• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فیچرز حدیث "الوائدة والموؤدة فی النار" کی علمی وضاحت — معصوم بچی کے جہنم میں ذکر کا معنی

شمولیت
دسمبر 09، 2025
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
3
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الوائدة والموؤدة فِي النَّار . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
حدیثِ نبوی "الوائدة والموؤدة فی
النار" میں یہ بیان ہوا ہے کہ زندہ درگور کرنے والی عورت اور زندہ درگور کی جانے والی بچی—دونوں جہنم میں جائیں گی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بچی تو معصوم ہے اور اس نے کوئی گناہ نہیں کیا، تو پھر حدیث میں دونوں کے بارے میں جہنم کا ذکر کیوں آیا؟ اس کی شرح اور علما کے اقوال کی روشنی میں وضاحت کریں۔
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حدیثِ «الوَائِدَةُ وَالمَوْءُودَةُ فِي النَّار» میں "مَوْءُودَة" سے مراد مشرک کی بچی ہے ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں قاضی عیاض کا قول نقل کیا:

قَالَ الْقَاضِي: كَانَتِ الْعَرَبُ فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ يَدْفِنُونَ الْبَنَاتِ حَيَّةً، فَالْوَائِدَةُ فِي النَّارِ لِكُفْرِهَا وَفِعْلِهَا، وَالْمَوْءُودَةُ فِيهَا لِكُفْرِهَا. وَفِي الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى تَعْذِيبِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ

قاضی (عیاض) نے کہا: عرب زمانہ جاہلیت میں اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔ پس بیٹی کو دفن کرنے والی عورت (وَائِدَة) اپنے کفر اور اس فعل کی وجہ سے جہنم میں جائے گی، اور زندہ دفن کی جانے والی لڑکی (مَوْءُودَة) بھی اپنے کفر کی وجہ سے جہنم میں ہوگی۔ اور اس حدیث میں مشرکین کے بچوں کے عذاب پر دلیل موجود ہے۔


[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج : ١، ص : ١٨٦]

IMG-20251211-WA0001.jpg

IMG-20251211-WA0000.jpg

یعنی جاہلیت والے عرب کافر تھے، اور ان کی اولاد بھی دینِ والدین پر ہوتی تھی۔ لہٰذا جس عورت نے بچی کو دفن کیا وہ کفر اور ظلم کی وجہ سے جہنم میں! جس بچی کو دفن کیا گیا وہ بھی والدین کے دین (کفر) پر ہونے کے سبب جہنم میں! کیونکہ کافر کے بچوں کا حکم ان کے والدین کے دین کے ساتھ منسلک ہے۔

اسی موقف کو حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بھی واضح کیا:

➊ کفار کی اولاد کا وہی حکم ہے جو ان کے والدین کا ہے۔
➋ اگر کوئی کافر مظلوم مارا جائے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ جنت میں جائے گا۔
➌ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ ایک معین شخص کے بارے میں خاص واقعہ ہے۔ «والله اعلم»

[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، ص : ١٥٩]

IMG-20251211-WA0003.jpg

IMG-20251211-WA0002.jpg

یعنی اگر والدین مشرک ہوتے ہیں تو ان کی اولاد بھی دنیا و آخرت میں ان کے تابع سمجھی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین کے بچے جنت میں نہیں جائیں گے۔ ان کا حکم آخرت میں بھی والدین کے تابع رہے گا۔

بہرحال حدیثِ «الوَائِدَةُ وَالمَوْءُودَةُ فِي النَّار» کی دوسری توجیہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے یہ ذکر کی ہے الوَائِدَة سے مراد ”دائی“ (قابِلہ) المَوْءُودَة سے مراد ”بچی کی ماں“

وَقَدْ تُؤَوَّلُ الْوَائِدَةُ بِالْقَابِلَةِ لِرِضَاهَا بِهِ، وَالْمَوْءُودَةُ بِالْمَوْءُودَةِ لَهَا، وَهِيَ أُمُّ الطِّفْلِ، فَحُذِفَتِ الصِّلَةُ إِذْ كَانَ مِنْ دَيْدَنِهِمْ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَخَذَهَا الطَّلْقُ حَفَرُوا لَهَا حُفْرَةً عَمِيقَةً فَجَلَسَتِ الْمَرْأَةُ عَلَيْهَا، وَالْقَابِلَةُ وَرَاءَهَا تَرْقُبُ الْوَلَدَ، فَإِنْ وَلَدَتْ ذَكَرًا أَمْسَكَتْهُ، وَإِنْ وَلَدَتْ أُنْثَى أَلْقَتْهَا فِي الْحُفْرَةِ، وَأَهَالَتِ التُّرَابَ عَلَيْهَا

اور ایک تاویل یہ بھی کی گئی ہے کہ "وَائِدَة" (دفن کرنے والی) سے مراد قَابِلَة یعنی دائی ہے، کیونکہ وہ اس فعل پر راضی ہوتی تھی۔ اور "مَوْءُودَة" سے مراد وہ عورت ہے جس کے لیے بچی کو دفن کیا جاتا تھا یعنی بچی کی ماں۔ پس صلہ کو حذف کر دیا گیا ہے؛ کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہ تھا کہ جب کسی عورت کو دردِ زہ شروع ہوتا تو اس کے لیے ایک گہرا گڑھا کھودتے، اور عورت اس گڑھے کے کنارے بیٹھتی، جبکہ قابلہ اس کے پیچھے کھڑی ہوکر بچے کے نکلنے کا انتظار کرتی۔ پھر اگر بچہ لڑکا پیدا ہوتا تو اسے بچا لیتے، اور اگر لڑکی پیدا ہوتی تو اسے اسی گڑھے میں پھینک دیتے اور اس پر مٹی ڈال کر دفن کر دیتے۔


[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج : ١، ص : ١٨٦]

یہ تاویل الفاظ کی وضاحت کے لیے ہے، مگر حکم پہلے ہی بیان ہو چکا کہ یہ سب لوگ کفر پر ہونے کے سبب جہنم کے مستحق ہیں۔

کچھ اہلِ علم نے یہ بھی لکھا کہ یہ حدیث کسی خاص قبیلے یا خاندان کے معین واقعے سے متعلق ہے، جیسا کہ حافظ زئی رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ "یہ ایک معین شخص کے بارے میں خاص واقعہ ہے۔ وَاللّٰہُ أَعْلَم"

لیکن اس تاویل سے اصل حکم متأثر نہیں ہوتا، کیونکہ حدیث کا عمومی مفہوم برقرار رہتا ہے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فَجَوَابُهُ: أَنَّ العِبْرَةَ بِعُمُومِ اللَّفْظِ لَا بِخُصُوصِ السَّبَبِ
اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی حکم کی بنیاد لفظ کے عموم پر ہوتی ہے، نہ کہ سبب کے خاص ہونے پر۔


اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بعض علماء نے یہ احتمال ذکر کیا کہ یہ حدیث شاید کسی ایک مخصوص شخص یا خاندان کے حوالے سے ہو، لیکن حدیث کے الفاظ عام ہیں "الوائدة والموؤدة" جو ہر اس عورت اور ہر اس بچی پر لاگو ہوتے ہیں جو جاہلیت میں اس عمل کا حصہ تھیں۔

لہٰذا حکم مخصوص واقعے تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ لفظ کے عموم کی وجہ سے یہ حکم تمام مشرکین کے بچوں پر منطبق ہوتا ہے، جیسا کہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اس سے أطفالِ مشرکین کے عذاب پر استدلال کیا ہے۔

ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَفِي الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى تَعْذِيبِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ یعنی اس حدیث میں مشرکین کے بچوں کے عذاب پر واضح دلیل موجود ہے۔ [مرقاة المفاتیح]

والله أعلم بالصواب و علمه أتم، والسلام
 
Last edited:

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
335
پوائنٹ
156
اس وضاحت سے دل ہرگز مطمئن نہیں ہوتا کیونکہ جب کسی کو عمل کا موقع ہی نہیں ملا تو اس کاجہنم میں جانا عقل سے بالاتر ہے۔یہاں تو بات ایک بے گنا ہ بچی کو زندہ دفن کرنے کی ہے جس میں وہ یقیناً بے قصور ہے۔ بلا وجہ اور بے گناہ زندہ دفن ہونے کے باوجود جہنم کا مستحق ہو جانا ظلم علی ظلم ہے۔
 
شمولیت
دسمبر 09، 2025
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
3
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حدیثِ «الوَائِدَةُ وَالمَوْءُودَةُ فِي النَّار» میں "مَوْءُودَة" سے مراد مشرک کی بچی ہے ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں قاضی عیاض کا قول نقل کیا:

قَالَ الْقَاضِي: كَانَتِ الْعَرَبُ فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ يَدْفِنُونَ الْبَنَاتِ حَيَّةً، فَالْوَائِدَةُ فِي النَّارِ لِكُفْرِهَا وَفِعْلِهَا، وَالْمَوْءُودَةُ فِيهَا لِكُفْرِهَا. وَفِي الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى تَعْذِيبِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ

قاضی (عیاض) نے کہا: عرب زمانہ جاہلیت میں اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔ پس بیٹی کو دفن کرنے والی عورت (وَائِدَة) اپنے کفر اور اس فعل کی وجہ سے جہنم میں جائے گی، اور زندہ دفن کی جانے والی لڑکی (مَوْءُودَة) بھی اپنے کفر کی وجہ سے جہنم میں ہوگی۔ اور اس حدیث میں مشرکین کے بچوں کے عذاب پر دلیل موجود ہے۔


[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج : ١، ص : ١٨٦]


یعنی جاہلیت والے عرب کافر تھے، اور ان کی اولاد بھی دینِ والدین پر ہوتی تھی۔ لہٰذا جس عورت نے بچی کو دفن کیا وہ کفر اور ظلم کی وجہ سے جہنم میں! جس بچی کو دفن کیا گیا وہ بھی والدین کے دین (کفر) پر ہونے کے سبب جہنم میں! کیونکہ کافر کے بچوں کا حکم ان کے والدین کے دین کے ساتھ منسلک ہے۔

اسی موقف کو حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بھی واضح کیا:

➊ کفار کی اولاد کا وہی حکم ہے جو ان کے والدین کا ہے۔
➋ اگر کوئی کافر مظلوم مارا جائے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ جنت میں جائے گا۔
➌ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ ایک معین شخص کے بارے میں خاص واقعہ ہے۔ «والله اعلم»

[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، ص : ١٥٩]

یعنی اگر والدین مشرک ہوتے ہیں تو ان کی اولاد بھی دنیا و آخرت میں ان کے تابع سمجھی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین کے بچے جنت میں نہیں جائیں گے۔ ان کا حکم آخرت میں بھی والدین کے تابع رہے گا۔

بہرحال حدیثِ «الوَائِدَةُ وَالمَوْءُودَةُ فِي النَّار» کی دوسری توجیہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے یہ ذکر کی ہے الوَائِدَة سے مراد ”دائی“ (قابِلہ) المَوْءُودَة سے مراد ”بچی کی ماں“

وَقَدْ تُؤَوَّلُ الْوَائِدَةُ بِالْقَابِلَةِ لِرِضَاهَا بِهِ، وَالْمَوْءُودَةُ بِالْمَوْءُودَةِ لَهَا، وَهِيَ أُمُّ الطِّفْلِ، فَحُذِفَتِ الصِّلَةُ إِذْ كَانَ مِنْ دَيْدَنِهِمْ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَخَذَهَا الطَّلْقُ حَفَرُوا لَهَا حُفْرَةً عَمِيقَةً فَجَلَسَتِ الْمَرْأَةُ عَلَيْهَا، وَالْقَابِلَةُ وَرَاءَهَا تَرْقُبُ الْوَلَدَ، فَإِنْ وَلَدَتْ ذَكَرًا أَمْسَكَتْهُ، وَإِنْ وَلَدَتْ أُنْثَى أَلْقَتْهَا فِي الْحُفْرَةِ، وَأَهَالَتِ التُّرَابَ عَلَيْهَا

اور ایک تاویل یہ بھی کی گئی ہے کہ "وَائِدَة" (دفن کرنے والی) سے مراد قَابِلَة یعنی دائی ہے، کیونکہ وہ اس فعل پر راضی ہوتی تھی۔ اور "مَوْءُودَة" سے مراد وہ عورت ہے جس کے لیے بچی کو دفن کیا جاتا تھا یعنی بچی کی ماں۔ پس صلہ کو حذف کر دیا گیا ہے؛ کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہ تھا کہ جب کسی عورت کو دردِ زہ شروع ہوتا تو اس کے لیے ایک گہرا گڑھا کھودتے، اور عورت اس گڑھے کے کنارے بیٹھتی، جبکہ قابلہ اس کے پیچھے کھڑی ہوکر بچے کے نکلنے کا انتظار کرتی۔ پھر اگر بچہ لڑکا پیدا ہوتا تو اسے بچا لیتے، اور اگر لڑکی پیدا ہوتی تو اسے اسی گڑھے میں پھینک دیتے اور اس پر مٹی ڈال کر دفن کر دیتے۔


[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج : ١، ص : ١٨٦]

یہ تاویل الفاظ کی وضاحت کے لیے ہے، مگر حکم پہلے ہی بیان ہو چکا کہ یہ سب لوگ کفر پر ہونے کے سبب جہنم کے مستحق ہیں۔

کچھ اہلِ علم نے یہ بھی لکھا کہ یہ حدیث کسی خاص قبیلے یا خاندان کے معین واقعے سے متعلق ہے، جیسا کہ حافظ زئی رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ "یہ ایک معین شخص کے بارے میں خاص واقعہ ہے۔ وَاللّٰہُ أَعْلَم"

لیکن اس تاویل سے اصل حکم متأثر نہیں ہوتا، کیونکہ حدیث کا عمومی مفہوم برقرار رہتا ہے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فَجَوَابُهُ: أَنَّ العِبْرَةَ بِعُمُومِ اللَّفْظِ لَا بِخُصُوصِ السَّبَبِ
اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی حکم کی بنیاد لفظ کے عموم پر ہوتی ہے، نہ کہ سبب کے خاص ہونے پر۔


اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بعض علماء نے یہ احتمال ذکر کیا کہ یہ حدیث شاید کسی ایک مخصوص شخص یا خاندان کے حوالے سے ہو، لیکن حدیث کے الفاظ عام ہیں "الوائدة والموؤدة" جو ہر اس عورت اور ہر اس بچی پر لاگو ہوتے ہیں جو جاہلیت میں اس عمل کا حصہ تھیں۔

لہٰذا حکم مخصوص واقعے تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ لفظ کے عموم کی وجہ سے یہ حکم تمام مشرکین کے بچوں پر منطبق ہوتا ہے، جیسا کہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اس سے أطفالِ مشرکین کے عذاب پر استدلال کیا ہے۔

ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَفِي الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى تَعْذِيبِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ یعنی اس حدیث میں مشرکین کے بچوں کے عذاب پر واضح دلیل موجود ہے۔ [مرقاة المفاتیح]

والله أعلم بالصواب و علمه أتم، والسلام
 
شمولیت
دسمبر 09، 2025
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
3
جب حدیث میں وارد ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے تو پھر وہ مشرک کیسے
حدیث ملاحظہ ہو
صحیح بخاری
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: باب: ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 1358

حدیث نمبر: 1358
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ شِهَابٍ :‏‏‏‏ يُصَلَّى عَلَى كُلِّ مَوْلُودٍ مُتَوَفًّى، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ لِغَيَّةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ يَدَّعِي أَبَوَاهُ الْإِسْلَامَ أَوْ أَبُوهُ خَاصَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَتْ أُمُّهُ عَلَى غَيْرِ الْإِسْلَامِ إِذَا اسْتَهَلَّ صَارِخًا صُلِّيَ عَلَيْهِ وَلَا يُصَلَّى عَلَى مَنْ لَا يَسْتَهِلُّ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ سِقْطٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، ‏‏‏‏‏‏هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا سورة الروم آية 30.

ترجمہ:
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ابن شہاب ہر اس بچے کی جو وفات پا گیا ہو نماز جنازہ پڑھتے تھے۔ اگرچہ وہ حرام ہی کا بچہ کیوں نہ ہو کیونکہ اس کی پیدائش اسلام کی فطرت پر ہوئی۔ یعنی اس صورت میں جب کہ اس کے والدین مسلمان ہونے کے دعویدار ہوں۔ اگر صرف باپ مسلمان ہو اور ماں کا مذہب اسلام کے سوا کوئی اور ہو جب بھی بچہ کے رونے کی پیدائش کے وقت اگر آواز سنائی دیتی تو اس پر نماز پڑھی جاتی۔ لیکن اگر پیدائش کے وقت کوئی آواز نہ آتی تو اس کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ بلکہ ایسے بچے کو کچا حمل گر جانے کے درجہ میں سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح تم دیکھتے ہو کہ جانور صحیح سالم بچہ جنتا ہے۔ کیا تم نے کوئی کان کٹا ہوا بچہ بھی دیکھا ہے؟ پھر ابوہریرہ ؓ نے اس آیت کو تلاوت کیا۔ فطرة الله التي فطر الناس عليها‏‏‏ الآية‏ یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔
 
شمولیت
دسمبر 09، 2025
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
3
جب حدیث میں وارد ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے تو پھر وہ مشرک کیسے
حدیث ملاحظہ ہو
صحیح بخاری
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: باب: ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 1358

حدیث نمبر: 1358
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ شِهَابٍ :‏‏‏‏ يُصَلَّى عَلَى كُلِّ مَوْلُودٍ مُتَوَفًّى، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ لِغَيَّةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ يَدَّعِي أَبَوَاهُ الْإِسْلَامَ أَوْ أَبُوهُ خَاصَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَتْ أُمُّهُ عَلَى غَيْرِ الْإِسْلَامِ إِذَا اسْتَهَلَّ صَارِخًا صُلِّيَ عَلَيْهِ وَلَا يُصَلَّى عَلَى مَنْ لَا يَسْتَهِلُّ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ سِقْطٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، ‏‏‏‏‏‏هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا سورة الروم آية 30.

ترجمہ:
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ابن شہاب ہر اس بچے کی جو وفات پا گیا ہو نماز جنازہ پڑھتے تھے۔ اگرچہ وہ حرام ہی کا بچہ کیوں نہ ہو کیونکہ اس کی پیدائش اسلام کی فطرت پر ہوئی۔ یعنی اس صورت میں جب کہ اس کے والدین مسلمان ہونے کے دعویدار ہوں۔ اگر صرف باپ مسلمان ہو اور ماں کا مذہب اسلام کے سوا کوئی اور ہو جب بھی بچہ کے رونے کی پیدائش کے وقت اگر آواز سنائی دیتی تو اس پر نماز پڑھی جاتی۔ لیکن اگر پیدائش کے وقت کوئی آواز نہ آتی تو اس کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ بلکہ ایسے بچے کو کچا حمل گر جانے کے درجہ میں سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح تم دیکھتے ہو کہ جانور صحیح سالم بچہ جنتا ہے۔ کیا تم نے کوئی کان کٹا ہوا بچہ بھی دیکھا ہے؟ پھر ابوہریرہ ؓ نے اس آیت کو تلاوت کیا۔ فطرة الله التي فطر الناس عليها‏‏‏ الآية‏ یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
335
پوائنٹ
156
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ‎﴿٨﴾‏ بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ ‎﴿٩﴾
ترجمہ: اور جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے کہ کس گناہ پر ماری گئی تھی ۔(التکویر-۸تا۹)
ان آیات کی موجودگی میں زندہ درگور کی جانے والی بچی کا جہنم میں جانے والی بات کالعدم ہو جاتی ہے۔
 
Top