الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
صبح صبح ایک خبر ملی استاذ محترم قاری محمد ایوب برماوی رحمہ اللہ انتقل الی رحمۃ ربہ
کل رات کو شیخ ایوب رحمہ اللہ کی آواز میں سورہ رحمن سن رہا تھا سینکڑوں مرتبہ سنی لیکن طبیعت سیر نہیں ہوتی معلوم نہ تھا کہ صبح صبح یہ خبر مل جائے گی
شیخ محترم سے تفسیر دو سمسٹر اور ذاتی طور پر قرآن مجید کے آخری دو اجزاء ان سے پڑھے
آخری پیریڈ میں ان سے درخواست کی کہ شیخ آج آخری حصہ ہے کچھ قرآن سننا چاہتے ہیں تو اس دن شفقت فرماتے ہوئے انہوں نے سورۃ الفاتحۃ پڑھنی شروع کی اور کلاس کے طلباء سانسیں روکے سن رہے تھے... سورۃ الفاتحۃ غالبا انہوں نے چار یا پانچ مرتبہ پڑھی جب ان کی تلاوت ختم ہوئی تو دیکھا کہ کھڑکی اور دروازے پر سننے والوں کا ہجوم تھا جس,میں ہمارے ایک استاد محترم شیخ عبدالرزاق العباد حفظہ اللہ بھی تھے
رحمہ اللہ.... اللھم ادخلہ فی الجنۃ الفردوس
شیخ رحمہ اللہ سے پہلا تعارف 1417 ھجری کے رمضان کی 21 ویں رات تھی اور قیام اللیل کے لیے ساتھیوں کے ہمراہ میں مسجد,نبوی میں موجود تھا ابتدائی چار رکعات شیخ علی عبدالرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے پڑھائی اور اس کے بعد لوگ نکلنے لگے میں بھی ساتھیوں کے ساتھ واپسی کی نیت سے باہر نکلا ابھی صحن مسجد نبوی تک ہی پہنچا تھا کہ ایک آواز سنائی دی... استووا... اور پھر جو کچھ دیکھا وہ بہت ہی حیران کن تھا آج بھی وہ منظر نگاہوں میں ہے لوگوں کی اکثریت واپس ہو رہی تھی اور مجھے میرے ساتھی کہنے لگے کہ فیض آؤ واپس چلتے ہیں اور واقعی وہ چار رکعت کا پتا ہی نہیں چلا کہ کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوئی. اتنی خوبصورت آواز میں قرآن سننے کا اتفاق نہیں ہوا تھا.
آج دو صدمات سے گزرنا پڑا ایک استاد محترم جنہیں رحمہ اللہ کہتے ہوئے ۔۔۔ اور دوسرا آج ہی ایک موحد عالم دین کا پہلا تعارف اور وہ بھی اس حالت میں پہلا اور اآخری تعارف ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ شیخ محترم میرے پسندیدہ قاری تھے