- شمولیت
- ستمبر 26، 2011
- پیغامات
- 2,767
- ری ایکشن اسکور
- 5,412
- پوائنٹ
- 562
چڑیا گھر کی سیر کے دوران چند نابینا حضرات کو چڑیا گھر کے سب سے بڑے جانور ہاتھی سے ملوایا گیا۔جب انہوں نے ہاتھی کی بڑی تعریف سنی تو اسے ہاتھوں سے ٹٹول کر اسے "پہچاننے" کی کوشش کی کہ یہ جانور کیسا ہے۔سیر سے واپسی پر جب ان نابینا حضرات سے ہاتھی کو" ڈیفائن" کرنے کو کہاگیا تو ایک نے کہا کہ ہاتھی ایک موٹی رسی کی مانند ہے کیونکہ اس نے ہاتھی کے صرف سونڈکوہی ٹٹول کر "دیکھا " تھا۔ دوسرے نے کہا کہ ہاتھی ایک دستی پنکھے کی طرح ہے۔ موصوف نے ہاتھی کے صرف کانوں کو ہاتھ لگا کر "دیکھا" تھا۔تیسرے نے کہا کہ ہاتھی تو عمارتی ستونوں کی مانند ہے کہ اس نے ہاتھی کی ٹانگوں کو چھو کر ہاتھی کا تصورکیا تھا۔ غرضیکہ جس جس نابینا نے ہاتھی کے جس جس حصے کو ٹٹول کر ہاتھی کا تصور کیاتھا، انہیں ہاتھی ویسا ہی نظر آیا۔
ہم یہی حال اسلام اور شریعت کے ساتھ کر رہے ہیں۔ معروف کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے حالیہ کالم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اعلیٰ اخلاقِ حسنہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ: "یہ ہے شریعت۔لیکن ہم لوگ نہ جانے کون سی شریعت تلاش کر رہے ہیں؟ ہم کس شریعت کا مطالبہ کر رہے ہیں؟کیا کوئی صاحب علم میری رہنمائی کرسکتا ہے"۔گو میرا شمار اہل علم میں نہیں ہوتا، تاہم قرآن و حدیث کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے مجھے یہ بخوبی علم ہے کہ'اخلاقِ حسنہ' ، دینِ اسلام کا ایک اہم جزو ضرورہے،لیکن یہ کُل اسلام ہرگز نہیں ہے۔ دراصل اسلام کو ڈیفائن کرنے کے معاملہ میں ہم متذکرہ بالانابینا حضرات کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں اور دانستہ یا نادانستہ اسلام کے کسی ایک پسندیدہ جزو کو پکڑ کر اسے ہی کُل اسلام سمجھ لیتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ اسلام پر گفتگو کرنے والے ہمارے دانشور اہل قلم کی بھاری اکثریت قرآن و حدیث کی زبان عربی سے نابلد ہونے کے سبب اسلام کو اس کے اصل مآخذ سے پڑھ کر سمجھنے سے ہی قاصر ہے۔عربی زبان سے ناواقفیت کا المیہ اپنی جگہ، لیکن اس سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہم میں سے بیشترمسلمان قلمکار ترجمہ کے ذریعہ سے بھی قرآن و حدیث کو اول تا آخر" مکمل" پڑھے ہوئے نہیں ہیں۔مکمل پڑھے ہوئے سے میری مراد یہ ہے کہ قرآن کو الحمد سے لے کر والناس تک اور حدیث میں کم از کم صحیحین یعنی بخاری و مسلم کی جملہ کتب اور ابواب کو اول تا آخر کسی بھی زبان میں ترجمہ سے سمجھ کر پڑھنا۔ جب ہم دین اسلام کے بنیادی مآخذ قرآن و حدیث کو ہی مکمل طور پر نہیں پڑھیں گے تو مکمل اسلام یا اسلامی شریعت کو کیسے جان پائیں گے۔ پھر ہم اسلام کو 'ڈیفائن' کرنے کے لئے انہی نابینا حضرات کی طرح کا مظاہرہ کریں گے کہ ہمیں اسلام کی جو بات معلوم ہو یا جو بات پسند ہو، اسی کو مکمل اسلام سمجھ بیٹھیں گے۔
یوں تواسلام کی مکمل تعریف قرآن ا ور احادیث میںہمیں جگہ جگہ مل جاتی ہے لیکن سورة العصرکو ایک ایسے کوزہ قرار دیا جاسکتا ہے جس میں اسلام کے سمندر کو اللہ تبارک تعالیٰ نے بڑی خوبصورتی سے سمو دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سورة میں فرماتے ہیں: "قسم ہے زمانے کی ! یقیناََ، انسان خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو (۱) ایمان لائے (۲) اور کرتے رہے نیک عمل(۳)اور نصیحت کرتے رہے ایک دوسرے کو حق کی (۴) اورتلقین کرتے رہے ایک دوسرے کو صبر کی"۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کہتے ہیں کہ اس سورة کی رو سے صرف وہی لوگ کامیاب کہلائیں گے جو مرنے کے بعد بعد از حساب کتاب جنت میں داخل ہونے کے اہل قرار پائیں گے۔اوراس دنیا کے امتحان میں وہی لوگ کامیاب ہوں گے، جن لوگوں نے ان چاروں "سبجیکٹ" میں کم از کم پاسنگ مارکس توحاصل کئے ہوں۔گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام یا اسلامی شریعت بھی در اصل انہی چاروں "سبجیکٹ" کے تمام مضامین کے مجموعے کا نام ہے۔آئیے پر ہر سبجیکٹ کا انفرادی جائزہ لیتے ہیں۔
ا۔ ایمان اور عقائد: اللہ، اللہ کے فرشتوں، اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تمام انبیاءعلیہ السلام( بشمول آخری نبی حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)،ا للہ کی نازل کردہ تمام الہامی کتب (بشمول آخری کتاب، قرآن مجید کا وہ نسخہ جو دنیا بھر کے لاکھوں کروڑوں حفاظ کے سینوں میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے آج تک محفوظ رہتاچلا آیا ہے)،روز حشر، جنت ، دوزخ وغیرہ پر بعینہ اسی طرح ایمان لانا، جس طرح کہ قرآن مجید اور صحیح احادیث (صحیح بخاری، صحیح مسلم سمیت صحاح ستہ کی تمام صحیح احادیث، ضعیف یا موضوع احادیث نہیں) میں مذکور ہے۔
۲۔ نیک اعمال:ا عمال کے دو بنیادی اجزا یعنی عبادات اور دیگرمعاملاتِ دنیوی کو بالترتیب قرآن، صحیح احادیث، سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سیرت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور اجماع امت کے مطابق ادا کرنا تاکہ یہ اعمال "نیک اعمال" بن سکیں۔عبادات اور مذہبی رسومات (نماز، روزہ، حج، زکوٰة، عمرہ،زیارات قبور، جہاد،تلاوت قرآن، نماز جنازہ اور تدفین وغیرہ ) کے معاملہ میں جائز اور ناجائز کا اُصول یہ ہے کہ یہ تمام کام بعینہ اُسی طرح ادا کئے جائیں ، جس طرح قرآن مجید اور صحیح احادیث میں بیان کیے گئے ہیںاور جن کاعملی نمونہ دور رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور دور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ملتا ہے۔ صرف یہی طریقہ عبادت اور مذہبی رسومات جائز ہیں۔ اس کے علاوہ تمام طریقہ عبادت اور مذہبی رسومات ناجائز اور حرام ہیں۔ اس کے برعکس دیگرمعاملاتِ دنیوی ( جیسے کھانا پینا، سونا جاگنا، سفر، ذریعہ معاش، نکاح، طلاق، تربیت اولاد، لین دین، دوسرے انسانوں سے تعلقات وغیرہ ) میں سب کچھ اور سارے طریقے "جائز اور حلال" ہیں سوائے اُن باتوں اور طریقوں کے جنہیں صاف صاف طریقہ سے بالترتیب قرآن مجید، صحیح احادیث، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سیرت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور اجماع امت میں "ناجائز اور حرام" قرار دیا گیا ہے۔ "اجماع امت" یہ ہے کہ اگرکسی معاملہ میں قرآن، صحیح احادیث، سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورسیرت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے واضح ہدایت نہ مل رہی ہوں اور ہدایت کی ضرورت بھی ہو تو یہ دیکھا جائے گاکہ ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک کے علمائے اسلام کی بھاری اکثریت اس معاملہ میں کیا رائے رکھتی ہے۔ اسی اکثریتی رائے کو حق قرار دیا جائے گا کیونکہ ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے:
" ان امتی لا تجتمع علی ضلالة بے شک میری امت گمراہی پر کبھی متفق نہ ہوگی"۔
یعنی نیک اعمال کے دو بنیادی حصے ہیں۔ ایک عبادات اور مذہبی رسومات اور دوسرے دیگر تمام دنیوی معاملات۔دنیوی معاملات میں ایک اہم حصہ لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اورلوگوں کے ساتھ تعلقات کے دائرہ کار میں خوش اخلاقی اور حسن سلوک اسلامی شریعت کاایک نمایاں وصف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ اخلاقیات کے بلند ترین درجہ پر فائز تھے۔ محترم جاوید چوہدری نے انہی اخلاق حسنہ کا انتخاب پیش کرکے اپنے جادو بھرے قلم سے یہ بار بار باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ یہی تو شریعت ہے۔ گویا اس کے علاوہ شریعت میں کچھ نہیں ہے۔ نہ ایمانیات و عقائد، نہ عبادات و مذہبی رسومات، نہ معاملات ، نہ تلقین و تبلیغ حق اور نہ ہی صبر۔ بس صرف اور صرف انسانی تعلقات میں بلند اخلاقیات ہی کُل شریعت اسلامی ہے۔
۳۔ حق کی نصیحت: دین اسلام پورے کا پورا حق ہے۔ اس کی تلقین اور تبلیغ ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور سورة عصر کی رو سے اس پر عمل کئے بغیر کوئی انسان اُخروی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ امر بالمعروف اور نی عن المنکر ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی صلاحیت اور وسائل کے مطابق اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو معروف کا حکم دے اور انہیں منکرات سے روکے۔ قرآن میںاکثر مقامات پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے، انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی۔ سورة آل عمران۔۴۰۱ میں ارشادِ ربانی ہے: تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیک کاموں کا حکم کرے اور بُرے کاموں سے روکے۔ارشاد نبوی ہے :تم میں سے جو شخص برائی دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکنے اور اگر اسکی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے ہی اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور ترین درجہ ہے (مسلم، مشکوٰة )۔ہمیں اپنا اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ ہم میں سے کتنے مسلمان ہیں جوحق کی نصیحت کے معاملہ میں قرآن و حدیث کے احکامات پرعمل پیرا ہیں ۔
4۔ صبر کی تلقین: ایک اچھے مسلمان میںصبر و شکر کا وصف نمایاں طور پر نظر آنا چاہئے۔ اول تو ہم سب پر اللہ کے اتنے احسانات ہیں اوراللہ نے اتنی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں کہ ہیں اگرہم ان سب کا شکریہ ادا کرنا بھی چاہیں تو نہیں کرسکتے کہ بلا شبہ انسان بڑا ناشکرا ہے۔لیکن اس کے باوجود اگرکبھی ہماری ہی غلط حرکتو ں کی وجہ سے یا اللہ کی طرف سے آنے والی آز مائش کی بدولت ہمیں کبھی کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑ جائے تو رونے دھونے اور شکوہ شکایات میں ہم پیش پیش ہوے ہیں۔جبکہ سورة العصر کی رو سے کامیابی کا چوتھا اہم ترین ستون ہی صبر کرنا اور صبر کی تلقین کرنا ہے۔ اس مختصر سی تحریر کے ذریعہ شریعت کا ایک مکمل اور جامع تصور پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اللہ کمی بیشی معاف کرے۔٭ ٭٭
جاوید چوہدری کا کالم یہاں پڑھئیے:
http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1102093382&Issue=NP_LHE&Date=20140209
نوٹ: کالم میں تصویر ہونے کی وجہ سے کالم کا صرف لنک پیش ہے۔ یہ جوابی تحریر جاوید چوہدری اور ان کے اخبار کے ایڈیٹر کے علاوہ کوئی پونے پانسو اردو کالم نویسوں کو بھی ارسال کیا گیا ہے۔
ہم یہی حال اسلام اور شریعت کے ساتھ کر رہے ہیں۔ معروف کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے حالیہ کالم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اعلیٰ اخلاقِ حسنہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ: "یہ ہے شریعت۔لیکن ہم لوگ نہ جانے کون سی شریعت تلاش کر رہے ہیں؟ ہم کس شریعت کا مطالبہ کر رہے ہیں؟کیا کوئی صاحب علم میری رہنمائی کرسکتا ہے"۔گو میرا شمار اہل علم میں نہیں ہوتا، تاہم قرآن و حدیث کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے مجھے یہ بخوبی علم ہے کہ'اخلاقِ حسنہ' ، دینِ اسلام کا ایک اہم جزو ضرورہے،لیکن یہ کُل اسلام ہرگز نہیں ہے۔ دراصل اسلام کو ڈیفائن کرنے کے معاملہ میں ہم متذکرہ بالانابینا حضرات کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں اور دانستہ یا نادانستہ اسلام کے کسی ایک پسندیدہ جزو کو پکڑ کر اسے ہی کُل اسلام سمجھ لیتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ اسلام پر گفتگو کرنے والے ہمارے دانشور اہل قلم کی بھاری اکثریت قرآن و حدیث کی زبان عربی سے نابلد ہونے کے سبب اسلام کو اس کے اصل مآخذ سے پڑھ کر سمجھنے سے ہی قاصر ہے۔عربی زبان سے ناواقفیت کا المیہ اپنی جگہ، لیکن اس سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہم میں سے بیشترمسلمان قلمکار ترجمہ کے ذریعہ سے بھی قرآن و حدیث کو اول تا آخر" مکمل" پڑھے ہوئے نہیں ہیں۔مکمل پڑھے ہوئے سے میری مراد یہ ہے کہ قرآن کو الحمد سے لے کر والناس تک اور حدیث میں کم از کم صحیحین یعنی بخاری و مسلم کی جملہ کتب اور ابواب کو اول تا آخر کسی بھی زبان میں ترجمہ سے سمجھ کر پڑھنا۔ جب ہم دین اسلام کے بنیادی مآخذ قرآن و حدیث کو ہی مکمل طور پر نہیں پڑھیں گے تو مکمل اسلام یا اسلامی شریعت کو کیسے جان پائیں گے۔ پھر ہم اسلام کو 'ڈیفائن' کرنے کے لئے انہی نابینا حضرات کی طرح کا مظاہرہ کریں گے کہ ہمیں اسلام کی جو بات معلوم ہو یا جو بات پسند ہو، اسی کو مکمل اسلام سمجھ بیٹھیں گے۔
یوں تواسلام کی مکمل تعریف قرآن ا ور احادیث میںہمیں جگہ جگہ مل جاتی ہے لیکن سورة العصرکو ایک ایسے کوزہ قرار دیا جاسکتا ہے جس میں اسلام کے سمندر کو اللہ تبارک تعالیٰ نے بڑی خوبصورتی سے سمو دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سورة میں فرماتے ہیں: "قسم ہے زمانے کی ! یقیناََ، انسان خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو (۱) ایمان لائے (۲) اور کرتے رہے نیک عمل(۳)اور نصیحت کرتے رہے ایک دوسرے کو حق کی (۴) اورتلقین کرتے رہے ایک دوسرے کو صبر کی"۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کہتے ہیں کہ اس سورة کی رو سے صرف وہی لوگ کامیاب کہلائیں گے جو مرنے کے بعد بعد از حساب کتاب جنت میں داخل ہونے کے اہل قرار پائیں گے۔اوراس دنیا کے امتحان میں وہی لوگ کامیاب ہوں گے، جن لوگوں نے ان چاروں "سبجیکٹ" میں کم از کم پاسنگ مارکس توحاصل کئے ہوں۔گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام یا اسلامی شریعت بھی در اصل انہی چاروں "سبجیکٹ" کے تمام مضامین کے مجموعے کا نام ہے۔آئیے پر ہر سبجیکٹ کا انفرادی جائزہ لیتے ہیں۔
ا۔ ایمان اور عقائد: اللہ، اللہ کے فرشتوں، اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تمام انبیاءعلیہ السلام( بشمول آخری نبی حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)،ا للہ کی نازل کردہ تمام الہامی کتب (بشمول آخری کتاب، قرآن مجید کا وہ نسخہ جو دنیا بھر کے لاکھوں کروڑوں حفاظ کے سینوں میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے آج تک محفوظ رہتاچلا آیا ہے)،روز حشر، جنت ، دوزخ وغیرہ پر بعینہ اسی طرح ایمان لانا، جس طرح کہ قرآن مجید اور صحیح احادیث (صحیح بخاری، صحیح مسلم سمیت صحاح ستہ کی تمام صحیح احادیث، ضعیف یا موضوع احادیث نہیں) میں مذکور ہے۔
۲۔ نیک اعمال:ا عمال کے دو بنیادی اجزا یعنی عبادات اور دیگرمعاملاتِ دنیوی کو بالترتیب قرآن، صحیح احادیث، سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سیرت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور اجماع امت کے مطابق ادا کرنا تاکہ یہ اعمال "نیک اعمال" بن سکیں۔عبادات اور مذہبی رسومات (نماز، روزہ، حج، زکوٰة، عمرہ،زیارات قبور، جہاد،تلاوت قرآن، نماز جنازہ اور تدفین وغیرہ ) کے معاملہ میں جائز اور ناجائز کا اُصول یہ ہے کہ یہ تمام کام بعینہ اُسی طرح ادا کئے جائیں ، جس طرح قرآن مجید اور صحیح احادیث میں بیان کیے گئے ہیںاور جن کاعملی نمونہ دور رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور دور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ملتا ہے۔ صرف یہی طریقہ عبادت اور مذہبی رسومات جائز ہیں۔ اس کے علاوہ تمام طریقہ عبادت اور مذہبی رسومات ناجائز اور حرام ہیں۔ اس کے برعکس دیگرمعاملاتِ دنیوی ( جیسے کھانا پینا، سونا جاگنا، سفر، ذریعہ معاش، نکاح، طلاق، تربیت اولاد، لین دین، دوسرے انسانوں سے تعلقات وغیرہ ) میں سب کچھ اور سارے طریقے "جائز اور حلال" ہیں سوائے اُن باتوں اور طریقوں کے جنہیں صاف صاف طریقہ سے بالترتیب قرآن مجید، صحیح احادیث، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سیرت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور اجماع امت میں "ناجائز اور حرام" قرار دیا گیا ہے۔ "اجماع امت" یہ ہے کہ اگرکسی معاملہ میں قرآن، صحیح احادیث، سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورسیرت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے واضح ہدایت نہ مل رہی ہوں اور ہدایت کی ضرورت بھی ہو تو یہ دیکھا جائے گاکہ ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک کے علمائے اسلام کی بھاری اکثریت اس معاملہ میں کیا رائے رکھتی ہے۔ اسی اکثریتی رائے کو حق قرار دیا جائے گا کیونکہ ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے:
" ان امتی لا تجتمع علی ضلالة بے شک میری امت گمراہی پر کبھی متفق نہ ہوگی"۔
یعنی نیک اعمال کے دو بنیادی حصے ہیں۔ ایک عبادات اور مذہبی رسومات اور دوسرے دیگر تمام دنیوی معاملات۔دنیوی معاملات میں ایک اہم حصہ لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اورلوگوں کے ساتھ تعلقات کے دائرہ کار میں خوش اخلاقی اور حسن سلوک اسلامی شریعت کاایک نمایاں وصف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ اخلاقیات کے بلند ترین درجہ پر فائز تھے۔ محترم جاوید چوہدری نے انہی اخلاق حسنہ کا انتخاب پیش کرکے اپنے جادو بھرے قلم سے یہ بار بار باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ یہی تو شریعت ہے۔ گویا اس کے علاوہ شریعت میں کچھ نہیں ہے۔ نہ ایمانیات و عقائد، نہ عبادات و مذہبی رسومات، نہ معاملات ، نہ تلقین و تبلیغ حق اور نہ ہی صبر۔ بس صرف اور صرف انسانی تعلقات میں بلند اخلاقیات ہی کُل شریعت اسلامی ہے۔
۳۔ حق کی نصیحت: دین اسلام پورے کا پورا حق ہے۔ اس کی تلقین اور تبلیغ ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور سورة عصر کی رو سے اس پر عمل کئے بغیر کوئی انسان اُخروی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ امر بالمعروف اور نی عن المنکر ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی صلاحیت اور وسائل کے مطابق اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو معروف کا حکم دے اور انہیں منکرات سے روکے۔ قرآن میںاکثر مقامات پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے، انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی۔ سورة آل عمران۔۴۰۱ میں ارشادِ ربانی ہے: تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیک کاموں کا حکم کرے اور بُرے کاموں سے روکے۔ارشاد نبوی ہے :تم میں سے جو شخص برائی دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکنے اور اگر اسکی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے ہی اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور ترین درجہ ہے (مسلم، مشکوٰة )۔ہمیں اپنا اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ ہم میں سے کتنے مسلمان ہیں جوحق کی نصیحت کے معاملہ میں قرآن و حدیث کے احکامات پرعمل پیرا ہیں ۔
4۔ صبر کی تلقین: ایک اچھے مسلمان میںصبر و شکر کا وصف نمایاں طور پر نظر آنا چاہئے۔ اول تو ہم سب پر اللہ کے اتنے احسانات ہیں اوراللہ نے اتنی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں کہ ہیں اگرہم ان سب کا شکریہ ادا کرنا بھی چاہیں تو نہیں کرسکتے کہ بلا شبہ انسان بڑا ناشکرا ہے۔لیکن اس کے باوجود اگرکبھی ہماری ہی غلط حرکتو ں کی وجہ سے یا اللہ کی طرف سے آنے والی آز مائش کی بدولت ہمیں کبھی کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑ جائے تو رونے دھونے اور شکوہ شکایات میں ہم پیش پیش ہوے ہیں۔جبکہ سورة العصر کی رو سے کامیابی کا چوتھا اہم ترین ستون ہی صبر کرنا اور صبر کی تلقین کرنا ہے۔ اس مختصر سی تحریر کے ذریعہ شریعت کا ایک مکمل اور جامع تصور پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اللہ کمی بیشی معاف کرے۔٭ ٭٭
جاوید چوہدری کا کالم یہاں پڑھئیے:
http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1102093382&Issue=NP_LHE&Date=20140209
نوٹ: کالم میں تصویر ہونے کی وجہ سے کالم کا صرف لنک پیش ہے۔ یہ جوابی تحریر جاوید چوہدری اور ان کے اخبار کے ایڈیٹر کے علاوہ کوئی پونے پانسو اردو کالم نویسوں کو بھی ارسال کیا گیا ہے۔