• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیس پینس کا اسلام حقیقت یا الزام؟

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
السلام علیکم

لندن سے امام مسجد کے نام سے بنائی گئی سٹوری ٢٠٠٤ سے انگلش میں شروع ہوئی ہو سکتا ھے اس سے پہلے شروع ہوئی ہو مگر یہیں تک کافی ھے۔ پھر اس کے بعد یہ امریکہ کے کسی امام سے بھی نشر ہوئی، اس پر شمار جگہوں پرلندن اور امریکہ سے یہ کہانی مل سکتی ھے۔

اپریل ٢٠٠٤ سے مارچ ٢٠١٣ یہ تقریباً ٩ سال بنتے ہیں۔


06-05-04, 10:27 PM

[SUP] BE HONEST IN YOUR LIFE..ALWAYS, AND AT ANY AGE

Several years ago an imaam moved to London. He often
took the bus from his home to the downtown area. Some
weeks after he arrived, he had occasion to ride the
same bus. When he sat down, he discovered that the
driver had accidentally given him twenty pence too
much change.
[/SUP]
Story

یہی سٹوری برطانیہ میں ٢٠ پینس اور امریکہ میں کوارٹر ڈالر سے۔

[SUP]Oh ALLAH, I almost sold you for a quarter

I just got this and I wanted to make sure to share it

Brothers and sisters in Islam,

Several years ago, an Imam from out-of-state accepted a call to a Mosque in Houston, Texas.

Some weeks after he arrived, he had an occasion to ride the bus from his home to the downtown area. When he sat down, he discovered that the driver had accidentally given him a quarter too much change. [/SUP]

Story
Story



ایک اندازہ سے یہی سٹوری ٢٠١١ سے ٹرانسلیٹ کر کے اردو میں کچھ اسطرح نشر ہوتی رہی جیسی نیچے کوٹ میں ھے۔

بیس پیسے کا اسلام


[SUP]سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُن کا معمول بن گیا۔ لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لے کر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔ امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں ۔پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو۔ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا ؟ میں چپ ہی رہتا ہوں۔ بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛
یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔

ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛ کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟

میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر آپ کو آزمانے کے لیے زیادہ دیئے تھے تاکہ آپ کا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ اور دیانت داری پرکھ سکوں۔ امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترے، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی،
یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔

قابل توجہ :

ہم لوگ کبھی اپنے افعال پر لوگوں کے رد فعل کی پرواہ نہیں کرتے , ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ بعض اوقات لوگ صرف زبانی دعوت اور قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جاننے کے بجائے ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہیں۔ ہم لوگ اللہ کے پسندید مذہب اسلام کے نمائندے ہیں, ہمیں دوسروں کیلئے ایک اچھی مثال پیش کرنی ہوگی اور اپنے معاملات صاف اور کھرے رکھنے ہوں گے۔۔یہ ہی ذہن میں رکھ کرکہ کہیں کوئی ہمارے رویوں کے تعاقب میں تو نہیں ؟ کوئی ہمارے شخصی تصرف کو سب مسلمانوں کی مثال نہ سمجھ بیٹھے۔یا اسلام کی تصویر ہمارے تصرفات اور رویئے کے مُطابق ذہن میں نہ بٹھا لے!!! اور ہم اسکی دین حق سے دوری کی وجہ بن کر اپنے ساتھ اسے بھی ہمیشہ کی جہنم کا حق دار بنادیں۔

نوٹ:
بالا سطور کی صحت کا تو علم نہیں، لیکن ایک فکر موجود ہے، جس وجہ سے شیئر کی گئی ہیں۔[/SUP]

حوالہ

مئی ٢٠١٢ میں یہی سٹوری بہت سی تبدیلیوں کے ساتھ سامنے آئی بڑی تبدیلی یہ کہ جو ڈرائیور تھا وہ اب خاتون ڈرائیور بن گئی۔ اس کا بھی مطالعہ بہت مفید رہے گا۔


بیس پینس کی ایمانداری: لندن کی سفید فام خاتون نے امام مسجد سے شادی کرلی​

MAY 5, 2012 02:37

[SUP]میرا نام محمد اسحاق ہے اور میں لندن کے مضافات میں ایک مسجد کا امام ہوں۔ سالوں پہلے کی بات ہے میں پاکستان میں روزگار کے لئے دھکے کھا رہا تھا کہ اچانک ایک صاحب نے مجھے لندن جانے کا راستہ دکھایا۔ دراصل ہوا یہ کہ میں کراچی میں ایک صاحب کے بچوں کو گھر پر قرآن پاک پڑھانے جاتا تھا۔ یہ برطانوی شہری تھے اور لندن میں ان کے کافی رشتہ دار مو جود تھے۔ انہیں وہاں اپنی مسجد کے لئے ایک امام کی ضرورت پڑی تو اپنے بھائی سے کہا کہ پاکستان سے کوئی اچھا سا عالم دین بھیج دیں اور اس طرح میری لاٹری کھل گئی اور میں لندن پہنچ گیا۔
مجھے روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا پڑتا تھا۔

لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ اب جو میں بتانے جا رہا ہوں وہ بلکل سچا واقعہ ہے اور میرے ساتھ پیش آیا۔

ایک مرتبہ میں بس پر سوار ہوا، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گیا۔ سفید فام خاتون ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔

میں سوچ میں پڑ گیا، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس اترتے ہوئے خاتون ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو، اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے!!!

ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا؟ اور میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں ویسے بھی میں غریب ہوں اور ان پیسوں پر میرا حق ہے۔

بس میرے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو میں فیصلہ کر چکا تھا کہ نہیں یہ رقم میں نہیں رکھ سکتا اور یہ میرے لئے اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے کہ میں حرام کھاتا ہوں یا نہیں۔

میں نے اُترنے سے پہلے خاتون ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔

خاتون ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛ کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کو دیکھ رہی ہوں اور کچھ لوگوں سے آپ کے بارے میں پوچھا بھی تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ ہاں میں ہی اس علاقے کی مسجد کا نیا امام ہوں۔ اس پر وہ بولی کہ میں آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں
معلومات لینا چاہ رہی تھی کیا آپ کو اس پر کوئی اعتراض ہو گا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر تمہیں زیادہ دیئے تھے تاکہ تمہارا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں اور یہ جان سکوں کہ تم کتنے ایماندار ہو۔ اگر تم بیس پنس کے معاملے میں بے ایمانی کرتے تو پھر مذہب اور عقیدے اور خدا کے بارے میں تم پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ تم ایماندار ہو اور میں تم سے روحانی رہنمائی لے سکتی ہوں۔ میں نے اسے جیسے تیسے کر کے مسجد آنے کا وقت بتایا اور بس سے نیچے اتر آیا۔

جیسے ہی بس سے نیچے اُترا، مجھے ایسے لگا جیسے ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔ اگر اس ایک لمحے میں مجھے پر شیطان غالب آجاتا تو آج ایک سفید فام انگریز خاتون میرے فعل کو اسلام سے جوڑ کر اسے ہی غلط سمجھ بیٹھتی۔ مجھے ایسے لگا کہ شاید میں مر گیا تھا اور جہنم کے دروازے سے اچانک ہی مجھے واپس بلا لیا گیا ہو۔

جب میں مسجد پہنچا تو شدید سردی میں بھی پسینے سے شرابور تھا اور مسجد کے ساتھیوں نے میری پیشانی سے پسینہ بہتے دیکھ خیریت پوچھی مگرمیں انہیں کیا بتاتا۔ بہر حال بعد میں وہ انگریز خاتون ڈرائیور میرے پاس آئی اور کئ بار آئی۔ کچھ ماہ بعد اس نے اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ پھر میں نے اسے نکاح کی اہمیت کے بارے میں بتایا تو اس نے براہ راست مجھ سے سوال کرلیا۔ کیا تم مجھ سے نکاح کرو گے؟ میں اسے پہلے ہی بتا چکا تھا کہ کس طرح حضرت خدیجہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود نکاح کا پیغام بھیجا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول بھی کرلیا تھا۔ یہ واقعہ میں نے اسے عورتوں کی اسلام میں آزادی اور حقوق کے حوالے سےسنایا تھا اور اب وہ خود میرے سامنے شادی کی پیشکش کررہی تھی۔ گو کہ میں شادی شدہ تھا اور میری بیوی بھی میرے ساتھ ہی لندن میں رہتی تھی مگر میں نے اسے سوچنے کی مہلت دینے کو کہا ۔ میں نے اپنی بیوی اور ساتھیوں سے مشورہ کیا تو سب نے یہی کہا کہ مجھے یہ پیشکش اسلام کے لئے قبول کرلینی چاہیے اور میں نے اگلے دن ایسا ہی کیا۔ یہ تقریبا دس سال قبل کی بات ہے اور اب تو میرے اس سفید فام نو مسلم بیوی سے چار بچے بھی ہیں۔ اگر کبھی آپ لندن میں بس سے سفر کریں اور اس کی سفید فام خاتون ڈرائیور کو اچھی طرح اسکارف اوڑھے دیکھیں تو سمجھ جائے گا کہ وہ میری ہی بیوی ہے۔ ہم دونوں کی ہی عمر اب چالیس سال ہو چکی ہے اور بہت جلد میری بیوی بس ڈرائیور کی ملازمت چھوڑ کر اسلامی کتب کی ایک دکان کھولنے والی ہے۔ اگر آپ لندن میں رہتے ہیں تو ہماری دکان پر ضرور آئے گا اس رمضان میں۔ ہاں ایک بات اور، میں نے اپنی اس سفید فام بیوی کو آج تک نہیں بتایا کہ کرائے کی بیس پینس ہضم کرنے کے لئے میں بہت دیر تک سوچتا رہا تھا۔ آپ بھی انہیں مت بتائے گا۔[/SUP]

حوالہ
اس پر تبصرہ کرنے کے لئے کچھ نہیں سب سامنے ھے پھر بھی آگے چل کر کچھ اور باتوں پر تبصرہ ضرور کروں گا۔

[SUP](جاری ھے)[/SUP]
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
ٹیکسی ڈرائیورز

السلام علیکم

دبئی سے دو ٹیکسی ڈرائیور



متحدہ عرب امارات میں ایماندار پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے 40 ہزار ڈالر کی رقم اور ساڑھے نو کلو سونا
مالک کو واپس لوٹا کر ایمانداری کی شاندار مثال قائم کر دی​

دبئی ۔ 11 مئی (اے پی پی) متحدہ عرب امارات میں ایماندار پاکستانی ڈرائیور نے راتوں رات امیر بننے کی بجائے 40 ہزار ڈالر کی رقم اور ساڑھے نو کلو سونا مالک کو واپس لوٹا کر شاندار مثال قائم کر دی۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے شہر پشاور سے تعلق رکھنے والا ٹیکسی ڈرائیور رامین خان مشہد محنت مزدوری کیلئے دو برس قبل متحدہ عرب امارات گیا تھا جہاں اس نے عربیہ ٹیکسی کمپنی میں ملازمت اختیار کر لی۔ رامین خان کی ٹیکسی میں گزشتہ دنوں ایک چینی باشندہ اپنا سامان بھول گیا جسے کھول کر دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اس میں ساڑھے نو کلو گرام سونا اور چالیس ہزار امریکی ڈالر موجود ہیں۔ رامین خان کا ایمان اتنی بڑی رقم اور سونا دیکھ کر بھی متزلزل نہ ہوا اور اس نے فوراً یہ سارا سامان اپنی کمپنی کے حکام کے پاس جمع کرا دیا۔ کمپنی نے سامان کے مالک کو تلاش کر کے یہ سامان اس کے حوالے کر دیا۔

ویڈیو لنک ١

ویڈیو لنک ٢


[SUP]Dubai driver praised for returning kilos of gold left by passenger

A Pakistani taxi driver Rameen Khan has been honoured for his honesty as
he returned 9.5 kg of gold and $40,000 (Dh146800) left by a passenger in his taxi.

May 10, 2008[/SUP]

Story with picture


[SUP]The honest Dubai taxi driver and the return of the briefcase

Omar Hayah Ajmal Khan, left, receives a certificate from Dubai Police
after returning about Dh120,000 worth of Saudi Riyals he found left in
the back of his taxi.Courtesy Dubai Police

Sep 13, 2012[/SUP]

Story with picture

(جاری ھے)
 

غزنوی

رکن
شمولیت
جون 21، 2011
پیغامات
177
ری ایکشن اسکور
659
پوائنٹ
76
جب پہلے ہی کہا جا چکا ہے کہ
نوٹ:
بالا سطور کی صحت کا تو علم نہیں، لیکن ایک فکر موجود ہے، جس وجہ سے شیئر کی گئی ہیں۔
تو پھر نیا تھریڈ اس نام سے (بیس پینس کا اسلام حقیقت یا الزام؟) قائم کرنا ؟؟؟؟
آپ نے ایک جگہ کچھ یوں تبصرہ کیا ہوا ہے۔ ..........لنک
السلام علیکم
آپ جو جو تھریڈ پیش کیا ھے وہ سبق اموز کہانی کے طور پر بہتر ھے آپ نے لکھا سچا واقعہ ھے تو ہو سکتا ھے ایسا ہی ہو، مگر حقیقت سے اس کا کوئی تعلق بنتا نظر نہیں آ رہا کیونکہ چوری، پولیس عدالت، وکیل پر کچھ اصول ہیں یہ ایک روٹی اسے کور نہیں کرتی۔
والسلام
اس مضمون کو بھی اس نقطہ نظر سے دیکھیں۔ شکریہ
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
السلام علیکم

تھریڈ مراسلہ نمبر ١
کہتے ہیں کہ ایک امریکی ریاست میں ایک بوڑھے شخص کو ایک روٹی چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا

مراسلہ نمبر٢
آپ جو جو تھریڈ پیش کیا ھے وہ سبق اموز کہانی کے طور پر بہتر ھے آپ نے لکھا سچا واقعہ ھے تو ہو سکتا ھے ایسا ہی ہو، مگر حقیقت سے اس کا کوئی تعلق بنتا نظر نہیں آ رہا
کیونکہ چوری، پولیس عدالت، وکیل پر کچھ اصول ہیں یہ ایک روٹی اسے کور نہیں کرتی۔

مراسلہ نمبر ٤
اس پر میں آپکو ایک ایک لائن میں کچھ معلومات فراہم کرتا ہوں جو بہت مختصر ہونگی جنرل نالج کے لئے اور اگر سمجھ نہ آئے تو تفصیلی بھی پوچھ سکتے ہیں۔


حوالہ لنک
محترم برادر غزنوی

میرے لئے دھاگہ یا مراسلہ لگانے پر پابندی نہیں ھے اگر ھے تو بتائیں۔ میں نے پہلے بھی ایک دھاگہ پر ویسی ہی معلوماتی دھاگہ الگ لگایا تھا۔ اور رات کو سونے کے وقت میں نے سوچا تھا کہ انتظامیہ سے کہہ کے آپکے دھاگہ سے اپنے مراسلے ڈیلیٹ کروا دوں گا تھوڑا صبر کر لیتے۔

آپ نے جو میرا مراسلہ کا لنک دیا ھے اس دھاگہ کی سٹوری اور آپ کے دھاگہ کی سٹوری مختلف ھے لنک دھاگہ میں ایک امریکی پر روٹی چوری کا الزام ھے اور آپ نے جو دھاگہ لگایا اس میں ایک امام مسجد پر بہودہ الزام پیش کیا گیا ھے۔ جس پر یہ دھاگہ میں پوری معلومات درج ھے اس کے باوجود بھی آپ سمجھنے سے قاصر ہیں۔

آپ نے جو میرا مراسلہ کوٹ کیا ھے اس کی پوری عبارت پڑھنے سے معاملہ معلوم ہو جاتا ھے کہ میں نے کیا لکھا۔ پھر اسی دھاگہ اور مراسلہ پر مکمل تفصیل مراسلہ نمبر ٤ میں پیش کی ھے۔

غزنوی بھائی ایک اور بات توجہ طلب ھے میرا یہ دھاگہ ابھی نامکمل تھا جس پر میں نے آگے لکھا تھا کہ (جاری ھے) اس کا مطلب ہوتا ھے بات ابھی مکمل نہیں ہوئی رات کو ٢ بجے سونا بھی تھا اور تیسرا مراسلہ ابھی باقی تھا جس پر اسی کوٹ مراسلہ جیسی معلومات فراہم کرنی تھی جیسی روٹی چوری والے دھاگہ میں مراسلہ نمبر ٤ میں کی تھی۔

میں کوشش کروں گا کہ آئیندہ آپ کے کسی دھاگہ میں کمنٹس نہ کئے جائیں۔

والسلام
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
السلام علیکم

فری ہینڈز: میرا کوئی بھی دھاگہ یا مراسلہ سے اگر کسی کو کوئی شکایت ہو تو بلا جھجک رپورٹ کر کے اسے ڈیلیٹ کروا سکتا ھے اس پر رپورٹ کرنے والا اور انتظامیہ کو میری طرف سے فری ہینڈز ھے، میں کبھی بھی ڈیلیٹ کرنے کی وجہ نہیں پوچھوں گا۔

اوپر مراسلہ نمبر ٢ کے بعد جاری ھے گفتگو درمیان میں ایکسیڈنٹ کا شکار ہو گئی اس لئے اسے وہیں سے شروع کرتے ہیں مراسلہ نمبر ٢ کے بعد۔

امام مسجد کے نام سے لکھا گیا مراسلہ سرچ سے جو ہمیں ملا وہ ٢٠٠٤ میں پیش کیا گیا ہو سکتا ھے وہ اس سے بھی پہلے کا ہو مگر ہم اسے ٢٠٠٤ سے بھی سامنے رکھیں تو اس میں بھی ہی لکھا گیا ھے کہ "کئی سال پہلے" اور وہ تب سے چلتا ہوا ٢٠١٢ میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ سامنے آتا ھے جس میں امام مسجد کا نام، ڈرائیور خاتون، پہلی بیوی اور بچے، خاتون ڈرائیور سے شادی اور اس سے بچے اور اس میں بھی امام مسجد "کئی سال پہلے" میں اس پر تبصرہ نہیں کرتا مگر لندن سے اس پر کچھ مختصر معلومات فراہم کرتا ہوں۔

انگلینڈ میں بس ہو یا ٹرین، صبح ٩ بجے تک پیک ٹائم ہوتا ھے اور کسی شہر میں ٩ بجے کے بعد آف پیک ٹائم ہو جاتا ھے اور کسی شہر میں ٩:٣٠ بجے کے بعد آف پیک ٹائم ہوتا ھے۔

پیک ٹائم ٩ بجے سے پہلے کرایہ زیادہ ہوتا ھے اور اس وقت کے بعد کرایہ کم ہو جاتا ھے۔ وجہ یہ ھے کہ صرف کام پر جانے والے ہی ٹرانسپورٹ استعمال کریں باقی اگر کسی کو ویسے ہی کہیں ضروری کام ہو تو، نہیں تو ہر کوئی صبح آفس ٹائم میں مزید رش کا باعث نہ بنے۔

روزانہ کام پر جانے والے ایک ہفتہ، کی ٹکٹ حاصل کرتے ہیں جو سات دن تک کام کرتی ھے اور ان لمییٹڈ ٹریولز۔ جو روزانہ ٹکٹ حاصل کرنے سے بھی سستی پڑتی ھے۔ اور جنہیں علم ہو کہ ملازمت پر کوئی مشکل نہیں ہو گی تو وہ ایک مہینہ یا ایک سال کی ٹکٹ لے لیتے ہیں جو مزید بہت سستی ہو جاتی ھے۔

١٩٩٩ میں لندن کے لئے بس کی ایک دن کی ٹکٹ ان لمیٹڈ ٹریولز، پیک ٹائم ٣£ ، ایک ہفتہ کی ٹکٹ ٩£ کی ملتی تھی اور
آف پیک ٹائم ایک دن کی ٹکٹ ٢£ اور ایک ہفتہ کی ٧£ میں ملتی تھی مزید
سنگل ٹریول ٹکٹ ایک پاؤنڈ اور ریٹرن ٹریول ٥٠۔١£
٢٠٠٢ نومبر تک میں لندن میں ویزیٹر رہتا رہا اور اس دوران یادداشت کے مطابق بس کا اتنا ہی کرایہ رہا۔

یہاں پر اس کا اختتام ہوا اگر یہ واقعہ امام مسجد کی جگہ کسی اور سے پیش کیا گیا ہوتا جیسے [SUP]Several years ago a young priest moved to London[/SUP] اس لنک میں ھے تو میں اس پر مزید خفیہ معلومات فراہم کرتا۔ اب جو چاہے اپنے ویوز پیش کر سکتا ھے کوئی ممانعت نہیں۔

والسلام
 

غزنوی

رکن
شمولیت
جون 21، 2011
پیغامات
177
ری ایکشن اسکور
659
پوائنٹ
76
برادر کنعان اس واقعہ، کہانی، من گھڑت، تنقیدی مضمون وغیرہ پر تفصیل پیش کرنے کا بہت شکریہ

پہلی بات یہ تفصیل اس وقت فائدہ مند ہوتی جب اس واقعہ کودرست تسلیم کیا جارہا ہوتا، کہ یہ واقعہ سچا ہی ہے۔پھر آپ اپنی یہ پیش کردہ تحقیق پیش کرکے واقعہ کو جھوٹا کرڈالتے تو فائدہ ہوتا۔ لیکن مضمون کے آخر میں تنبیہی نوٹ لگا کر یہ ثابت کردیا گیا ہے کہ اس واقعہ کی صحت وضعف سے کوئی غرض نہیں۔۔جب صحت کی بات ہی نہیں تھی تو پھر تفصیل پیش کرنا بھی لاحاصل ہوا۔

دوسری بات آپ نے جو کہا اس مضمون میں امام صاحب کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، آپ کی اس بات کی سمجھ میرے سمیت کچھ مزید ساتھیوں کو بھی نہیں آئی۔ کہ کس طرح اس واقعہ میں امام صاحب کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے؟ اگر آپ اس تنقید پر مفصل تحقیق پیش کردیں، تو بہتر ہوگا۔

دیکھیں برادر بیس پنس کوئی بڑی رقم نہیں ہوتی، یہ ایسی معمولی رقم ہے کہ دینے اور لینے والا دونوں اس کو کوئی وُقت واہمیت نہیں دیتے۔ جب طرفین کے ہاں اس رقم کی کوئی وُقت ہی نہیں تو پھر ایمانداری وسچائی کا بھی اس جگہ آکر پتہ چلتا ہے۔ کہ ایک ایسی چیز جو دونوں طرف کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور پھر واپس دینے یا نہ دینے کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ اس کے باوجود پھر بھی واپس کردی جائے تو یہ ہوتی ہے ایمانداری اور اثر ڈالنے والی بات۔۔


پوسٹ نمبر4

میرے لئے دھاگہ یا مراسلہ لگانے پر پابندی نہیں ھے اگر ھے تو بتائیں۔ میں نے پہلے بھی ایک دھاگہ پر ویسی ہی معلوماتی دھاگہ الگ لگایا تھا۔ اور رات کو سونے کے وقت میں نے سوچا تھا کہ انتظامیہ سے کہہ کے آپکے دھاگہ سے اپنے مراسلے ڈیلیٹ کروا دوں گا تھوڑا صبر کر لیتے۔
مراسلہ لگانے کی کسی پر پابندی نہیں ہوتی، جب تک پلیٹ فارم کے قانون وضوابط کو نہ توڑا جائے۔میں نے اس وجہ سے کومنٹ کیا کہ جب ہمیں واقعہ کی صحت وضعف سے کوئی لینا دینانہیں تو پھر اس واقعہ کو تفصیل پیش کرکے اس کو جھوٹا ثابت کرنا چہ معنی؟
ہاں جو اس میں فکر ہے، آپ اس پر بات کریں کہ اس طرح کی فکر اثر انداز ہوتی ہے یانہیں؟۔ اگر آپ اس فکر پر بات کریں تو پھر شاید بات کسی نتیجہ تک پہنچ بھی جائے۔
آپ نے جو میرا مراسلہ کا لنک دیا ھے اس دھاگہ کی سٹوری اور آپ کے دھاگہ کی سٹوری مختلف ھے لنک دھاگہ میں ایک امریکی پر روٹی چوری کا الزام ھے اور آپ نے جو دھاگہ لگایا اس میں ایک امام مسجد پر بہودہ الزام پیش کیا گیا ھے۔ جس پر یہ دھاگہ میں پوری معلومات درج ھے اس کے باوجود بھی آپ سمجھنے سے قاصر ہیں۔
میرا مقصود دونوں مضمونوں کی سٹوری ایک بتلانا نہیں تھا بلکہ خاص طور آپ کے یہ الفاظ بتلانا مقصود تھا ’’ وہ سبق اموز کہانی کے طور پر بہتر ھے ‘‘ جن کو ہائی لائٹ بھی کردیا تھا۔
غزنوی بھائی ایک اور بات توجہ طلب ھے میرا یہ دھاگہ ابھی نامکمل تھا جس پر میں نے آگے لکھا تھا کہ (جاری ھے) اس کا مطلب ہوتا ھے بات ابھی مکمل نہیں ہوئی رات کو ٢ بجے سونا بھی تھا اور تیسرا مراسلہ ابھی باقی تھا جس پر اسی کوٹ مراسلہ جیسی معلومات فراہم کرنی تھی جیسی روٹی چوری والے دھاگہ میں مراسلہ نمبر ٤ میں کی تھی۔
معذرت چاہتا ہوں۔
میں کوشش کروں گا کہ آئیندہ آپ کے کسی دھاگہ میں کمنٹس نہ کئے جائیں۔
میری طرف سے کوئی پابندی نہیں اور نہ شاید انتظامیہ نے آپ پر اس طرح کی کوئی پابندی لگائی ہے، اور اگر آپ میرے کسی غلط رویہ یا غیر اخلاقی گفتگو کی وجہ سے کہہ رہے ہیں تو آپ میری وہ عبارت پیش کریں۔ ترمیم کےساتھ معافی مانگنا پسند کرونگا۔
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
السلام علیکم

محترم برادر! مسئلہ فائدہ مند تھا یا نقصان دہ اس پر مزید لکھنے کے لئے کچھ باقی نہیں ماسوائے بحث کے ۔

تحریر اور آمنے سامنے والی گفتگو میں فرق ہوتا ھے آمنے سامنے والی گفتگو سمجھ میں آسانی سے آتی ھے اور تحریری گفتگو سمجھنا تھوڑا مشکل اس پر ذہن پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح کمانڈ کرتا ھے اس لئے آپس میں کنورسیشن اس وقت کرنی چاہئے جب ایک دوسرے کو سمجھتے ہوں جس پر میرا فوکس تحریر پر ہوتا ھے ممبر پر نہیں۔ آپ کے مراسلہ پر جو سوالات ہیں ان کے جوابات دینے کی کوشش کرتا ہوں اگر کوئی جواب رہ جائے تو مزید اس پر پوچھ سکتے ہیں، مجھے اس پر آپ سے کسی سوال کے بارے میں نہیں جاننا۔

پہلی بات یہ تفصیل اس وقت فائدہ مند ہوتی جب اس واقعہ کودرست تسلیم کیا جارہا ہوتا،
کہ یہ واقعہ سچا ہی ہے۔ پھر آپ اپنی یہ پیش کردہ تحقیق پیش کرکے واقعہ کو جھوٹا کرڈالتے تو فائدہ ہوتا۔
لیکن مضمون کے آخر میں تنبیہی نوٹ لگا کر یہ ثابت کردیا گیا ہے کہ اس واقعہ کی صحت وضعف سے کوئی غرض نہیں۔۔
جب صحت کی بات ہی نہیں تھی تو پھر تفصیل پیش کرنا بھی لاحاصل ہوا۔
اس کوٹنگ میں کچھ جملے منفی ہیں اب اس پر میں کتنے بھی پیار سے جواب دوں وہ آپکو شائد اچھے نہ لگیں کیونکہ کمانڈ منفی ھے اور جواب میں بھی منفی ہی رہے گی۔ اس لئے اسے مثبت طریقہ سے سمجھنے کی کوشش کریں۔

کوئی بھی واقعہ جب پیش کیا جاتا ھے اگر وہ واقعہ اس کے ساتھ ہوا ھے جو بیان کر رہا ھے تو سامنے والا کے لئے ضروری نہیں کہ وہ کسی کے ذاتی معاملہ پر اپنی مداخلت کرے، اگر سامنے والے کو اس معاملے پر کوئی دلچسپی ھے یا اسے لگتا ھے کہ وہ اس پر مزید کچھ جانے تو وہ ایک مفید طریقہ سے اس پر اعتراض کر سکتا ھے جس پر واقعہ سچا ہونے پر بیان کرنے والے کو برا محسوس نہیں ہو گا اور وہ کوشش کرے گا کہ سامنے والے کو اس پر اس کے سوالوں کے جواب دے۔

کوئی بھی واقعہ جس کا پیش کرنے والے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کسی اور کا ھے اور وہ اس پر اس کی صحت پر چاہے تو انجان ہونے کا نوٹ لکھے یا نوٹ نہ بھی لکھے تو اس پر سامنے والا کوئی بھی اپنی رائے دے سکتا ھے۔

جس فائدہ اور نقصان کی بات آپ کر رہے ہیں تو بھائی میرے جب کوئی کام اپنے فائدہ کے لئے کیا جائے تو اس پر بہت رنج ہوتا ھے اور جب کوئی کام دوسرں کے فائدہ کے لئے کیا جائے تو خوشی محسوس ہوتی ھے جس پر میں نے نقصان کو فائدہ میں بدلنے کے لئے آپکا دھاگہ چھوڑ دیا ہوا ھے اور اس پر انتظامیہ کو پیغام بھی ارسال کر دیا تھا کہ وہ میرے مراسلہ آپکے دھاگہ سے ڈیلیٹ کر دے۔ تفصیل پیش کرنا آپ کے لئے لا حاصل ھے مگر دوسرں کے لئے نہیں کیونکہ جو بھی اب اسے واقعہ کو گوگل میں سرچ کرے گا تو یہ دھاگہ بھی انہیں گوگل کے کسی پیج میں مل جائے گا کہ لندن امریکہ میں امام مسجد اور عیسائی سکالر کا واقعہ کی اہمیت کیا ھے اور ٹیکسی ڈرائیور بھی ساتھ آئیں گے۔

امام مسجد پر جو سوال آپ پوچھنا چاہتے ہیں وہ آپکو سمجھ نہیں آئے گا، کیونکہ اس پر مزید بہت کچھ بتانا پڑے گا، پھر بھی ایک اور کوشش کرتا ہوں۔

امام مسجد کا کام ھے دوسرں کو اچھے کام کا درس دینا، اس لئے پہلے سسٹم پر روشنی ڈال دوں اس کے بعد امام صاحب پر آخر میں آپکے سوال کا جواب بھی دوں گا،

لندن ہر بس میں اب سسٹم اور کمپیوٹرائیزڈ ہو چکا ھے اس لئے ہر بس میں جب سے کنڈکٹر سسٹم ختم ہوا ھے تب سے بس پر ٹکٹ خریدنے پر کی معلومات دیتا ہوں۔

لندن بس میں ڈرائیور کے پاس چینج دینے والا کوئی آپشن نہیں، پیسنجر نے جو ٹکٹ لینی ھے اس پر اس کے پاس پورا کرایہ ہونا چاہئے

ڈرائیورکیب میں ایک ٹرے لگا ہوتا ھے جس پر پیسنجر اس ٹرے میں اپنے کرایہ رکھتا ھے اور ڈرائیور اس ٹرے سے پیسے اٹھاتا ھے اور پیسنجر کے پاس کرایہ پورا نہیں تو ڈرائیور بس سے باہر جانے کو کہے گا اور ساتھ میں یہ مشورہ دے گا کہ سامنے شاپ سے چینج حاصل کرو اور پھر اگلی بس پکڑنا۔ بس سروس پر یہاں مشکل نہیں ہر ٥ سے ١٠ منٹ میں اگلی بس ملتی ھے اگر ڈرائیور کی سروس لیٹ نہیں تو وہ ایک مزید چینج ٹکٹ دے گا جو اگلے سفر میں پیسنجر کرایہ میں شامل کر سکتا ھے۔

ڈرائیور کیب میں ایک ٹرے لگا ہوتا ھے، پیسنجر اپنا کرایہ اس پر رکھتا ھے اور ڈرائیور اس ٹرے سے پیسے اٹھاتا ھے اور ٹکٹ مشین سے نکال کر اسی ٹرے پ رکھتا ھے، ہاتھ سے ہاتھ کی کنورسیشن یہاں پر الاؤ نہیں۔ اگر کوئی ڈرائیور کی جیب میں چینج ھے اور وہ اپنی سروس میں لیٹ بھی نہیں تو وہ چینج واپس لوٹائے گا مگر وہ بھی اسی ٹرے میں رکھے گا۔ ہاتھ میں نہیں دے گا۔

امام مسجد کو ڈرائیور نے ٢٠ پیسے جان بوجھ کر دئے۔
امام مسجد نے ٹرے سے پیسے اٹھائے اور سیٹ پر چلے گئے اور وہاں انہیں معلوم ہوا کہ بیس پیسے زیادہ ہیں۔
امام مسجد اس پورے سفر میں ٢٠ پیسے پر سوچتے رہے یہاں تک کہ کمپنی کا فائدہ بھی ان کے ذہن میں آ گیا۔
-
-
-
٢٠ پیسے کے لئے امام مسجد کا ایمان خطرہ میں رہا اور یہ فیصلہ لیا کہ واپس ہی کر دوں۔
سفر پورا کیا اور ٢٠ پیسے واپس کئے تو معلوم ہوا کہ ڈرائیور نے زیادہ دئے تھے۔
بس چھوڑی تو ٹانگین ہل گئیں۔

اگر آپکو اس پر مثبت سبق ملتا ھے تو پھر آپ اپنی جگہ درست ہیں، مجھے اس پر سبق درست نہیں ملتا کیونکہ یہ کہانی میں توہین کی گئی ھے۔ اور یہ میرے لئے نئی نہیں میں اس سے پہلے بھی اس پر کم و بیش دو سال میں دو فارمز پر اپنی رائے دے چکا ہوں۔ اور یہاں تیسری مرتبہ ھے جو مزید تفصیل سے۔

رامین خان کا ایمان اتنی بڑی رقم اور سونا دیکھ کر بھی متزلزل نہ ہوا اور اس نے فوراً یہ سارا سامان اپنی کمپنی کے حکام کے پاس جمع کرا دیا۔
والسلام
 

غزنوی

رکن
شمولیت
جون 21، 2011
پیغامات
177
ری ایکشن اسکور
659
پوائنٹ
76
آپ کی سب تفصیل واقعہ کی صحت وضعف سے متعلقہ ہے، جس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ لیکن آپ کی یہ عبارت
امام مسجد کو ڈرائیور نے ٢٠ پیسے جان بوجھ کر دئے۔
امام مسجد نے ٹرے سے پیسے اٹھائے اور سیٹ پر چلے گئے اور وہاں انہیں معلوم ہوا کہ بیس پیسے زیادہ ہیں۔
امام مسجد اس پورے سفر میں ٢٠ پیسے پر سوچتے رہے یہاں تک کہ کمپنی کا فائدہ بھی ان کے ذہن میں آ گیا۔
-
-
-
٢٠ پیسے کے لئے امام مسجد کا ایمان خطرہ میں رہا اور یہ فیصلہ لیا کہ واپس ہی کر دوں۔
سفر پورا کیا اور ٢٠ پیسے واپس کئے تو معلوم ہوا کہ ڈرائیور نے زیادہ دئے تھے۔
بس چھوڑی تو ٹانگین ہل گئیں۔
موضوع سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس لیے آپ سے وضاحت مطلوب ہے کہ
اسلام کو جاننے کےلیے ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھا جاتا ہے یا نہیں؟ یا دوسرے لفظوں میں ہمارے اخلاق، رویے، سلوک ، معاملات اور رہن سہن کا اثر کافر لیتے ہیں یا نہیں ؟
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
السلام علیکم

آپ کی سب تفصیل واقعہ کی صحت وضعف سے متعلقہ ہے، جس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔
اگر اس پر میں بھی ایسا ہی جواب دوں تو؟


موضوع سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس لیے آپ سے وضاحت مطلوب ہے کہ
اسلام کو جاننے کے لیے ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھا جاتا ہے یا نہیں؟
یا دوسرے لفظوں میں ہمارے اخلاق، رویے، سلوک ، معاملات اور رہن سہن کا اثر کافر لیتے ہیں یا نہیں؟
مجھے آپ میں ایسا کوئی اثر نظر نہیں آیا آپ کافروں پر کیا بات کر رہے ہیں اس اثر پر ہم دور نہیں جاتے اسی دھاگہ میں آپکے ٣ مراسلے ہیں آپ ثابت کر دیں کہ آپ نے کسی میں بھی سلام کیا ہو یا سلام کا جواب دیا ہو؟

والسلام
 

غزنوی

رکن
شمولیت
جون 21، 2011
پیغامات
177
ری ایکشن اسکور
659
پوائنٹ
76
السلام علیکم



اگر اس پر میں بھی ایسا ہی جواب دوں تو؟




مجھے آپ میں ایسا کوئی اثر نظر نہیں آیا آپ کافروں پر کیا بات کر رہے ہیں اس اثر پر ہم دور نہیں جاتے اسی دھاگہ میں آپکے ٣ مراسلے ہیں آپ ثابت کر دیں کہ آپ نے کسی میں بھی سلام کیا ہو یا سلام کا جواب دیا ہو؟

والسلام
وعلیکم السلام
آپ کی ان باتوں کا موضوع سے دور دور تک کا بھی تعلق نہیں ۔معذرت سے کوئی تبصرہ نہیں کیا جاتا۔۔میری پوچھی گئی باتیں دوبارہ پیش ہیں۔
اسلام کو جاننے کےلیے ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھا جاتا ہے یا نہیں؟ یا دوسرے لفظوں میں ہمارے اخلاق، رویے، سلوک ، معاملات اور رہن سہن کا اثر کافر لیتے ہیں یا نہیں ؟
سنجیدگی سے جواب دینے کے موڈ میں ہوں تو ٹھیک ورنہ بعد کی پوسٹ کا جواب لکھنے پر مجھے معذور سمجھنا۔شکریہ
 
Top