• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بچے پر کس کا حق؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
ماں کا حق زائد ہے اور پال پوس کر بڑا کرنے والی جنم دینے والی کے حق کو کسی صورت نہیں پہنچ سکتی ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے؛
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله من أحق الناس بحسن صحابتي ؟ قال : أمك ، قال ثم من ؟ قال : أمك ، قال : ثم من ؟ قال : أمك ، قال : ثم من ؟ قال : ثم أبوك " . رواه البخاري ( 5626 ) ومسلم ( 2548 ) .
ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، لوگوں میں سب سے زیادہ کون میرے حسن سلوک کا حقدار ہے۔ آپ نے فرمایا ؛ تیری ماں، اس نے کہا ؛ پھر کون ؟ آپ نے کہا : تیری ماں، اس نے پھر کہا : پھر کون ؟ آپ نے کہا : تیری ماں، اس نے پھر کہا : پھر کون ؟ آپ نے کہا : تیرا باپ۔
اور ماں کون ہے جس نے اسے جنم دیا ہے نہ کہ پال پوس کر بڑا کرنے والی، ارشاد باری تعالی ہے ؛
الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ ۖ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ ﴿٢﴾
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ﻇہار کرتے ہیں (یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں) وه دراصل ان کی مائیں نہیں بن جاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وه پیدا ہوئے، یقیناً یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بخشنے واﻻ ہے۔
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
ماں کا حق زائد ہے اور پال پوس کر بڑا کرنے والی جنم دینے والی کے حق کو کسی صورت نہیں پہنچ سکتی ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے؛
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله من أحق الناس بحسن صحابتي ؟ قال : أمك ، قال ثم من ؟ قال : أمك ، قال : ثم من ؟ قال : أمك ، قال : ثم من ؟ قال : ثم أبوك " . رواه البخاري ( 5626 ) ومسلم ( 2548 ) .
ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، لوگوں میں سب سے زیادہ کون میرے حسن سلوک کا حقدار ہے۔ آپ نے فرمایا ؛ تیری ماں، اس نے کہا ؛ پھر کون ؟ آپ نے کہا : تیری ماں، اس نے پھر کہا : پھر کون ؟ آپ نے کہا : تیری ماں، اس نے پھر کہا : پھر کون ؟ آپ نے کہا : تیرا باپ۔
اور ماں کون ہے جس نے اسے جنم دیا ہے نہ کہ پال پوس کر بڑا کرنے والی، ارشاد باری تعالی ہے ؛
الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ ۖ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ ﴿٢﴾
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ﻇہار کرتے ہیں (یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں) وه دراصل ان کی مائیں نہیں بن جاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وه پیدا ہوئے، یقیناً یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بخشنے واﻻ ہے۔

jazakallah khair
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
quran aur hadees ki raushni me aapne jo bat ki wo bilkul theek hai...per ek maa jisne apni aulad ko janam dene ke siwa aur kuch na kiya aur ek aurat jisne uski aulad ko pala uski her tarah se dekhbhal ki usko her takleef dukh se bachane ki koshish ki uski khatir khud mushkilen jheli...kya us aurat ka koi haq nahi kya sirf usi ka darja buland hoga jisne sirf use janam deker chor diya...agar sochen to ye baat ajeeb si nahi lagti ???
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
یہ بات عجیب نہیں ہے کہ کیونکہ جس کا آپ نے نوماہ تک چوبیس گھنٹے خون چوسا ہے یا دوسرے الفاظ نے جس نے نو ماہ تک آپ کو اپنی جسم سے نکالی گئی خون کی بوتلوں سے زندہ رکھا ہے یا جس نے نو ماہ تک آپ کو چوبیس گھنٹے اپنا خون پیش کیا ہے، اس کا مقابلہ آپ کیسے ایک ایسی عورت کے ساتھ کر رہے ہیں جس نے محض اسے پالا پوسا ہے۔ اپنے خون سے پالنا اور اپنی مشقت سے پالنا کم ازکم میرے خیال میں تو کسی طور برابر نہیں ہو سکتا ہے۔ آج آپ کسی کو خون کی ایک بوتل دیتے ہیں تو اتنا بڑا احسان شمار ہوتا ہے کیا کسی ایسے شخص کی اس دنیا میں مثال ملتی ہے کہ جس نے ۹ ماہ تک کسی کی زندگی بچانے کے لیے اپنا خون دیا مسلسل چوبیس گھنٹے پیش کیا ہو اور اگر کیا ہو تو اس کے احسان کو کوئی پہنچ سکتا ہے؟؟؟
تربیت کرنے والی کا حق ہے اور اس کا احترام اور اس سے حسن سلوک واجب ہے لیکن جنم دینے والی سے کسی صورت زیادہ نہیں ہے یہ نکتہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک نے اسے اپنا خون پلایا اور دوسری نے اسے اپنے شوہر کی کمائی کا کھلایا تو دونوں کیسے برابر ہیں؟
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
JazakAllah Khair bhai belkul sahi kaha aapne...
ek aur sawal agar aap bezar nahi ho rahe hain to ?
kabhi kabhi kuch aisa hota hain k koi Maa aapni bache ko kessi majboori k tehat kessi aur ko adoubt kerti hain (khaas ker jenki koi aulad na ho) unhe, pir aise mei voh palne wale maa usay aapni he aulad k jitna pyar kerti hain and aapni auald k jaise buhut khidmat kerti hain jub voh bacha thora sa bada hujae and uske asli maa ko tub thora ahsas hone lagta hain k yeh Bacha MashAllah se bada hua hai aur wo chahti hai ke usko wapas lele tu phir kya iase mei yeh sahi hoga k usay voh bacha wapas dene chahye jub k voh bacha khud bhi kessi aur ko apani maa samajhne laga ho aur voh usay k saath rahna chahta hai and uski asli maa ko pahchanta bhi na ho so aise mei bhi asli maa ko bacha wapas dene chahye ya nahin? kio k yaha pe aab baat bache k bhi athe hai k voh aapne palne wale maa k saath hi rehna chahta hai to kya aise halat me bache ko haq milta hai ke wo khud jahan chahe rahe ?
daleel k sath jawab ka talabgaar
 
Top