- شمولیت
- جنوری 08، 2011
- پیغامات
- 6,595
- ری ایکشن اسکور
- 21,399
- پوائنٹ
- 891
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
میرے ایک آفس کے ساتھی نے وراثت کے تعلق سے درج ذیل سوال پوچھا ہے۔ اس مسئلے کے جواب کی بنیاد پر عدالت میں کیس دائر کرنا ہے۔
ایک بیوہ عورت جس کی کوئی اولاد نہیں، اس کے خاوند کی موت کے وقت، خاوند کا کوئی سگا بھائی، بہن، یا ماں باپ زندہ نہیں تھے، جبکہ تین سگے بھتیجے موجود ہیں۔ کیا میت کی وراثت میں اس کے بھتیجوں کا حصہ ہوگا؟ یا صرف بیوہ ہی وارث ہے؟
دوسرا مسئلہ یہ کہ، اس بیوہ عورت نے اپنے مرحوم شوہر کے ایک سگے بھتیجے ’محمد حسیب خان‘ کو اپنی خدمت کے لئے اپنے ساتھ رکھا اور اپنی ساری زمین کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری بھی دی۔ اب ’محمد حسیب خان‘ تمام زمین کو آباد کرتا اور جو اناج وغیرہ ہوتا اس سے اپنی اولاد کی کفالت کرتا رہا۔
مگر ’محمد حسیب خان‘ نے اس بوڑھی بیوہ عورت جس کی عمر تقریباً نوے سال کے قریب تھی، کندھے پر اٹھا کر عدالت میں لے جا کر بیان دلوا کر ساری جائیداد اپنے نام کروالی اور باقی تمام ورثاء کو جائیداد سے محروم کر دیا۔
جبکہ یاد رہے کہ بیوہ عورت کے بھی تین بھتیجے ’محمد اصغر خان‘، ’محمد لطیف خان‘ اور ’محمد بشیر خان‘ موجود ہیں۔ اور اس کے مرحوم شوہر کے تین سگے بھتیجے (جن میں سے ایک نے ساری جائیداد ہتھیا لی) بھی موجود ہیں۔
اب وہ بیوہ خاتون بھی انتقال پا چکی ہیں اور حال ہی میں محمد حسیب خان کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔ اب جائیداد کی تقسیم کا مسئلہ درپیش ہے۔ لہٰذا پہلے تو یہ طے ہو کہ آیا حسیب خان نے جو بیوہ کی ساری جائیداد عدالت سے اپنے نام کروالی تھی ، اس کی کیا حیثیت ہے۔ اور یہ کہ اب کس طرح ترکہ کی تقسیم کا مسئلہ حل کیا جائے؟
آپ سے سوال ہے کہ یہ جو سارا معاملہ ہوا، کیا یہ شریعت کے اعتبار سے صحیح ہوا؟ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرما کر اصلاح کیجئے اور جائیداد کے اصل ورثاء کون ہیں، اس کی بھی وضاحت فرما دیجئے۔
شکریہ:
والسلام
نثار احمد
میرے ایک آفس کے ساتھی نے وراثت کے تعلق سے درج ذیل سوال پوچھا ہے۔ اس مسئلے کے جواب کی بنیاد پر عدالت میں کیس دائر کرنا ہے۔
ایک بیوہ عورت جس کی کوئی اولاد نہیں، اس کے خاوند کی موت کے وقت، خاوند کا کوئی سگا بھائی، بہن، یا ماں باپ زندہ نہیں تھے، جبکہ تین سگے بھتیجے موجود ہیں۔ کیا میت کی وراثت میں اس کے بھتیجوں کا حصہ ہوگا؟ یا صرف بیوہ ہی وارث ہے؟
دوسرا مسئلہ یہ کہ، اس بیوہ عورت نے اپنے مرحوم شوہر کے ایک سگے بھتیجے ’محمد حسیب خان‘ کو اپنی خدمت کے لئے اپنے ساتھ رکھا اور اپنی ساری زمین کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری بھی دی۔ اب ’محمد حسیب خان‘ تمام زمین کو آباد کرتا اور جو اناج وغیرہ ہوتا اس سے اپنی اولاد کی کفالت کرتا رہا۔
مگر ’محمد حسیب خان‘ نے اس بوڑھی بیوہ عورت جس کی عمر تقریباً نوے سال کے قریب تھی، کندھے پر اٹھا کر عدالت میں لے جا کر بیان دلوا کر ساری جائیداد اپنے نام کروالی اور باقی تمام ورثاء کو جائیداد سے محروم کر دیا۔
جبکہ یاد رہے کہ بیوہ عورت کے بھی تین بھتیجے ’محمد اصغر خان‘، ’محمد لطیف خان‘ اور ’محمد بشیر خان‘ موجود ہیں۔ اور اس کے مرحوم شوہر کے تین سگے بھتیجے (جن میں سے ایک نے ساری جائیداد ہتھیا لی) بھی موجود ہیں۔
اب وہ بیوہ خاتون بھی انتقال پا چکی ہیں اور حال ہی میں محمد حسیب خان کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔ اب جائیداد کی تقسیم کا مسئلہ درپیش ہے۔ لہٰذا پہلے تو یہ طے ہو کہ آیا حسیب خان نے جو بیوہ کی ساری جائیداد عدالت سے اپنے نام کروالی تھی ، اس کی کیا حیثیت ہے۔ اور یہ کہ اب کس طرح ترکہ کی تقسیم کا مسئلہ حل کیا جائے؟
آپ سے سوال ہے کہ یہ جو سارا معاملہ ہوا، کیا یہ شریعت کے اعتبار سے صحیح ہوا؟ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرما کر اصلاح کیجئے اور جائیداد کے اصل ورثاء کون ہیں، اس کی بھی وضاحت فرما دیجئے۔
شکریہ:
والسلام
نثار احمد