• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

كيا ميت پر آنسو بہانے سے ميت كو عذاب ہوتا ہے ؟

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
كيا ميت پر آنسو بہانے سے ميت كو عذاب ہوتا ہے ؟

كيا ميت پر آنسو بہانے سے ميت كو عذاب ہوتا ہے، اگرچہ كچھ مدت بعد ہى بہائے جائيں ؟

الحمد للہ:

كئى ايك احاديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ ميت كے اہل و عيال كا ميت پر رونے اور آہ بكا كرنے سے ميت كو عذاب ہوتا ہے.

ان احاديث ميں سے ايك حديث امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے اپنى صحيح ميں ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كى ہے:

وہ بيان كرتے ہيں كہ ام المومنين حفصہ رضى اللہ تعالى عنہا عمر رضى اللہ تعالى عنہا پر روئيں تو عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے ميرى پيارى بيٹى صبر كرو اور رونے سے رك جاؤ! كيا تمہيں علم نہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ نے فرمايا ہے:

" ميت پر اس كے اہل و عيال كے رونے كى بنا پر ميت كو عذاب ہوتا ہے"

صحيح مسلم شريف حديث نمبر ( 927 ).


اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ بھى ثابت ہے كہ كئى ايك حادثات ميں ميت كے پاس آپ صلى اللہ عليہ وسلم روئے، اس ميں سے آپ صلى اللہ عليہ وسلم كا اپنے بيٹے ابراہيم رضى اللہ عنہ كى موت پر رونا بھى شامل ہے.

جيسا كہ بخارى اور مسلم كى انس رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كردہ حديث ميں ہے.

ديكھيں: صحيح بخاري ( 2 / 105 ) صحيح مسلم ( 7 / 76 ).

اور انس رضى اللہ تعالى عنہ ہى بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنى ايك بيٹى كى موت پر اسےدفن كرنے كے دوران رو پڑے.

ديكھيں: صحيح بخارى حديث نمبر ( 1258 ).


اور اسامہ بن زيد رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنے نواسے كى وفات كے وقت روئے.

ديكھيں: صحيح بخارى حديث نمبر ( 1284 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 923 ).


اگر يہ كہا جائے كہ ہم ميت پر رونے سے منع كرنےوالى احاديث اور دوسرى ميت پر رونے كى اجازت دينےوالى احاديث ميں تطبيق كس طرح دے سكتے ہيں؟

تو اس كا جواب يہ ہے كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ مندرجہ ذيل حديث ميں بيان كرديا ہے:

بخارى اور مسلم رحمہما اللہ تعالى اسامہ بن زيد رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنے ايك نواسے پررونے لگے تو سعد بن عبادہ رضى اللہ تعالى نے عرض كي اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم يہ كيا؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يہ رحمت اور نرم دلى ہے جسے اللہ تعالى نے اپنے بندوں كے دلوں ميں ركھا ہے، اور اللہ تعالى بھى اپنے رحم كرنے والے بندوں پر رحم فرماتا ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 7377 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 923 ).


امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس حديث كا معنى يہ ہے كہ سعد رضى اللہ تعالى كا خيال تھا كہ رونے كى سارى قسميں حرام ہيں، اور آنسوبہانا بھى حرام ہے، اور انہوں نے گمان كيا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم بھول گئے ہيں تو انہيں ياد دلايا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں بتايا كہ صرف رونا اور آنسو بہانا حرام اور مكروہ نہيں، بلكہ يہ تو رحمت اور فضيلت ہے، بلكہ حرام تو نوحہ كرنا اور بين كرنا ہے، اور وہ رونا جو بين اور نوحہ كے ساتھ ملا ہوا ہو حرام ہے.

جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا اللہ تعالى آنكھ سے آنسو بہنے پر عذاب نہيں ديتا، اور نہ ہى دل كے غمگين ہونے پر، بلكہ عذاب يا رحم تو اس كے ساتھ ہوتا ہے، اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى زبان كى طرف اشارہ كيا" اھـ

اور شيخ الاسلام ابن تيميۃ رحمہ اللہ تعالى سے ميت پر ماں اور بھائيوں كے رونے كے متعلق دريافت كيا گيا كہ آيا اس ميں ميت پركچھ حرج اور گناہ ہے؟

تو ان كا جواب تھا:

( آنكھوں سے آنسو جارى ہونا، اور دل كا غمگين ہو جانے ميں تو كوئى گناہ اور معصيت نہيں، ليكن نوحہ اور آہ بكا كرنا اور كپڑے پھاڑنا منع ہے ) اھـ

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن تيميۃ ( 24 / 380 ).

اور رہا مسئلہ ميت پر رونے كا چاہےكچھ مدت گزرنے كے بعد ہى كيوں نہ ہو، تو اس ميں ايك شرط كے ساتھ كوئىحرج نہيں، كہ اس رونے ميں نہ تو نوحہ اور واويلا شامل ہو اور نہ ہى اونچى آواز كے ساتھ ميت پر رويا جائے، اور نہ ہى اللہ تعالى كى تقدير پر ناراضگى كا اظہار كيا جائے.

امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے وہ كہتے ہيں: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى والدہ كى قبر كى زيارت كى تو رونے لگے، اور آپنے ارد گرد لوگوں كو بھى رلا ديا، اور فرمانےلگے:

" ميں نے اپنے رب سے والدہ كى استغفار كے ليے اجازت طلب كى تو مجھے اجازت نہ دى گئى، اورميں نے اس كى قبر كى زيارت كرنے كى اجازت طلب كى تو مجھے اجازت دےدى گئى، لھذا قبروں كى زيارت كيا كرو، كيونكہ يہ موت ياد دلاتى ہيں"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 976 ).


واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب

http://islamqa.info/ur/33866
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,986
ری ایکشن اسکور
1,555
پوائنٹ
304
صحیح بخاری، کتاب: غزوات کا بیان، باب: ابوجہل کے قتل کا بیان

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَفَعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُکَائِ أَهْلِهِ فَقَالَتْ وَهَلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ وَذَنْبِهِ وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْکُونَ عَلَيْهِ الْآنَ قَالَتْ وَذَاکَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَی الْقَلِيبِ وَفِيهِ قَتْلَی بَدْرٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ إِنَّمَا قَالَ إِنَّهُمْ الْآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا کُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَی وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ يَقُولُ حِينَ تَبَوَّئُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنْ النَّارِ


عبید بن اسماعیل ابواسامہ ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت عائشہ کے سامنے حضور اکرم کے اس ارشاد کا ذکر آیا کہ مردے پر اس کے عزیزوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کو رسول اکرم تک پہنچی ہوئی بتاتے ہیں حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ مردے پر اپنی خطاؤں اور گناہوں کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے اور اس کے عزیز روتے ہی رہتے ہیں یہ بالکل ایسا ہی مضمون ہے جیسے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم مشرکین بدر کے لاشوں کے گڑھے پر کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرا کہنا سن رہے ہیں حالانکہ حضور نے فرمایا تھا کہ ان کو اب معلوم ہوگیا کہ میں جو کچھ ان سے کہتا تھا وہ سچ اور حق تھا اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سورت نمل کی یه آیت تلاوت فرمائی ترجمه (اے پیغمبر! تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے اور اے پیغمبر صلی الله علیه وسلم! تم قبروں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے) حضرت عروه کهتے ہیں که حضرت عائشه کی مراد اس آیت کے پڑھنے سے یه تھی که اب ان کو دوزخ میں اپنا ٹھکانه مل جائے گا۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
زمینی قبر میں عذاب کا ثبوت

الحمد لله الذي أخرجنا من ظلمات الجهل والوهم إلى أنوار المعرفة والعلم، والصلاةُ والسلام على معلمِ البشرية
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی یا یہودیہ کی زمینی قبر پر گزرے جسے قبر میں عذاب ہو رہاتھا ،
مسلم کے رواۃ نے اس متن کو مختصر بیان کیا ،جس آپ کو غلط فہمی یا مغالطہ ہوا ،
صحیح مسلم کے جس باب کی آپ نے یہ حدیث یہاں پیسٹ کی ہے ،وہاں اسی باب میں سیدہ عائشہ وابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث دوسری سند سے اس طرح موجود ہے
(حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، قال: ذكر عند عائشة قول ابن عمر: الميت يعذب ببكاء أهله عليه، فقالت: رحم الله أبا عبد الرحمن، سمع شيئا فلم يحفظه، إنما مرت على رسول الله صلى الله عليه وسلم جنازة يهودي، وهم يبكون عليه، فقال: «أنتم تبكون، وإنه ليعذب»
اور سنن ابی داود میں یہی حدیث مکمل تفصیل کے ساتھ بسند صحیح موجود ہے
حدثنا هناد بن السري، ‏‏‏‏عن عبدة، ‏‏‏‏وأبي، ‏‏‏‏معاوية - المعنى - عن هشام بن عروة، ‏‏‏‏عن أبيه، ‏‏‏‏عن ابن عمر، ‏‏‏‏قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "‏إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه "‏‏.‏ فذكر ذلك لعائشة فقالت وهل - تعني ابن عمر - إنما مر النبي صلى الله عليه وسلم على قبر فقال "‏إن صاحب هذا ليعذب وأهله يبكون عليه "‏‏.‏ ثم قرأت ‏‏‏‏{ولا تزر وازرة وزر أخرى ‏}‏ قال عن أبي معاوية على قبر يهودي ‏.‏
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلاشبہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔“ یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے بیان کی گئی، تو انہوں نے کہا: (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھول گئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تھے، تو فرمایا تھا ”بیشک یہ قبر والا عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی «ولا تزر وازرة وزر أخرى»”کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“ ہناد نے ابومعاویہ سے روایت کرتے ہوئے وضاحت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کی قبر کےپس سے گزرے تھے۔) قال الشيخ الألباني: صحيح،
لھذا یہ ایک ہی واقعہ ہے جسے راویوں کے اختصار نے آپ کےلئے معمہ بنادیا ،اور آپ اس حدیث سے زمینی قبر میں عذاب کا انکار کرنے لگے
میرا مشورہ ہے کہ آپ حدیث کا علم سیکھنے کےلئے کسی سچے اہل حدیث عالم کی صحبت اختیار کریں
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,986
ری ایکشن اسکور
1,555
پوائنٹ
304
زمینی قبر میں عذاب کا ثبوت

الحمد لله الذي أخرجنا من ظلمات الجهل والوهم إلى أنوار المعرفة والعلم، والصلاةُ والسلام على معلمِ البشرية
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی یا یہودیہ کی زمینی قبر پر گزرے جسے قبر میں عذاب ہو رہاتھا ،
مسلم کے رواۃ نے اس متن کو مختصر بیان کیا ،جس آپ کو غلط فہمی یا مغالطہ ہوا ،
صحیح مسلم کے جس باب کی آپ نے یہ حدیث یہاں پیسٹ کی ہے ،وہاں اسی باب میں سیدہ عائشہ وابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث دوسری سند سے اس طرح موجود ہے
(حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، قال: ذكر عند عائشة قول ابن عمر: الميت يعذب ببكاء أهله عليه، فقالت: رحم الله أبا عبد الرحمن، سمع شيئا فلم يحفظه، إنما مرت على رسول الله صلى الله عليه وسلم جنازة يهودي، وهم يبكون عليه، فقال: «أنتم تبكون، وإنه ليعذب»
اور سنن ابی داود میں یہی حدیث مکمل تفصیل کے ساتھ بسند صحیح موجود ہے
حدثنا هناد بن السري، ‏‏‏‏عن عبدة، ‏‏‏‏وأبي، ‏‏‏‏معاوية - المعنى - عن هشام بن عروة، ‏‏‏‏عن أبيه، ‏‏‏‏عن ابن عمر، ‏‏‏‏قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "‏إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه "‏‏.‏ فذكر ذلك لعائشة فقالت وهل - تعني ابن عمر - إنما مر النبي صلى الله عليه وسلم على قبر فقال "‏إن صاحب هذا ليعذب وأهله يبكون عليه "‏‏.‏ ثم قرأت ‏‏‏‏{ولا تزر وازرة وزر أخرى ‏}‏ قال عن أبي معاوية على قبر يهودي ‏.‏
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلاشبہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔“ یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے بیان کی گئی، تو انہوں نے کہا: (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھول گئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تھے، تو فرمایا تھا ”بیشک یہ قبر والا عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی «ولا تزر وازرة وزر أخرى»”کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“ ہناد نے ابومعاویہ سے روایت کرتے ہوئے وضاحت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کی قبر کےپس سے گزرے تھے۔) قال الشيخ الألباني: صحيح،
لھذا یہ ایک ہی واقعہ ہے جسے راویوں کے اختصار نے آپ کےلئے معمہ بنادیا ،اور آپ اس حدیث سے زمینی قبر میں عذاب کا انکار کرنے لگے
میرا مشورہ ہے کہ آپ حدیث کا علم سیکھنے کےلئے کسی سچے اہل حدیث عالم کی صحبت اختیار کریں

محترم -

آپ کو یہی مشوره دیا جاتا ہے-

\ آپ حدیث کا علم سیکھنے کےلئے کسی سچے اہل حدیث عالم کی صحبت اختیار کریں-

حدیث الفاظ دوبارہ غور کریں -

حدثنا هناد بن السري، ‏‏‏‏عن عبدة، ‏‏‏‏وأبي، ‏‏‏‏معاوية - المعنى - عن هشام بن عروة، ‏‏‏‏عن أبيه، ‏‏‏‏عن ابن عمر، ‏‏‏‏قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "‏إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه "‏‏.‏ فذكر ذلك لعائشة فقالت وهل - تعني ابن عمر - إنما مر النبي صلى الله عليه وسلم على قبر فقال "‏إن صاحب هذا ليعذب وأهله يبكون عليه "‏‏.‏ ثم قرأت ‏‏‏‏{ولا تزر وازرة وزر أخرى ‏}‏ قال عن أبي معاوية على قبر يهودي ‏.‏


سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلاشبہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔“ یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے بیان کی گئی، تو انہوں نے کہا: (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھول گئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تھے، تو فرمایا تھا ”بیشک یہ قبر والا عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی «ولا تزر وازرة وزر أخرى»”کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“ ہناد نے ابومعاویہ سے روایت کرتے ہوئے وضاحت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کی قبر کےپس سے گزرے تھے۔) قال الشيخ الألباني: صحيح،

اس حدیث میں نبی کریم صل علیہ وآ له سلم فرمایا "إن صاحب هذا ليعذب وأهله يبكون" بیشک یہ قبر والا عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔“- اس میں کہیں نہیں ہے یہودی کو اسی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے-جس میں دفن ہے - صرف عذاب کی نسبت اس یہودی کی طرف ہے کہ اس صاحب قبر کو عذاب دیا جا رہا ہے -
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
داد دینی پڑے گی آپ کے فہم کی ۔۔۔۔حدیث کے واضح الفاظ ہیں کہ ۔پیارے نبی صلی اللہ علیہ خود قبر کے پاس کھڑے ہو کر فرمارہے ہیں ۔کہ اس قبر والے ۔کو عذاب دیا جارہا ہے ۔۔۔دیکھنے ،سننے والے بخوبی سمجھ رہے ہیں کہ جو آدمی اس قبر میں دفن ہے وہی عذاب میں مبتلا ہے ۔

جبکہ آپ کمال فہم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ،فرمارہے ہیں کہ" نہیں نہیں جس کو عذاب دیا جارہا وہ تو سرے سے اس قبر میں موجود ہی نہیں
سبحان اللہ ،،کیا کہنے !

اتنی عقل سے آپ قبر کا عذاب دیکھنا چاہتے ہیں ؟؟
اسی کو کہتے ہیں ((صم بکم عمی فہم لا ۔۔۔۔۔۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
جہاں تک آپ کے مشورہ در بابت صحبت عالم ربانی تو اس سے کلیۃ اتفاق ہے ۔
قرآن ہو یا حدیث ۔صرف اہل حدیث عالم ۔ سے سیکھا جا سکتا ہے ۔کسی ایم بی بی ایس ڈاکٹرسے نہیں ،
اور اگر حدیث کسی ایم بی بی ایس جا سمجھی تو نتیجہ یہ کہ ۔زمینی قبر آسمان کے کسی نامعلوم برزخ میں جا اٹکے گی !
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
اگر آپ کو اس حدیث میں موجود لفظ ۔۔( صاحب ہذا) سمجھ نہیں آیا ۔۔تو کیا ۔۔(‏إن الميت ليعذب ببكاء ) بھی نظر نہیں آیا ۔آپ کو اتنا بھی پتا نہیں کہ ۔۔میت ۔۔روح ۔۔یا ۔آپ کی برزخ ۔۔ میں موجود انسان کو ہرگز نہیں کہتے،،بلکہ قبر میں مدفون انسان کو کہا جاتاہے
اسی لئے میرا مکرر مشورہ ہے ۔آپ حدیث کسی ثقہ اہل الحدیث عالم سے پڑھیں،،
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
مجھے لگتا ہے کہ آپ کے پاس حدیث کی کوئی اصل کتاب کسی مستند عالم کی شرح کے ساتھ سرے سے موجود ہی نہیں ،،
آپ کو حدیث کبھی کبھی کسی سائیٹ پر نظر آجاتی ہے ،اسےپڑھ کر آپ اس کی عرق ریزی عثمانی ہتھیاروں سے شروع کردیتے ہیں
 
Top