الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : " من صلى صلاة ، لم يقرأ فيها بأم القرآن ، فهي خداج ، ثلاثا غير تمام ، فقيل لأبي هريرة : إنا نكون وراء الإمام ، فقال : اقرأ بها في نفسك ، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول : قال الله تعالى : قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين ، ولعبدي ما سأل ، فإذا قال...
والمراد بقوله " اقرأ بها في نفسك " أن يتلفظ بها سرا ، دون الجهر بها ، ولا يجوز حمله على ذكرها بقلبه دون التلفظ بها ، لإجماع أهل اللسان على أن ذلك لا يسمى قراءة ، ولإجماع أهل العلم على أن ذكرها بقلبه دون التلفظ بها ليس بشرط ولا مسنون ، فلا يجوز حمل الخبر على ما لا يقول به أحد ، ولا يساعده لسان...
جن کو آپ صحیح کہ رہے ہو اسی میں المحاربی ہے اور اسی کی تفصیل آپ سے مانگی تھی
اور دوسری روایت مرسل ہے اسکا بھی آپ جواب نہ دے سکے اور صحیح کی رٹ لگا رہے ہو
عبدالرحمن بھٹی نے کہا ہے: ↑
اللہ تعالیٰ نے (امام کی) قراءتِ قرآن کے وقت اسے توجہ سے اور خاموش رہ کر سننے کا حکم (مقتدی کو) دیا (سورۃ الاعراف)۔
کوئی باسند تفسیر حدیث کا حوالہ دو اتنی آسانی سے فرار نہیں ہوسکتے