الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آزاد کا سونٹا (فقیر)
فقیر پابند نہیں ہوتے؛ نہ گھر بار کے، نہ عزیز داری، نہ رشتہ داری کے۔ کاروبار وہ کرتے ہی نہیں۔ جب جو مل گیا وہ کھا لیا، نہ ملا تو صبر کیا۔ ایسی زندگی سماجی اعتبار سے مشکل ہی سے نبھتی ہے۔ لیکن اس طرح کے لوگوں کا ایک طبقہ رہا ضرور ہے۔ اقبال کا یہ مشہور شعر انہیں آزاد طبع لوگوں...
آڑے ہاتھوں لینا
عجیب بات ہے کہ محاورات ہماری تہذیب کے مختلف رُوپ پیش کرتے ہیں اور اُن سے ہمارے ذہن و زندگی کی ترجمانی ہوتی ہے۔ "آڑے ہاتھوں لینا" فضیحتا کرنے کو کہتے ہیں، جس کے معنی یہ ہیں کہ سیدھے ہاتھ کے معنی ہوتے ہیں محبت کا اظہار کہ پیار سیدھے ہاتھوں ہی کیا جاتا ہے۔ اسی لیے"آڑے ہاتھوں لینا"...
اُڑی اُڑی طاق پر بیٹھی
ویسے تو ایک چڑیا کا اُڑنا اور اِدھر سے اُدھر بیٹھنا اِس میں شامل ہے، لیکن محاورے کے سماجی استعمال اور معاشرتی رویوں کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے کون کون سے عملی اور ذہنی رویّے اس میں شامل ہیں۔ اُڑنا انسان کو ہمیشہ ہی اچھا لگا اور خود...
اَڑنگ بَڑنگ
اصل میں جو چیزیں، جو خیالات سماج کو بے تکے پن کی طرف لاتی ہیں، وہی اڑنگ بڑنگ کہلاتی ہیں، یعنی بے تکی، بے ڈھنگی، بے ہنگم۔ یہ عوامی الفاظ ہیں۔ اُن کا استعمال اب زبان میں کم ہو گیا ہے۔ لیکن عمومی سطح پر اب بھی ہم انہیں محاورات میں استعمال ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ "اڑنگا لگانا" ایسا ہی ایک...
اَڑنا، رکاوٹ بننا
اپنی جگہ پر اس طرح ٹھہر جانا کہ پھر ٹس سے مس نہ ہو۔ اقبال کا شعر ہے۔
آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کُہن پہ اُڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
"طرز کہن پہ اڑنا" وہی پرانی روایت پر قائم رہنا ہے، بلکہ اس پر اصرار کرنا ہے۔ معاشرے میں یہ روش ایک خاص کردار کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ...
اُڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
بات اڑا دینا بھی یا"باتوں باتوں میں اڑا دینا"، "چٹکیوں میں اُڑا دینا" بھی ہمارے محاورات کا حصّہ ہے۔ "بے پر کی اُڑانا"، "گُل چھرّے اُڑانا"، "طوطا مینا اُڑانا"۔ اس سے اُڑنے اور اُڑانے کے عمل سے ہماری زبان اور ہمارے ذہن کی وابستگیوں کا پتہ چلتا ہے۔ "اُڑا دینا"، خاک...
اُڑا لینا، یا اُڑا دینا، اُڑنا
اُڑنا پرندوں کا عمل ہے۔ اِدھر سے اُدھر آنا جانا، ایک شاخ سے اُچھل کر دوسری شاخ پر بیٹھ جانا، دانا چُگنے کے لیے یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں آنا، پروں ہی کی مدد سے ہی تو ہوتا ہے۔ یہ عملِ محال کرشمہ اور کرامت کے طور پر پیروں کے ساتھ بھی استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ ہوا...
اَرے ترے کرنا (ابے تبے کرنا)
اَرے ترے کرنا یا ابے تبے کرنا کے معنی ہیں بد تہذیبی سے پیش آنا۔ یا بہت بے تکلًفی سے بات کرنا۔ تہذیب و شائستگی کے آداب میں گفتگو کا طریقہ سلیقہ بہت کام کرتا ہے اور ہمیشہ اس کا ایک اہم رول ہوتا ہے کہ کس سے گفتگو کی جائے تو کس طرح کی جائے۔ لب و لہجے کا اُتار چڑھاؤ کیا...
اَرواح بھٹکنا
دہلی والے رُوح کو اَرواح کہتے ہیں، یعنی رُوح کی جمع بولتے ہیں اور اس سے صرف رُوح مراد لیتے ہیں۔ روح بھٹکنے کے معنی یہ بھی ہیں کہ انسان چلا جاتا ہے اور اس کی روح دنیا میں باقی رہ جاتی ہے اور اِدھر اُدھر اس کو یا اپنی کسی پسندیدہ چیز کو ڈھونڈتی رہتی ہے۔ قدیم زمانے سے یہ تصور موجود...
ارَنڈ کی جڑ
"ارنڈ" ایک خاص طرح کا درخت ہوتا ہے جس میں شاخیں نہیں ہوتیں اور جس درخت میں شاخیں ہوتی ہیں اُس کا تنا بہت مضبوط ہوتا ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ اس درخت کا تنا بھی مضبوط نہیں ہوتا اور جڑ اور بھی کمزور ہوتی ہے۔ "جڑ" کا لفظ ہمارے ہاں بہت با معنی لفظ ہے۔ اس کے معنی بنیاد کے ہیں۔ بنیاد جتنی...
اَردلی ّمیں رہنا۔ اَردلی کرنا۔ اَردلی میں چلنا
"اردلی" کا لفظ بتلا رہا ہے کہ یہٍ انگریزوں کے آنے کے بعد اُن کے دفتری طور طریقوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد رائج ہوا ہے۔ وہ اپنے پیش خدمت کو"آرڈرلی" (Orderly) کہتے تھے، یعنی آرڈر کو لانے لے جانے والا۔ اِس طرح یہ لفظ انگریزوں کے دفتری نظام سے متعلق ہو گیا...
اُردوئے معلّیٰ
اُردو کا لفظ ہم زبان کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جب اُردوئے معلّیٰ کہتے ہیں تو ہماری مُراد اعلیٰ درجہ کی ادبی زبان ہوتی ہے یا پھر درباری زبان اور دہلی کی خاص زبان جس میں شرفاء کی زبان بطورِ خاص پیشِ نظر ہوتی ہے۔ مگر واقعہ یہ ہے لال قلعہ کے سامنے اور چاندنی چوک کے قریب جو میدان ہے،...
آدھوں آدھ کرنا
آدھا ایک کا نصف ہے اور تہذیبی طور پر اپنے خاص معنی رکھتا ہے۔ مذکورہ محاورے میں بھی آدھے کا تصوّر واضح طور پر موجود ہے۔ اَدّھی، اَدَھنّا، اَدھ پکا، اَدھ رانا، اَدھ بانکا، اَدھ مرا، اَدھ موا، ادھ کچرا، ادھ بُنا، اُن سب میں"آدھ" شامل ہے اور ایک خاص ذہنی پیمانے کو پیش کرتا ہے۔
ہمارے...
آدھی رات اِدھر، آدھی رات اُدھر
رات اوقات کی تقسیم میں دن کے مقابلے میں کچھ زیادہ پُر اسرار، پُر کشش، لایقِ توجہ اور ڈرانے والی ہوتی ہے۔ رات سے چونکہ اندھیرا متعلق ہوتا ہے، اس لیے بھی اس کا ذکر خوابوں کے ساتھ خوفناکیوں کے طور پر بھی کیا جاتا ہے، جیسے ڈراؤنی رات، اندھیری رات، اندھیرا گھُپ۔...
آدمیت پکڑنا
انسان آدم زاد ہے اور اُردو ادب میں اُسے آدم زاد بار بار کہا بھی گیا ہے۔ جہاں آدمی سے قصور اور خطا وابستہ ہے، وہاں آدمیت، شرافت اور انسانیت کے تقاضے بھی اسی سے متعلق ہیں۔ انہیں تقاضوں کے پورا نہ ہونے پر انسان کو جنگلی اور جانور کہا جاتا ہے۔ جب کسی انسان میں شرافت، نیکی اور بھلے آدمی...
آدمیوں کا بَن یا جنگل
جنگل آدمی کے لیے ایک اہم تہذیبی حوالہ ہے۔ دیہات والے اپنی بہت سی ضرورتیں جنگل سے پوری کرتے ہیں۔ لکڑیاں لانا ہو، پھل کھانا ہو، مکان کی کوئی ضرورت ہو، کڑیاں ہوں، "برگے" ہوں، شہتیر ہوں یا چھپّر ہو، اُسارہ ہو، جس کے سہارے چھپّر کھڑا کیا جاتا ہے یا پھونس جس سے چھپر بنایا جاتا...
آدھا تیتر آدھا بٹیر
جب کردار میں یا کسی شے کی ظاہری شکل و صورت میں توازن و تناسب نہیں ہوتا اور اُس کی غیر موزونیت پہلی نظر میں بھانپ لی جاتی ہے تو اُسے آدھا تیتر آدھا بٹیر کہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں شوقین طبع لوگ تیتر پالتے تھے۔ بٹیروں کے پالنے کا بھی رواج تھا اور لکھنؤ میں بٹیروں کی لڑائی بھی...
اُچاپت اُٹھانا
یہ بھی دہلی کا خاص محاورہ ہے لیکن ہمارے تہذیبی اور معاشرتی نظام کے ایک خاص عملی حصہ کو ظاہر کرتا ہے۔ کسان، مزدُور، ملازمت پیشہ نوکر چاکر سبھی بنیے کی دکان سے سودا سلف لیتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہاتھ کے ہاتھ اُس کی قیمت بھی ادا کریں۔ یہ قیمت کبھی فصل آنے کی صورت میں ادا کی جاتی ہے،...
اچھا نِکا
مغربی یو۔ پی۔ میں اچھی زندگی کے لیے بولا جاتا ہے۔ "نِکا" در اصل"نِکو" ہے جو فارسی میں نیک کے معنی میں آتا ہے اور مُراد وہی اچھائی یا بھلائی ہوتی ہے۔
محاورے میں الفاظ لغوی معنی میں نہیں آتے۔ اُن کے کچھ مُرادی معنی ہوتے ہیں جو اصل معنی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ استعارہ اور تشبیہہ کے عمل میں...
اُجلی یا اُجلی سمجھ۔ اُجلی طبیعت
اُس میں کچھ محاورے ایسے ہیں جو خاص دہلی سے تعلق رکھتے ہیں اور دہلی کی عورتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً، "اُجلی" کی بات وہ دھوبن کے لیے کہتے ہیں۔ اُس کے متعلق یہ لکھا گیا ہے کہ صبح کے وقت یا رات کو عورتیں دھوبن کہنا بُرا سمجھتی ہیں۔ اسی لیے دھوبن کو"اُجلی" کہہ کر...