الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ہم کہتے ہیں جناب ایسی کون سی حدیث آ گئی جس میں ناف کے نیچے کی بات ہے۔
تطبیق تو تب ہو گی جب ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والی کوئی روایت ثابت ہو
جب ناف کے نیچے والی کوئی روایت ثابت ہی نہیں تو کیونکر اس کا یہ نتیجہ نکالا جائے
صدر کے معانی قرآن کے کچھ حوالوں سے سمجھیے
1۔
6 : سورة الأنعام 125...
اگر آپ اس عبارت کو پوری طرح پڑھ لیتے اور سمجھ لیتے تو اس طرح کے خیالات آپ کے زہن میں نا آتے وہاں امام ترمذی نے صرف اتنی بات کی ہے کہ کہ" ناف کے نیچے ہاتھ رکھے جائیں یا ناف کے اوپر ان سب میں کوئی حرج نہیں"
تو ان کی اس بات سے تو یہ چیز پتا لگتی ہے کہ اس سے نماز باطل نہیں ہوتی وہ تو ہم بھی مانتے...
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!!!!
نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اٹھایا جائے کندھوں تک تو یاد رکھیے دونوں طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں کانو کے برابر بھی اور کندھوں کے برابر بھی۔
اس سلسلے میں بخارو مسلم کی احادیث ملاحظہ فرمائیں
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ...
حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، حدثني سماك، عن قبيصة بن هلب، عن أبيه، قال: " رأيت النبي صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه وعن يساره، ورأيته، قال، يضع هذه على صدره " وصف يحيى: اليمنى على اليسرى فوق المفصل
پہلی بات یہ کتاب الآثار محمد بن حسن شیبانی سے ثابت کریں
دوسرا جن کو آپ رحمہ اللہ کہہ رہے ہو ان پر سخت اور شدید جرح ہے
امام اسماء الرجال ابن معین رحمہ اللہ نے انہیں کذاب کہا ہے
اور پھر نماز کا اتنا اہم مسئلہ ہے اور آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے حدیث سے
بلکہ محمد بن حسن شیبانی کا قول پیش...
آپ کا سوال ہی عجیب ہے جناب حضرت ید کا معنی ایک چھوٹے سے چھوٹا طالب علم بھی جانتا ہے
"ید" کا معنی" ہاتھ " ہوتا ہے
لہذا جس مسئلے میں اختلاف ہے اس کو ڈسکس کیا جائے تو بہتر ہے
اچھا آپ نے دوسرا اعتراض یہ کیا کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ذراع پر اپنی مرضی سے رکھیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی سے...
جی ہاں بالکل ہے
دیکھیے صحیح ابن خزیمہ میں حدیث 479
"سیدنا وائل بن حجر کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر سینے پر رکھا"
جی اب اعتراض رکھیں اس پر