محدث فورم کے ایک معزز رکن جناب
ابن مبارک صاحب نے بھی اسی موضوع پر اپنے خیالات بذریعہ ای میل بھیجے ہیں۔ جو انہوں نے مجلس فورم پر بھی اسی سوال کے جواب کے طور پر لکھے ہیں۔ ملاحظہ کریں:
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله أما بعد!!
"وما آفة العلم إلا رواتها"
بھائی آپکو کس نے کہا ہے کہ حافط ابو یحی نور پوری حفظہ اللہ نے سفیان بن عیینہ کا سماع ابو اسحاق السبیعی سے اختلاط سے پہلے ہونے کا دعوی کیا ہے؟ بلکہ انہوں نے ۷۰ نمبر صفحہ پر یہ کہا ہے کہ:
"اسی طرح سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کا ابو اسحاق السبیعی سے آخر میں سننا کسی بھی معتبر ذریعے سے ثابت نہیں ، چہ جائیکہ اس پر اہل علم کا اتفاق ہو"
اور جس چیز کا انہوں نے دعوی کیا ہے وہ ہے سفیان بن سعید الثوری کا ابو اسحاق السبیعی سے سماع اختلاط سے پہلے کا ہے(ص ۶۸)۔ اور آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ سفیان بن عیینہ اور ہیں اور سفیان بن سعید الثوری اور ہیں۔
رہا معاملہ آپکے پیش کردہ سفیان بن عیینہ کے متعلق حوالہ جات کا تو عرض ہے کہ بھائی محدثین کی اصطلاحات کو اسی طرح بیان کیا جاتا ہے جیسے انہوں نے بتلائی ہیں خصوصا جرح و تعدیل کے مسائل میں ۔ چنانچہ لفظ "ثابت" اور "اختلاط" دونوں پر اعتراض ہے کہ الخلیلی کے علاوہ تمام ائمہ سے ثابت ہے بلکہ انہوں نے کسی سے نقل کیا ہے اور وہ بھی صیغہ تمریض کے ساتھ اور آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ نقل کرنا اور کسی پر حکم لگانا دونوں میں فرق ہے، اب آپ کے دیے ہوئے حوالہ جات کی طرف آتے ہیں:
الف: الخلیلی کا قول الباعث الحثیث سے ذکر کیا تو وہ یوں ہے:
(بعد ما ذكر من المختلطين فقال) وأبو إسحاق السَّبيعي، قال الحافظ أبو يعلى الخليلي: وإنما سمع ابن عُيينة منه بعد ذلك۔
ب، ج: تدریب الراوی میں تو نووی (اور سیوطی رحمہ اللہ دونوں شارح ہیں اصل قول ابن الصلاح کا ہے) نے کہا:
"ویقال : سماع ابن عیینۃ منہ بعد اختلاطہ" صیغہ تمریض کے ساتھ ۔
د:میزان الاعتدال میں سے ذہبی کا آپنے حوالہ دیا اس میں عبارت اس طرح ہے:
عمرو بن عبدالله [ ع ]، أبو إسحاق السبيعى، من أئمة التابعين بالكوفة وأثباتهم إلا أنه شاخ ونسى ولم يختلط، وقد سمع منه سفيان بن عيينة، وقد تغير قليلا. اور تدریب الراوی میں انکی عبارت یوں ہے: "سمع منہ وقد تغیر قلیلا"۔
بتائیں اس میں اختلاط کا کہاں تذکرہ ہے؟ جبکہ امام ذہبی نے
"تغیر قلیلا" کے لفظ استعمال کیے ہیں۔
ر: امام فسوی کا قول میزان الاعتدال میں اس طرح ہے:
وقال الفسوى: فقال بعض أهل العلم: كان قد اختلط، وإنما تركوه مع ابن عيينة لاختلاطه.بتائیں اس میں انکی طرف سے کیا ان پر اختلاط کا حکم لگایا گیا ہے؟ یا صرف نقل کیا ہے؟
س: امام ابن معین کی عبارت میزان الاعتدال میں یوں ہے:
قال يحيى بن معين سمع منه ابن عيينة بعدما تغير.
بتائیں اس میں اختلاط کا کہاں تذکرہ ہے؟
جبکہ ابن معین نے اپنی تاریخ میں انکے بارے میں کہا کہ:
"کان ابا اسحاق شبیہا بالمختلط"
ص: ابن الصلاح کی عبارت کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تدریب الراوی انہی کے مقدمہ کی علمی نسل ہے۔
تو ان سب حوالہ جات میں واضح موجود ہے کہ ابو اسحاق مختلط نہیں تھے بلکہ حافظہ میں کچھ تغیر آگیا تھا۔
باقی رہا یہ معاملہ کہ ابن عیینہ کا سماع کب کا ہے تو محترم بھا ئی سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کا سماع ابو اسحاق السبیعی سے بڑھاپے کا ہے ، جیسا کہ ان کا اپنا قول ہے کہ:
قال ابن عدي في الكامل في ضعفاء الرجال: حدثنا الحسين بن عياض ، حدثنا إبراهيم بن أبى داود قال يحيى بن معين سمعت حميد عن عبد الرحمن الرؤاسي يقول : سمعت بن عيينة يقول حمل بنو أبي إسحاق السبيعي أبا إسحاق على حمار إلى الحيرة لياخذ عطاءه فأحدث على الحمار من الكبر فردوه من الطريق.
قال ابن عيينة ، وإنما سمعت انا منه بعد ذلك.
الكامل في ضعفاء الرجال، ترجمۃ يونس بن أبي إسحاق السبيعي الكوفي (وهو ابن أبي إسحاق الكوفي)8-525، رقم الترجمۃ: 2058
اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ انہوں نے بڑھاپے میں ان سے سنا جسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اختلاط کے بعد سنا ۔
اس کے بعد جامعہ ام القری مکہ المکرمہ میں ایک طالب علم احمد بن سعد بن احمد آل غرم الغامدی نے ڈاکٹر وصی اللہ بن محمد عباس کی نگرانی میں ماسٹر کی ڈگری کیلئے تحقیقی مقالہ پیش کیا جس میں انہوں نے ابو اسحاق السبیعی کی تمام روایات کو کتب ستہ اور مسند احمد سے جمع کیا اور ان پر تحقیق کی جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں:
وأما سماع ابن عيينة منه فان من نص على اختلاط أبي اسحاق قرر أن ابن عيينة سمع منه بعد ذلك، ولقد عرضت مرويات سفيان بن عيينة عن أبي إسحاق على مرويات غيره من القدماء فلم أجده مخالفا لهم فكانت كلها التي في السنن والمسند مستقيمة إلا حديثا واحدا مما يجعلني أجزم أن أبا إسحاق إنما شاخ ونسي أو كبر وتغير قليلا ولم يختلط قط. انتهى!
أحاديث أبي إسحاق السبيعي في الكتب الستة والمسند (جمعا ودراسة) لأحمد بن سعد بن أحمد آل غرم الغامدي (1/80)
تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابو اسحاق سے ابن عیینہ نے جتنی روایات کی ہیں کتب ستہ اور مسند احمد میں سب کی سب مقبول ہیں سوائے ایک روایت کے۔
واللہ اعلم بالصواب