کنعان
فعال رکن
- شمولیت
- جون 29، 2011
- پیغامات
- 3,564
- ری ایکشن اسکور
- 4,425
- پوائنٹ
- 521
السلام علیکم
لندن سے امام مسجد کے نام سے بنائی گئی سٹوری ٢٠٠٤ سے انگلش میں شروع ہوئی ہو سکتا ھے اس سے پہلے شروع ہوئی ہو مگر یہیں تک کافی ھے۔ پھر اس کے بعد یہ امریکہ کے کسی امام سے بھی نشر ہوئی، اس پر شمار جگہوں پرلندن اور امریکہ سے یہ کہانی مل سکتی ھے۔
اپریل ٢٠٠٤ سے مارچ ٢٠١٣ یہ تقریباً ٩ سال بنتے ہیں۔
یہی سٹوری برطانیہ میں ٢٠ پینس اور امریکہ میں کوارٹر ڈالر سے۔
ایک اندازہ سے یہی سٹوری ٢٠١١ سے ٹرانسلیٹ کر کے اردو میں کچھ اسطرح نشر ہوتی رہی جیسی نیچے کوٹ میں ھے۔
مئی ٢٠١٢ میں یہی سٹوری بہت سی تبدیلیوں کے ساتھ سامنے آئی بڑی تبدیلی یہ کہ جو ڈرائیور تھا وہ اب خاتون ڈرائیور بن گئی۔ اس کا بھی مطالعہ بہت مفید رہے گا۔
[SUP](جاری ھے)[/SUP]
لندن سے امام مسجد کے نام سے بنائی گئی سٹوری ٢٠٠٤ سے انگلش میں شروع ہوئی ہو سکتا ھے اس سے پہلے شروع ہوئی ہو مگر یہیں تک کافی ھے۔ پھر اس کے بعد یہ امریکہ کے کسی امام سے بھی نشر ہوئی، اس پر شمار جگہوں پرلندن اور امریکہ سے یہ کہانی مل سکتی ھے۔
اپریل ٢٠٠٤ سے مارچ ٢٠١٣ یہ تقریباً ٩ سال بنتے ہیں۔
06-05-04, 10:27 PM
[SUP] BE HONEST IN YOUR LIFE..ALWAYS, AND AT ANY AGE
Several years ago an imaam moved to London. He often
took the bus from his home to the downtown area. Some
weeks after he arrived, he had occasion to ride the
same bus. When he sat down, he discovered that the
driver had accidentally given him twenty pence too
much change.
[/SUP]
Story
[SUP] BE HONEST IN YOUR LIFE..ALWAYS, AND AT ANY AGE
Several years ago an imaam moved to London. He often
took the bus from his home to the downtown area. Some
weeks after he arrived, he had occasion to ride the
same bus. When he sat down, he discovered that the
driver had accidentally given him twenty pence too
much change.
[/SUP]
Story
یہی سٹوری برطانیہ میں ٢٠ پینس اور امریکہ میں کوارٹر ڈالر سے۔
[SUP]Oh ALLAH, I almost sold you for a quarter
I just got this and I wanted to make sure to share it
Brothers and sisters in Islam,
Several years ago, an Imam from out-of-state accepted a call to a Mosque in Houston, Texas.
Some weeks after he arrived, he had an occasion to ride the bus from his home to the downtown area. When he sat down, he discovered that the driver had accidentally given him a quarter too much change. [/SUP]
Story
Story
I just got this and I wanted to make sure to share it
Brothers and sisters in Islam,
Several years ago, an Imam from out-of-state accepted a call to a Mosque in Houston, Texas.
Some weeks after he arrived, he had an occasion to ride the bus from his home to the downtown area. When he sat down, he discovered that the driver had accidentally given him a quarter too much change. [/SUP]
Story
Story
ایک اندازہ سے یہی سٹوری ٢٠١١ سے ٹرانسلیٹ کر کے اردو میں کچھ اسطرح نشر ہوتی رہی جیسی نیچے کوٹ میں ھے۔
بیس پیسے کا اسلام
[SUP]سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُن کا معمول بن گیا۔ لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لے کر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔ امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں ۔پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو۔ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا ؟ میں چپ ہی رہتا ہوں۔ بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛
یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔
ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛ کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟
میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر آپ کو آزمانے کے لیے زیادہ دیئے تھے تاکہ آپ کا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ اور دیانت داری پرکھ سکوں۔ امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترے، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی،
یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔
قابل توجہ :
ہم لوگ کبھی اپنے افعال پر لوگوں کے رد فعل کی پرواہ نہیں کرتے , ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ بعض اوقات لوگ صرف زبانی دعوت اور قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جاننے کے بجائے ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہیں۔ ہم لوگ اللہ کے پسندید مذہب اسلام کے نمائندے ہیں, ہمیں دوسروں کیلئے ایک اچھی مثال پیش کرنی ہوگی اور اپنے معاملات صاف اور کھرے رکھنے ہوں گے۔۔یہ ہی ذہن میں رکھ کرکہ کہیں کوئی ہمارے رویوں کے تعاقب میں تو نہیں ؟ کوئی ہمارے شخصی تصرف کو سب مسلمانوں کی مثال نہ سمجھ بیٹھے۔یا اسلام کی تصویر ہمارے تصرفات اور رویئے کے مُطابق ذہن میں نہ بٹھا لے!!! اور ہم اسکی دین حق سے دوری کی وجہ بن کر اپنے ساتھ اسے بھی ہمیشہ کی جہنم کا حق دار بنادیں۔
نوٹ:
بالا سطور کی صحت کا تو علم نہیں، لیکن ایک فکر موجود ہے، جس وجہ سے شیئر کی گئی ہیں۔[/SUP]
حوالہ
مئی ٢٠١٢ میں یہی سٹوری بہت سی تبدیلیوں کے ساتھ سامنے آئی بڑی تبدیلی یہ کہ جو ڈرائیور تھا وہ اب خاتون ڈرائیور بن گئی۔ اس کا بھی مطالعہ بہت مفید رہے گا۔
اس پر تبصرہ کرنے کے لئے کچھ نہیں سب سامنے ھے پھر بھی آگے چل کر کچھ اور باتوں پر تبصرہ ضرور کروں گا۔بیس پینس کی ایمانداری: لندن کی سفید فام خاتون نے امام مسجد سے شادی کرلی
MAY 5, 2012 02:37
[SUP]میرا نام محمد اسحاق ہے اور میں لندن کے مضافات میں ایک مسجد کا امام ہوں۔ سالوں پہلے کی بات ہے میں پاکستان میں روزگار کے لئے دھکے کھا رہا تھا کہ اچانک ایک صاحب نے مجھے لندن جانے کا راستہ دکھایا۔ دراصل ہوا یہ کہ میں کراچی میں ایک صاحب کے بچوں کو گھر پر قرآن پاک پڑھانے جاتا تھا۔ یہ برطانوی شہری تھے اور لندن میں ان کے کافی رشتہ دار مو جود تھے۔ انہیں وہاں اپنی مسجد کے لئے ایک امام کی ضرورت پڑی تو اپنے بھائی سے کہا کہ پاکستان سے کوئی اچھا سا عالم دین بھیج دیں اور اس طرح میری لاٹری کھل گئی اور میں لندن پہنچ گیا۔
مجھے روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا پڑتا تھا۔
لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ اب جو میں بتانے جا رہا ہوں وہ بلکل سچا واقعہ ہے اور میرے ساتھ پیش آیا۔
ایک مرتبہ میں بس پر سوار ہوا، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گیا۔ سفید فام خاتون ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔
میں سوچ میں پڑ گیا، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس اترتے ہوئے خاتون ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو، اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے!!!
ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا؟ اور میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں ویسے بھی میں غریب ہوں اور ان پیسوں پر میرا حق ہے۔
بس میرے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو میں فیصلہ کر چکا تھا کہ نہیں یہ رقم میں نہیں رکھ سکتا اور یہ میرے لئے اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے کہ میں حرام کھاتا ہوں یا نہیں۔
میں نے اُترنے سے پہلے خاتون ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔
خاتون ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛ کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کو دیکھ رہی ہوں اور کچھ لوگوں سے آپ کے بارے میں پوچھا بھی تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ ہاں میں ہی اس علاقے کی مسجد کا نیا امام ہوں۔ اس پر وہ بولی کہ میں آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں
معلومات لینا چاہ رہی تھی کیا آپ کو اس پر کوئی اعتراض ہو گا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر تمہیں زیادہ دیئے تھے تاکہ تمہارا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں اور یہ جان سکوں کہ تم کتنے ایماندار ہو۔ اگر تم بیس پنس کے معاملے میں بے ایمانی کرتے تو پھر مذہب اور عقیدے اور خدا کے بارے میں تم پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ تم ایماندار ہو اور میں تم سے روحانی رہنمائی لے سکتی ہوں۔ میں نے اسے جیسے تیسے کر کے مسجد آنے کا وقت بتایا اور بس سے نیچے اتر آیا۔
جیسے ہی بس سے نیچے اُترا، مجھے ایسے لگا جیسے ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔ اگر اس ایک لمحے میں مجھے پر شیطان غالب آجاتا تو آج ایک سفید فام انگریز خاتون میرے فعل کو اسلام سے جوڑ کر اسے ہی غلط سمجھ بیٹھتی۔ مجھے ایسے لگا کہ شاید میں مر گیا تھا اور جہنم کے دروازے سے اچانک ہی مجھے واپس بلا لیا گیا ہو۔
جب میں مسجد پہنچا تو شدید سردی میں بھی پسینے سے شرابور تھا اور مسجد کے ساتھیوں نے میری پیشانی سے پسینہ بہتے دیکھ خیریت پوچھی مگرمیں انہیں کیا بتاتا۔ بہر حال بعد میں وہ انگریز خاتون ڈرائیور میرے پاس آئی اور کئ بار آئی۔ کچھ ماہ بعد اس نے اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ پھر میں نے اسے نکاح کی اہمیت کے بارے میں بتایا تو اس نے براہ راست مجھ سے سوال کرلیا۔ کیا تم مجھ سے نکاح کرو گے؟ میں اسے پہلے ہی بتا چکا تھا کہ کس طرح حضرت خدیجہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود نکاح کا پیغام بھیجا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول بھی کرلیا تھا۔ یہ واقعہ میں نے اسے عورتوں کی اسلام میں آزادی اور حقوق کے حوالے سےسنایا تھا اور اب وہ خود میرے سامنے شادی کی پیشکش کررہی تھی۔ گو کہ میں شادی شدہ تھا اور میری بیوی بھی میرے ساتھ ہی لندن میں رہتی تھی مگر میں نے اسے سوچنے کی مہلت دینے کو کہا ۔ میں نے اپنی بیوی اور ساتھیوں سے مشورہ کیا تو سب نے یہی کہا کہ مجھے یہ پیشکش اسلام کے لئے قبول کرلینی چاہیے اور میں نے اگلے دن ایسا ہی کیا۔ یہ تقریبا دس سال قبل کی بات ہے اور اب تو میرے اس سفید فام نو مسلم بیوی سے چار بچے بھی ہیں۔ اگر کبھی آپ لندن میں بس سے سفر کریں اور اس کی سفید فام خاتون ڈرائیور کو اچھی طرح اسکارف اوڑھے دیکھیں تو سمجھ جائے گا کہ وہ میری ہی بیوی ہے۔ ہم دونوں کی ہی عمر اب چالیس سال ہو چکی ہے اور بہت جلد میری بیوی بس ڈرائیور کی ملازمت چھوڑ کر اسلامی کتب کی ایک دکان کھولنے والی ہے۔ اگر آپ لندن میں رہتے ہیں تو ہماری دکان پر ضرور آئے گا اس رمضان میں۔ ہاں ایک بات اور، میں نے اپنی اس سفید فام بیوی کو آج تک نہیں بتایا کہ کرائے کی بیس پینس ہضم کرنے کے لئے میں بہت دیر تک سوچتا رہا تھا۔ آپ بھی انہیں مت بتائے گا۔[/SUP]
حوالہ
[SUP](جاری ھے)[/SUP]