الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
قدیم مفسرین میں اس سے امام ابوالحسن ماوردی نے اقیمو الدین کی ہمہ پہلو تفسیر کی ہے فرماتے ہیں.
"اس دین پر عمل کرو اس کی طرف دعوت دیتے رہو اور اس کے دشمنوں کے مقابلے میں جہاد کرو "(تفسیر الماوردی ج 5 ص 197)
دین کو قائم رکھنے کے لئے سب سے پہلے خود عمل کرنا ضروری ہے پھر دوسروں کو دعوت دینا اور جہاد...
مولانا امین احسن اصلاحی نے اقامت دین کی جو تشریح کی ہے اپنے حاصل مفہعم کے اعتبار سے وہی تشریح ہے جو شاہ ولی اللہ اور مولانا مودودی نے کی ہے کہ دین صرف عقائد و اخلاق کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں ماننے اور کرنے کی ساری چیزیں یعنی اصول و فروع اور جزئیات و کلیات سب شامل ہیں اور اس دیم کو قائم رکھنے...
مولانا امین احسن اصلاحی نے جو ترجمہ کیا ہے قائم رکھو اس دین کو اور تشریح اس طرح کی ہے کہ:
"قائم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اس کی جو باتیں ماننے کی ہیں وہ دیانت داری اور راست بازی کے ساتھ کی جائیں نیز لوگوں کی برابر نگرانی رکھی جائے کہ اس سے غافل اور منحرف نہ ہونے پائیں اور اس بات کا پورا اہتمام کیا...
مولانا مودودی نے ترجمہ تو کیا ہے. قائم کرو اس دین کو مگر تشریح میں لکھا ہے.
"اس فقرے کا ترجمہ شاہ ولی اللہ نے( قائم کنید دین را) کیا ہے اور شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر نے قائم رکھو کو یہ دونوں ترجمے درست ہیں اقامت کے معنی کرنے لے بھی اور قائم رکھنےکے بھی اور انبیاء کرام ان دونوں ہی کاموں پر...
شاہ ولی اللہ کی درج بالا عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ نے اپنی امت کی اصلاح کے لئے جو کام بھی کئے ہیں خواہ وہ اصول و کلیات سے تعلق رہتے ہوں یا وہ فروع اور جزئیات سے متعلق ہوں ان سب کا کلمہ جامعہ اقامت دین ہے. معلوم ہوا کہ شاہ صاحب کے نزدیک اقامت دین سے مراد پورے کے پورے دین کو بمعہ اصول و...
اقمت دین کا مفہوم
شاہ ولی اللہ نے اقیمو الدین کا فارسی میں ترجمہ کیا ہے (قائم کنید دین را) دین کو قائم کرو اور اس کی تشریح اپنی دوسری کتاب میں اسطرح کی ہے:_
"آحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ساری مخلوق کے لئے مبعوث ہوئے تو آپ نے لوگوں کے ساتھ مختلف معاملات کئے اور مختلف تدابیر اختیار فرمائیں، ہر...
سورۃ ابقرہ کی آیت 143 میں اس امت کا مشن(شھادت حق) قرار دیا گیا ہے یعنی یہ کہ وہ اپنے قول و عمل سے حق کی گواہی دیں اور زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کا عملی نمونہ پیش کرے گی. سورہ ال عمران کی آیت 110 میں اس مت کی تشکیل کا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بتایا گیا ہے لیکن چونکہ حق اور معروف سے...
امام ابن جریر لکھتے ہیں
"ان سب کو انبیاء کو اللہ نے جو وصیت کی تھی وہ ایک ہی وصیت تھی اور وہ تھی اقامت دین کی وصیت"
یہ بات تو کسی ثبوت کی محتاج نہیں ہے کہ اللہ نے اپنے انبیاء کو جو حکم دیا وہی حکم ان کی امتوں کے لئے بھی ہوتا ہے الا یہ کہ اللہ نے صراحت کے ساتھ فرمادیا ہو کہ یہ حکم نبی کے لئے...
اللہ تعالی نے اس جماعت کو جو حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ
"مقرر کیا ہے اس نے ہارے لئے وہ دین جس کی وصیت کی تھی اس نے نوح کو اور جس کی وحی کی ہے ہم نے تیری جانب اور جس کی وصیت کی تھی اس نے ابراہیم علیہ السلام کو، موسی علیہ السلام کو اور عیسی علیہ السلام کو کہ قائم کرو اس دین کو اور پھوٹ نہ ڈالو اس...
ظاہر ہے کہ کوئی بھی جماعت مقصد اور ہدف کے تعین کے بغیر نہی بنائی جاتی. امت مسلمہ خود اللہ تعالی نے بنائی ہے اور اس کی فکری قیادت و امارت رسالت محمدی کو دی گئی. ظاہر ہے ایسی جماعت کا بےمقصد ہونا ناقابل تصور ہے .کسی جماعت کا مقصد وہی ہوسکتا ہے جو اس کے بنانے والے نے معین کیا ہو اور اس کے ارکان کو...
امت مسلمہ وہ عالمی اور آفاقی جماعت ہے جو توحید و رسالت کے عقیدے کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے اس جماعت کی فکری قیادت رسالت محمدی یعنی قرآن و سنت کو تاقیامت حاصل ہے اور یہ پوری دنیا میں ایک ہی جماعت ہے اور جو بھی اس جماعت سے باہر ہے جو دائرہ اسلام سے بھی خارج ہے لہذا وہ جماعت جس کے التزام کے بغیر...
ان دو نقطہ ہائے نظر کے درمیان ایک عام مسلمان سخت الجھن کا شکار ہوسکتا ہے.میری اس تحریر کا مقصد الجماعہ اور التزام جماعت کے صحیح مفہوم کی تنقیح و تشریح کرنا ہے
تفھیم المسائل از مولانا گوہر رحمان
دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ حدیث صحیح میں جماعت المسلمین اور اس کے امام کے التزام کا حکم دیا گیا ہے اس لئے آج سے غالبا جو 30 سال پہلے کراچی میں جماعت المسلمین بنائی گئی اس میں شمولیت اختیار کرلی جائے اور دوسرے ناموں سے فرقے اور جماعتیں نہ بنائی جائیں. اس نقطہ نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ حکومت...
التزام جماعت کے مفہوم کے بارے میں ایک مکتب تو یہ ہے جس کا حاص یہ ہے کہ منتخب و معتمد حکومت الجماعہ ہے خواہ عادل یا فاسق ہو یا کھلے اور صریح کفر کی مرتلب ہو جیسی بھی ہو مگر جب تک اسے عامتہ الناس حاصل ہے اس وقت تک اس کی اطاعت کرنا اور اس کا وفادار رہنا شریعت کا متقاضی ہے.
Sent from my Lenovo A536...
اس تضاد کی توجیہ یہ کی گئی ہے کہ التزام جماعت کے حکم کی علت اور حکمت نفاذ دین اور غلبہ دین نہیں ہے بلکہ اتفاق کا حصول اور افتراق و انتشار سے تحفظ التزام جماعت کی اصل علت ہے.(ایضا)
Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
لیکن شریعت کے اس حکم کو ماننے اور جاننے کے باوجود ان کا نقطہ نظریہ بھی ہے:
شریعت کی رو سے تو کفر بواح کی مرتکب حکومت بھی اس وقت تک الجماعہ ہوتی ہے جب تک عامتہ الناس کا اعتماد اسے حاصل ہو اور مسلمان رعایا اس پر مجتمع ہو اس کی اطاعت سے علیحدگی اور تخلف ممنوع ہے
Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
اس نقطہ نظر کے حاملین اس حکم شرعی کو تو جانتے اور مانتےہیں کہ:
حکمران بلاشرط مطاع نہیں ہوسکتا چنانچہ یہ شرط لگادی کہ جب تک وہ قرآن و سنت پر عامل ہے اور شریعت اسلامیہ کو قانون بالا تسلیم کرتا ہے اس وقت تک اسکی اطاعت کی جائے. یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ کفر صرف یہ نہی کہ آدمی اسلام کے عقائد کا...