• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالیٰ کے ناموں ا ور صفات کے بارے میں چند اہم اصول وضوابط

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,093
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
پہلا قاعدہ

اللہ تعالیٰ کےناموں اور صفات کے بارے جتنی بھی قرآنی آیات یا احادیث مبارکہ آئی ہیں ، ان کا ظاہری اور معروف معنی ہی لیا جائے گا۔ ان کے مفہوم میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا جائز نہین ہے؛ كيوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید واضح عربی زبان میں نازل فرمایا ہے، اور نبی کریم ﷺ بھی واضح عربی زبان میں ہی گفتگو فرماتے تھے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کلام سے وہی معنی اور مفہوم مراد لیا جائے جو عربی زبان میں سمجھا جاتا ہے۔اگر ان نصوص کا ظاہری معنی بدل دیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی بارے میں بغیر علم کے بات کرنا لازم آئے گا جو کہ حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّي الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَاناً وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ} [الأعراف: 33]
’’ کہہ دے میرے رب نے تو صرف بے حیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہرائو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر وہ کہو جو تم نہیں جانتے۔‘‘

مثال:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ} [المائدة: 64]
’’بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔‘‘

مذکورہ آیت مبارکہ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی دو ہاتھ ہیں، لہٰذا اللہ تعا لیٰ کے لیے ہاتھوں کو ثابت کیا جائے گا۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس آیت میں ہاتھوں سے مراد اللہ تعا لیٰ کی طاقت ہے، تو اس کو جواب دیا جائے گا کہ یہ کلام الہی کو اس کے ظاہری معنی سے ہٹا نا ہے، اور ایسا کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم کے بات کرنا ہے۔
جاری ہے...
 

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,093
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
دوسرا قاعدہ

اللہ تعالیٰ کے تمام نام انتہائی اچھے اور خوبصورت ہیں، ہر نام اللہ تعا لیٰ کی کامل صفات پر بھی مشتمل ہے، ان ناموں میں کسی بھی پہلو سے کوئی نقص یا کمی نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ [الأعراف: 180]
’’اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں، سو اسے ان کے ساتھ پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں سیدھے راستے سے ہٹتے ہیں، انھیں جلد ہی اس کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘
مثال :
الرحمن اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، یہ اللہ تعا لیٰ کی عظیم صفت رحمت پربھی دلالت کرتا ہے۔
 

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,093
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
تیسرا قاعدہ

اللہ تعالیٰ کے نام کسی مخصوص تعداد میں محدود نہیں ہیں


سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو جب کبھی کوئی مصیبت یاغم لاحق ہو اور وہ یہ کلمات کہہ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت اور غم کو دور کر کے اس کی جگہ خوشی عطاء فرمائیں گے، وہ کلمات یہ ہیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَجًا قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَتَعَلَّمُهَا فَقَالَ بَلَى يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا (السلسلة الصحيحة: 199)
’’ اے اللہ! میں آپ غلام ابن غلام ہوں ، آپ کی باندی کا بیٹاہوں میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، میری ذات پر آپ ہی کا حکم چلتاہے، میری ذات کے متعلق آپ کا فیصلہ عدل وانصاف والاہے، میں آپ کو آپ کے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتاہوں کہ جو آپ نے اپنے لیے خودتجویزکیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ آپ قرآن کریم کو میرے دل کی بہار، سینے کانور،غم میں روشنی اور پریشانی کی دوری کا ذریعہ بنادیں ، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہم اس دعاء کو سیکھ لیں ، فرمایا کیوں نہیں ، جو بھی اس دعاء کو سنے اس کے لئے مناسب ہے کہ اسے سیکھ لے۔‘‘

مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے نام بھی ہیں جن کا علم صرف اسی کے پاس ہے، اس لیے ان کا شمار کرنا یا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔

سيدنا ابو ہریرہ رضي الله عنه بيان كرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ (صحیح البخاری، الشروط: 2736)
’’اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، یعنی سو سے ایک کم ہے، جس شخص نے ان کو یاد کیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔‘‘

اس حدیث کا مطلب یہ بالکل بھی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام صرف ننانوے تک محدود ہیں،بلکہ مفہوم یہ ہے کہ جس نے اللہ تعالی کے مبارک ناموں سے ننانوے یاد کیے اس کی یہ فضیلت ہے۔

اس کی مثال یوں سمجھیں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میرے پاس ہزار روپبہ ہے جو میں نے صدقہ کرنے کے لیے رکھا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہو گا کہ اس کے پاس ہزار روپے کے علاوہ پیسے موجود نہیں ہیں، بلکہ ممکن ہے اس کے پاس مزید رقم بھی ہو جو اس نے کسی اور مقصد کے لیے رکھی ہو۔
 

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,093
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
چوتھاقاعدہ

اللہ تعالیٰ کے نام قرآن وسنت سے ثابت ہوتے ہیں، عقل سے ثابت نہیں ہوتے۔


اللہ تعالیٰ کے لیے صرف وہی نام ثابت کیے جائیں گےجو قرآن وسنت سے ثابت ہیں، اپنی طرف سےکسی نام کا اضافہ یا کمی کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ انسانی عقل اللہ تعالیٰ کے لیے جائز نام اور صفات کا ادراک نہیں کر سکتی، اس لیے شریعت کے بیان کردہ ناموں پر اکتفا کیا جائے گا ۔ نیز اللہ تعالیٰ کو اس نام سے پکارنا جو اس نے خود نہیں بتایا یا اللہ تعالی کی طرف سے بیان کیے گئے ناموں میں سے کسی کا انکار کرنا اللہ کے حق میں نافرمانی اور زیادتی ہے، اس لیے ادب اور احترام ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔
 

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,093
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
پانچواں قاعدہ

اللہ تعالی کے ہر نام سے تین چیزیں ثابت ہوتی ہیں:

اللہ کی ذات۔
وہ صفت جو نام میں شامل ہے۔
اگر یہ نام متعدی ہے تو اس کے نتیجے میں جو اثر پیدا ہوتا ہے وہ بھی ۔
ایمان ان تینوں چیزوں کے اثبات سے مکمل ہوتا ہے۔

غیر متعدی نام کی مثال
العظيم یہ
اللہ تعالی کے پیارے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ انسان کا ایمان تب مکمل ہو گا جب وہ اللہ تعالی کے لیے اس نام کو ثابت کرے گا اور صفت عظمت کو بھی ثابت کرے گا جس پر یہ نام دلالت کرتا ہے۔

متعدی نام کی مثال
الرحمن
، اس نام پر ایمان تب مکمل ہوگا جب انسان اس نام کو اللہ تعالی کے لیے ثابت کرے، اسی طرح صفت رحمت کو بھی ثابت کرےاور اس بات پر بھی یقین رکھے کہ اللہ تعالی جس پر چاہتا ہے اپنی رحمت کرتا ہے۔
 

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,093
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
چھٹا قاعدہ

اللہ تعالیٰ کی تمام صفات بلند اور کامل ہیں، ان میں کوئی کمی یا نقص نہیں پایا جاتا۔ جیسا زندگی، علم، قدرت، سننا، دیکھنا، حکمت، رحمت وغیرہ اللہ تعالی کی صفات کاملہ ہیں۔ جیسے اللہ تعالی کی ذات کامل ہے اسی طرح اس کی تمام صفات بھی کامل ہیں۔

ارشاد باری تعالی ہے:
{وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الأَعْلَى} [النحل: 60]
’’اور اللہ کی سب سے اونچی صفت ہے۔‘‘

اگر کوئی صفت نقص والی ہو، اس میں کوئی کمال نہ ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت نہیں کی جا سکتی، جیسے موت، جہالت، عاجزی، بہرا پن، اندھا پن وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نقص اور عیب سے پاک ہے، کیونکہ نقص ربوبیت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔

اگر کوئی صفت بعض پہلوؤں سے کمال اور بعض پہلوؤں سے نقص ہو، تو اسے اللہ تعالیٰ کے لیے مطلق طور پر نہ ثابت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نفی۔ بلکہ جس پہلو سے کمال ہے اس حالت میں وہ صفت اللہ تعالیٰ کے لیےثابت ہوگی اور جس پہلو سے اس میں نقص ہے اس حالت میں ثابت نہیں ہو گی۔مثال کے طور پر: مکر، چالاکی، فریب وغیرہ۔ یہ صفات اس وقت کمال کی حالت رکھتی ہیں جب ان کا استعمال کسی کے مقابلے میں ہو، کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ فاعل اپنے دشمن کے اعمال کے مقابلے کے قابل ہے۔ لیکن اگر یہ صفات کسی مقابلے کے بغیر ہوں تو نقص کی صورت میں شمار ہوں گی۔

اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے:
{وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ} [الأنفال: 30]
’’اور وہ خفیہ تدبیر کر رہے تھےاور اللہ بھی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘
{إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْداً , وَأَكِيدُ كَيْداً} [الطارق: 15، 16]
’’بے شک وہ خفیہ تدبیر کرتے ہیں، ایک خفیہ تدبیر۔ ا ور میں بھی خفیہ تدبیر کرتا ہوں، ایک خفیہ تدبیر۔‘‘
{إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ} [النساء: 142]
’’بے شک منافق لوگ اللہ سے دھوکابازی کر رہے ہیں، حالانکہ وہ انہیں دھوکا دینے والا ہے۔‘‘

اگر کوئی پوچھے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو مکر کے ساتھ موصوف کیا جا سکتا ہے، تو اس کا جواب نہ اثبات میں دیا جائے گااور نہ نفی میں، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ للہ تعالیٰ اس کے ساتھ مکر کرتا ہے جو اس کا حق دار ہو۔
 
Top