بغیر دلیل کہ جو بھی ضعیف قرار دے قبول نہیں۔ان صاحب کا مسلک جو بھی ہے ان کی جرح مبہم ہے جو مردود ہے۔
“دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے"
لنک کھولنے کی توفیق کرلیتے تو شاید یہ بھی نہ لکھ پاتے، آپ کے ہی
حنفی بریلوی کی تحقیق موجود ہے، ملاحظہ فرمائیں:
امام طبرانی فرماتے ہیں:
لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ إِلَّا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ: رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ.
اس حدیث کو عاصم احول رضی اللہ عنہ کے طریق سے سوائے امام سفیان ثوری رضی اللہ عنہ کے کسی نے روایت نہیں کیا،
روح بن صلاح اس میں منفرد ہیں۔
ابونعیم احمد بن عبداللہ اصبھانی فرماتے ہیں کہ:
غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمٍ وَالثَّوْرِيِّ، لَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رَوْحِ بْنِ صَلَاحٍ، تَفَرَّدَ بِهِ.
حضرت عاصم اور سفیان ثوری رضی اللہ عنھما سے یہ حدیث غریب ہے، ہم نے سوائے روح بن صلاح کے طریق کے اور کسی سے یہ حدیث نہیں لکھی۔
علی بن ابی بکر ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے، اس میں روح بن صلاح ہے اور اس کو امام ابنِ حبان اور امام حاکم رحمۃ اللہ علیہما نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔
اس حدیث میں ضعف ہے اور اس کے باقی رجال صحیح ہیں۔
طبرانی، المعجم الاوسط، 1: 67، رقم: 189، القاهرة، دارالحرمين
ابونعيم، حلية الاولياء، 3: 121، بيروت، دارالکتاب العربی
خيثمی، مجمع الزوائد، 9: 257، بيروت،القاهرة، دارالکتب
مفتی تعارف
یہ فتویٰ جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کے مستند علمائے کرام نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی نگرانی میں جاری کیا ہے۔ تمام فتاویٰ کو قرآن و سنت کی روشنی میں تحقیق و تنقیح کے بعد جاری کیا جاتا ہے تاکہ اسلامی تعلیمات کی سچی اور قابلِ اعتماد رہنمائی عوام تک پہنچ سکے۔