الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جہاں دلائل سے علماء کرام کسی دوسرے موقف کو درست سمجھتے ہیں وہاں معتقدا للحقیۃ باقی نہیں رہتا۔ یوں کہہ لیں کہ وہاں اس مخصوص مسئلے میں تقلید نہیں کی جا رہی ہوتی اگر چہ اصول میں تقلید ابھجی بھی باقی ہو۔
اصطلاح میں اس کو سیدھے سادے الفاظ میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ قید اتفاقی ہے۔ تعریفات میں قیود...
جزاک اللہ خیرا
نہیں اس سے دو مطلب ہو سکتے ہیں:۔
نسخہ اصل سے اپنے نسخے میں نقل کیا ہے۔
اپنے نسخے سے کتاب میں نقل کیا ہے۔
دوسرا یعنی آپ کا والا مطلب راجح ہے۔
صفحہ نمبر بھی بتائیے۔ یہ عبارت اس کتاب میں موجود ہے لیکن مجھے نہیں مل رہی۔
اب یہاں تک آپ نے میرے سوال میں موجود دو شقوں یعنی رویت اور...
نہ تعریف ناقص ہے اور نہ جامع تعریف کی مزید ضرورت ہے۔
1۔ جی
2۔ جی یہ اعتقاد ہے کہ اس کا بتایا ہوا "ہر مسئلہ" قرآن، حدیث، اجماع و قیاس کے مطابق ہے اور جائز ہے لیکن درست ہونا ہمیشہ ضروری نہیں۔
3۔ دلیل کی روشنی میں جانچنے کی اجازت ہے۔ اور جب ضرورت ہوتی ہے تو جانچتے بھی ہیں۔ ہاں ضرورت نہ ہو تو نہیں...
اللہ پاک آپ کو معاف فرمائے
شکر ہے بم گرانے سے پہلے دیکھ لیا ورنہ بھارتی میزائلوں والا حال بھی ہو سکتا تھا۔
جی تو کہاں ہے آپ کا وہ جواب؟
آپ دوسری تو ساری باتیں کر رہے ہیں لیکن یہ مسئلہ نہیں حل کر رہے۔
ہم نے یہ اعتقاد رکھ لیا کہ یہ شخص عموما درست بات کہتا ہے۔ جب کہ وہ شخص متقی اور پرہیزگار ہونے کے ساتھ ساتھ عالم بھی ہے۔ تو پھر وہ قرآن و حدیث کے خلاف بات کہے گا کیوں؟؟ وہ قرآن و حدیث سے ہی استدلال کر کے یا اجتہاد کر کے بتاتا ہے تو پھر اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ قرآن و حدیث کے خلاف بات کہے؟
لیکن...
نہ۔ نہ۔ نہ راشدی صاحب۔
جان چھڑانے کی نہیں ہو رہی۔ پہلے یہ مسئلہ حل کیجیے پھر مجھ پر بم کیا ایٹم بم گرا دیجیے گا۔
تحت السرۃ کے الفاظ پر بات بعد میں۔ پہلے جو بات چل رہی ہے اس پر اپنی دلیل دیں۔ نہیں دے سکتے تو دعوی ترک کر کے ظاہر کو مان جائیے۔ پھر یہ بھی دیکھیں گے۔
اسے حل کریں پہلے:۔
درست ہونے کے اعتقاد کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی شخص کے علم و امانت کی وجہ سے یہ سمجھنا کہ اس نے یہ استدلال دلائل سے درست ہی کیا ہوگا۔ جیسے آپ حضرات معلمی، البانی اور زبیر علی زئی کی حدیث کے ضعف و صحت کے بارے میں تحقیق پر اعتماد کر لیتے ہیں۔ وہاں تو قرآن و حدیث سے کوئی دلیل ہوتی ہی نہیں ہے۔
میں دونوں...
اس ساری بات میں مجھے کام کا کوئی نکتہ نہیں ملا۔ آپ تعیین فرما دیں۔
میں نے تو باقاعدہ دلیل دے کر بتایا ہے کہ کس بات کی دلیل کس کے ذمہ ہے۔ آپ کے پاس کوئی دلیل ہے کہ دکھانے کی دلیل اب میرے ذمہ ہے جب کہ میں ان الفاظ سے رجوع کر چکا ہوں؟؟
میں یہ الفاظ کتاب سے ہی نقل کر رہا ہوں۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو...
میرے پیارے بھائی دونوں جواب ہی دئیے ہیں۔
1۔ آپ کی تعریف میں ہے قرآن و حدیث کے مخالف کسی کی بات ماننا۔ اصل تعریف میں ہے درست ہونے کا اعتقاد رکھتے ہوئے عمل کرنا۔ یہ قرآن و حدیث کے مخالف کیسے آ گیا تعریف میں؟
2۔ دلیل کی طرف غور کیے بغیر کا مطلب یہ ہے کہ جیسے امام مالک نے مسئلہ بتایا تو مستفتی نے...
اچھا جی۔ آپ نے دعوی کیا ہے کہ ہاشم سندھیؒ نے كوئی نسخہ نہیں دیکھا۔ صرف التعریف کی ذکر کردہ حدیث کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات کی ہے۔ دلیل؟؟؟
متعددہ مصححہ کے الفاظ سے ظاہر یہ ہے کہ کہ انہوں نے دیکھا ہے ورنہ بغیر دیکھے یہ بات کیسے کر دی؟؟ یہ بات ایک عالم کا کہنا دو ہی طریقوں سے ممکن ہے: یا تو اسے...
اس میں یہ نہیں لکھا ہوا۔
پہلی بات کی تک بتائیے۔ یہ دعوی میں نے کیا ہے کہ ایک تھے یا ایک سے زائد؟ پھر ایک سے زائد اگر تھے تو ہاشم سندھی کا قول اس پر دلیل ہے۔ آپ کے خیال میں کس قسم کی دلیل ہونی چاہیے؟
اس کی دلیل کیا ہونی چاہیے؟ قرآن میں لکھا ہوا آئے؟
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس قسم کے معاملات...
محترمی انور بھائی
ایک تو اس نمبر والے طرز کو تبدیل کیجیے کیوں کہ اس سے بات سمجھ میں مشکل سے آتی ہے۔ اس کے بجائے جس بات کا جواب دے رہے ہیں اس کا اقتباس لے لیا کریں۔
شیخ ہاشم سندھیؒ کی عبارت میں نے اوپر لکھ دی ہے۔ اس کا ترجمہ بھی کر دیتا ہوں۔
ونحن لم نحتج بامثال ہذہ النسخ غیر المقابلۃ بل بنسخ...
اچھا جی میں عاجز آ گیا۔ میں نے غلط بیانی کی تھی۔ اب خوش ہیں۔ قارئین نے بھی دیکھ لیا ہے۔
یہی میں کہہ رہا تھا کہ مجھ پر طعن مقصود ہے تو لگے رہیے۔
آگے چلیے۔
شرائط کا مجھے علم نہیں تو آپ بتا دیں۔ آخر میں ہی یہ کام کیوں کروں۔ آپ کتب سے دیکھ کر بتا دیجیے۔
کرنا کرانا امید ہے کچھ نہیں ہے۔ بس میں لگا...
قيل في بعض شروح الحسامي: التقليد اتّباع الإنسان غيره فيما يقول أو يفعل معتقدا للحقية من غير نظر إلى الدليل
حسامی کی بعض شروح میں کہا گیا ہے: تقلید انسان کی غیر کے قول یا فعل میں اتباع ہے اس کو درست سمجھتے ہوئے دلیل کی طرف غور کیے بغیر۔
محترم @انور شاہ راشدی بھائی
جذبات کا بار بار ذکر کیوں؟
میں نے دو جگہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا ذکر کیا ہے۔
یہ بات جیسا کہ آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں میں نے امین اوکاڑویؒ کے حوالے سے لی ہے اور قائم سندھی کے الفاظ ہیں۔
جس وقت میں یہ الفاظ لکھ رہا تھا اس وقت مجھے ماقبل تحقیق کیے ہوئے کافی دن گزر...
بالفرض اگر ہم مان لیں کہ میں نے یہ الفاظ امین اوکاڑوی کی تحقیق پر اعتماد کرتے ہوئے لکھے ہیں اور ایسے کوئی الفاظ کتاب میں موجود نہیں ہیں۔ بلکہ تھوڑا اور آگے بڑھیں اور یہ کہیں کہ بالفرض میں خائن، بد دیانت، جھوٹا اور متعصب شخص ہوں۔ تب بھی اس حدیث کے بارے میں میں نے ان دو نسخوں کے حوالے سے اکثر بحث...
1
تجلیات صفدر جلد 4 ص 64
2
جی تو پھر سنئے
سب سے پہلی بات شیخ ہاشم کے الفاظ یہ ہیں:۔
التی اتصل بنا سندہا۔ لہذا اگر یہ نسخہ نہ بھی دیکھا ہوتا تب بھی اتصال سند کافی تھا۔
لیکن اس سے پہلے ذکر ہے المقابلۃ المصححۃ المتعددۃ۔ یہ الفاظ واضح دلالت کرتے ہیں اس بات پر کہ یہ بات نسخہ کو دیکھ کر کی جا رہی ہے۔...