَھَّارُ
    الْوَھَّابُ

    صورت بنانے والا
    بخشنے والا
    سب پر غالب
    بکثرت دینے والا​
    الرَّزَاقُ
    الْسَّتَّارُ
    الْفَتَّاحُ
    الْعَلِیْمُ

    روزی دینے والا
    عیب ڈھانکے والا
    کھولنے والا
    ہر چیز جاننے والا​
    الْقَابِضُ
    الْبَاسِطُ
    الْخَافِضُ
    الرَّافِعُ

    بند کرنے والا
    کشادہ کرنے والا
    پست کرنے والا
    بلند کرنے والا​
    الْمُعِزُّ
    الْمُذِلُّ
    السَّمِیْعُ
    الْبَصِیْرُ

    عزت دینے والا
    ذلیل کرنے والا
    سننے والا
    دیکھنے والا​
    الْحَکَمُ
    الْعَدْلُ
    اللَّطِیْفُ
    الْخَبِیْرُ

    فیصلہ کرنے والا
    انصاف کرنے والا
    باریک بین
    ہر چیز سے باخبر​
    الْحَلِیْمُ
    الْعَظِیْمُ
    الْغَفُوْرُ
    الشَّکُوْرُ

    بردبار
    بزرگ
    بخشنے والا
    قدردان​
    الْعَلِیُّ
    الْکَبِیْرُ
    الْحَفِیْظُ
    الْمُقِیْتُ

    سب سے بلند
    سب سے بڑا
    محافظ و نگہبان
    محافظ​
    الْحَسِیْبُ
    الْجَلِیْلُ
    الْکَرِیْمُ
    الرَّقِیْبُ

    حساب لینے والا
    بڑی شان والا
    کرم والا
    ہر شے کا نگہبان​
    الْمُجِیْبُ
    الْوَاسِعُ
    الْحَکِیْمُ
    الْوَدُوْدُ

    دعا قبول کرنیوالا
    کشادہ رحمت والا
    حاکم با حکمت
    محبت کرنے والا​
    الْمَجِیْدُ
    الْبَاعِثُ
    الشَّھِیْدُ
    الْحَقُّ

    بزرگی والا
    اٹھانے والا
    حاضر
    سچا​
    الْوَکِیْلُ
    الْقَوِیُّ
    الْمَتِیْنُ
    الْوَلِیُّ

    کارساز
    زبردست
    قوت والا
    مددگار​
    الْحَمِیْدُ
    الْمُحْصِیُ
    الْمُبْدِءُ
    الْمُعِیْدُ

    قابل تعریف
    ہر چیز گھیرنے والا
    ایجاد کرنے والا
    دوبارہ زندہ کرنیوالا​
    الْمُحْیِیْ
    الْمُمِیْتُ
    الْحَیُّ
    الْقَیُّوْمُ

    زندہ کرنے والا
    مارنے والا
    ہمیشہ زندہ رہنے والا
    نگرانی کرنے والا​
    الْوَاجِدُ
    الْمَاجِدُ
    الْوَاحِدُ
    الصَّمَدُ

    غنی
    بزرگی والا
    اکیلا
    بے نیاز​
    الْقَادِرُ
    الْمُقْتَدِرُ
    الْمُقَدِّمُ
    الْمُؤَخِّرُ

    قدرت والا
    اقتدار والا
    آگے کرنے والا
    پیچھے کرنے والا​
    الْاَوَّلُ
    الْاٰخِرُ
    الظَّاھِرُ
    الْبَاطِنُ

    سب سے پہلا
    سب سے بعد والا
    حاضر
    پوشیدہ​
    الْوالِیُ
    الْمُتَعَالِیُّ
    الْبَرُّ
    التَّوَّابُ

    مالک
    بلند شان
    بندوں پر مہربان
    توبہ قبول کرنے والا​
    الْمُنْتَقِمُ
    الْعَفُوُّ
    الرَّئُ وْفُ
    مَالِکُ الْمُلْکِ

    سزا دینے والا
    معاف کرنے والا
    نہایت مہربان
    جہانوں کا مالک​
    ذُوْالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ
    الْمُقْسِطُ
    الْجَامِعُ

    جلال و تکریم والا
    عادل
    جمع کرنے والا​
    الْغَنِیُّ
    الْمُغْنِیُّ
    الْمَانِعُ
    الضَّارُّ

    سب سے بے نیاز
    بے پرواہ کرنیوالا
    روکنے والا
    ضرر پہنچانے والا​
    النَّافِعُ
    النُّوْرُ
    الْھَادِیُ
    الْبَدِیْعُ

    نفع دینے والا
    روشنی دینے والا
    راہ بتانے والا
    ایجاد کرنے والا​
    الْبَاقِیُّ
    الْوَارِثُ
    الرَّشِیْدُ
    الصَّبُوْرُ

    ہمیشہ باقی رہنے والا
    فنائے عالم کے بعد باقی رہنے والا
    راہ نما​
    صبر کرنے والا​

    یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ اسمائے حسنیٰ صرف ننانوے کے عدد میں منحصر نہیں ہیں، کیونکہ مسند امام احمد میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    و ذکر ابی حاتم عن ابن عباس رضی اللہ عنہ یُلْحِدُوْنَ فِیْ اَسْمَآئِہٖ یُشْرِکُوْنَ وَ عَنْہُ سَمُّوْا اللَّاتَ مِنَ الْاِلٰہِ وَ الْعُزّٰی مِنَ الْعَزِیْزِ و عن الاعمش رحمہ اللہ یُدْخِلُوْنَ فِیْھَا مَا لَیْسَ مِنْھَا
    ابن ابی حاتم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک قول نقل کیا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک قول یہ بھی ہے کہ
    الحاد کے متعلق اعمش رحمہ اللہ کا قول یہ ہے کہ
    علی بن ابی طلحہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے الحاد کا ترجمہ تکذیب بھی نقل کیا ہے۔ کلام عرب میں الحاد اپنے مقصد سے انحراف، کجی اور ظلم پر بولا جاتا ہے۔ چنانچہ قبر میں لحد کو بھی اسی لئے لحد کہتے ہیں کہ وہ ایک جانب ہوتی ہے اور اس کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا ہے۔ کیونکہ لحد اس گڑھے کو نہیں کہتے جو میت کے لئے کھودا جاتا ہے۔
    الحاد کے متعلق علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اللہ کریم کے نام اور اُس کی تمام صفات ایسی ہیں جن سے انسان اللہ کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ ایسے نام ہیں جو اس کی جلالت، عظمت اور کبریائی پر دلالت کرتے ہیں۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں کہ:
    صاحب فتح المجید علامہ الشیخ عبدالرحمن بن حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    کیونکہ صفات میں گفتگو ذات کی گفتگو کی فرع ہے۔ لہٰذا دونوں میں سے کسی پر کلام کرنا دونوں پر کلام کرنے کے برابر سمجھا جائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی ذاتِ حقیقی کا علم مخلوق سے کسی قسم کی تشبیہ و تمثیل دیئے بغیر ماننا ضروری ہے۔ اسی طرح اس کی حقیقی صفات کو مخلوق سے بلا تمثیل و تشبیہ جاننا ضروری ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کی اپنی ذات کے لئے بیان کردہ صفات، یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کی گئی صفات کا انکار کرے، یا ان کی غلط تاویل کرے وہ فرقہ جہمیہ سے ہو گا، کیونکہ انہوں نے مومنین کا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے کو اپنا لیا ہے۔ ایسے ہی افراد کے بارے میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فائدہ جلیلہ کے عنوان کے تحت رقمطراز ہیں کہ : جو صفت یا خبر اللہ کریم کی ذات کے لئے بیان ہو، اس کی چند اقسام ہیں:
    ۱۔ جو براہِ راست اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق ہیں، جیسے موجود، اور ذات وغیرہ۔
    ۲۔ جو اللہ تعالیٰ کی صفت قرار پاتی ہیں جیسے علیم ، قدیر، سمیع، اور بصیر وغیرہ۔
    ۳۔ جو اللہ تعالیٰ کے افعال سے متعلق ہیں، جیسے خالق، رازق وغیرہ۔
    ۴۔ جو تنزیہ محض ہو وہ اس طرح کہ اسکے اندر کمال کا اثبات ہو نہ یہ کہ صرف نقائص کا انکار ہو جیسے القدوس السلام۔
    ۵۔ پانچویں صفت وہ ہے جس کا اکثر لوگوں نے ذکر نہیں کیا۔ یہ وہ اسم ہے جو بیشمار اوصاف پر دلالت کرتا ہے کسی خاص اور معین صفت کی وضاحت مقصود نہیں ہوتی بلکہ اس سے مختلف معانی نکالے جا سکتے ہیں جیسے مجیدؔ، عظیم، صمد۔

    مجیدؔ ایسی ذات کو کہا جاتا ہے جس میں بہت سی کامل صفتیں پائی جائیں۔ یہ لفظ وُسعت اور کثرت کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ہے کہ: (ترجمہ) ’’عرش مجید والا‘‘۔ مجیدؔ: اللہ تعالیٰ کے عرش کی صفت ہے چونکہ اس میں وُسعت، عظمت، اور شرف ہے لہٰذا اسی بنا پر اس کو عرش مجید کہا گیا ہے۔ غور فرمائیے کہ درودِ شریف میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے جب ہم اللہ کی بارگاہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر صلوۃ و سلام کا سوال کریں تو اس وقت یہی مجیدؔکا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ صلوۃ و سلام میں کثرت، وسعت اور دوام مطلوب و مقصود ہوتا ہے۔ لہٰذا یہاں یہی لفظ موزوں اور مناسب تھا۔ جیسا کہ دعا میں کہا جاتا ہے:
    اس دُعائیہ جملہ میں اللہ کریم کے اسماء و صفات کے ذریعہ سے کام لیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات سے وسیلہ حاصل کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب اور پسندیدہ ہے۔ ترمذی میں ایک حدیث ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
    ایک دوسری حدیث میں دعائیہ جملے یوں ارشاد فرمائے گئے ہیں:
    اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے اس کی حمدوں کے وسیلہ سے سوال کیا گیا ہے۔ اور جملہ ’’لا الٰہ الا انت المنان‘‘ میں اسماء اور صفات دونوں کو وسیلہ بنایا گیا ہے۔ قبولیت دعا کا یہ سنہری موقع ہے یہی وہ باب ہے جس کو توحید کے سلسلے میں اہم مقام حاصل ہے۔
    ۶۔ چھٹی صفت وہ ہے جو دو ناموں یا دو وصفوں کے جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہے کہ ان دونوں ناموں یا وصفوں کو الگ الگ کر کے پڑھا جائے تو یہ تیسری صفت پیدا نہ ہو گی۔ جیسے الغنی الحمید، الغفور القدیر، الحمید المجید وغیرہ۔
    اسی پر دوسرے ناموں اور صفتوں کو قیاس کیا جا سکتا ہے جو قرآن کریم میں بار بار استعمال ہوئی ہیں۔ الغنی، اور الحمید الگ الگ کامل صفتیں ہیں۔ جب ان دونوں کو جمع کریں گے تو تیسری صفت پیدا ہو گی۔ جس نے اللہ کو غنی سمجھا اور اس کی حمد بیان کی وہ بھی ثناء کے قابل ہے۔ یہ ثنا دونوں کے اجتماع سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی پر الغفور القدیر، الحمید المجید وغیرہ کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ معرفت کا یہ بہت اونچا اور بلند مقام ہے۔

    فیہ مسائل
    ٭ اللہ کریم کے اسماء کو ثابت کرنا۔ ٭ اللہ تعالیٰ کے تمام ناموں کا پاکیزہ ہونا۔ ٭ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے ساتھ دعا مانگنے کا حکم۔ ٭ وہ ملحدین جو اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں معارضہ کرتے ہیں، اُن سے قطع تعلق کرنا۔ ٭ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں کس قسم کا الحاد ہوتا ہے؟ اس کی وضاحت۔ ٭ جو شخص الحاد جیسے قبیح فعل کا مرتکب ہو، اس کے بارے میں وعید اور ڈانٹ۔
     
  7. ‏مئی 09، 2013 #57
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اللہ پر سلام ہو جیسے الفاظ زبان سے نکالنا درست نہیں۔
    باب :لا یقالُ السلام علی اﷲ

    اس باب میں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ ’’اللہ پر سلام ہو‘‘ کے الفاظ زبان سے نکالنا درست نہیں ہے۔ یہ الفاظ ذاتِ الٰہی کو زیبا نہیں۔
    و فی الصحیح عن ابن مسعودرضی اللہ عنہ قال اِذَا کُنَّا مَعَ النَّبِیّ صلی اللہ علیہ وسلم فِی الصَّلٰوۃِ قُلْنَا اَلسَّلَامُ عَلَی اﷲِ مِنْ عِبَادِہٖ اَلسَّلَامُ عَلٰی فُلَانٍ وَّ فُلَانٍ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تَقُوْلُوْا اَلسَّلَامُ عَلَی اﷲِ فَاِنَّ اﷲَ ھُوَ السَّلَامُ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارکہ تھی کہ جب فرض نماز ختم کرتے تو تین بار استغفار پڑھتے اور یہ دعا بھی پڑھتے:
    ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ
    قرآن کریم میں اس کی بھی تصریح موجود ہے کہ ربِّ کریم اہل جنت کو سلامتی کا پیغام دے گا۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نقص اور تمثیل سے پاک اور بے نیاز ہے وہ ایسا ربِّ کریم ہے جس میں کمال کی تمام صفات موجود ہیں اور ہر عیب اور نقص سے منزہ و مبرہ ہے۔

    فیہ مسائل
    ٭ لفظ السلام کی تفسیر۔ ٭ یہی لفظ اہل جنت کا سلام ہونا۔ ٭ یہ لفظ ذاتِ باری تعالیٰ کے لئے درست نہیں۔ ٭اس لفظ کے نہ کہنے کی وجہ۔ ٭ اُس تحیہ کی تعلیم جو اللہ تعالیٰ کے لئے زیبا ہے۔
     
  8. ‏مئی 10، 2013 #58
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    یوں کبھی دُعا نہ مانگو کہ ’’اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما‘‘ …
    باب:اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ اِنْ شِئْتَ

    اس باب میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ انسان کو دعا کرتے وقت پورے عزم اور وثوق سے اپنی حاجات رب ذوالجلال کے سامنے پیش کرنی چاہئیں، شک اور تذبذب کی کیفیت ہرگز اپنے اُوپر طاری نہ ہونے دے۔
    فی الصحیح عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَا یَقُلْ اَحَدُکُمْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ اِنْ شِئْتَ اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِیْ اِنْ شِئْتَ لِیَعْزِمِ الْمَسْاَلَۃَ فَاِنَّ اﷲَ لَا مُکْرِہَ لَہٗ وَ لِمُسْلمٍ وَ لْیَعْزِمِ الرَّغْبَۃَ فَاِنَّ اﷲَ لَا یَتَعَاظَمُہٗ شیْیئٌ اَعْطَاہُ
    انسان کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے کہیں مختلف ہے، کیونکہ بعض اوقات کوئی شخص سائل کا سوال اس لئے پورا کر دیتا ہے کہ اس کی اپنی ضرورت پوری ہونے کی توقع ہوتی ہے۔ یا سائل سے ڈر کر اس کا سوال پورا کرتا ہے حالانکہ اس کا دل مطمئن نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود دوسرے کی حاجت پوری کر دیتا ہے۔ مخلوق الٰہی سے سوال کرنے والے کو چاہیئے کہ وہ اپنی ضرورت کو مسئول کے ارادے اور اس کی خواہش پر چھوڑ دے اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ شائد وہ مجبور ہو کر میرا سوال پورا کرے۔ ہاں خالق کائنات اور رب العالمین سے سوال کرتے وقت ایسا انداز اختیار نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لائق نہیں ہے اور تمام مخلوق سے مستغنی اور بے نیاز ہے اُس کی سخاوت اور اُس کا کرم کامل ترین ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے لمحہ برابر بھی بے نیاز اور مستغنی نہیں ہو سکتا، وہ جب دینے آتا ہے تو صرف کلام ہی کرتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے: ’’رب کریم کے ہاتھ خزانوں سے پُر ہیں۔ وہ دن بھی خرچ کرتا رہے تو ان میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ اللہ کے لئے غور تو کرو کہ اُس نے زمین و آسمان کی تخلیق سے لے کر آج تک کس قدر انعام و اکرام کئے ہیں؟ جو اس کے ہاتھوں میں ہے اس میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئی۔ اللہ کریم کے دوسرے ہاتھ میں انصاف ہے، اس کے ذریعہ سے کسی کو بلند کرتا ہے اور کسی کو گراتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کسی پر انعام و اکرام کی بارش کرتا ہے تو اپنی حکمت سے، اور اگر کسی کو محروم رکھتا ہے تو اس میں بھی اُس کی حکمت کے راز پوشیدہ ہیں۔ وہ حکیم بھی ہے اور خبیر بھی۔ پس سائل کو چاہیئے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے وقت پورے وثوق اور عزم سے مانگے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مجبور ہو کر نہیں دیتا اور نہ سوال کی بنا پر دیتا ہے۔


    فیہ مسائل
    ٭ دعا میں ’’اگر تو چاہے‘‘ نہ کہنا چاہیئے۔ ٭ اس کے سبب کا بیان۔ ٭ سوال پورے وثوق سے کرنا چاہیئے ٭رغبت زیادہ ہونی چاہیئے۔ ٭ کثرتِ رغبت کے اسباب۔
     
  9. ‏مئی 10، 2013 #59
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    کوئی شخص اپنے غلام کو ’’میرا بندہ‘‘، میری ’’لونڈی‘‘ نہ کہے۔
    باب:لَا یَقُوْلُ عَبْدِیْ وَ اُمَتِیْ

    اس باب میں اس مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے کہ کوئی شخص اپنے غلام کو ’’میرا بندہ، میری لونڈی‘‘ نہ کہے۔
    فی الصحیح عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَا یَقُلْ اَحَدُکُمْ اَطْعِمْ رَبَّکَ وَ ضِّئْ رَبَّکَ وَ لْیَقُلْ سَیِّدِیْ وَ مَوْلَایَ وَ لَا یَقُلْ اَحَدُکُمْ عَبْدِیْ وَ امَتِیْ وَ لْیَقُلْ فَتَایَ وَ فَتَاتِیْ وَ غُلَامِیْ
    زیر نظر حدیث میں جن الفاظ کے استعمال سے روکا گیا ہے اگرچہ وہ لغوی اعتبار سے مستعمل ہوتے ہیں پھر بھی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید میں پختگی پیدا کرنے اور شرک کے سدباب کے لئے ان کو استعمال کرنے سے روک دیا ہے کیونکہ ان کے استعمال سے اللہ تعالیٰ کی ذاتِ گرامی کے ساتھ لفظاً مشابہت پائی جاتی ہے اس سے روکنے کی وجہ محض یہ ہے کہ رب کریم ہی اپنے تمام بندوں کا رب ہے اور یہ لفظ جب کسی دوسرے کے لئے بولا جائے گا تو اس میں اسمی مشارکت اور مشابہت پائی جائے گی اس معمولی مشابہت کو بھی ختم کرنے کے لئے ان الفاظ کو استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ الفاظ استعمال کرتے وقت متکلم کا مقصد شرک فی الربوبیت نہیں ہوتا جو خالص اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ متکلم کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ یہ فلاں شخص کی ملکیت ہے اسی مقصد کو سامنے رکھ کر یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔
    پس خالق اور مخلوق کے درمیان شرکت کے معمولی سے شائبہ کو بھی ختم کرنے کے لئے اور توحید کی کامل حفاظت اور شرک کے موذی مرض سے دُور رہنے کے لئے اگرچہ لفظاً ہی کیوں نہ ہو، ان الفاظ کو استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے شریعت اسلامیہ کا مدعائے احس یہ ہے کہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اُس کی بزرگی کا اظہار ہوتا ہے اور مخلوق سے مشابہت کا پہلو دُور ہو جاتاہے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کے قائم مقام الفاظ بھی فرما دیئے ہیں جیسے سیدی و مولای وغیرہ۔ اسی طرح ’’عَبَدِیْ اور اَمَتِیْ‘‘ وغیرہ کے الفاظ سے بھی روک دیا ہے کیونکہ تمام مرد عورتیں اللہ کے غلام ہیں۔ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
    ان دونوں جملوں کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنے سے شرکت لفظی پائی جاتی ہے لہٰذا اللہ کریم کی عظمت و جلالت، اس کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور شرک سے بعد و اجتناب کی خاطر اور توحید میں پختگی کے پیش نظر ان الفاظ کو استعمال کرنے سے منع فرما دیا گیا ہے۔ اور فرمایا کہ: ان الفاظ کی بجائے: فَتَایَ فَتَاتِیْ اور غُلَامِیْ جیسے الفاظ استعمال کر لیا کرو۔ یہ سب کچھ اس لئے بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کے اہم مضمون کو انتہائی مضبوط اور مستحکم دلائل سے واضح فرمایا ہے۔ پس رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر وہ بات صاف الفاظ میں بیان فرمائی جس میں اُمت کی خیرخواہی اور بھلائی مضمر تھی اور ہر اُس عمل سے منع فرمایا جس سے ایک مسلمان کے دین میں نقص پڑ جانے کا خطرہ ہے۔ پس ہر بھلائی کی طرف راہنمائی فرمائی خصوصاً توحید کی طرف نیز ہر شر سے آگاہ فرمایا خصوصاً اس سے جو لفظی طور سے شرک کے قریب لے جائے۔ اگرچہ اس کا دِلی مقصد شرک کرنا نہ بھی ہو۔

    فیہ مسائل
    ٭سب سے اہم بات جو اس باب میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ توحید میں پختگی اور نکھار انتہائی لازمی ہے اگرچہ اس کا تعلق صرف الفاظ سے ہی ہو۔
     
  10. ‏مئی 10، 2013 #60
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جو شخص اللہ کا نام لے کر سوال کرے اُس کو خالی ہاتھ واپس نہ لوٹایا جائے۔
    باب:لا یرد من سال باﷲ

    اس باب میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا نام لے کر سوال کرتا ہے۔ اس کو خالی ہاتھ واپس نہ لوٹایا جائے
    عن ابن عمررضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ مَنْ سَاَلَ بِاﷲِ فَاَعْطُوْہُ وَ مَنِ اسْتَعَاذَ بِاﷲِ فَاعِیْذُوْہُ وَ مَنْ دَعَاکُمْ فَاَجِیْبُوْہُ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا مَا تُکَافِئُوْنَہٗ فَادْعُوْا لَہٗ حَتّٰی تُرَوْا اَنَّکُمْ قَدْ کَافَاْتُمُوْہُ (رواہ ابوداؤد، والنسائی بسند صحیح)۔
    زِیر نظر حدیث کے ظاہری الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جب کوئی سائل اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرے تو اس کو خالی ہاتھ واپس کرنا منع ہے۔ یہ سوال کتاب و سنت کی روشنی کا محتاج ہے جیسا کہ کوئی سائل سوال کرے کہ میرا بیت المال میں حق ہے اور میں ضرورتمند ہوں لہٰذا میری ضرورت کو پورا کیا جائے۔ پس اس کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی اعانت کرنا واجب ہے یا کوئی سائل کسی شخص کے زائد مال میں سے اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کہے تو صاحب مال کو سائل کی ضرورت کے مطابق اس کی حاجت روائی کرنا احسن ہے۔ البتہ وہ مسئول جس کے پاس زائد مال نہیں ہے تو سائل کی ضرورت کو اس انداز سے پورا کرے کہ نہ تو وہ خود تکلیف میں پڑے اور نہ اس کے اہل و عیال کو کوئی تکلیف محسوس ہو۔ اور اگر سائل کسی اضطراری حالت میں گرفتار ہے تو اس کی اس تکلیف کو رفع کرنا واجب ہے۔ اپنے مال کو خرچ کرنا شریعت اسلامی کے اعلیٰ اور ارفع مقامات میں سے ایک بلند ترین مقام ہے۔ اس سلسلے میں جود و سخا کے لحاظ سے لوگوں کے مختلف درجات ہیں۔ جود و سخا کے مقابلے میں بخل اور کنجوسی کا درجہ ہے۔ جود و سخا کتاب و سنت کی روشنی میں لائق تحسن اور عمل محمود ہے اور بخل و کنجوسی کو اسلام انتہائی بری نظر سے دیکھتا ہے اور اس کی واشگاف الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
    اللہ کریم اپنے بندوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنے مال کو خرچ کریں، کیونکہ اس کا نفع بہت ہی زیادہ ہے اور اس کے اجر و ثواب میں اس سے بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ کریم اپنے بندوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
    ایک دوسرے مقام پر یوں ترغیب دی:
    اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اصولِ ایمان اور نماز کے درمیان انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ اس عمل کا اجر و ثواب اور اس کا نفع کئی گنا بڑھتا رہتا ہے یہ وہ اعمال ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حتی کہ اپنی مستورات کو بھی صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے کیونکہ اس میں اُمت کی خیرخواہی پنہاں ہے اور ان کے دینی اور دنیوی دونوں فائدے موجود ہیں۔ انصارِ مدینہ کی اسی خوبی اور عادتِ حسنہ پر الٰہ کریم نے ان کی تعریف فرمائی ہے؛ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    مومن شخص کی عمدہ تر اور بہترین عادات میں سے ایثار افضل ترین اور اعلی عادت ہے جیسا کہ آیت مذکورہ سے واضح ہے۔ ایثار ہی کے متعلق اللہ کریم اپنے بندوں کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے
    فضیلت صدقہ سے متعلق بیشمار آیاتِ قرآنی اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں کامیاب ہو تو اسے اس عمل صالح میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے۔

    فیہ مسائل
    ٭ جو شخص اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پناہ طلب کرے اس کو پناہ دینا۔ ٭ جو شخص اللہ کریم کا نام لے کر سوال کرے اس کی ضرورت کو پورا کرنا۔ ٭ اپنے مسلمان بھائی کی دعوت قبول کرنا۔ ٭ کسی کے احسان اور بھلائی کا بدلہ دینا۔ ٭ جو شخص احسان کا بدلہ نہ دے سکے، اس کے لئے دعا کرنا بھی احسان کا نعم البدل بن جائے گا۔ ٭ یعنی اتنی کثرت سے دعا کرو کہ خود تمہیں یقین ہو جائے کہ احسان کا بدلہ اتر چکا ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں