وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حدیثِ «
الوَائِدَةُ وَالمَوْءُودَةُ فِي النَّار» میں "
مَوْءُودَة" سے مراد مشرک کی بچی ہے ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں قاضی عیاض کا قول نقل کیا:
قَالَ الْقَاضِي: كَانَتِ الْعَرَبُ فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ يَدْفِنُونَ الْبَنَاتِ حَيَّةً، فَالْوَائِدَةُ فِي النَّارِ لِكُفْرِهَا وَفِعْلِهَا، وَالْمَوْءُودَةُ فِيهَا لِكُفْرِهَا. وَفِي الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى تَعْذِيبِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ
قاضی (عیاض) نے کہا: عرب زمانہ جاہلیت میں اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔ پس بیٹی کو دفن کرنے والی عورت (وَائِدَة) اپنے کفر اور اس فعل کی وجہ سے جہنم میں جائے گی، اور زندہ دفن کی جانے والی لڑکی (مَوْءُودَة) بھی اپنے کفر کی وجہ سے جہنم میں ہوگی۔ اور اس حدیث میں مشرکین کے بچوں کے عذاب پر دلیل موجود ہے۔
[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج : ١، ص : ١٨٦]
یعنی جاہلیت والے عرب کافر تھے، اور ان کی اولاد بھی دینِ والدین پر ہوتی تھی۔ لہٰذا جس عورت نے بچی کو دفن کیا وہ کفر اور ظلم کی وجہ سے جہنم میں! جس بچی کو دفن کیا گیا وہ بھی والدین کے دین (کفر) پر ہونے کے سبب جہنم میں! کیونکہ کافر کے بچوں کا حکم ان کے والدین کے دین کے ساتھ منسلک ہے۔
اسی موقف کو حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بھی واضح کیا:
➊ کفار کی اولاد کا وہی حکم ہے جو ان کے والدین کا ہے۔
➋ اگر کوئی کافر مظلوم مارا جائے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ جنت میں جائے گا۔
➌ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ ایک معین شخص کے بارے میں خاص واقعہ ہے۔ «والله اعلم»
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، ص : ١٥٩]
یعنی اگر والدین مشرک ہوتے ہیں تو ان کی اولاد بھی دنیا و آخرت میں ان کے تابع سمجھی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین کے بچے جنت میں نہیں جائیں گے۔ ان کا حکم آخرت میں بھی والدین کے تابع رہے گا۔
بہرحال حدیثِ «
الوَائِدَةُ وَالمَوْءُودَةُ فِي النَّار» کی دوسری توجیہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے یہ ذکر کی ہے الوَائِدَة سے مراد ”دائی“ (قابِلہ) المَوْءُودَة سے مراد ”بچی کی ماں“
وَقَدْ تُؤَوَّلُ الْوَائِدَةُ بِالْقَابِلَةِ لِرِضَاهَا بِهِ، وَالْمَوْءُودَةُ بِالْمَوْءُودَةِ لَهَا، وَهِيَ أُمُّ الطِّفْلِ، فَحُذِفَتِ الصِّلَةُ إِذْ كَانَ مِنْ دَيْدَنِهِمْ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَخَذَهَا الطَّلْقُ حَفَرُوا لَهَا حُفْرَةً عَمِيقَةً فَجَلَسَتِ الْمَرْأَةُ عَلَيْهَا، وَالْقَابِلَةُ وَرَاءَهَا تَرْقُبُ الْوَلَدَ، فَإِنْ وَلَدَتْ ذَكَرًا أَمْسَكَتْهُ، وَإِنْ وَلَدَتْ أُنْثَى أَلْقَتْهَا فِي الْحُفْرَةِ، وَأَهَالَتِ التُّرَابَ عَلَيْهَا
اور ایک تاویل یہ بھی کی گئی ہے کہ "وَائِدَة" (دفن کرنے والی) سے مراد قَابِلَة یعنی دائی ہے، کیونکہ وہ اس فعل پر راضی ہوتی تھی۔ اور "مَوْءُودَة" سے مراد وہ عورت ہے جس کے لیے بچی کو دفن کیا جاتا تھا یعنی بچی کی ماں۔ پس صلہ کو حذف کر دیا گیا ہے؛ کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہ تھا کہ جب کسی عورت کو دردِ زہ شروع ہوتا تو اس کے لیے ایک گہرا گڑھا کھودتے، اور عورت اس گڑھے کے کنارے بیٹھتی، جبکہ قابلہ اس کے پیچھے کھڑی ہوکر بچے کے نکلنے کا انتظار کرتی۔ پھر اگر بچہ لڑکا پیدا ہوتا تو اسے بچا لیتے، اور اگر لڑکی پیدا ہوتی تو اسے اسی گڑھے میں پھینک دیتے اور اس پر مٹی ڈال کر دفن کر دیتے۔
[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج : ١، ص : ١٨٦]
یہ تاویل الفاظ کی وضاحت کے لیے ہے، مگر حکم پہلے ہی بیان ہو چکا کہ یہ سب لوگ کفر پر ہونے کے سبب جہنم کے مستحق ہیں۔
کچھ اہلِ علم نے یہ بھی لکھا کہ یہ حدیث کسی خاص قبیلے یا خاندان کے معین واقعے سے متعلق ہے، جیسا کہ حافظ زئی رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ "یہ ایک معین شخص کے بارے میں خاص واقعہ ہے۔ وَاللّٰہُ أَعْلَم"
لیکن اس تاویل سے اصل حکم متأثر نہیں ہوتا، کیونکہ حدیث کا عمومی مفہوم برقرار رہتا ہے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فَجَوَابُهُ: أَنَّ العِبْرَةَ بِعُمُومِ اللَّفْظِ لَا بِخُصُوصِ السَّبَبِ
اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی حکم کی بنیاد لفظ کے عموم پر ہوتی ہے، نہ کہ سبب کے خاص ہونے پر۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بعض علماء نے یہ احتمال ذکر کیا کہ یہ حدیث شاید کسی ایک مخصوص شخص یا خاندان کے حوالے سے ہو، لیکن حدیث کے الفاظ عام ہیں "
الوائدة والموؤدة" جو ہر اس عورت اور ہر اس بچی پر لاگو ہوتے ہیں جو جاہلیت میں اس عمل کا حصہ تھیں۔
لہٰذا حکم مخصوص واقعے تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ لفظ کے عموم کی وجہ سے یہ حکم تمام مشرکین کے بچوں پر منطبق ہوتا ہے، جیسا کہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اس سے أطفالِ مشرکین کے عذاب پر استدلال کیا ہے۔
ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَفِي الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى تَعْذِيبِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ یعنی
اس حدیث میں مشرکین کے بچوں کے عذاب پر واضح دلیل موجود ہے۔ [مرقاة المفاتیح]
والله أعلم بالصواب و علمه أتم، والسلام