الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
پہلی بات تو یہ کہ میں ہر کسی کی بات کا جواب دینے سے رہا۔آپ سے بات چل رہی اسی لیے آپ کو جواب ملے گا۔
امام ابو حنیفہ کے موقف کو سمجھنے میں آپکو غلطی لگی ہے۔۔ اسکا جواب اسی عبارت میں موجود ہے۔
ان شاءالله اس کا تفصیل سے جواب ملے گا آپ کو۔
جناب بہتر ہوتا طنز کرنے سے پہلے دونوں فریقین کی بات پڑھ لیتے۔
آپ کے کچھ اہلحدیث وہابی بھائی صرف قرآن وحدیث کی رٹ لگا رہے۔۔
اور کچھ کہہ رہے۔۔
سلف صالحین کی پیروی ہی اہل سنت کا شعار ہے۔
یعنی سلف صالحین تب تک جب تک اہلحدیث وہابی حضرات کے موقف کی بات ہو ورنہ نہیں۔۔
جناب امام ابن حبان کے عمل کے بارے میں آپ کے سنابلی صاحب نے بس قیاس کے گھوڑے دوڑائے ہے۔
باقی امام مرداوی کا جناب نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔۔
اور شاید جناب یہ بھول گئے کہ وہاں امام احمد بن حنبل کا حوالہ بھی ہے۔۔
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ لِلْمَرُّوذِيِّ : يَتَوَسَّلُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى...
لگتا ہے آپ نے میری بات کو غور سے نہیں پڑھا۔۔
محترم ان روایات میں کہیں بھی وصال کے بعد توسل کی نفی نہیں ہے۔
اس سے تو بس یہی پتہ چلتا ہے کہ اہل خیر اور اہل بیت نبی صلّی الله علیہ وسلم کے وسیلہ سے شفاعت طلب کرنا مستحب ہے. اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔
"پہلے آپ فتح الباری ک۔فتح الباری کے حوالہ کو اپنے...
محترم ان روایات میں کہیں بھی وصال کے بعد توسل کی نفی نہیں ہے۔
اور
ابن تیمیہ کے علاوہ کسی امام کا حوالہ بھی نھیں دیا۔؟؟
اور عنوان رکھا "
"اسلاف امت کا طریقہ کار"
اور اگر ایک کا قول وفعل ہی اسلاف امت کا طریقہ کار تو امام ابن حبان کا عمل کیوں قبول نہیں؟؟...
1-بدیع الزمان کی صحبت سے مسلک اہل حدیث قبول کیا وحید الزمان نے
2-نواب صدیق حسن خان ثناء اللہ امرتسری علامہ وحید الزمان وغیرہ غیرمقلدین کے اسلاف تھے
آپ کو تبرک کے طور پر
ورنہ خود وحید الزمان کی کتاب سے ثبوت دوں گا آپ کو
جہاں تک بخاری کی روایت تو اسکے بارے میں اہلحدیث وہابی وحیدالزماں کی رائے۔
حضرت عمر
رضی الله تعالی عنہ
کا یہ مطلب نہیں کہ پیغمبر صاحب
صلی الله علیہ وسلم
کا اب وسیلہ نہیں ہوسکتا بلکہ حضرت عباس
رضی الله تعالی عنہ
کو دعا میں شامل کرنا تھا
امام ابن حجر الهيتمي نے آقا علیہ السلام کے روضۂ انور کی زیارت کے فضائل پر پوری کتاب لکھی ہے .
اور اس کتاب میں آپ لکھتے ہیں:
ابن تیمیہ کے خرافات میں سے ہے، جس کا اعلان پوری دنیا میں اس سے پہلے کسی نے بھی نہیں کیا وہ ہے انکار توسل اور استغاثہ کا آقا دو جہاں حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی...
محترم ان روایات میں کہیں بھی وصال کے بعد توسل کی نفی نہیں ہے۔
اس سے تو بس یہی پتہ چلتا ہے کہ اہل خیر اور اہل بیت نبی صلّی الله علیہ وسلم کے وسیلہ سے شفاعت طلب کرنا مستحب ہے. اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔
حافظ أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني فتح الباری,میں آپ وسیلے کی حدیث حضرت عمر رضی الله تعالی...
تہذیب اور اخلاق کا رونا رو رہے ہو۔۔
خود تم نے ہا ہا ہا کے سوا بات شروع نہیں کی آج تک۔۔
باقی اوپر دیکھ لو۔۔
رضا بھائی کو آپ فیس بک پہ یہاں بلارہے۔
تو خود آپ لوگ وہاں
چلے
جائیں جہاں وہ بلارہے