• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقسیم ترکہ کا عدالتی جھگڑا۔۔مدد درکار

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
میرے ایک آفس کے ساتھی نے وراثت کے تعلق سے درج ذیل سوال پوچھا ہے۔ اس مسئلے کے جواب کی بنیاد پر عدالت میں کیس دائر کرنا ہے۔

ایک بیوہ عورت جس کی کوئی اولاد نہیں، اس کے خاوند کی موت کے وقت، خاوند کا کوئی سگا بھائی، بہن، یا ماں باپ زندہ نہیں تھے، جبکہ تین سگے بھتیجے موجود ہیں۔ کیا میت کی وراثت میں اس کے بھتیجوں کا حصہ ہوگا؟ یا صرف بیوہ ہی وارث ہے؟

دوسرا مسئلہ یہ کہ، اس بیوہ عورت نے اپنے مرحوم شوہر کے ایک سگے بھتیجے ’محمد حسیب خان‘ کو اپنی خدمت کے لئے اپنے ساتھ رکھا اور اپنی ساری زمین کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری بھی دی۔ اب ’محمد حسیب خان‘ تمام زمین کو آباد کرتا اور جو اناج وغیرہ ہوتا اس سے اپنی اولاد کی کفالت کرتا رہا۔
مگر ’محمد حسیب خان‘ نے اس بوڑھی بیوہ عورت جس کی عمر تقریباً نوے سال کے قریب تھی، کندھے پر اٹھا کر عدالت میں لے جا کر بیان دلوا کر ساری جائیداد اپنے نام کروالی اور باقی تمام ورثاء کو جائیداد سے محروم کر دیا۔

جبکہ یاد رہے کہ بیوہ عورت کے بھی تین بھتیجے ’محمد اصغر خان‘، ’محمد لطیف خان‘ اور ’محمد بشیر خان‘ موجود ہیں۔ اور اس کے مرحوم شوہر کے تین سگے بھتیجے (جن میں سے ایک نے ساری جائیداد ہتھیا لی) بھی موجود ہیں۔
اب وہ بیوہ خاتون بھی انتقال پا چکی ہیں اور حال ہی میں محمد حسیب خان کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔ اب جائیداد کی تقسیم کا مسئلہ درپیش ہے۔ لہٰذا پہلے تو یہ طے ہو کہ آیا حسیب خان نے جو بیوہ کی ساری جائیداد عدالت سے اپنے نام کروالی تھی ، اس کی کیا حیثیت ہے۔ اور یہ کہ اب کس طرح ترکہ کی تقسیم کا مسئلہ حل کیا جائے؟

آپ سے سوال ہے کہ یہ جو سارا معاملہ ہوا، کیا یہ شریعت کے اعتبار سے صحیح ہوا؟ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرما کر اصلاح کیجئے اور جائیداد کے اصل ورثاء کون ہیں، اس کی بھی وضاحت فرما دیجئے۔
شکریہ:
والسلام
نثار احمد
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
ایک بیوہ عورت جس کی کوئی اولاد نہیں، اس کے خاوند کی موت کے وقت، خاوند کا کوئی سگا بھائی، بہن، یا ماں باپ زندہ نہیں تھے، جبکہ تین سگے بھتیجے موجود ہیں۔ کیا میت کی وراثت میں اس کے بھتیجوں کا حصہ ہوگا؟ یا صرف بیوہ ہی وارث ہے؟
بسم الله والحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله!
اگر میت کے ورثا میں صرف بیوی اور بھتیجے بھتیجیاں ہوں، تو بیوی اس کو کا مقررہ (فرضی) حصہ یعنی چوتھائی ملے گا اور باقی سارا مال بھتیجوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ اور بھتیجیاں محروم ہوں گی۔

فرمانِ باری ہے: ﴿ وَلَهُنَّ الرُّ‌بُعُ مِمَّا تَرَ‌كْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ﴾ ... النساء: 12
کہ ’’اور ان (بیویوں) کیلئے چوتھائی حصہ ہے اس سے جو تم (اے مردو!) چھوڑ کر (فوت ہوجاؤ) اگر تمہاری اولاد نہ ہو۔‘‘

نبی کریمﷺ نے فرمایا: « ألحقوا الفرائض بأهلها ، فما بقي فلأولى رجل ذكر » ... صحيح البخاري: 6737
کہ ’’فرضی (مقررہ) حصّے ان کے اہل (اصحاب الفرائض) کو دے دو، جو باقی مال بچ جائے وہ سب سے قریبی مذکر (وارث) کیلئے ہے۔‘‘

گویا ترکہ کے چار حصّے کر کے ایک ایک حصہ بیوی اور ہر بھتیجے کو ملے گا۔

واللہ اعلم!
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
جزاکم اللہ خیرا انس بھائی جان۔
اب دراصل مسئلہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ میت کے ترکہ کی تو درست شرعی تقسیم نہیں ہو پائی۔ بلکہ بیوہ اور دو بھتیجوں کو کچھ بھی حصہ نہ مل سکا۔ اور صرف ایک بھتیجے نے ساری جائیداد پر عدالت میں بیانات دلوا کر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ اب وہ بیوہ بھی انتقال کر گئی ہیں اور جائیداد پر قابض بھتیجہ یعنی محمد حسیب خان بھی انتقال کر گیا ہے۔ اب اس قابض بھتیجے کی چھوڑی ہوئی جائیداد کی تقسیم کیسے ہو؟ جبکہ بیوہ خاتون کے بھی تین بھتیجے موجود ہیں۔ اور محمد حسیب خان کے بھی دو چچا زاد بھائی موجود ہیں۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
دوسرا مسئلہ یہ کہ، اس بیوہ عورت نے اپنے مرحوم شوہر کے ایک سگے بھتیجے ’محمد حسیب خان‘ کو اپنی خدمت کے لئے اپنے ساتھ رکھا اور اپنی ساری زمین کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری بھی دی۔ اب ’محمد حسیب خان‘ تمام زمین کو آباد کرتا اور جو اناج وغیرہ ہوتا اس سے اپنی اولاد کی کفالت کرتا رہا۔

مگر ’محمد حسیب خان‘ نے اس بوڑھی بیوہ عورت جس کی عمر تقریباً نوے سال کے قریب تھی، کندھے پر اٹھا کر عدالت میں لے جا کر بیان دلوا کر ساری جائیداد اپنے نام کروالی اور باقی تمام ورثاء کو جائیداد سے محروم کر دیا۔

جبکہ یاد رہے کہ بیوہ عورت کے بھی تین بھتیجے ’محمد اصغر خان‘، ’محمد لطیف خان‘ اور ’محمد بشیر خان‘ موجود ہیں۔ اور اس کے مرحوم شوہر کے تین سگے بھتیجے (جن میں سے ایک نے ساری جائیداد ہتھیا لی) بھی موجود ہیں۔
اب وہ بیوہ خاتون بھی انتقال پا چکی ہیں اور حال ہی میں محمد حسیب خان کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔ اب جائیداد کی تقسیم کا مسئلہ درپیش ہے۔ لہٰذا پہلے تو یہ طے ہو کہ آیا حسیب خان نے جو بیوہ کی ساری جائیداد عدالت سے اپنے نام کروالی تھی ، اس کی کیا حیثیت ہے۔ اور یہ کہ اب کس طرح ترکہ کی تقسیم کا مسئلہ حل کیا جائے؟

آپ سے سوال ہے کہ یہ جو سارا معاملہ ہوا، کیا یہ شریعت کے اعتبار سے صحیح ہوا؟ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرما کر اصلاح کیجئے اور جائیداد کے اصل ورثاء کون ہیں، اس کی بھی وضاحت فرما دیجئے۔
نثار احمد
مرض الموت میں موجود شخص کے ہبہ کا معاملہ وصیت کی طرح ہوتا ہے۔ اگر ایسا کوئی شخص اپنے ہوش وحواس میں برضا ورغبت اپنا سارا مال کسی کو ہبہ کردے تو اس میں ایک تہائی مال تو موہوب لہ شخص کو دے دیا جائے گا، باقی مال واپس لوٹایا جائے گا جو مرنے کے بعد اس کے ترکہ میں شامل ہوگا اوراس کے ورثا میں تقسیم کیا جائے گا۔

فرمانِ نبوی ہے: « الثلث، والثلث كبير ، أو كثير ، إنك أن تذر ورثتك أغنياء ، خير من أن تذرهم عالة يتكففون الناس » ... متفق عليه
کہ ’’ایک تہائی، اور ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔ تم اگر اپنے ورثا کو غنی چھوڑ کر جاؤ یہ بہت بہتر ہے اس سے کہ تم انہیں فقیر چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں سے مانگتے پھریں۔‘‘

اگر ایک عورت کے تین بھتیجوں کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں تو یہی تین بھتیجے باقی دو تہائی کے برابر وارث ہوں گے۔

یعنی اولاً تو اس خاتون کو اپنے شوہر سے ایک چوتھائی مال ملے گا، باقی شوہر کے تین بھتیجوں کا ہے۔ اگر ایک عورت کی اس چوتھائی حصے کے علاوہ اور کوئی جائیداد نہیں تو اس چوتھائی میں سے تیسرا حصہ محمد حسیب خان کو دے دیا جائے گا، باقی مال عورت کے تین بھتیجوں محمد اصغر خان، محمد لطیف خان اور محمد بشیر خان میں برابر تقسیم کر دیا جائے گا۔

اور حسیب خان نامی شخص کا ترکہ اس کے ورثا میں تقسیم کیا جائے گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم!
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
جزاکم اللہ خیرا انس بھائی جان۔
اب دراصل مسئلہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ میت کے ترکہ کی تو درست شرعی تقسیم نہیں ہو پائی۔ بلکہ بیوہ اور دو بھتیجوں کو کچھ بھی حصہ نہ مل سکا۔ اور صرف ایک بھتیجے نے ساری جائیداد پر عدالت میں بیانات دلوا کر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ اب وہ بیوہ بھی انتقال کر گئی ہیں اور جائیداد پر قابض بھتیجہ یعنی محمد حسیب خان بھی انتقال کر گیا ہے۔ اب اس قابض بھتیجے کی چھوڑی ہوئی جائیداد کی تقسیم کیسے ہو؟ جبکہ بیوہ خاتون کے بھی تین بھتیجے موجود ہیں۔ اور محمد حسیب خان کے بھی دو چچا زاد بھائی موجود ہیں۔
حیاک اللہ وبارک فیک
اگر تو اوپر دی گئی تفصیل سے مسئلہ واضح ہو گیا ہے تو فبہا، ورنہ وضاحت طلب شے دوبارہ پوچھ لیں!
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
جزاکم اللہ خیرا نس بھائی جان۔ ان بھائی تک جواب پہنچایا تو الحمدللہ ان کو بالکل سمجھ آ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھیں اور آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
 
Top