الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ابن معین خود متشدد ہیں، ذہبی اور ابن حجر نے ضعیف کہا ہے اور ضعیف کی متابعت مقبول ہوتی ہے، بزار نے کثیر الخطا کہا ہے جو کہ ضعیف کے معنی میں ہی ہے۔
رہ گئے امام احمدؒ تو انہوں نے ان کی بعض احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ "یہ موضوع ہیں، یا کذب ہیں"۔ لیکن یہ قول اس حدیث کے بارے میں ہے۔ اس کا کون سا راوی...
اضطراب كا کوئی حوالہ؟؟؟
جبارہ کے بارے میں "ضعیف" کا قول ہے۔ اس کی وجہ بھی ابن نمیر یہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی اپنی احادیث صحیح ہوتی تھیں لیکن کچھ لوگ (ابن نمیر نے ان کی تعیین نہیں کی) ان کی احادیث میں گڑبڑ کرتے تھے (کما فی التہذیب)۔
امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ ان کی حدیث میں اضطراب ہوتا ہے۔ ابن...
بسم اللہ الرحمان الرحیم
قال ابو اسماعیل الہروی فی کتابہ: ذم الکلام و اہلہ: أخبرنا أبو يعقوب أخبرنا زاهر بن أحمد أخبرنا محمد بن إدريس حدثنا أبوكريب حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن زر بن حبيش عن علي بن أبي طالب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ستكون علي رواة يروون عني الحديث فاعرضوها على...
فرقہ پرستی پر لڑائی تو صحابہ کرام کے دور سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ غلط چیز غلط ہے لیکن اس حد تک جس حد تک اسے غلط کہا جا سکے۔ یہ مطلب نہیں نکالا جا سکتا کہ چونکہ فرقہ پرستی غلط ہے اس لیے مسائل میں رائے رکھنا بھی غلط ہے۔
اسی نفس کی انڈر اسٹینڈنگ نے مارا ہے آج کل کے لوگوں کو۔
باقی بات چیت تو آپ حضرات کرتے رہیے۔
میرا ایک مشورہ ہے کہ سافٹ وئیر میں اگر "صحیح لغیرہ" کا حکم بھی شامل کر دیں تو اس طرح کی احادیث پر حکم میں یہ ابہام ختم ہو جائے گا۔
مجھے معلوم نہیں کہ اس مشورہ کے لیے کسے ٹیگ کیا جائے۔
ہم بھی آپ کی کسی ہوائی بات کا جواب دینے کے پابند نہیں ہیں۔ جب آپ قرآن و حدیث پیش کر کے اس کا مطلب خود صریح و صحیح آیات و احادیث سے پیش کریں گے تو ہم جواب دیں گے۔ جو مطلب آپ خود نکالیں گے اس کی ہمارے یہاں کوئی حیثیت نہیں۔
اس کی دلیل کہ "دلیل دعوی کرنے والے پر ہوتی ہے"؟؟؟
اگر حدیث پیش کی تو بغیر قیل و قال کے یہ بھی ثابت کیجیے گا کہ یہ واقعی نبی کریم ﷺ کا قول ہے۔ اس سلسلے میں کسی امتی کا قول اپنے اصول کے مطابق پیش نہیں فرمائیے گا۔
محترمی راشد بھائی! ایک مسئلہ حل کیجیے۔
قرآن کریم ہمارے سامنے نازل نہیں ہوا۔ ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ یہ واقعی اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے جو اللہ کے نبی پر نازل ہوئی ہے؟
شاید آپ کہیں کہ روایات میں آیا ہے لیکن وہ روایات خود بھی سچی ہیں یا نہیں، یہ کیسے معلوم ہوگا؟
طہ بھائی یہ صحیح و غلط کا مکسچر ہے۔ اغلاط پر صحیح باتوں کا رنگ چڑھایا گیا ہے۔ افسانہ آرائی نے اسے دلچسپ بنا دیا ہے۔
مثال کے طور پر۔۔۔
میں نے خود کو اس دور میں موجود تصور کیا۔
یہ 90 ہجری ہے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کی رحلت کو 80 سال گزر چکے ہیں۔ میں کوفہ کی مسجد میں موجود ہوں اور یہاں...
محترم ابن داود بھائی! دیگر مکاتب فکر و مسالک میں تو یہ جاننے کے طریقے موجود ہیں کہ کون سا اصل مسلک کا مسئلہ ہے اور کون سا شاذ مسئلہ ہے۔
اہل حدیث میں یہ کیسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصل مسلک ہے اور یہ شاذ ہے؟
ایک کتاب ہے "تناقضات زبیر علی زئی"۔ اس میں کی گئی سختی اور اس کے الفاظ سے قطع نظر، مضمون کو دیکھ لیجیے۔ یہ کتاب میرے پاس پہلے پی ڈی ایف میں تھی لیکن اب نہیں ہے۔
جی جس چیز کا تعلق سمجھ نہ آ رہا ہو وہ انسان کی رائے میں "غیر متعلق" ہی ہوتی ہے تاحالیکہ کوئی دوسرا اس کی اصلاح نہ کر دے۔
وہ میں نے بھی پہلے ہی پڑھ لیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اس قدر "عقلمند" نہ ہوں جس قدر آپ چاہ رہے ہیں۔
میں سمجھ نہیں سکا کہ جو بات چل رہی ہے اور رحمانی بھائی جو بات کر رہے ہیں اس سے اس لکھی گئی تحریر کا کیا تعلق ہے۔
شاید اسحاق سلفی بھائی سمجھ گئے ہوں جو انہوں نے زبردست کی ریٹنگ کی ہے۔ و فوق کل ذی علم علیم۔
آپ نے یہ تحریر فرمایا ہے:
آگے آپ نے وہ وجہ ذکر کر دی ہے:
ظاہراً تو یہ لگتا ہے کہ اس جملہ:
سے کتاب میں بیان کی گئی "وجہ" مراد ہے۔ اگر آپ کی اپنی بیان کر دہ وجہ اس سے مراد ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ آپ تو کوئی بھی وجہ بیان فرما سکتے ہیں۔
میں کتاب کے تعلق سے بات کر رہا تھا: